افغانستان، انخلا اور انٹیلیجنشیا
سقوط کابل کے بعد کابل میں کرزئی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر افغانستان چھوڑنے والوں کا ایک جم غفیر جمع ہو چکا ہے۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو گزشتہ بیس سالوں میں امریکہ، نیٹو اور دیگر اتحادی فوجوں کے ساتھ کام کرنے والے، یا افغان فورسز، افغان بیوروکریسی، سول سوسائٹی، تعلیم، ثقافت، اقتصاد، صحت، ہوابازی، مواصلات، ۔ ٹوورزم، دفاع، کھیل اور دیگر شعبوں میں کام کرتے آئے ہیں۔ اگر یہ سارے لوگ یکمشت ملک چھوڑ جائیں تو افغانستان ایک بہت بڑے پڑھے لکھے افرادی قوت اور انٹیلیجنشیا کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔
نئے نظام حکومت میں حکومت اور ملکی نظام چلانے کے لئے درجہ بالا شعبوں میں ان افرادی قوت اور انٹیلیجنشیا کی شدید کمی محسوس کی جائے گی۔ نئی تربیت کا سلسلہ بزعم خود ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہوگا اور وہ اس طرح کہ جب پرانے تربیت یافتہ لوگ ہوں گے تو فریش لوگوں کو تربیت کے مراحل سے گزارہ جائے گا لیکن جہاں پرانے تربیت یافتہ لوگ موجود ہی نہ ہو تو وہاں نئے لوگوں کو کس طرح تربیت دی جا سکے گی۔ جس طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ ریٹائرڈ آرمی افسر بڑی بے سروسامانی کی حالت میں ایک جگہ آئر پورٹ پر باہر نکلنے کے لئے کھڑے ہیں اور دوسری جگہ بڑے افسردہ حالت میں عام لوگوں کے درمیاں آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
یہ ایک مثال دے رہا ہوں کہ ایک بندہ جو ایک ملک میں آرمی چیف کے عہدے پر رہا ہو ایک عمر کا تجربہ رکھتا ہو اور وہ اس تجربے کے ساتھ چلے جائے تو ان کا متبادل کہاں سے لایا جائے گا۔ اس طرح سربراہ افغان بینک جو اشرف غنی سے بھی پہلے ملک چھوڑ چکے تھے ان کا تجربہ ان کی مہارت یا ہنر اور ان کی تربیت کی جو خلا ہے وہ کون پورا کرے گا۔ اس طرح ایک خاتون بلکہ پہلی افغان خاتون فائٹر پائیلٹ کا متبادل کہاں سے لائیں گے۔
اس طرح ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور ایک موسیقی سیکھنے کے اندرونی جگہ کی تصویر ہے جس میں موسیقی کے تمام آلات ٹوٹے پھوٹے حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور سیکھنے سکھانے والے بھاگ چکے ہیں۔ فلم ساز سادات ملک چھوڑ چکی ہے، پوپ گلوکارہ باہر پہنچ کر اپنے زندہ نکلنے کی خوشی کی خبر میڈیا کو دے رہی ہے۔ اور ان لوگوں میں زیادہ تر جوان طبقہ ہے تو پھر مزید جوان طبقہ کہاں سے لائیں گے۔ ایک مسئلہ اور بھی ہوگا کہ جو لوگ رہ جائیں گے وہ لوگ طالبان حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہوں گے کیونکہ ان کو یہ بھی ڈر لگ رہا ہوگا کی طالبان حکومت کتنی دیر افغانستان میں رہ سکتی ہے، کیا اگر کوئی اور مخالف آتا ہے تو پھر طالبان کے ساتھ کام کرنے کے جرم میں ایک بار پھر ان کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔
کیونکہ گزشتہ تجربہ تو یہی بتاتا ہے۔ دور نہیں جاتے ماضی قریب سے شروع کرتے ہیں گزشتہ چالیس سالوں میں کتنی افغان انٹیلیجنشیا بیرون ممالک میں تمام شعبوں میں اپنی خدمات دے رہی ہے اور اس ڈر اور خوف کی وجہ سے آنے کے لئے تیار نہیں تھی کہ افغانستان کے اندرونی حالات غیر یقینی کی صورت حال میں تھے۔ تو میں ماضی قریب کی بات کر رہا تھا تو جب نجیب اللہ کی حکومت ختم ہوئی تو جتنے ان کی حکومت میں برسر کار یا برسرپیکار لوگ تھے افغانستان سے نکل گئے۔
طالبان کی اس وقت دہشت اتنی تھی یا دہشت اتنی پھیلائی تھی کہ ہر اس حکومت میں کام کرنے والا اس دور کا تربیت یافتہ یا انٹیلیجنشیا ملک چھوڑ گئے۔ طالبان نے اپنے پانچ چھ سالوں میں جو اپنے انداز میں کیا وہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے حملہ کر کے ختم کرایا۔ ایک بار پھر نئے سرے سے ٹاپ سے لے کر باٹم تک ایک نئے افغانستان کے بنانے کا نعرہ لگا کر افرادی قوت اور انٹیلیجنشیا کو بیرونی ممالک سے بلایا گیا جن میں سابقہ بادشاہ ظاہر شاہ، کرزئی، جلالی، اشرف غنی سمیت لاکھوں کی تعداد میں افغان آئے اور گزشتہ بیس سالوں میں ایک نیا اور جمہوری افغانستان ایک نئے آئین اور قانون کے ساتھ کھڑا کیا۔
لیکن بیرونی طاقتوں کا یہ تباہ کیا گیا، اور پھر سے تعمیر کیا گیا افغانستان ایک بار پھر ایک دوراہے پر کھڑا ہے لیکن اس بار فی الحال افرادی قوت اور انٹیلیجنشیا نہیں بلکہ جا رہا ہے اور ایک بار پھر طالبان اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ملک کا انفراسٹرکچر ابھی صحیح اور سالم ہے۔ بس اعتماد اور ایک ایسے اعتماد کی ضرورت ہے جو دس بیس سالوں کی امن پر محیط نہ ہو بلکہ دائمی ہو تب جاکر لوگ اور سرمایہ کار واپس آئیں گے ورنہ یہ نسل در نسل اور عشرہ در عشرہ مہاجرت اور انخلا ایک بہت بڑی خلا کو جنم دے گا جو پھر کبھی پر نہیں کیا جا سکے گا یا پھر میرے منہ میں خاک بیرونی افرادی قوت یا بیرونی انٹیلیجنشیا جس طرح یہاں کے لئے خارج سے فیصلے کرتی ہیں پھر یہاں داخل میں بھی تمام اداروں میں مدغم ہوجائیں گے۔ ویسے افغانستان کی تاریخ یہ رہی نہیں ہیں اور تاریخ یہاں دہراتی آئی ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن تاریخ سے سبق بھی حاصل کرنا ہوتا ہے یہ بھی ایک مقولہ ہے دیکھتے ہیں اس مقولے پر کب عمل ہوتا ہے۔


