” عربی سے طب تک“ قسط 10

’عربی سے طب تک‘ کی داستان طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہ تو میری زندگی کی کہانی ’دامن کو ذرا دیکھ‘ بن گئی ہے۔ لہذا میں اس قسط میں ’پیش لفظ‘ بھی شامل کر رہا ہوں۔ پہلے اسے پڑھیے اور پھر اس داستان کو ۔ بچپن کی کہانی کبھی بعد میں۔ عرض مصنف امرتا پریتم نے آپ بیتی ’رسیدی ٹکٹ‘ میں لکھا ہے : ”خود نوشت سوانح حیات کو اکثر چمک دمک بھری یک طرفہ سچائی خیال کیا جاتا

Read more

سوشل میڈیا کا بے محابا استعمال

جب سے سوشل میڈیا تک ہر خاص و عام کی رسائی ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اس کا استعمال، منفی مقاصد کے لئے، کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ اپنے مخالفین پر بلکہ کسی بھی شخص پر ، اسے بدنام کرنے کے لئے، کوئی الزام لگا دینا اب بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ قلم ہاتھ میں آ جانے

Read more

” عربی سے طب تک“ قسط۔ 9 نشتر میڈیکل کالج

قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان میں صرف تین میڈیکل کالجز تھے۔ ایک کالج لاہور میں ’لاہور میڈیکل کالج‘ کے نام سے 1860ء میں قائم ہوا تھا، جو 1911ء میں نام کی تبدیلی کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کہلایا۔ دوسرا کالج کراچی میں ڈاؤ میڈیکل کالج تھا۔ یہ کالج دراصل 1881ء میں حیدرآباد میں قائم کیا گیا، لائی سین شی ایٹ میڈیکل سکول تھا (جو تین سال کے کورس کے بعد ’ایل ایس ایم ایف‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا تھا)

Read more

” عربی سے طب تک“ قسط۔ 8 باشندہ ریاست درجہ اول

ایف ایس سی کے امتحانات جو لائی1969 ء میں شروع ہو کر اگست کے پہلے ہفتے میں ختم ہو گئے۔ ظفر علی جو میرا ہم جماعت تھا اور میری طرح ڈاکٹر بننے کا ارادہ رکھتا تھا، نے مجھے سٹیٹ سبجیکٹ یعنی ’باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹ‘ بنوا لینے کا مشورہ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے اس سرٹیفیکیٹ کی ضرورت پڑے گی بلکہ اس کے بغیر داخلہ نہیں ہو سکے گا۔ ظفر کی ہی راہنمائی میں،

Read more

عربی سے طب تک(7)

اسحٰق واحد منگلا سکول میں مجھ سے دو سال آگے تھا۔ وہ سکول کے فنکشنز میں اکثر تقریر کیا کرتا تھا۔ اس میں بلا کی خود اعتمادی تھی۔ وہ آواز کے زیر و بم کا استعمال خوب جانتا تھا۔ اپنے جذبات کے اظہار میں تندی و تیزی اس کا درجہ کمال تھے۔ میں کالج پہنچا تو وہ اس وقت بی اے کے آخری سال میں تھا۔ کالج آنا جانا اکٹھے ہو تا تھا۔ اگرچہ وہ کالج میں ادبی سرگرمیوں میں

Read more

”عربی سے طب تک“ (6)

جنوری 1968 ء میں کالج کا ایک گروپ کھیلوں میں حصہ لینے کے لئے لاہور جانے کے لئے تیار ہوا۔ مجھے بھی اس گروپ میں شامل کر لیا گیا۔ پروفیسر حنیف خواجہ ہمارے ساتھ انچارج کی حیثیت سے ساتھ جا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب اردو کے استاد تھے، لیکن مجھے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا اعزاز حاصل نہیں تھا۔ ہمیں اردو پروفیسر عبد الواحد قریشی پڑھاتے تھے جو ان سے سینیئر تھے۔ میری پروفیسر خواجہ سے واقفیت

Read more

عربی سے طب تک (5)

خواجہ اسلم میرا ہم جماعت تھا۔ نکلتے ہوئے قد آور نکھرے ہوئے چہرے کے ساتھ سمارٹ نوجوان تھا۔ شکل و شباہت سے زیادہ اس کی شخصیت بڑی متوازن اور پرکشش تھی۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ طاری رہتی تھی۔ ہمارے درمیان بے تکلفی ہی نہیں راز داری بھی تھی۔ ایک دن مجھے کہنے لگا:میرا کیا بنے گا، مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرا سب کچھ ڈوب رہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ڈیم میں پانی بھرنا شروع ہو

