طالبان دو اعشاریہ صفر

یہ کہانی ہے افغانستان میں علم کی طلب کے نام پر کچھ نوجوانوں کی جنہیں آج کی دنیا طالبان کے نام سے جانتی ہے، ویسے یہ پہلے بھی کوئی علم کے طالب والب نہیں تھے بس ایک نام پڑ گیا تھا، اور دنیا کو روس کو بھگانے کے لئے ان سے کام پڑ گیا تھا۔ رونالڈ ریگن کو ان سے پیار ہو گیا تھا کیونکہ پیار تو ہونا ہی تھا۔ امریکہ ایسے وقت میں ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ میں ہوں نا۔

پھر ایک دن جب روس کا کام تمام ہو گیا، تو امریکہ ہاتھ جھاڑ کر چلتا بنا، طالبان کے ہاتھ لگے کچھ روسی ساختہ ٹینک اور ڈھیروں کلاشنکوف رائفلز، کھیتی باڑی کے لئے افیون کی کاشت اور استعمال کے لئے کھلی پاک سر زمین شاد باد۔ ایسے میں طالبان کو گاہے بگاہے کبھی استعمال کر لیا جاتا اور کبھی ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جاتا۔

اس دوران ایک امیر عربی شہزادے اسامہ بن لادن نے آ کر اسلام کے نام پر اپنی زیر زمین خلافت قائم کر لی اور نائن الیون کر کے دنیا پر اپنی دھاک جمادی۔ بس پھر کیا تھا امریکہ نے ہاتھ کنگن کو آرسی کیا اور افغانستان پر چڑھائی کر ڈالی۔ افغانستان میں ایک عدد مغرب نواز نام نہاد جمہوری حکومت بھی قائم کر دی گئی، جس کے سر پر اس بار طالبان کے بے وفا یار امریکہ نے ہاتھ رکھ دیا۔

امریکہ نے افغانستان میں دل کھول کر اپنے اسلحہ کی پریکٹس کی، اپنی فوج کے جوانوں کی لاشوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا اور کل کے یار طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر دے دھنادن مارنا شروع کیا اور یوں دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی کے مصداق یہ خطہ سلگتا رہا۔

ادھر دوسری جانب روسی کلاشنکوف، اور بچے کھچے میزائل والے طالبان پاکستان کی رجعت پسند طاقتوں کے زیر تربیت آ کر سینہ چوڑا کر چکے تھے، بوتل سے نکلا جن بے قابو ہو چلا تھا اور خطے میں بد امنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بے مثال داستانیں رقم کر دی گئیں۔ خواتین کے ساتھ مظالم کی لرزہ خیز داستانیں عالمی جریدوں میں نمایاں شائع ہونے لگیں۔ طالبان کو ظالمان کہا جانے لگا۔

پاکستان کے اپنے ہی پائیں باغ میں دودھ پلائے گئے سانپوں نے ایک دن اے پی ایس کے معصوم بچوں کو ہی ڈس ڈالا۔ یعنی جن سانپوں کو پال پوس کر جوان کیا، تربیت دی، اپنا اچھا والا بچہ کہا، اس نے ہمارے ہی بچوں کو چن چن کر مار ڈالا۔ ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ خود کش دھماکے شہر در شہر ہونے لگے۔ ملک کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی اس بے لگام دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔ معصوم عوام گلی کوچوں بازاروں میں اپنے پیاروں کے کٹے ہوئے جسموں کو جوڑ جوڑ کر دفنانے لگے۔ اور اچھے وقتوں کے یہ پالے پوسے فرمانبردار اچھے طالبان اب نافرمان کہلائے جانے لگے۔

پھر ایک دن امریکہ بہادر کے یک دم انخلا کے فیصلے نے اتحادیوں سمیت پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ پینٹا گون کے فیصلے نے طالبان میں گویا ایک نئی پھونک دی۔ انہوں نے شہر شہر اپنی پیش قدمی شروع کر دی اور پھر ایک دن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کابل کوئی گلی چلائے بغیر اور کسی خون خرابے کے بنا ہی ڈھیر ہو گیا۔ طالبان ہر طرف دندنانے لگے اور یوں لگا جیسے دنیا نے کسی شرماتی لجاتی دلہن کی طرح خاموشی سے سر جھکا کر یہ جبری نکاح قبول کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اس فلم کی کہانی کی ابتدا میں یہی کردار ایک عدد بتیس دانت نکالتے ہوئے امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں کھڑے تصویری سیشن کروا رہے ہیں، اور آج کے وائٹ ہاؤس کے نئے مکین جو بائیڈن اپنے وہی امریکی دانت پیستے ہوئے قسم کھا رہے ہیں کہ وہ کابل ائرپورٹ دھماکوں میں امریکیوں کی ہلاکتوں کو نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے، اور وہ ذمہ داروں کو ڈھونڈ کر بدلہ لیں گے۔

پاکستان کے پردھان منتری شری عمران خان دنیا سے طالبان کی سفارش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں ایک موقع دیا جائے اور اگر اس بار وہ دنیا کی امیدوں پر پورا نہ اتریں تو پھر دیکھیں گے۔

طالبان کے ترجمان جو کہ میڈیا کی اسکرین پر اکثر لوگوں کی گردن اتارنے کی فوٹیج میں دکھائی دیتے تھے اب فر فر انگریزی بھی بولنے لگے، اور کسی منجھے ہوئے ڈپلومیٹ کی طرح پریس کانفرنس بھی کرنے لگے ہیں۔ طالبان اب مکمل یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ وہ پہلے جیسے گندے بچے نہیں رہے، وہ بدل گئے ہیں اور اب وہ خواتین کے ساتھ بھی عزت اور احترام سے پیش آئیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کو ان کی قسموں وعدوں پر اعتبار کر لینا چاہیے؟ کیا طالبان کا پہلا ورژن ایک اعشاریہ صفر جو کہ انتہائی پرتشدد اور غیر انسانی سلوک کی بہیمانہ کہانی ہے وہ ختم ہو چکا ہے؟ کیا اب یہ نیا اوتار یعنی دوسرا والا ورژن دو اعشاریہ صفر اس کے بالکل متضاد پر امن اور انسانی حقوق کا اعلی نمونہ ہو گا؟ تو جناب میرا تجزیہ بہت سادہ سا ہے کہ نہ ہم بدلے، نہ تم بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی، میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کرلوں۔ دو اعشاریہ صفر میں پرانی والی حرکتیں دو گناہ زیادہ اور کوئی نئی امیدیں باندھنا صفر ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words