تندی باد مخالف (4)

میں چوں کہ برطانیہ سے ایف آر سی ایس (فیلو آف رائل کالج آف سرجنز) کرنے کا خواہش مند تھا، لہذا فوج سے فراغت سے قبل ہی میں وفاقی محکمہ صحت سے بیرون ملک جانے کے لئے سندعدم اعتراض ( این او سی) حاصل کرنے کی درخواست دے چکا تھا۔ فوج سے فارغ ہوتے ہی یہ سند مجھے مل گئی۔ میں تو ’جی ایچ کیو‘ جا کر ان سے بھی ’این او سی‘ لے آیا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ’جی ایچ کیو‘ والی سند میں، فوج سے میرا ناتہ ٹوٹ جانے کے باوجود ’مجھ سے یہ بھی لکھوایا گیا کہ میں بیرون ملک جا کر ملازمت نہیں کروں گا۔

گویا ایف آر سی ایس کی سند، بغیر کسی تجربے یا مہارت کے ہی مجھے مل جانی تھی۔ یہ سندیں تو مجھ جیسے سادہ لوحوں کو خوار کرنے کے لئے محض تکلفات تھیں، وگرنہ عملی طور پر ان کی کہیں ضرورت نہیں پڑی۔ اب برطانیہ یا آئرلینڈ جانے کے لئے، میرے سامنے اور کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ بس میرے دو بیٹے، جن میں سے ایک ڈیڑھ سال اور دوسرا دو ہفتے کا تھا، میری راہ روک کر کھڑے ہو گئے۔ میرا ارادہ متزلزل ہو گیا۔ چناں چہ میں لاہور چلا گیا۔

فوج کا جؤا اتار پھینکنے کے بعد جب باہر آیا تو خیال تھا کہ اب تو میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاؤں گا کہ سول میں ملازمت حاصل کرنے کی سب سے بڑی شرط ہی فوج کی دو سال کی غلامی تھی۔ یہ پہاڑ تو میں سر کر آیا تھا۔ لاہور کے سارے بڑے ہسپتالوں کا چکر لگانے کے بعد یہ حقیقت مجھ پر عیاں ہوئی کہ پنجاب یونیورسٹی کے وہ ساتھی جن سے کامیابی، ایم بی بی ایس کے آخری سالانہ امتحان میں روٹھ سی گئی تھی، یعنی وہ چراغ جو گل ہو گئے تھے، وہ چھے ماہ بعد پھر سے روشن ہی نہیں ہوئے تھے، پوری آب و تاب سے چمک بھی رہے تھے۔ پڑھائی کے دوران پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے عملی زندگی میں، فوج کی ملازمت سے، ثقل سماعت، ضعف بصارت یا خلل دماغ تک کی علتوں کے، استثناء پر، اگلی نشستوں پر براجمان تھے۔ میرے جیسے لوگوں کے لئے ہر جگہ ’ہاؤس فل‘ اور کلیدی نشستوں پر ’مخصوص ہے‘ کی تختیاں آویزاں تھیں۔

مختلف ہسپتالوں میں پھرتے پھراتے میں لاہور جنرل ہسپتال، جہاں میں نے ایک سال ہاؤس جاب کیا تھا، کے ایم ایس کے دفتر میں جا پہنچا۔ اب یہاں کوئی نئے صاحب آ گئے تھے۔ آپ انہیں ساجد سیف اللہ کہ لیں۔ انہوں نے اپنی میز کے سامنے سے تین کرسیاں ہٹوا کر اپنی دونوں اطراف میں اور سامنے صوفے لگوا لیے تھے۔ اب یہ ہسپتال کا دفتر کم اور سیاسی اکھاڑا زیادہ لگتا تھا۔ سبھی صوفوں پر بھانت بھانت کے لوگ بیٹھے تھے۔ یہ سب سے باری باری ان کے حال احوال اور وہاں آنے کی وجہ دریافت فرما رہے تھے۔ جب میری باری آئی تو فرمایا: کیوں بھئی جوان! تیرا کیہ مسئلہ اے (کیوں بھئی جوان تمہارا کیا مسئلہ ہے )

میں ان کے انداز تخاطب پر چونکا تو ضرور لیکن اس سے پہلے جو کچھ وہاں ہو رہا تھا، اسے دیکھ کر کوئی تعجب نہ ہوا۔

جناب میں ڈاکٹر ہوں اور اس ہسپتال میں ملازمت کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کے پاس آسامی ہے تو آپ اس درخواست پر دستخط کر دیں، میں نے کہا۔

