قوم پرستی کی نوکرانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کر لے گی، ہم ہر حال میں توقع کر سکتے ہیں کہ مذہبی شناختوں اور رسومات کے بارے میں دلائل نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر اثرانداز ہوتے رہیں گے اور دنیا کو شدید متاثر کرنے کی اپنی قوت کو برقرار رکھ سکیں گے۔ جدید ترین جوہری میزائل اور سائبر بم کو قرون وسطی کی الہامی کتب کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک دلیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب تک انسانیت کی طاقت کا انحصار بڑے پیمانے پہ تعاون کی بنیاد پر ہے، اور اس بڑے پیمانے پر تعاون کی بنیاد مشترکہ افسانوی کہانیوں پر قائم ہے، تب تک مذہب، رسوم اور رسومات اہم رہیں گے۔

بدقسمتی سے، یہ تمام تر افسانوی کہانیاں انسانیت کے مسئلے کو مذاہب کے ساتھ جوڑتی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ان انسانی مسائل کا حل تجویز نہیں کرتی ہے۔ مذاہب کو ابھی بھی بہت زیادہ سیاسی طاقت حاصل ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ قومی شناخت کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ تیسری عالمی جنگ کو بھڑکا سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ مذاہب اکیسویں صدی کے عالمی مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں جڑ سے اکھاڑنے کی بات کرتے ہیں تو وہ کچھ زیادہ عملی کام کرتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں۔

اگرچہ بہت سے روایتی مذاہب عالمگیر اقدار کی حمایت کرتے ہیں اور کائناتی صداقت کا دعوی کرتے ہیں۔ اس وقت (خواہ شمالی کوریا، روس، ایران یا اسرائیل میں سمیت کوئی بھی ملک ہو) وہ مذہب کو بنیادی طور پر جدید قوم پرستی کی نوکرانی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لہذا یہ عمل قومی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایٹمی جنگ، ماحولیاتی خاتمے اور ٹیکنالوجی خلل کے خطرات کا عالمی حل تلاش کرنے کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

چنانچہ جب عالمگیر حرارت میں اضافے کی بات کی جاتی ہے یا جوہری پھیلاؤ سے نمٹنے کا معاملہ درپیش ہوتا ہے تو شیعہ علما ایران کے شہریوں کو ان مشکلات کو ایرانی تناظر میں دیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ یہودی ربی اسرائیلیوں کو سمجھاتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل کے مفادات کی فکر کریں اور آرتھوڈوکس پادری روسیوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے روس کے بارے میں سوچیں۔ یہ سبھی ایسا اس لیے کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں وہی خدا کی منتخب قوم ہیں، اس لیے ان کی قوم کے لیے جو اچھا ہوگا صرف وہی عمل خدا کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ البتہ ایسے مذہبی دانشور بھی موجود ہیں جو قوم پرست زیادتیوں کو مسترد کرتے ہیں اور کافی حد تک عالمی نظریات کو اپناتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، ایسے دانشور آج کل زیادہ سیاسی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔

ہم دو مشکلات کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ انسانیت اب مجموعی طور پر ایک ہی تہذیب کی تشکیل کر رہی ہے۔ کیونکہ ایٹمی جنگ، ماحولیاتی خاتمے اور تکنیکی خرابی جیسے مسائل صرف عالمی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف قوم پرستی اور مذہب اب بھی ہماری انسانی تہذیب کو مختلف طبقوں اور دشمن کیمپوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ عالمی مسائل اور مقامی شناخت کے مابین یہ تصادم ابھی خود بحران کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے درمیان ’یورپی یونین‘ ایک کثیر الثقافتی لوگوں کا ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا بذات خود ایک اہم تجربہ ہے۔ لیکن آزادانہ اقدار کے وعدے پہ جنم لینے والا یہ منصوبہ بھی مختلف اقوام کے باہمی ملاپ اور امیگریشن کی مشکلات کے سبب فی الحال انتشار کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےشناخت کے مسائل: ریت میں لکیریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments