پاک بھارت مغالطہ آرائیوں سے چھٹکارے کی گھنٹی

ہندو مسلم آبادیوں کا جڑواں مادر وطن ہند ہے. تاریخ کا قریبی دور اقتدار دو حصوں پر مشتمل رہا مسلم دور اقتدار ہندو مسلم دو قومی ہند اور برطانوی دور اقتدار انگریز ہندو مسلم سہ قومی ہند پر استوار رہا تین جون 1947 کا تقسیم ہند کانگرسی لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی اس اعترافی حقانیت پر قبول ہونا مانا گیا کہ ہندو مسلم ہند میں دو قومیں ہیں خالد بن سعید پاکستان دی فارمیٹو فیز صفحہ 166 اس پر یہ

Read more

جھوٹے سچ پر استوار سچے جھوٹ کی تماشا گاہ کے زور پر عقلی سوچ سے حصول آزادی کا مارچ

روزنامہ جنگ راولپنڈی مورخہ 16 نومبر 2022 کی لینڈنگ ہیڈ لائنز توشہ خانے کے ان تحائف کی خرید و فروخت کے بارے میں شائع ہوئیں جو 2019ء میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر دوبئی کی کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور سے رابطہ کر کے انہیں خرید لینے پر آمادہ کیا۔ خبر کے مطابق عمر فاروق نے دعویٰ کیا گہ اس کے نتیجے میں عمران خان کی اہلیہ محترمہ بشری بی بی

Read more

…. رباء کا سُود سے ہائبرڈ اختلاط

رباء قرآن کا عربی لفظ ہے، جبکہ سود اردو بول چال کا فارسی لفظ ہے۔ رباء حرام ہے اور اس پر استوار مال و متاع کا لین دین مسلمانوں کے لیے شرعاً ممنوع و مکروہ ہے، جبکہ سود بلحاظ سودمندی، جائز فائدہ مندی کی اصطلاح ہے، جیسے فارسی زبان کے قول و فعل میں ’پسرے ز پدرے سود است‘ کا درجہ تبریک، یعنی باعث برکت و مبارک بادی ہونا، ٹھہرایا گیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بینکاری نظام کے تحت مال

Read more

حق آزادی رائے توہین مذہب کا استناد نہیں، فساد ہے

انسانی تہذیب و تمدن کی اساسات میں دو طرح کی باطییات کار فرما ہوتی ہیں۔ جن میں سے پہلی انسان کی منطق یا عقلیت سے اجاگر ہوتی ہے اور دوسری اس کے ایمان یا عقیدے سے جلا ء پاتی ہے۔ انسانی منطق یا عقلیت سے علمی معلومات کا حصول طے ہوتا ہے۔ جسے سائنس، فلسفہ، حکمت یا تھیوری وغیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے ، جبکہ ایمان یا عقیدت سے مذہبی مبادیات اور ان کا لائحہ عمل طے ہوتا ہے،

Read more

عقدۂ سائنس اور وقت – بمعنی عقیدۂ اسلام

سائنس اور وقت کے بارے میں انسان کو جو عقدہ، مخمصہ یا معمہ رہتا چلا آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ آیا سائنس اور وقت کسی خودکار عمل وقوع کا نتیجہ ہیں یا یہ کسی غیبی قوت کی سوچی سمجھی حکمت پر مبنی عملداری کے طے کردہ محاسن ہیں؟ اس بابت جواب کے حتمی معنی اب تک اس بنا پر معلوم نہیں کیے جا سکتے ہیں کہ عقدہ یا معمہ چونکہ ہمیشہ انسانی منطق یا عقلیت کو لاحق ہوتا

Read more

”اسلامی ٹچ“ پر استوار اسلام فہمی سیاسی اسلام کا فساد ہے

( کھلا خط برائے ازخود نوٹس عدالت عظمیٰ) بعدالت جناب چیف جسٹس صاحب سپریم کورٹ آف پاکستان استدعا:۔ (برائے ازخود نوٹس کہ آئین شکنی کا فساد مچانا بند ہو جائے) ! جناب عالی 1۔ یہ کہ پاکستان کا آئینی تشخص ’اسلامی جمہوریہ‘ ہونا معلوم ’موسوم تو ہے‘ لیکن اس ضمن میں ایسی کوئی عدالتی توضیح و تشریح موجود نہیں ہے، جس سے ایسا معلوم و موسوم ہونا قرار پائے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ترجمانی اسلامی سیاست سے مشروط ہے