تم اس سے پہلے کیا کرتے رہے ہو؟
میں آرمی سے فارغ ہو کر آیا ہوں اور اس سے پہلے اسی ہسپتال میں ہاؤس جاب کیا تھا۔

مجھے پتہ نہیں کہ تم شریف آدمی ہو یا بد معاش۔ اگر تم اس ہسپتال میں کام کر چکے ہو تو ڈی ایم ایس (آپ انہیں ہر دلعزیز کہ لیں ) تمہیں جانتا ہو گا؟

جی وہ مجھے جانتے ہیں۔
تو جاؤ اسے بلا لاؤ۔

میرے ہاؤس جاب کے دوران ڈی ایم ایس کا آفس، ہسپتال میں مصروف ترین جگہ ہوتی تھی۔ آفس کے اندر اور باہر ہمہ وقت ہاؤ ہو اور ہا ہا کار مچی رہتی۔ چوکیداروں، بیروں اور خاکروبوں کا جم گھٹا لگا رہتا۔ اس آفس میں چڑھاوے بھی چڑھتے تھے۔ گنوں کے گٹھے، ان مریضوں کی فوری طبی امداد کے لئے، جن کے خون کی شوگر یک دم کم ہو جاتی ہے۔ گھی کے کنستر، دودھ، دہی اور مکھن کی گڑویاں، مریضوں کی اعلیٰ و عمدہ غذا کے لئے۔ حتیٰ کہ چارے کے بڑے بڑے گٹھے بھی، شاید مریضوں کی چارہ جوئی کے لئے، پڑے نظر آ جاتے تھے۔

کچھ عرصہ بعد کی بات ہے جب میں ولایت سے ایف آر سی ایس کر کے آیا، تو اسی آفس میں، اپنے یار طرح دار ریاض راجوؔ، جو گجرات سے تھے، کو ہسپتال کے ملازمین میں گھرے پایا۔ آفس کے باہر نہ تو چارے کے بنڈل نظر آئے نہ ہی ان کے فلیٹ کی بالکنی میں، جو دوسری منزل پہ تھا، کوئی بھینس بندھی نظر آئی۔ ان کا وزن بھی وہی ’چالیس سیر‘ تھا، جو کالج کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ کالج کے زمانے میں نہایت ہی شریف النفس اور ’امانت دار‘ تصور ہوتے تھے اگرچہ ان کا تعلق گجرات سے تھا۔

کالج کے آخری سالوں میں قاسم ہال کی میس کمیٹی کے سربراہ، یعنی چیئرمین، رہے تھے۔ حرام ہے جو انہوں نے میس (Mess) سے ایک ’چکن پیس‘ (Chicken Piece) تو کیا کبھی کسی مرغ کا ایک پر بھی غبن کیا ہو۔ سال بھر اس پوزیشن میں رہنے کے بعد ان کا وزن وہی چالیس سیر کا چالیس سیر ہی رہا۔ محکمہ صحت پنجاب میں پینتالیس سال ملازمت کرنے، پنجاب ہیلتھ کیئر کے ڈائرکٹر کے عہدہ سے حال ہی میں ریٹائر ہونے پر بھی ان کا وزن اب بھی وہی چالیس سیر ہے۔ ان کا من آج بھی چالیس سیر کا ہی ہے، بلکہ عمر بھی میں وہ چالیس سال کے ہی لگتے ہیں۔

گنوں کے گٹھوں سے یاد آیا، میرے ہاؤس جاب کے آخری دنوں کی بات ہے۔ میں وارڈ میں ایک مریض کو دیکھ رہا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔ ’ڈاک دار جی سلاما لیکم‘ ۔ پیچھے مڑ کے دیکھا تو ایک دیہاتی، سر پر گنے کا بڑا سا گٹھا اٹھائے کھڑا تھا، چہرہ پوری طرح نظر نہیں آ رہا تھا۔ ارے بھائی تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟

میں دو ماہ پہلے آپ کا مریض تھا، آپ نے میرا آپریشن کیا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ اپنے تہبند پر چلا گیا۔ وہ شایداپریشن کی ’جائے وقوعہ‘ دکھانا چاہتا تھا۔ بھرے وارڈ میں اس چشم کشا منظر سے بچنے کے لئے میں نے کہا: ہاں ہاں مجھے یاد آیا، تمہارا ہرنیا کا آپریشن کیا تھا۔ فساد خلق خدا سے بچنے کے لئے بے ضرر سا جھوٹ بول دینا مباح ہوتا ہے۔ اب کیسے آنا ہوا؟

میں یہ گنے آپ کے لئے لایا ہوں۔

مجھے علم نہیں تھا کہ رشوت کے رس میں مٹھاس زیادہ ہوتی ہے، غالباً اسی رس کی بدولت بسا اوقات، سرکاری اہلکاروں کی گفتگو، ان کے سائلین کے کانوں میں رس گھولتی ہے۔
مجھے نہیں چاہئیں تمہارے گنے۔ نکل جاؤ یہاں سے اپنے گنوں سمیت۔

آپ کیسے ڈاکدار ہیں؟ میں قصور کے قریب، اپنے گاؤں سے، صرف آپ کو یہ گنے دینے آیا ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں نکل جاؤ یہاں سے۔ اس نے گٹھا فرش پر دے مارا اور پاؤں پٹختا ہوا وارڈ سے چلا گیا۔ میں نے وارڈ بوائے کو بلایا اور کہا: یہ گٹھا اٹھاؤ اور باہر پھینک آؤ۔ وارڈ کی انچارج نرس یہ کارروائی دیکھ رہی تھی۔ اس نے کہا: ڈاکٹر جمیل! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ وہ بیچارہ اتنی دور سے بڑی چاہت سے، آپ کے لئے گنے لایا ہے۔ اس کی دانست میں، آپ کے لئے یہ ایک بڑی سوغات ہے اور آپ نے اسے ڈانٹ کر باہر نکال دیا ہے۔ نعمت کی بے قدری نہ کریں، اسے برآمدے میں رکھوا دیتے ہیں، وارڈ کے ملازمین انہیں کھا لیں گے۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن میں رشوت نہیں لے سکتا۔ میں نے کہا۔

کیا اپریشن سے پہلے آپ نے اس کے ساتھ طے کیا تھا کہ وہ آپ کے لئے گنے کا گٹھا لے کر آئے گا؟
نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔

اس کے اپریشن کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ آپ کو یاد بھی نہیں کہ آپ نے اس کا کون سا اپریشن کیا تھا۔ اب اگر وہ اپنی مرضی سے اپنی استطاعت کے مطابق آپ کے لئے کچھ لے کر آیا ہے تو آپ کو اسے اس طرح دھتکارنا نہیں چاہیے تھا۔

میں رشوت کی راہ ہموار نہیں کرنا چاہتا۔
نہ کریں، لیکن دوسروں کے جذبات کا پاس بھی تو ہونا چاہیے۔
تو کیا اب میں وارڈ میں بیٹھ کر گنے چوسوں گا؟
آپ یہ وارڈ کے ملازمین کو تو دے سکتے ہیں۔

اس واقعہ کے دو تین دن بعد بڑے زور کی بارش ہوئی، شام آٹھ بجے کا وقت تھا۔ بجلی چلی گئی تھی۔ وارڈ میں اندھیرا اور حبس تھا۔ میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کمرہ کیا تھا، پروفیسر صاحب کا آفس تھا، جو دن کو ان کا آفس اور رات کو میری رہائش ہوتا۔ یہ کمرہ وارڈ کے دروازے کے باہر ایم ایس کے دفتر سے ملحق تھا۔ دن کو وہاں چوکیدار اور دربا ن ہوتے ہی تھے شام کو سات بجے طالبان نما ایک پٹھان بڑی سی ڈانگ کے ساتھ برآمدے میں میرے کمرے کے عین سامنے ستون کے ساتھ سٹول جما کر ، اس پر ٹیک لگا کر اور میرے دروازے پر نظریں جماکر بیٹھ جاتا۔

وہ صبح تک جب کہ دن کا عملہ کام پر نہ آجاتا، اسی جگہ بیٹھا رہتا تھا۔ مجھے علم نہیں کہ ایم ایس کے دفتر میں ایسا کون سا قارون کا خزانہ تھا، جس کے لئے ایک چوکیدار مامور کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے دو آسمانی فرشتوں کے ساتھ ایک انسانی فرشتہ بھی میرے اعمال کی نگرانی پر بٹھا دیا تھا۔ کندھوں پر بیٹھے کر اماًکاتبین کے بارے میں سن رکھا، ان سے آشنائی نہیں تھی۔ چناں چہ مجھے اللہ سے زیادہ اس پٹھان کی ڈانگ سے ڈر لگتا تھا۔

