حکومت اپنی کارکردگی پر فکرمند کیوں نہیں؟

تحریک انصاف کی حکومت تین سال مکمل کر چکی ہے۔ ان تین برسوں میں حکومت کی کارکردگی کیسی رہی، تحریک انصاف نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے تھے حکومت ملنے کے بعد ان میں سے کتنے وفا ہوئے اور کتنے ادھورے رہے یہ جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا منشور ہوتا ہے اور وہ اپنا منشور عوام کے روبرو رکھ کر انتخابات میں اترتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے جیسے ممالک میں سیاسی جماعتوں کی انتخابات سے قبل کی گئی باتیں محض کھوکھلے وعدے ہی ہوتے ہیں اور کوئی بھی جماعت الیکشن جیتنے کے بعد عوام سے کیے گئے وعدوں کا ذکر تک نہیں کرتی۔ تحریک انصاف کو مگر اس کے وعدے مسلسل یاد دلانا اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف وہ حکومت بنانے کے بعد بھی مسلسل عوام کو سبز باغ دکھاتی رہی بلکہ اس کا یہ بھی اصرار تھا کہ اس کی قیادت دیگر جماعتوں سے مختلف ہے۔

یہ تسلیم کرنے میں حرج نہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت دیگر جماعتوں سے واقعتاً مختلف ہے۔ کیونکہ دوسروں کو ان کے وعدے یاد دلائے جائیں تو وہ کم از کم شرمندگی محسوس کر لیتے ہیں یہ تحریک انصاف کی قیادت کا ہی خاصہ ہے کہ ناکامی پر بھی شرمندگی و ندامت کے بجائے با جماعت بغلیں بجا لیتے ہیں۔ کوئی بھی وزیر عوام میں نکل کر پوچھ لے تین سال گزرنے کے بعد ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں یا ابتر۔ آنکھوں پر پٹی نہ بندھی ہو تو ہر شعبے میں تنزلی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

تحریک انصاف کا سب سے بڑا وعدہ احتساب اور شفافیت تھا۔ اس وعدے کا حشر سب کے سامنے ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ آئی تھی جس میں تحریک انصاف کی حکومت کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق مختلف وفاقی وزارتوں میں گھپلوں کی خبریں بھی ہر شخص نے پڑھی ہوں گی۔ آٹے چینی کی مصنوعی قلت اور بعد ازاں ان کے نرخوں میں دگنے سے زائد اضافہ بھی اس حکومت کی کرپشن و نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان اشیاء کے بحران پر خود وزیراعظم کے احکامات پر ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کی انکوائری میں تحریک انصاف کے بہت سے بڑے نام اور وزیراعظم کے انتہائی قریبی لوگ قصوروار قرار پائے مگر کسی ایک کے خلاف قابل ذکر کارروائی نہ ہوئی۔ یہ بھی دعوی تھا کہ احتساب کے نظام کو شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ محض اخباری خبروں کی بنیاد پر کئی ماہ بند رکھے گئے کوئی کیس مگر ثابت نہ ہو سکا۔

بی آر ٹی کی لاگت و مدت کئی گنا بڑھ گئی مگر وہی نیب اس جانب سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ اسی طرح نیب نے خود کہا کہ بلین ٹری منصوبے میں 462 ملین کی کرپشن ہوئی مگر اس اسکینڈل پر بھی نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کالم کی گنجائش محدود ہے ورنہ اس کے علاوہ بھی کئی مثالیں نظام احتساب کی غیر جانبداری و شفافیت عیاں کرنے کے لیے موجود ہیں۔ ہر کوئی جان چکا ہے کہ نیب صرف حکمران جماعت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اس کی قیادت کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ صرف الزام نہیں بلکہ سپریم کورٹ ایک سے زائد بار کہہ چکی ہے کہ نیب کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر مصنوعی قیادت تیار کی جا سکے۔

معیشت موجود دور میں تباہی کے جس بام عروج پر ہے اس کی ملکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ کوئی ایک بھی معاشی ہدف ان تین برسوں میں حکومت حاصل نہیں کر سکی۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی بھرمار کے باوجود ہر سال حکومت ٹارگٹ کے مطابق محصولات جمع کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ شرح نمو بھی اسی دور میں ملکی تاریخ میں پہلی بار منفی سے بھی اتنی کم ہو گئی کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد کسمپرسی کے ایام میں بھی نہیں تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت تاریخ کی سب سے بلند سطح پر ہے اور اس وقت سب سے زیادہ ٹیکس اس پر لیا جا رہا ہے۔

