طالبان کے لئے اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہو گا

گزشتہ روز کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے  دہشت گرد حملے کے بعد یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ افغانستان کے  مستقبل کے بارے میں  قائم کئے  گئے اندازے کس حد تک بے بنیاد اور ناقابل یقین ثابت ہوسکتے ہیں۔   اس دوران طالبان  31 اگست کا انتظار رکرہے ہیں تاکہ وہ تمام غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد ملک میں حکومت سازی کے بارے میں  پیش رفت کا اعلان کریں۔

گو کہ اس تاخیر کو کابل ائیرپورٹ پر غیرملکی و افغان شہریوں کے انخلا کے لئے تعینات فوجوں کی موجودگی سے منسلک کیا جارہا ہے لیکن   گزشتہ روز ہونے والے افسوسناک دہشت گرد حملوں کے بعد یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ  افغانستان میں  بین الافغان گروہوں کی شمولیت سے حکومت قائم کرنے کی راہ میں متعدد دوسری مشکلات بھی حائل ہیں۔ طالبان نے گزشتہ بیس برس  امریکیوں سے چھپنے اور ان پر وار  کرنے میں صرف کئے ہیں۔  اس  جد و جہد میں ان  کے اپنے ساتھی اور افغان شہری امریکیوں اور اتحادی افواج کے کارکنوں سے کئی گنا زیادہ تعداد میں مارے گئے  تھے۔ اس کے برعکس اب  جن افغان گروہوں کے ساتھ  مل کر حکومت سازی کے لئے مذاکرات و مشورے ہورہے  ہیں، ان میں سے بیشتر نے امریکیوں کے قائم کئےہوئے سیٹ اپ کا حصہ بن کر خوب عیش کی تھی اور  اب وہ مستقبل کی حکومت  میں اپنا حصہ وصول کرنے کو  بے چین ہیں۔ اس طرح ایک طرف انہیں مزید جنگ و جدل سے چھٹکارا مل سکتا ہے  تو دوسری طرف وہ بدستور حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ بن کر  اپنی ناجائز دولت کو تحفظ فراہم کرسکیں گے۔

اس پس منظر میں طالبان کی یقین دہانی کے باوجود  یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں  کہ طالبان واقعی کسی ایسی وسیع البنیاد حکومت  کے قیام پر راضی ہوجائیں گے جس  میں انہیں نہ صرف سابقہ دشمنوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے بلکہ  انہیں  ان اختیارات میں بھی حصہ دینا پڑے جو انہوں نے بقول اپنے ’امریکہ کو شکست ‘ دینے کے بعد حاصل کئے ہیں۔ کابل سے ان سیاسی مذاکرات کے بارے میں جو خبریں  موصول ہورہی ہیں، ان کے مطابق حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ  افغان آئین کے مطابق کوئی  معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ ان عناصر کی خواہش ہے  کہ  بات چیت کے نتیجہ میں عبوری حکومت قائم کی جائے جس کی نگرانی میں چھ ماہ سے ایک سال کی مدت میں انتخابات کروائے جائیں تاکہ  ایسی پارلیمنٹ چنی جاسکے جس میں اکثریت حاصل کرنے والے عناصر حکومت سازی میں بھی شامل ہوں بلکہ  نئی پارلیمنٹ ہی  موجودہ آئین میں ایسی  ترامیم کرنے کی مجاز ہو جو طالبان سمیت سب لوگوں کے لئے قابل قبول ہو۔ پنج شیر میں محصور  ہو کر طالبان کو چیلنج کرنے والے احمد مسعود اور سابق نائب صدر امراللہ صالح بھی اس سے کم پر راضی  نہیں ہوں گے۔ شمالی اتحاد کے کئی ممتاز لیڈر اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں اور پاکستان کے تعاون سے طالبان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ افغانستان کو مکمل تباہی سے بچانے اور طویل خانہ جنگی سے محفوظ رکھنے کے لئے   موجودہ آئینی ڈھانچہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ طالبان اس متوازن رائے کو کیوں  قبول کریں گے۔ اگر وہ ایسے  کسی انتظام پر راضی ہوتے تو    امریکی فوجیوں کے انخلا کی تاریخ کا اعلان  ہونے کے بعد افغانستان پر قبضہ کے لئے سرگرم ہونے کی بجائے دوحہ میں  موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی فارمولے  پر اتفاق کرلیتے۔ طالبان نے امریکہ سے معاہدہ میں  بین الافغان مذاکرات میں حکومتی انتظام پر متفق ہونے کا وعدہ کرنے کے باوجود  اسے پورا نہیں کیا۔ اب تو  وہ سیاسی اور عسکری لحاظ سے زیادہ طاقت ور پوزیشن میں ہیں۔ کابل پر ان کا قبضہ ہے اور ان کے ترجمان ملک کے حکمرانوں کے  طور پر میڈیا سے بات کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت کرنے والے افغان لیڈر بھی  طالبان کی اس نئی قوت سے آگاہ ہیں۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ فریقین کے پاس ایک دوسرے  کو رعایت دینے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ افغان گروہ عبوری انتظام اور افغان آئین کے ڈھانچے  میں حکومتی انتظام چاہتے ہیں جبکہ طالبان مکمل اطاعت اور تابعداری کے عہد کی بنیاد پر سیاسی حصہ داری دینے کی بات کرتے ہیں۔