آسمانی فرشتوں کے لکھے کو اللہ تعالیٰ کی منت سماجت کر کے مٹایا جا سکتا ہے مگران دنوں انسانی فرشتوں کے لکھے کو مٹانے کی کوئی سہولت ابھی دستیاب نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ تیز رفتار وقت کے ساتھ، اب اتنی پیش رفت ہو چکی ہے کہ پیسے اور پستول کے زور پر انسانی فرشتوں کے لکھے کو بھی مٹایا جا سکتا ہے۔ جو مٹانے پر راضی نہ ہو، وہ بھری عدالت میں اپنے لکھے سمیت ہی مٹا دیاجاتا ہے۔ یہ بات تو محض سخن گسترانہ کے طور پر درمیان میں آ پڑی ہے۔

میں چند منٹ ہی تاریک کمرے میں بیٹھا ہوں گا کہ حبس سے گھبرا کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں رات کی ڈیوٹی کی تینوں نرسیں برآمدے سے باہر کرسیاں ڈالے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھی گنے چوس رہی ہیں۔ مجھے دیکھ کر انچارج نرس نے کہا ڈاکٹر جمیل آپ بھی یہاں آجائیں، کمرے کے حبس میں بیٹھنا کیا ضروری ہے؟ میں ان کے پاس جا بیٹھا تو انہوں نے مجھے بھی ایک گنا پیش کر دیا۔ یہ تو گنوں کا وہی گٹھا تھاجو ایک مریض لایا تھا۔ اب یہ آدھا رہ گیا تھا۔

مجھے گنے چھیلنے نہیں آتے تھے کہ بچپن میں گنے چرا کر کھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اس لئے کہ ہمارے ہاں گنے ہوتے ہی نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے گنے چھیلنے کا ہنر سکھایا۔ یہ گنا تو بہت میٹھا تھا۔ یہ انچارج نرس وہی تھی تھی جس نے مجھے اس مریض کو ڈانٹنے اور گنے باہر پھینکوانے سے روکا تھا۔ دوسرے دن بھی بارش ہوئی، وہی تاریکی اور باہر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا۔ گنے چوسنے کا دور پھر چلا۔ تیسرے دن بارش نہیں ہوئی، میں نے تمنا بھی نہیں کی کہ گنے تو ختم ہو گئے تھے۔

اب جو میں ڈاکٹر ہر دلعزیز کے دفتر میں گیا تو انہیں ہسپتال کے ملازمین کے محاصرے میں پایا۔ ایک دو ملازمین نے مجھے پہچان کر راستہ دیا تو ہر دلعزیز مجھ سے بغل گیر ہو گئے۔ کہنے لگے کب آئے، کیسے آنا ہوا؟ میں نے انہیں کہا، یہ باتیں بعد میں ہوں گی پہلے آپ میرے ساتھ ایم ایس کے آفس میں چلیں۔ وہ آپ سے میرے چال چلن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے آفس میں گئے تو انہوں نے کہا کیوں بھئی ہردلعزیز! یہ بندہ کیسا ہے؟

جناب، یہ تو بہت ہی شریف اور محنتی ڈاکٹر ہے، ڈاکٹرہردلعزیز نے کہا۔

ہاں، تم اس کے سامنے تو اس کی تعریف ہی کرو گے۔ میری درخواست پر دستخط کیے بغیر ہی انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، تم جاؤ، کل پھر اسی وقت یہاں آجانا۔

میں اختتام ہفتہ کے بعد پھر ان کے دفتر گیا۔ ابھی میں دروازے میں ہی تھا اور اندر کی جھلک ہی نظر آئی تھی۔ وہاں کوئی دیہاتی سیاسی جماعت آئی بیٹھی تھی۔ ہر طرف طروں، شملوں اور پگڑیوں کی بہار سی چھائی ہوئی تھی۔ مجھے دروازے میں روک کر فرمایا، جوان، تم نے کیا بتایا تھا کہ تم نے سرجری میں ہاؤس جاب کیا تھا؟

جی، میں نے سرجری میں جاب کیا تھا، میں نے اعتراف کیا۔

تم ایسے کرو، اس شخص کو اپنے ساتھ اپریشن تھیئیٹر میں لے جاو اور اس کے ہاتھ کے زخم پر ٹانگے لگا کر واپس میرے پاس لے آؤ۔