Read more

پاکستان اگر ریاست مدینہ ہے تو اس کا مکہ بھی لازمی ہے

پاکستان کی آزادی کا پچھترواں سال شروع ہو گیا ہے۔ یعنی ہم اپنی آزادی کے ’ڈائمنڈ جوبلی‘ سال سے گزر رہے ہیں (محمود شام) جسے ہم آج کل مدینہ ریاست کے حوالے سے منانے کے داعی ہیں۔ لیکن یہ ہمیں بالکل نہیں پتہ کہ ہم جس مکہ سے نکال دیے گئے وہ کہاں پیچھے باقی ہے اور جس کو دس سال بعد واپس لینا مدینہ ریاست یا میثاق مدینہ کی تاریخی سنت ہے۔ شاید اس لیے کہ میثاق مدینہ کی

Read more

پنجاب پولیس کا اختیاراتی سوشل ٹرینڈ اور معاشرتی لاقانونیت کا فساد

پولیس اور معاشرہ ایک ہی قانونی عملداری کی دو مختلف اکائیاں ہوتی ہیں۔ پولیس معاشرے پر قانون لاگو کرنے کی مجاز اتھارٹی ہوتی ہے اور معاشرہ اسے ماننے اور منوانے کی پابندی نبھاتے ہوئے براہ راست پولیس سے رجوع کرتا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اپنے اختیاراتی عمل کا ایک نقش، ایک عکس یا ایک تاثر معاشرے کے سامنے واء کر کے قانون یا لاقانونیت کا کوئی رجحان یا ادراک جماتی ہے جو اس کے اختیارات کا سوشل ٹرینڈ

Read more

طالبان کی اسلامی امارت اور ہائبرڈ مسلمانی کا دلفریب جھانسہ

افغان طالبان کا پالیسی بیانیہ جاری ہوا ہے، جس میں اسلامی امارت کے قیام اور اس کے بعض دیگر خد و خال کی جھلک پیش کی گئی ہے۔ اسلامی امارت کا نمایاں ترین پہلو جو سامنے لایا گیا ہے، اس کے مطابق افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت ہوگی۔ جمہوریت انتخابات سے مشروط ہوتی ہے۔ جب جمہوریت نہیں ہوگی تو اس پالیسی بیانیہ میں نہ جانے یہ بات کیسے شامل کر لی گئی کہ ’انتخابات جامع حکومت کے بعد ہوں گے‘

Read more

جناح کا پاکستان اور بھٹو کی پاکستانیت

گاندھی نے ایک بار قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خط و کتابت میں سوال اٹھا دیا کہ اگر ہندوستان کے سارے لوگ اسلام قبول کر لیں تو کیا وہ ایک قوم بن جائیں گے؟ اس کے جواب میں قائداعظم نے جداگانہ مسلم قومیت کا ثبوت صرف دو نقاط میں سمو کر بتا دیا کہ ہم دس کروڑ پر مشتمل ایک قوم ہیں اور مزید برآں ہم اپنی جداگانہ تہذیب و ثقافت میں بھی ایک قوم ہیں۔ یہاں یہ

Read more

سلیپنگ بھٹو کا نشیمن پاکستان کا جوہری جیون کدہ ہے

زیڈ۔ اے بھٹو کا مقدمہ ابھی پاکستانی عدلیہ میں زیرسماعت ہی تھا کہ ”یو۔ ایس بلیک وارنٹ“ امریکی سفارت خانے کو موصول ہوا کہ بھٹو کو ”عبرت کا نمونہ“ بنوانے کے لئے سفارت خانہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی اعلیٰ ترین اتھارٹیز (عدلیہ) اور موثر ترین قوتوں (اسٹبلشمنٹ) کو اعتماد لیتے ہوئے بھٹو پھانسی کو یقینی بنائے۔ (بریگیڈیئر ترمذی، پروفائل ان انٹیلیجنس) کیونکہ اس دوران پورے ایفرو۔ ایشیا کے خطے میں پاکستان اپنی ٹوٹ پھوٹ، شکست خوردگی، رنج و ملال

Read more

پاکستانیت کا مقدمہ؟

سیاست جب اسلام کا حق بجا لانے پر استوار ہو تو یہ اسلامی سیاست کہلائے گی، لیکن جب بظاہر اسلام کا کلمۂ حق سیاسی مقبولیت کے حصول کا آلہ بنا کر برتا جائے اور بہ باطن نفس ذات کی جاہ پسندی ٹھنی ہوئی ہو تو ایسی ذومعنویت اپنی جگہ جس فساد فی الارض کا باعث بنے گی، وہ بلحاظ معنی سیاسی اسلام کہلائے گا۔ کسی بھی سیاسی بیانیے یا سفارتی دعوے کو اگر اسلامی سیاست اور سیاسی اسلام کے پیمانے

