مرد کی جمع اب مردود لکھی جائے

مرد بھیڑیا بن چکا ہے اور یہ مختلف واقعات و سانحات سے ثابت بھی ہو چکا ہے، دنیا بھر کی جنگوں کے پیچھے مردوں کا ہاتھ ملتا ہے اور ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار یہی مردود ہے، آپ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگوں کی جنس دیکھ لیں، تقریباً سو فی صد یہی مردود نظر آئیں گے، دنیا بھر میں ہر منفی ہر گھٹیا ہر دو نمبر دھندے کا ماسٹر مائنڈ یہی مردود دکھائی دیتا ہے، منشیات، اغوا برائے تاوان، انسانی سمگلنگ، ہائی جیکنگ، منی لانڈرنگ، چور بازاری، ملاوٹ، کرپشن سمیت کسی بھی قسم کے کاروبار کے پیچھے موجود لوگوں کی جنس چیک کریں گے تو یہی مردود ملیں گے، رشوت کا بازار گرم ہے تو اس کی وجہ سے، دوائیوں میں، غذا میں ملاوٹ ہے تو پیچھے یہی جنس کارفرما ہوگی، ملکوں میں عدم استحکام ہے تو اس جنس کا ہاتھ نظر آئے گا اور اگر آپ فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے پیچھے بھی اسی جنس کا سب سے بڑا ہاتھ ملے گا، حکومتیں توڑنے، ملک توڑنے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے اقوام کو غلام بنانے کی مکروہ سازشوں کے ماسٹر مائنڈ کا کھرا بھی اسی جنس سے جا ملے گا۔
عورت کو بازار میں شو پیس بنا کر فائدہ اٹھانے والی مخلوق بھی یہی نکلے گی اور جسم فروشی کے شرمناک دھندوں کے میر منشی بھی اسی جنس سے تعلق والے ہوں گے، یہ جنس اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے نہ مندر دیکھتی ہے نہ چرچ اور نہ ہی مسجد و معبد، یہ جنسی تسکین کے لیے نہ بکری کو بخشتی ہے نہ گدھی، ڈولفن، تین ماہ کی بچی، ہیجڑے اور عورت کو بلکہ یہ ایسی گری ہوئی جنس بن چکی کہ اپنے ہم جنسوں پر بھی گندی نظروں کے ساتھ حملہ آور ہوجاتی ہے، کبھی یہ قانون، سزا، معاشرے اور اخلاقیات سے ڈرا کرتی ہوگی لیکن اب نہیں، اب یہ سینکڑوں لوگوں کے بیچ بھی اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے تن کر کھڑی ہوجاتی ہے اور اس جنس کے دیگر نام لیوا بھی ایک کمزور جان کو کیک سمجھ کر اسے ادھیڑنے کو لپکتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ اسے اپنے سے جڑے کچھ رشتے پاک اور حرام محسوس ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ مردود مخلوق نہ بیٹی کا لحاظ کرتی ہے، نہ ماں کا، نہ بہن کا اور نہ ہی کسی اور پاک رشتے کا، اب اس سے جڑے رشتے بھی محفوظ نہ ہیں بلکہ اس سے خوف کھانے لگ گئے ہیں، کبھی اسے مونچھ، داڑھی اور عمر کی شرم مار جاتی تھی لیکن اب یہ کسی بھی وضع قطع کا ہے تو بھیڑیا ہے اور سامنے موجود لرزتی کپکپاتی کمزور جنس کوئی ممیاتی بکری سے کم نہیں ہے جسے یہ ہمہ وقت ہڑپنے کو تیار دکھائی دیتا ہے، اس سفاک جنس کے مکروہ کارناموں کی وجہ سے اب روز ٹی وی اسکرینیں چیخ رہی ہوتی ہیں، اخبارات کے صفحات اس کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں، کوئی یوٹیوب چینل کھول لیں اس جنس کے ہاتھوں متاثرہ کسی نہ کسی عورت یا مخلوق کے ظلم کی کہانی سنا رہا ہوتا ہے، اس کو رب نے طاقتور بنایا تھا کہ یہ عورت سمیت دیگر مخلوقات کا تحفظ کرے گا، انہیں اعتماد بخش کر سکون سے جینے میں مدد دے گا لیکن اس نے اپنی اس طاقت کا غلط استعمال شروع کر دیا اور شیطان مردود بن گیا اور اب دیواریں ہیں کہ اس کے قصوں سے اٹی پڑی ہیں، زبانیں ہیں کہ اس کی کمینگیوں، چالبازیوں، بے ہودگیوں اور وارداتوں کا ذکر کرتے نہ تھکتی ہیں، اس نے خدا کی مخلوق کا زمین پر رہنا دوبھر کر دیا ہے اور اس کی وجہ سے روزانہ کتنی معصوم کلیاں مرجھا جاتی ہیں اس کے اعداد و شمار دیکھ اور سن کر دل ہولنے لگتے ہیں، ہزاروں لاکھوں خودکشیوں کے پیچھے اس جنس کا خفیہ ہاتھ ہوتا ہے لیکن یہ جنس دندناتی پھرتی ہے اور اسے روکنے والے بھی چونکہ اسی کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اسے کسی سخت سزا یا ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے، اسی لیے اس کی منہ زوریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور انسانیت خوف سے سمٹ کر ایک کونے سے لگ چکی ہے، اسے کبھی روکا جاسکے گا؟

اسے راہ راست پر لانے کی کبھی کوئی کوشش ہوگی؟ آثار و واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ اس منہ زور جنس کی ہوس گیری کے آگے بند باندھنے کی معمولی سی بھی سوچ تک نہ کہیں پیدا ہو رہی ہے، احتجاج، ریلیاں، واک، دھرنے، ازخود نوٹس یہ سب اس کے کسی ارادے کے آگے رکاوٹ کھڑی نہ کرسکے ہیں، اس کی دراز رسی مذید دراز ہو رہی ہے اور اس کے کرتوت تو ایک طرف اب اس کے مکروہ جرائم کے بعد اس کے شکار ہی کو قصوروار قرار دے دیا جاتا ہے، اس کے کپڑوں اور اس کے گھر سے تنہا نکلنے کو بنیاد بنا کر اس پر سارا ملبہ پھینک دیا جاتا ہے، وہ بولے تو گستاخ اور بے شرم اور بے حیا کہلاتی ہے اور اگر چپ رہے تو پھر لٹتی ہے، بھنبھوڑی جاتی ہے، اسے کسی مردود کے گناہ کے کارن کہیں ونی کیا جاتا ہے کہیں سوارا کی رسم کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے، کبھی اسے زندہ درگور کر کے قبل از اسلام کی دل دہلا دینے والی تاریخ دہرائی جاتی ہے اور مقدس ایوانوں میں کچھ مردود کھڑے ہو کر اسے اپنی روایت کہہ کر دوسروں کو چپ کرا دیتے ہیں، کبھی اسے کتوں کے آگے ڈال کر فخریہ رقص کیے جاتے ہیں، کوئی اسے تیزاب گردی کا سرعام نشانہ بناتا ہے تو کوئی بھرے جلسوں میں اس کے جسم کو فٹ بال بنا کر کھیلتا ہے، کوئی زمین کا جھگڑا نبٹانے کے لیے اس کی قربانی دیتا ہے تو کوئی خاندان میں تصفیہ کے لیے اسے بطور ”رہن“ رکھ دیتا ہے۔

کوئی اس کے جسم سے رنڈی، کنجری، طوائف، فاحشہ، کال گرل کا نام لے کر مزے کرتا ہے اور خود معاشرے کا باعزت فرد بھی بنا رہتا ہے اور بدنامی ساری کمزور عورت کے حصے میں آتی ہے اور اس کے لیے نرم، قابل، قبول، غیر متنازع اور اچھا سا نام ”تماش بین“ برت کر اس کی جنس کا مذاق بنانے اور اسے شرمندہ ہونے سے بچانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ آج سے نہیں صدیوں سے ہو رہا ہے اور اس کے خلاف کبھی کسی کونے سے ایک ہلکی سی آواز تک نہ اٹھی ہے، اسے ہر جرم ہر گناہ اور ہر ظلم کے بعد بھی گالی والی پہچان نہ دی گئی ہے کہ یہ معاشرہ اس کے ہم جنسوں کے مکمل کنٹرول میں ہے، یہ وہ مافیا ہے جس کی سرپرستی کہیں مذہب کرتا ملتا ہے اور کہیں رسوم و رواج اور گھڑی گھڑائی اور خودساختہ اقدار، اور المیہ ہے کہ وہ عورت جو اس کے ظلم کا ہمیشہ سے شکار رہی ہے وہ بھی اس جنس کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے کے باوجود اس کی حمایت کے لیے تلی رہتی ہے اور اپنی ہم جنس کی پیدائش پر سب سے پہلے ناک بھوں چڑھانے والی ایک ماں، نند، ساس ہی ملتی ہیں، اب اگر کوئی خود ہی اذیت پسندی کی طرف مائل ہو تو دوسرے بھلا کیا کر سکتے ہیں؟

ظالم کو شہ دینے والے اپنے جسم کے زخموں کو نہ دیکھیں تو قصور کس کا ہے؟ لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر مظلوم کسی خوف، مصلحت یا وجہ کی بنیاد پر صدائے احتجاج بلند نہ کرے تو کیا اسے مسلسل اذیت دینا یا بے عزت کرنا درست فعل ہے؟ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ ذہنی مریض ہے اور ایسوں کا علاج سوائے فاؤنٹین ہاؤس کے کہیں اور نہ ہے اور جب تک اس جنس کا مزاج ٹھکانے نہیں آتا ہے، اس کے اندر کا وحشی دم نہیں توڑتا ہے، اس کی اذیت پسندی ختم نہیں ہوتی ہے اور یہ اشرف المخلوقات پوزیشن پر واپس نہیں چلا جاتا ہے تب تک اسے مرد نہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ مرد تو محافظ ہوتا ہے، عورت کا مان ہوتا ہے، گھر، خاندان اور قبیلے کی شان اور پہچان ہوتا ہے اور جو ایسا نہ ہو تو وہ بھلا اس منصب پر براجمان کیسے رہ سکتا ہے؟ وہ مرد نہیں بلکہ مردود ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words