میں نے سوچا کہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ ابھی اس ہسپتال میں ملازمت مجھے ملی نہیں، اپریشن تھیئیٹر میں مجھے کوئی جانتا بھی نہیں ہو گا۔ وہاں مجھے اس طرح کون گھسنے دے گا۔ اپریشن تھیئیٹر میں اپریشن اس طرح تو نہیں ہوتے، بغیر اطلاع، بغیر وقت مقرر کیے۔ ایک دیہاتی شخص، جس کے ہاتھ پر پٹی بندھی تھی، اٹھا اور میرے ساتھ ہو لیا۔ اپریشن تھیئیٹر میں پہلے والی سسٹر بشیراں ہی انچارج تھی۔ اس نے مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار تو کیا مگر جب پتہ چلا کہ میں کیوں آیا ہوں تو کہا کہ اب اس تھیئیٹر میں صرف دماغ کی سرجری ہوتی ہے۔ پروفیسر بشیر احمد اس وقت بھی اندر اپریشن کر رہے ہیں۔ وہ آپ کو یہ کام یہاں ہر گز نہیں کرنے دیں گے۔ سسٹر بشیراں نے بتایا کہ اب سرجری کے لئے نیا تھیٹربن چکا ہے۔ آپ وہاں چلے جائیں۔

سسٹر، وہاں نیا سٹاف، کیا مجھے اندر جانے دے گا؟ آپ مجھے ایک طرف کے چھوٹے کمرے میں چند اوزار اور انجیکشن دے دیں۔ میں یہ کام اکیلے ہی کر لوں گا۔ پندرہ بیس منٹ ہی تو لگیں گے۔ پروفیسر بشیر کے فارغ ہونے سے پہلے ہی میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔ وہ بادل نخواستہ میری بات مان گئیں۔ جب میں نے اس مریض کا زخم دیکھا تو یہ پانچ چھے دن کا پرانا زخم تھا جو خراب ہو چکا تھا۔ نیورو سرجری کے اپریشن تھیٹر میں اس طرح کے مریض کے لئے کسی مرہم پٹی کا بندوبست بھی نہیں ہو سکتا تھا، جب کہ اوپر سے پروفیسر بشیر کے آ جانے کا خطرہ بھی تھا۔ میں بصد خواری سرجری کے وارڈ سے جا کر مطلوبہ دوائی لایا اور اس مریض کے زخم کو صاف کر کے اس کی ڈریسنگ کر دی۔ جب میں واپس ایم ایس کے دفتر میں پہنچا تو پوچھا، لگ گئے ٹانکے؟

جی نہیں، اس کا زخم تو چھے دن پرانا ہے اور خراب ہو چکا ہے، ٹانکے نہیں لگ سکتے تھے۔ میں نے پٹی کر دی ہے۔

کیا اسے کوئی انٹی بائیوٹکس دی ہیں۔
جی نہیں۔

اس پر اس شخص نے اپنے سامعین اور ناظرین کے سامنے خاصی لمبی تقریر شروع کر دی: دیکھیں آج کل کے ڈاکٹروں کو اتنا بھی پتہ نہیں اگر زخم خراب ہو تو ایسے مریض کو انٹی بائیو ٹکس دیتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ لوگ کیا پڑھتے رہے ہیں۔

یہ تو مجھے پتہ چل چکا تھا کہ یہ شخص بہروپیا ہے اور اپنے گاؤں سے آئے لوگوں کے سامنے اپنے کر و فر اور اختیارات کے وسیع تر ہونے کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ میں نے اس کی تقریر کو درمیان میں ہی روکتے ہوئے کہا، مجھے انٹی بائیوٹکس کا پتہ ہے لیکن شاید آپ بھول رہے ہیں کہ مجھے ابھی اس ہسپتال میں ملازمت نہیں ملی۔ میں یہاں کسی بھی مریض کے لئے کوئی دوا تجویز کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ لیکن یہ شخص کسی بہت ہی ڈھیٹ مٹی کا بنا ہوا تھا۔ اس نے جھٹ سے ایک کاغذ پر کوئی دوا لکھی اور پرچی میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، مریض کو میڈیکل سٹور میں لے جاؤ اور اسے یہ دوا دلوا دو۔ میں گربہ کشتن روز اول والا حربہ اختیار کر سکتا تھا لیکن اس سے اس کی پگڑی بہت سے پگڑیوں والوں کے سامنے اچھل جانے کا احتمال تھا۔ یہ حقیقت تو بعد میں کھلی کہ جو شخص جو خود ہی اپنی پگڑی سے فٹ بال کھیلنے پہ آ جائے، اس کی پگڑی کوئی دوسرا کیسے اچھال سکتا ہے۔ میں اس کے آفس سے باہر نکلا۔ مریض کو میڈیکل سٹور کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہاں چلا جائے۔ اسے دوائی مل جائے گی اور خود اپنے ٹھکانے پر چلا گیا۔

جاری ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words