Read more

دو قومی ریاستوں کا اقرار لیکن دو قومی ہند کا انکار؟

تحریک آزادی ہند کے دوران سیاسی اور جمہوری وزن کے لحاظ سے کانگریس، مسلم لیگ اور انگریزی حکومت تینوں فیصلہ کن قوتیں تھیں۔ اور تینوں کے سامنے مسئلہ ہند کا حل طلب سوال یہ تھا کہ ہندوستان کو بدیسی اقتدار سے آزادی کا حق ملے اور اس کی جگہ دیسی اقتدار کا حق طے ہو۔ اس جانب بدیسی اقتدار ’یعنی انگریزوں کا جانا تو ٹھہر گیا تھا‘ لیکن اس کے بعد دیسی اقتدار کی گتھی سلجھنے کی بجائے ایسی الجھتی

Read more

کورونا وائرس: غیب سے انتباہی سرزنش

جنوں کا ایمان یا عقیدہ ان کی جبلت کار کی طبعی دسترس پر مبنی طبیعاتی حقیقتوں کے باعث لیا گیا ہوتا ہے، جبکہ انسان کا ایمان یا عقیدہ غیر برہنہ حقیقتوں کی معلومات پر یقین ہونے کے باعث لیا گیا ہوتا ہے۔ انسان کو زمین پر نظام حیات کی عمل داری کا منصب خلافت یا نیابت اسی لیے سونپا گیا کہ وہ غیبی ضابطۂ حیات کو ماننے اور منوانے میں اپنے عقلی یا منطقی شعور اور عقیدے یا ایمانی اختیار سے متصف ہے۔ اس لیے ضابطۂ حیات کسی دستور یا قوانین کی عمل داری سے مشروط ہو گا۔ جنوں، درندوں یا مگرمچھوں جیسی ہیبت ناک جبلتوں کی حامل قوتوں اور طاقتوں کو اس لیے خلافت ارضی کا منصب نہ دے کر منوایا گیا کہ جبلت قانون کی طاقت سے قطعی ناآشنا ہے اور اس کی بجائے محض جبلی طاقت کو قانون منوانے کی خوگر ہوتی ہے۔

Read more

نیا پاکستان: مدینہ ریاست کی تقلید یا اس سے انحراف؟

اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں، دیگر باتوں کے علاوہ، پاکستان کے حوالے سے دنیا کو اپنے نظام حکومت کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے بتایا کہ ”ہمارے نئے پاکستان کا تصور پیغمبر آخر الزماںﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہے“۔ تو آئیے پہلے اس نئے پاکستان کا تعارف دیکھا جائے جو کل عالم کی آنکھوں کے سامنے ہے۔

اقوام متحدہ میں بیٹھی دنیا لفظ ”ہائیبرڈ“ کے معنوں سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی دو مختلف چیزوں کا باہمی خلط ملط۔ یہ معنی وہاں آ کر خود بخود پورے ہو جاتے ہیں، جہاں ”وزیر اعظم پاکستان، اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، اسی لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈرز کی میٹنگ خود لینا پڑی تھی، وگرنہ عام طور پر وزیر اعظم خود اپوزیشن کے ساتھ ایسی میٹنگ کرتے ہیں“ (سہیل وڑائچ ’گھڑمس‘)۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں کی منصبی حیثیت باہم خلط ملط ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو اسی طرح آرمی چیف کو بھی اپنے ایسے اقدام پر کوئی پیشہ ورانہ تامل آڑے نہیں آتا، کیوں کہ دونوں طرف اس بابت ایک پیج پر ہونے کا اتفاق موجود ہے۔ تاہم اس اتفاق کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست اور عوام کی نمائندہ قیادت بے اثر یا بے کار ثابت کرنا، اگر مطلوب ہے تو بھی دوسری طرف عسکری قیادت کا بھی اس تاثر میں ملوث ہونے کا پہلو اجاگر ہونے سے نہیں بچ سکتا تو دنیا کے سامنے ہمارے ملکی فیصلوں کا اختیار، بے سمت بن کر نمایاں ہو گا اور قومی یکجہتی بھی بے جان اور بے وقعت ٹھہرے گی۔

پھر بھی اگر ایسے نئے پاکستان کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہونے کا دعویٰ کریں گے، تو ہمارا ایسا دعویٰ ریاست مدینہ کی شان حرمت کے بھی منافی ہو گا اور میثاق مدینہ پر مبنی میثاق حکمرانی کی تعریف بھی مسخ کرنے کے مترادف گمراہ کن فساد ہو گا۔ صرف یہی نہیں، اس پر مستزاد یہ کہ ریاست مدینہ کی اساس میثاق مدینہ پر رکھی گئی تھی۔ اس کی بجائے اگر یہ اساس مذہب اسلام یا نظریہ اسلام پر رکھی گئی ہوتی، جیسے پاکستان کے لیے رکھی گئی ہوئی ہے، تو کیا مدینہ کے یہودی، عیسائی، مشرک یا غیر مسلم اس کا حصہ بننے یا اس کی توثیق کرنے پر آمادہ ہو جاتے؟ پاکستان کو اگر ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہونے کا دعویٰ منانا اور منوانا واقعی آپ کی ایماندارانہ لگن ہے تو میثاق مدینہ کی تقلید میں قیام پاکستان کی اساس بھی ’میثاق پاکستان‘ ہونا رائج کر لیجیے۔