مہنگائی کے ہاتھوں عوام کا جینا محال ہے آٹے کی قیمت 38 سے بڑھ کر 76 اور چینی 53 سے 110 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس قلیل مدت میں بیروزگاری کا بھی ریکارڈ قائم ہو چکا تمام آزاد ماہرین معیشت کے مطابق کم از کم پانچ سے آٹھ ملین لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ دیہاڑی دار غریب آدمی فاقوں پر مجبور ہو چکے ہیں کوئی بڑے سے بڑا ماہر معیشت یومیہ سات سو روپے کمانے والے کے گھر کا ماہانہ بجٹ بنا کر دکھا دے۔ ادویات کی قیمتیں ملکی تاریخ میں اتنی بار کبھی نہیں بڑھی جتنی تین سالوں میں بڑھی ہیں۔

قرض بھی سب سے زیادہ اسی دور حکومت میں لیا گیا۔ سوال پوچھا جائے تو اب تک ایک ہی جواب ملتا ہے کہ یہ قرض پچھلے قرضوں کا سود ادا کرنے کی خاطر حاصل کیا اور کچھ قرض روپے کی قدر گرنے سے بڑھا۔ یہ بات درست ہے تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پچھلی حکومتیں قرض حاصل کر کے پیسہ گھر لے گئیں۔ حکومت نے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تھا اس کے نتیجے کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔ حالانکہ موجودہ حکومت کے دور کوئی میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں ہوا، پہلے سے جاری ترقیاتی کام بھی بند کر دیے گئے پھر بھی قرض میں ریکارڈ اضافہ ہونا ہر لحاظ سے حکومت کی ہی نا اہلی ہے۔

پولیس اصلاحات کے وعدے کا جو حشر ہوا سب کے سامنے ہے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کسی کی جان مال آبرو محفوظ نہیں رہی۔ آئے روز ایسی خبریں وہاں سے ملتی ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ پھر جنوبی صوبے کے نام پر جو مذاق ہوا اس پر بات کرنا ہی وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ خارجہ محاذ پر حال اس سے بھی پتلا ہے۔ اچھے برے اور ہر آڑے وقت کے آزمودہ عرب دوست ممالک بھی نا تجربہ کار سفارت کاری اور غیر محتاط بیان بازی کی وجہ سے آج ہم سے نالاں ہیں۔

بھارت کو گزشتہ بہتر سال میں جس کام کا حوصلہ نہیں ہوا وہ اب کر گزرا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اسی دور میں ہوا اور موجودہ حکومت اس پر ردعمل تک دینے میں ناکام رہی۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہماری معاونت سے ہوا لیکن کمزور حکمت عملی اور پالیسی واضح نہ ہونے کے سبب وہاں کا مستقبل طے کرنے کا وقت آیا تو مکھن سے بال نکالنے کی طرح ہمیں الگ کر دیا گیا۔

تین سال گزرنے کے بعد ناکامی کا ملبہ گزشتہ حکومتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اب بھی اگر ملکی حالات میں بہتری نہیں آ رہی اور مسائل حل ہونے کے بجائے پہلے سے بدتر ہو رہے ہیں تو یہ موجودہ حکومت کی ہی ناکامی ہے اور وہی اس کی ذمہ دار ہے۔ مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک اسے ترجیح نہیں بنایا جاتا لیکن حکومت سمجھتی ہے کہ اسے حکومت صرف انتقامی نفسیات کی تسکین کے لیے ملی ہے اور یہ بات درست بھی ہے۔ عوام کا اصل مسئلہ بھوک اور بیروزگاری ہے ناکہ اپوزیشن کی تضحیک۔

حکومت کو جتنی کمزور اپوزیشن ملی اسے چاہیے تھا کہ یکسو ہو کر معیشت اور گورننس کے شعبوں میں ہنگامی بنیاد پر بہتری لانے کی کوشش کرتی لیکن حکومت اپنا وقت اپوزیشن سے محاذ آرائی میں ضائع کرتی رہی۔ اس حکومت سے اب بہتری کی توقع باقی نہیں رہی کیونکہ آئندہ سال اگلے انتخابات کی تیاری شروع ہو جائے گی اور کچھ کرنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ کوئی اور سیاسی حکومت ہوتی تو وہ اس بارے فکرمند ہوتی مگر یہ حکومت اپنی موج میں اس لیے مست ہے کیونکہ اسے خبر ہے کہ جس طرح پچھلی بار اسے حکومت ملی اسی طرح آئندہ بھی مل جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words