Read more

  جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو : عربی سے طب تک قسط 4

کالج گراؤنڈ میں اجتماع سے سٹرائیک کا جو تصور میرے ذہن میں تھا، چکنا چور ہو رہا تھا۔ یہ تو سیاسی لیڈروں کی سی تقاریر ہو رہی تھیں۔ یعنی صرف زبانی کلامی کھوکھلے الفاظ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، کوئی ایکشن یا خون کو گرما دینے والی کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ ہندوستان میرپور سے ذرا فاصلے پر واقع ہوا تھا۔ سکول کے بچوں نے اپنے قد اور نعروں کو بلند کرنے کے لیے خود

Read more

عربی سے طب تک – قسط 3

نسیم الحسن فزکس پڑھاتے اور ہر طرح سے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ ہفتہ دس دن میں ہی وہ کہنے لگ پڑے۔ جمیل! اللہ نے تجھے سائنس پڑھنے کے لئے پیدا کیا تھا یہ تم کس طرف جا نکلے تھے؟ وہ میری دل جوئی کے لئے اس طرح کے کلمات فراوانی سے استعمال کرتے۔ کیمسٹری اور فزیالوجی ہائی جین عنایت اللہ نسیم پڑھانے لگ پڑے۔ یہ مجھ سے تین چار سال ہی بڑے تھے۔ وہ بھی مجھ پر بہت مہربان تھے

Read more

” عربی سے طب تک“ قسط۔ 2

سکول اگرچہ واپڈا کے زیر انتظام، واپڈا کے ملازمین کے بچوں کے لئے تھا مگر ارد گرد کے دیہات کے طلبا کو بھی داخل کر لیا جاتا تھا۔ چنانچہ یہاں طلبا کی نصف تعداد دیہات کے طلبا کی تھی۔ سکول میں کچھ اساتذہ معمولی معمولی باتوں پر دیہاتی طلبا کو چھڑی سے پیٹ ڈالتے تھے۔ ماسٹر شیر محمد ایسے ہی ایک استاد تھے۔ ضلع جہلم کے قصبہ ’رہتاس‘ کے رہنے والے تھے۔ مڈل تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ غالباً

Read more

(1) عربی سے طب تک

میں نے پراجیکٹ ہائی سکول، منگلا، سے پانچویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو والد محترم سکول کے ہیڈ ماسٹر، غلام محمد بٹ، سے ملے اور انہیں کہا کہ میرے بیٹے کو عربی پڑھائی جائے۔ اس سے پہلے اس سکول میں عربی پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ہیڈ ماسٹر نے مولوی محمد حسن کو جو اردو کے استاد تھے لیکن عربی پر بھی دست گاہ رکھتے تھے، عربی پڑھانے پر مامور کر دیا۔ میرے ساتھ آٹھ نو لڑکے اور

Read more

راہ حق کا مسافر: کرنل عبدالخالق

کرنل عبدالخالق کے انتقال پر ملال پر بے حد افسوس ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ کل کی بات لگتی ہے، پچاس سال پہلے عبد الخالق نشتر میڈیکل کالج میں میرا ہم جماعت رہا۔ وہ مشرقی پاکستان میں راجشاہی میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا۔ مارچ 1971ء میں وہاں فوجی کارروائی کے رد عمل میں ہونی والی یورش کے دوران غالباً مئی میں ہم سے دوسرے سال میں آن ملا تھا۔ ہر تعلیمی ادارے میں طلباء کی ذاتی

Read more

تندی باد مخالف (6)

مشیر صحت کے دورے کے بعد چوتھے روز ڈاکٹر مظہر، جنہیں ان وارڈوں کا سربراہ بتایا گیا گیا تھا، وارڈ راؤنڈ کے لئے آن پہنچے۔ ایک وارڈ کا راؤنڈ کیا تو حقیقت آشکار ہوئی کہ مریضوں کو ادویات تو کیا مناسب غذا بھی نہیں ملتی۔ وارڈ راؤنڈ کی تپسیا کے بعد وہ مجھے ساتھ لیے ہوئے ایم ایس کے دفتر جا دھمکے۔ میرے ساتھ ایم ایس کی چھوٹی چھوٹی سرحدی جھڑپیں ہوتیں تھیں لیکن آج تو گھمسان کا رن پڑ

Read more

”تندی باد مخالف“ قسط۔ 5

لاہور جنرل ہسپتال کے ایم ایس (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) سے ملاقات بے سود رہی۔ جب پروفیسر اعجاز احسن سے رابطہ ہوا تو جو فضائل انہوں ایم ایس کے بیان کیے، ان کا لب لباب یہ تھا جو کوئی ان کی بزم سے نکلا پریشان بلکہ پشیماں نکلا۔ آج تک وہاں سے کوئی فیض یاب نہیں ہوا، آپ کو وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی، سیدھے میرے پاس چلے آتے۔ انہوں نے میری درخواست پر دستخط کر دیے اور میں کشاں کشاں

Read more

تندی باد مخالف (4)