تاریخی اور حقیقی معنوں میں پاکستان کا قیام مدینہ ریاست کے قیام کی طرح معرض وجود میں آیا۔ ریاست مدینہ کا قیام فوجی قبضے یا عسکری قوت آزمائی سے نہیں، بلکہ وہاں آباد مسلم و غیر مسلم گروہوں، قبیلوں اور فیصلہ ساز حلقوں کے مابین جمہوری مشاورت سے باہمی عمرانی معاہدے یعنی میثاق مدینہ طے ہونے کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا جو ابتدا سے مدینہ کے ایک شہری حصے پر مشتمل تھا، جس کی ایک دفعہ کی رو سے ’مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین اور یہودیوں (غیر مسلموں) کے لیے ان کا دین، باہمی فیصلوں کی کلید ہونا منظور کیا گیا۔

بعد ازاں یہودی بیرونی قوتوں کے آلہ کار بن کر معاہدے سے منحرف ہوتے گئے اور بالآخر مدینہ چھوڑ کر ان سے ہی جا ملے، تو مدینہ اس کے بعد خود بخود خالص مسلم قومی ریاست کے زیر عمل داری خلافت ارضی کا اولین دارالحکومت بن گیا۔ پاکستان کی بات کی جائے تو اس کا قیام بھی فوجی جنگ یا عسکری چڑھائی کے بل بوتے پر عمل میں نہیں آیا۔ ہندوستان کے مسئلے کے حل کی جانب قائد اعظم محمد علی جناح نے جو پہلے پہل تاریخی معاہدہ لیگ، کانگریس کے درمیان باہمی مشاورت سے طے کروایا اور جو میثاق لکھنؤ کی تاریخی دستاویز پر ثبت ہوا، وہ علیحدگی پسندی یا ہند کے بٹوارے کے حصول کے لئے ہرگز نہیں تھا۔ میثاق لکھنو کی ایک دفعہ کی رو سے بھی متفق فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ’اسمبلی میں اگر کوئی ایسا مسودہ قانون لایا گیا، جو کسی آبادی یا فرقے کی حق تلفی پر ہوا اور متاثرہ فریق کے تین چوتھائی ارکان اس کے خلاف کھڑے ہو گئے تو وہ مسودۂ قانون وہیں ٹھپ دیا جائے گا‘۔

مقصد اور نصب العین اس دفعہ میں یہ مضمر تھا کہ متحدہ ہند دو قومی ریاست ہو گی، مسلم یا ہندو قومیت کے اختصاص کے ساتھ واحد یا متحدہ قومیت کی حامل ریاست مقصود نہیں ہو گی۔ کانگریس اگر میثاق لکھنو سے انحراف کی طرف نہ نکل گئی ہوتی، تو یقیناً متحدہ ہند کی سالمیت جوں کی توں قائم رہتی اور اس صورت میں متحدہ ہند پر سیکولر ازم کی عمل داری ہی کا اطلاق ہوتا۔ لیکن جب تقسیم ہند کا قانون منظور ہوا تو اس میں بھارت اور پاکستان کو، دو آزاد اور خود مختار قومی ریاستیں قرار دیا گیا۔

یعنی بھارت متحدہ قومی ریاست بن گئی اور پاکستان مسلم قومی ریاست۔ کیوں کہ دوران تحریک کانگریس متحدہ قومیت کی داعی تھی اور مسلم لیگ کا مطالبہ جداگانہ مسلم قومیت کے حق میں رہا تھا۔ اس لحاظ سے بھارت میں متحدہ قومیت کے لیے سیکولر نظام عمل داری قائم ہونا تھا۔ جب کہ مسلم قومیت کی اساس پر پاکستان بن گیا تو یہاں نظام حکومت پر عمل داری مسلم تہذیب و ثقافت کی ہو گی، سیکولر ازم کی نہیں ہو گی۔

میثاق لکھنؤ سے لے کر میثاق تقسیم ہند تک تاریخ کے دیے گئے معنوں میں پاکستان کا قیام میثاق کا نتیجہ ہے۔ دوسرا، میثاق مدینہ کی تقلید کا تقاضا بھی یہ ہے کہ یہاں ’میثاق پاکستان‘ کا بیانیہ رائج کیا گیا ہوتا لیکن نہ جانے کہاں سے قیام پاکستان کے بعد میثاق پاکستان کی جگہ نظریہ پاکستان کا بیانیہ رائج کرنا سوجھ لیا گیا اور اس کی اساس نظریہ اسلام سے جوڑ لی گئی، جس کا مطلب اس کے سوا کوئی دوسرا نکلتا ہی نہیں کہ علیحدگی پسندی گویا مسلمانوں کے لئے ان کے مذہب اسلام کا خاصہ ہے، جو قطعی گم راہ کن مغالطہ آرائی ہے۔

اسلام ہر جگہ یعنی بھارتی اور پاکستانی مسلمانوں کا ایک ہی رہتا ہے۔ تقسیم ہند سے یہ کیوں کر سمجھ لیا گیا کہ مسلمان تقسیم نہیں ہوئے بلکہ ان کا اسلام تقسیم ہو کر پاکستانی مسلمانوں کے لیے نظریہ اسلام نمبر ایک اور ادھر بھارتی مسلمانوں کے لیے نظریہ اسلام نمبر دو کے خانوں میں بٹ گیا؟ اگر ہم خود اپنے اسلام کو دنیا کے سامنے اس طرح کے مختلف خانوں اور فرقوں میں تقسیم ہونے کا جواز فراہم کر دیں گے تو اقوام متحدہ کی اسمبلی کو ہمارے وزیر اعظم ”اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی دن کا اعلان کرنے“ کے لئے کون سے پیمانے پر قائل کر سکیں گے؟

وزیر اعظم پاکستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تین جون 1947 کو میثاق تقسیم ہند کی توثیق کے فوراً بعد چودہ جون کو کانگریس اور ہندو مہا سبھا کی قراردادیں ان کے مستقبل کے لائحہ عمل کا مشن اور نصب العین کا پیمانہ ہیں جو قانون تقسیم ہند کی صریح خلاف ورزی اور علانیہ انحراف باندھنے کے جواز کا بہانہ ہیں، جن کے معنوں میں ’اکھنڈ بھارت‘ اکسانے کی لگن بھر دی گئی ہے کہ ”انڈیا ایک اور نا قابل تقسیم ہے۔ خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو گا جب تک اس کے جدا کردہ ٹکڑے پھر سے بھارت میں واپس لاکر یونین آف انڈیا میں ضم نہیں کر لیے جاتے۔“ (شہاب نامہ) ۔

اوپر سے جب قصدا علیحدگی پسندی پر مبنی نظریہ پاکستان اپنا کر جب ہم نے خود دنیا کو جتا رکھا ہو، اور اپنے ’مادر گیتی‘ ہند کے حصۂ اراضی اور اس میں کانگریسی مسلمانوں کے ووٹ سے بننے والے بھارتی علاقوں سے دستبرداری قبول کر کے بھارت کو کھلی چھوٹ دے ڈالی ہو، تو دنیا جموں و کشمیر کے تنازعے اور بھارتی مسلمانوں کے شہری و قومی حقوق کے مطالبے پر کیسے کان دھرے گی؟ مشرقی پاکستان، مقبوضہ کشمیر وغیرہ کے بعد اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ’اکھنڈ بھارت‘ کا اگلا ہدف ہیں۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کو یقیناً یہ بھی معلوم ہو گا کہ قائد اعظم نے سرزمین ہند کو ”مادر وطن“ قرار دے رکھا تھا۔ (خالد بن سعید۔ ”پاکستان دی فارمیٹیو فیز“)

اگر نیا پاکستان ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہے تو خود فیصلہ کر لیں کہ میثاق مدینہ کی رو سے کہیں بھی مادر وطن مکہ سے دستبرداری موجود یا قبول رہی تھی؟ دس سال بعد مکہ واپس لینے کی تاریخ میثاق مدینہ سے اگر محو نہیں ہوئی ہے تو اس ماڈل پر ہونے کے لیے نظریہ پاکستان (نظریہ اسلام کی اساس لے کر) کی سفارت کاری قابل فہم ہے یا میثاق پاکستان کی معلومہ اور موسوم سفارت کاری حجت افزا ہے؟ جس میں مادر وطن ہند، جو بھارت میں باقی ہے، کا سوال مضمر ہے اور جس میں اکھنڈ بھارت کی بولتی بند کرنے کا تیر بہدف چھکا بھی بھرا ہوا ہے؟