میں چوں کہ برطانیہ سے ایف آر سی ایس (فیلو آف رائل کالج آف سرجنز) کرنے کا خواہش مند تھا، لہذا فوج سے فراغت سے قبل ہی میں وفاقی محکمہ صحت سے بیرون ملک جانے کے لئے سندعدم اعتراض ( این او سی) حاصل کرنے کی درخواست دے چکا تھا۔ فوج سے فارغ ہوتے ہی یہ سند مجھے مل گئی۔ میں تو ’جی ایچ کیو‘ جا کر ان سے بھی ’این او سی‘ لے آیا تھا۔ عجیب بات یہ تھی

Read more

تندی باد مخالف (3)

فوج سے میں فارغ ہو چکا تھا البتہ جی او سی (جنرل) سے ملاقات باقی تھی۔ مقررہ روز، میں اپنے کماندار کے ہمراہ، عام کپڑوں میں، دن کے ساڑھے بارہ بجے جنرل صاحب کے آفس پہنچ گیا۔ پانچ منٹ کی ابتدائی بات چیت جذبہ خیر سگالی کے تحت ہی ہوئی۔ میں سمجھا بات ختم ہو گئی ہے۔ میں اٹھنے لگا تو کہنے لگے، کیپٹن جمیل، ایک بات نمایاں طور پر آپ کے خلاف جاتی ہے کہ آپ نے مجھے یہ۔

Read more

قصہ میجر جنرل صاحب سے جھڑپ کا – ”تندی باد مخالف“ قسط۔ 2

چھمب کے جھمیلے میں ابھی مقام آہ فغاں اور عشق کے امتحاں اور بھی تھے۔ اگست 1978ء کے دوسرے ہفتے، نائب کماندار کا ٹیلیفون آیا کہ ڈیو کمانڈر (جی او سی) جنرل افسر کمانڈنگ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ کل بیس بریگیڈ میں تشریف لائیں گے، تم صبح نو بجے وہاں پہنچ جانا۔ یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کس سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب کا نام سن رکھا تھا، ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ 20 بریگیڈ ہمارے ہی ڈویژن میں تھا۔

Read more

تندی باد مخالف (1)

زندگی میں مختلف واقعات جنم لیتے رہتے ہیں۔ یہ واقعات ہماری زندگی کو ایک خاص رخ دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا تو ایسے ہے کہ ہمارے ارد گرد سبھی یا کچھ لوگ ہمارے خلاف ہیں اور ہمیں ہر صورت میں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایسے ہی ہو۔ بات صرف اتنی سی ہوتی ہے کہ ہمیں دوسروں کی خامیاں صاف نظر آتی ہیں، صرف اپنی کمزوریوں، کجیوں اور حماقتوں کا احساس نہیں ہوتا۔

Read more

کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں قسط۔ 6

میرا جرم ہے میری ساد۔گی۔ یا پھر خطا کوئی اور ہے ریاست جموں و کشمیر میں سیاست کے دو دھارے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی شکل میں، مخالف سمت میں بہ نکلے تھے۔ وہی سیاسی راہنما جو پہلے ایک مشترکہ محاذ پر متحد کھڑے نظر آتے تھے، اب ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ توانائی جو ریاستی مسلمانوں کے حقوق کے حصول پر استعمال ہونی چاہیے تھی، ایک دوسرے سے کھینچا تانی پر صرف ہونے لگی۔

Read more

میں ایک کشمیری ہاتو تھا

ہاؤس جاب کا آخری مہینہ، دسمبر 1976ء، تھا کہ فوج کی طرف سے جنوری کے پہلے ہفتے میں سی ایم ایچ، راولپنڈی، میں حاضر ہونے کا، شاہی حکم موصول ہوا۔ یوں میں، کشمیری ہاتو کی طرح، فوج میں دھر لیا گیا۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کے زمانہ میں، میں خوش فہمی میں امتحانوں میں عمدہ کارکردگی کو عملی زندگی میں کامیابی کی کلید سمجھتا رہا، لیکن جب دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھا تو اسے اپنی توقعات کے بر عکس پایا۔

Read more

ایک ساتھی ڈاکٹر کی کہانی جس کی قسمت میں رلنا لکھا تھا

پی آئی اے کا جہاز 27 مارچ 1980ء کو لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر شام چار بجے کے قریب اترا۔ مجھے آئرلینڈ جانا تھا۔ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ باہر نکلا۔ ہاتھ میں بریف کیس اور پتھالوجی کی کتاب والٹر اسرائیل (Walter Israel) تھی۔ یونس شیخ نے یہ کتاب ساتھ لانے کا مشورہ دیا تھا۔ میں اس کے لئے اس سے بھی موٹی ایک اور کتاب ’علی پور کا ایلی‘ بھی لایا تھا جو میرے اٹیچی کیس میں تھی۔ اس وقت تک ممتاز مفتی سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی، ہاں بہت بعد میں، 1993ء میں، اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