غیر مسلم دنیا، اقوام متحدہ یا عالمی عدالت انصاف وغیرہ کو ہمارے نظریہ اسلام یا ہمارے مذہبی پیمانوں سے کیا غرض اور کیا تعلق ہے، جب کہ ہمارے حسن نثار اور ارشاد بھٹی جیسے بڑے بڑے صحافی صاحبان کسی کے لیے بڑا ”پلس“ اس کا بے ایمان نہ ہونا، یوں جتاتے پھریں گویا عطاءاللہ شاہ بخاری اور دیگر احراری زعما کے زبان و بیان کی طرح داری یاد دلائی جا رہی ہو۔ اسی طرح طارق جمیل اور طاہر اشرفی صاحبان جیسے مذہبی اکابرین بھی قربت اقتدار کی خاطر اپنے کسی پسندیدہ حکمران کو ایماندار یا صادق و امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے لگ پڑیں، تو یہ بھی تحریک خلافت و تحریک ہجرت وغیرہ کے تاریخی اسباق کی یاد دہانی تو ضرور ہے، تاہم ریاست مدینہ کی تقلید میں صادق اور امین ہونے کی سنت یہ ہے کہ ریاست مدینہ سے منسوب مسلم حکمرانی نا جائز اولاد کے پدرانہ داغ سے قطعی پاک ہوتی ہے۔

آئے دن بھارتی فساد انگیزی کے خلاف نئے پاکستان کی کسی شکایت کا دنیا اور اقوام متحدہ کوئی نوٹس نہیں لیتی۔ اس کی وجہ پاکستان میں اختیارات کی اعلی ترین سطح پر وہ ذو معنی تاثر اور اوپر دیے گئے ریاست مدینہ کے حقائق سے یکسر صرف نظر کر رکھنے کے پیمانے ہیں جن کا ادراک دنیا کو تو بخوبی ہے لیکن جن کا ہمیں اندازہ نہیں۔ اسی لیے امریکی ڈپلومیٹ رمزے خلیل زاد ہماری وزارت خارجہ سے بالا بالا آرمی چیف سے مل کر چلا جاتا ہے۔

اس کے بعد بھارت جاتا ہے تو وہاں کے حکومتی وزرا اور سیکرٹری سے ملاقات کرتا ہے۔ بھارت کی بات دنیا سنتی ہے تو ہماری بات کا وزن وہاں ہمارے جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کے فوکل پرسن جناب شیخ رشید جیسا ہو کے رہ جاتا ہے۔ ایسے نئے پاکستان کو اگر ریاست مدینہ کی تقلید کا دعویٰ ہے تو یہ دعویٰ ریاست مدینہ کی شان حرمت کی سنگین خلاف ورزی ہے کیوں کہ ریاست مدینہ کی حکمرانی ابن زیاد کی کوفہ والی حکمرانی کے ماڈل کو رد کرتی ہے۔

Read more

ہائبرڈ وار فیئر، پاکستان اور ہائبرڈ سیاسی نظام حکومت

چیف آف پاک آرمی جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع اور یوم شہداء کی تقریب سے اور پھر کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کے دوران جو اہم ایشؤ اٹھائے، ان میں اسلامی تشخص کی بنیاد پر پاکستانیت کی پہچان کا اصول سامنے لایا گیا۔ قومی ہیروز کی یاد سے قومی بقا کا اصول باور کرایا گیا اور خصوصاً ہائبرڈ وار اور ففتھ جنریشن وار کے خطرات سے نبٹنے کے لیے خبردار کیا گیا۔ آرمی چیف کا پیغام پوری قوم کے لئے ہے جسے ذمہ دار ترین اور با اثر ترین اتھارٹی میں پیش کیا ہے۔ تو چاہیے کہ قلمی، علمی، مذہبی، سیاسی، فکری، قانونی اور آئینی نقطہ نگاہ سے اس پیغام کو جانچنے اور برتنے میں اس کے لئے پوری قوم کی آواز شامل ہو جائے۔ اس ضمن میں ناچیز کی ناقص رائے کو سنا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ
If you want peace, prepare for war just like Bhutto

Read more

کیا گستاخانہ خاکے تہذیبوں کے تصادم کی اسٹریٹجی ہے؟

مغربی دنیا کے معروف مفکر، دانشور اور با اثر ترین محقق سیموئل ہنٹنگٹن نے اپنی مشہور کتاب کا نام ”تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی ازسرنو تشکیل“ (The Clash of Civilizations and The Remaking of World Order) رکھنا طے کیا جو اپنی جگہ بظاہر تہذیبی تصادم لگنے کا جملہ نظر آتا ہے لیکن اس جملے کے اندر سوچی سمجھی حیلہ سازی کے تحت ”تہذیبو فوبیا“ مچانے کی جو مخفی اکساہٹ پرو دی گئی ہے اس کا براہ راست نشانہ اسلاموفوبیا کے نام نہاد خطرے کے پیش نظر اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب لیا جانا مقصود ہی نہیں رہا ہوگا کیونکہ ایک تو اس نام نہاد خطرے کی گھنٹی بھی اسلام کے گلے میں باندھنے کا بندوبست گردش پذیر کر لیا گیا ہوا تھا تو دوسرا یہ بھی کہ، اسلام کے علاوہ دنیا کے دیگر کسی مذہب کو مکمل ضابطہ حیات ہونے کا شرف حاصل نہ ہونے کی بنا پر، عالمی نظام حکومت چلانے کی تاریخ ہی میسر نہیں۔ اس بات کی تصدیق ہنٹنگٹن نے از خود اپنی کتاب کے جملے میں عالمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی گرہ لگا کر کردی اس لیے کہ اسلام اور اس کے عالمی نظام کی تاریخ سے ہنٹنگٹن جیسے تاریخ دان بخوبی آگاہ ہیں۔

کتاب بے شک پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، فقط اس کا نام بولنے یا دوہرا دینے سے ہی بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ موصوف کا مجوزہ عالمی نظام اب ریاستوں یا قوموں کے مابین ٹکراؤ کے نتیجے میں طے نہیں ہوگا بلکہ اس کا ممکنہ قیام اب تہذیبوں کے ٹکراؤ کے نتیجے پر استوار ہو گا۔ اصل سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا ٹکراؤ کو تہذیبیں جنم دیتی ہیں یا ریاستیں اور ان کی قومیں آپس میں ٹکراتی ہیں جبکہ ان کے اندر بیک وقت ایک سے زیادہ تہذیبیں اپنی اپنی حد فاصل (distinction) لیے باہم جڑی اور ملی ہوتی ہیں؟

Read more

بلاول بھٹو اور عمران خان کے نام ایک غیر خوشامدی کھلا خط

پاکستان بننے کے بعد جناح کا زندہ جوہر سیاست صرف ذوالفقار علی بھٹو ہے، جس کی سیاسی فرزندی کا خواب مدینہ اور جواب کوفہ سے مشابہ ہے۔ مدینہ کا خواب حسینیت کی تڑپ بن کر زندہ رہتا ہے اور جواب کوفہ ابن زیاد کی عداوت بن کر اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست کا جوہر زمین کربلا کا ستارہ بن کر چمکتا ہے اور سیاسی اسلام کا زور تیور زینب کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے سامان دربار سمیت ڈھیر ہو جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگریس چھوڑ کر اور اس کے مقابل خم ٹھونک کر مسلم لیگ کی طرف آ کر اس کی سیاسی قیادت سنبھالی۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوبی اقتدار سے بغاوت اپنا کر اور اس کے نظام سیاست و حکومت کے لیے چیلنج بن کر اپنی قیادت میں نئی پارٹی سامنے لائے۔ کلید اقتدار اس وقت تھمائی گئی جب ملک شکست خوردہ اور قوم ماتم کناں تھی۔ فوج بے دست و پا؛ نظام بے آئین اور ملکی بقا بھارتی خطرات کی پیش قدمی سے دوچار تھی۔

Read more

وقت، سائنس اور قرآن

وقت کی قدر سپیس کے ذراتی سکون میں ثانیے کی طرح ساکن ہے، تو یہی ساکن ثانیہ لامحدود سپیس کے پھیلاؤ پر اپنی جنبش میں اسی دوران میں کلی حرکت بن کر ثبت ہے۔ یعنی وقت کا جو ثانیہ زمین کی تمام عبادت گاہوں میں دعا مانگنے والوں نے یکبارگی چن رکھا ہو گا، سب کا وہی ثانیہ ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش معلیٰ پر اللہ کے حضور بھی گوش گزار ہو رہا ہو گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جنت

Read more

بلاول لیڈرشپ سیاسی لائحہ عمل کے دوراہے پر

ایک ہی حوالے کے ضمن میں جب کسی کو دو حقیقتوں کا اس طرح سامنا کرنا پڑے کہ ہر دو کا بیک وقت درست اور سچا ہونا خلاف توقع اور ناممکن دکھائی دے تو عام فہم زبان میں اسے دو عملی کا مخمصہ یا پیراڈوکس کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال سے دوچار ہونے والے شخص کو بہرحال یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مروجہ و مقبول عام حقیقت ان دونوں میں سے کون سی ہے اور باطنی و