Read more

کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں قسط۔ 5

جب شیخ عبداللہ جواہر لعل نہرو سے سیاسی تعلق استوار کر رہے تھے تو اسی دوران ڈوگرہ حکومت نے 1935 ء میں گلگت کا علاقہ 60 سال کے لئے پٹے پر تاج برطانیہ کی تحویل میں دے دیا۔ برطانیہ کی اس علاقے میں دل چسپی تو پہلے سے تھی، مگر اب یہ خطہ اس کے لئے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ روس میں زار کی حکومت کے خاتمے کے بعد کمیونسٹ آمریت نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر

Read more

رمضان کی حکمت

جب میں نے قرآن کی یہ آیت ذرا غور سے پڑھی: ی۔ ٰٓا یھا الذین ء امنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون٭ (سورۃ البقرۃ آیۃ۔ 183 ( (اے ایمان والو (رمضان کے ) روزے تم پر فرض کیے گئے، جیسے کہ ان لوگوں پر، جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، فرض کیے گئے تھے، تا کہ تم تقویٰ (پرہیزگاری) اختیار کرو) تو اس آیت کے آخری حصے پرغور وفکر کرنے پر یہ سؤال

Read more

کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں(قسط 4)

شیخ عبداللہ کا، جواہر لعل نہرو سے ملاقات سے پہلے، پریم ناتھ بزاز سے میل جول بڑھ چکا تھا۔ پریم ناتھ بزاز، شیخ عبداللہ کے ہم عمر کشمیری پنڈت اور بڑے معاملہ فہم ہندو برہمن تھے۔ گریجویٹ تھے اور شیخ عبداللہ کی طرح وہ بھی سیاسی افق پر نئے نئے نمودار ہوئے تھے۔ گلینسی کمیشن کے ممبر رہے تھے اور اس کمیشن کی سفارشات مرتب کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ ہندوانہ تعصب سے مبرا، مسلمانوں کے جائز

Read more

کشمیر کا تنازع: حقائق کی روشنی میں

شیخ عبداللہ کو سری پرتاب ڈگری کالج سری نگر سے 1924ء میں ایف ایس سی کرنے کے بعد، اس کالج میں بی ایس سی کی کلاسیں نہ ہونے کی وجہ سے جموں کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں پرنس آف ویلز ڈگری کالج میں انہیں نظر انداز کر کے ایک غیر ریاستی ہندو سرکاری افسر کے بیٹے کو ترجیح دی گئی۔ شیخ عبداللہ آتش چنار میں اس ضمن میں خود کہتے ہیں کہ ”میں کالج میں داخلے کے لئے گیا تو

Read more

ایک کشمیری کا خواب اور قصہ چند ملاقاتوں کا(حصہ دوم)

کشمیر کے ‘کاز’ پر کام کرنے والوں میں میرے سب سے معتمد ساتھی، پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد عارف خان تھے، جو تھوڑا عرصہ پہلے گورنمنٹ کالج میرپور سے پرنسپل کی حیثیت میں ریٹائر ہوئے ہیں اور آج کل یہاں برطانیہ میں ہی ہوتے ہیں۔ ہم دونوں نے کشمیر پر ایک ایسی کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں جذباتیت اور مبالغہ آمیزی کی بجائے صرف حوالہ جات کے ساتھ حقائق ہوں۔ 1979 ء میں جب میں آرمی میں تھا اور

Read more

اپنے ہم جماعت پروفیسر ظفر علی چوہدری کی یاد میں

مارچ 1999 ء کی بات ہے، پاکستانی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے والوں کا خاصا رش تھا۔ بڑی مشکل سے ایک میز پر جگہ ملی۔ اس میز پر میرے سامنے ایک دیہاتی وضع قطع کے صاحب بھی آ بیٹھے۔ انہوں نے سر پر سفید کپڑا، پنجاب کے دیہاتیوں کی طرح، صافے کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ چہرے پر پچھلے دو تین ہفتوں سے شیو نہ کرنے کی وجہ سے داڑھی کی فصل اگ آئی تھی۔ چہرے پر گرد و غبار، تھکاوٹ

Read more

ایک کشمیری کا خواب اور قصہ چند ملاقاتوں کا

میں کشمیر سے متعلقہ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتا سکتا کہ اپنے بہی خواہوں کے ہاتھوں شہادت عظمیٰ پانے کی تمنا نہیں۔ البتہ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ نوے کی دہائی میں کشمیر میں تحریک آزادی میں دل و جان سے شریک رہا۔ سبھی کشمیری لیڈروں (بشمول مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور جہادی رہنماؤں) کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ تقریباً سب کے ماتھوں پر بڑے موٹے حروف میں ’برائے فروخت‘ کی

Read more