Read more

کورونائی آفات اور کورونائی عمرانیات دونوں کی مناعات لاک ڈاؤن ہے

کورونائی عفریات یا آفات تو وبائی شکل میں رونما ہوتی ہیں جو نظام زندگی کے طبعی اور قدرتی عوامل کے لئے ہیجان اور بحران کا باعث بن اٹھتی ہیں۔ ایسی وبائیں اگر متعدی یعنی ایک متاثرہ زندگی سے آگے دیگر زندگیوں کی طرف پھیلنے والی ہوں تو ان کی وسعت پذیری کے تدارک کا فوری اور انتظامی حل ایک دوسرے سے دوری اور نقل و حمل پر پابندی اپنانے سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور جو لاک ڈاؤن کے طریقے سے متعارف ہوتا ہے۔ ان کے طبی یا سائنسی علاج کا میدان متعلقہ شعبوں کی تحقیق کا مرہون منت ہو جاتا ہے۔

Read more

! تاریخی حقانیت اور ہے ؛ مروجہ حقانیت اور

کوئی مانے یا نہ مانے، تاریخی حقانیت اپنی جگہ یہی ہے کہ پاکستان ’مسلم قومی ریاست‘ ہے۔
تاہم مروجہ حقانیت چیزے دیگر است۔ مروجہ حقانیت مقبولیت عامہ کا درجہ پا جائے اور کلاماً و دستوراً اسے حق بحق ہونے کا درجہ بھی دے دیا جائے تو اس کے طے کردہ معنی جھٹلانے کا نتیجہ قدماء میں سے سقراط یا گلیلیو وغیرہ کی مثالوں سے اخذ کیا جاسکتا ہے یا موخر میں سے ’عبرت کا نمونہ‘ بھٹو کی پھانسی سے لیا جا سکتا ہے جنہیں ’تحریک نظام مصطفی ﷺ‘ کے مذہبی کلمہ حق کا دعویٰ گرما کر معزول کیا گیا اور پاکستان میں امریکی سفیر کو ان کی حکومت کی طرف سے ’بھٹو کو پھانسی دلوانے‘ کے حکم پر عمل کروانے سے پورا کر دکھایا گیا جس کی نشاندہی بریگیڈئیر ترمذی کی کتاب ’پروفائلز آف انٹیلیجنس‘ کے صفحہ 33 اور 38 پر درج ہے۔

Read more

جھوٹا سچ یا سچا جھوٹ، پورا سچ نہیں ہوتا

لاک ڈاؤن کا رونا ایسے رویا جا رہا ہے جیسے خود لاک ڈاؤن کو رونا لگ گیا ہو

یہ مخمصہ کہ کورونا وائرس کے متعدی پھیلاؤ سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کا احتیاطی اقدام حکومتوں کی سطح پر ایک واحد اور موثر حل ہے یا نہیں، اب یہ اپنی جگہ ایک ایسے فسادی مجادلے کی شکل اختیار کر گیا ہے کہ جس کے زیر اثر رائے عامہ کو یہ طے کرنا یا ہونا ہی محال ہے کہ اصل مسئلہ لاک ڈاؤن ہے یا اس کی بجائے کرونا وائرس ہے؟ اگر اصل مسئلہ کرونا وائرس کا وبائی پھیلاؤ نہیں تو پھر لاک ڈاؤن ہی واقعی اصل مسئلہ ہے۔

تو پھر اس مسئلے کا وجود ہی کیوں کھڑا کر لیا گیا ہے۔ خواہ مخواہ کاروباری معاملات غریبوں، مزدوروں، دیہاڑی

Read more

پاک بھارت ونڈت میں ہند جڑت کی بولی

تاریخ اگر حتمی یا قطعی سچ کا حوالہ ہے تو اسے جھٹلانے کا ہر جھوٹا سچ ازخود سچا جھوٹ ہو کے رہ جاتا ہے۔ تاریخ کا نا قابلِ تردید اور انمٹ سچ یہ ہے کہ تقسیم ہند کا فیصلہ اگر کانگریس کی ہندو قیادت کو دل و جان سے قبول نہ ہوتا، یا قائد اعظم کی مسلم لیگ کو نہرو۔ پٹیل کی کانگریس جیسی پارلیمانی عددی برتری حاصل ہوتی تو بٹوارہ ہند کا فیصلہ ہرگز نہ ہونے دیا گیا ہوتا،

Read more

ایمان، نماز اور اعمال صالح کی ترجیہاتی درجہ بندی

پہلے تو ہم سب کے لئے قرآن کا پیش کردہ وہ قطعی اور کلیدی اصول جان لینا ضروری ہے کہ جس کی بنا پر عاقبت بھی سنور جائے اور دنیا بھی سدھر جائے۔ اس سلسلے میں صرف دو ایسی آیات مختص ہیں کہ جن کا آغاز اللہ نے خود ‘وعدہ’ کے کلمے سے باندھ کر کیا ہے۔ اپنے ہر وعدہ کے ضمن میں بندوں کو یہ یقین دہانی بھی ازبر کرانی یاد دلا دی کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف

Read more