طالبان کے ایک سے زیادہ ترجمان واضح کرچکے ہیں کہ   جمہوریت افغانستان کے مزاج کے خلاف ہے اور ملک میں مغربی طرز کی کسی جمہوریت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی  طرح آئینی انتظام کے بارے میں بھی طالبان  یہ واضح کرتے  ہیں کہ  اسلامی شریعت اور  قرآن ہمارا آئین ہے اور اسی کے متعین قوانین افغانستان  میں نافذ کئے جائیں گے۔ طالبان اگرچہ خواتین کو  تعلیم اور کام  کا حق دینے کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور سے طالبان جنگجو خواتین  کو عوامی جگہوں پر برداشت نہیں کرتے اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی واضح کیا ہے  کہ  ’ہم خواتین کی حفاظت کے انتظامات کررہے ہیں۔  یہ انتظامات ہونے تک خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ یعنی عملی طور سےطالبان خواتین کے حوالے سے اسی طریقے پر عمل کررہے ہیں جو بیس سال پہلے  ملا عمر کی حکومت میں متعارف کروایاگیا تھا ۔ طالبان جس شورائی نظام پر یقین رکھتے ہیں، اس میں خواتین کی رائے کا کوئی وزن نہیں اور نہ ہی انہیں یہ حق دیاجائے گا۔ اسی طرح میڈیا کی خودمختاری  کا دعویٰ تو کیاجاتا ہے لیکن  کابل پر قبضہ کے بعد  سب سے پہلے جو انتظام کیا گیا ہے، اس میں میڈیا پر نشر یا شائع ہونے والی خبروں اور تبصروں کو سنسر کرنا شامل ہے۔

طالبان  افغانستان میں  اسلامی امارات  قائم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سب کو آزادی  اور مساوی حق دینے کی بات کرنے والے طالبان  جنگجوؤں نے افغان پرچم کے ساتھ  اظہار یک جہتی کرنے والے لوگوں کو افسوسناک تشدد کا نشانہ بھی  بنایا اور   ان جھڑپوں  میں متعدد افراد ہلاک بھی ہوئے۔ اسی سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ طالبان اختلاف رائے کو کس حد تک برداشت کرنےکا حوصلہ رکھتے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دو دہائی تک آزادی کی جد و جہد کی ہے  جس پر پاکستانی وزیر اعظم نے بھی ’غلامی کی زنجیریں توڑنے‘ کا پرجوش نعرہ بلند کیا تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ دشمن کو شکست دے کر آزادی کی جنگ جیتنے والے یہ مجاہدین جب دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے تو  کسی نے ان کا استقبال نہیں کیا۔

 افغان شہری خوشی سے جھومتے گلیوں سڑکوں پر اپنی ’ آزادی‘ کی خوشی منانے کے لئے نہیں نکلے بلکہ شہر   میں آباد کثیر تعداد یا توغیر ملکی سفارت خانوں سے ویزوں کے حصول کے لئے سرگرداں دکھائی دی یا انہوں نے ائیرپورٹ کا رخ کیا تاکہ کوئی امریکی طیارہ انہیں بھی  ملک  سے نکال کر لے جائے۔ جن شہریوں نے بھی کابل میں موجود غیرملکی رپورٹروں سے بات کی انہوں نے خوف اور مستقبل کی بے یقینی کے بارے میں ہی گفتگو کی۔ کسی نے آزاد ہوجانے پر خوشی کا اظہار ضروری نہیں سمجھا۔اگر امریکی اور مغربی صحافیوں کو متعصب اور جانبدار بھی قرار دیا جائے تو  بھی افغان ٹیلی ویژن نشریات پر قومی خوشی کا کوئی منظر دکھایا جاسکتا تھا لیکن وہاں بھی افسردگی کا عالم  طاری  رہا۔ صحافی  اپنی جان کی امان چاہتے تھے اور  طالبان کی خواہش اور شرائط کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس تعطل اور بے یقینی میں گزشتہ روز کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے داعش کے دہشت گرد حملہ  نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ملک پر اس وقت طالبان کا قبضہ ہے ، اس لحاظ سے یہ حملہ  درحقیقت طالبان کے کنٹرول اور طاقت کے لئے براہ راست چیلنج  ہے۔ اسے  غیر ملکی فوجوں کے خلاف افغان عوام  کی ناراضی کے اظہار کا نام نہیں دیاجاسکتا۔ البتہ یہ واضح ہؤا ہے کہ ملک میں اب بھی ایسے انتہا پسند عناصر موجود ہیں  جو طالبان جیسے جنگجو گروہ کی کامیابی کو اپنے مقصد کی کامیابی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے خلاف اعلان جنگ کررہے ہیں۔ آنے والےوقت میں یہ واضح ہوگا کہ طالبان کس حد تک ان گروہوں کو ’بات چیت‘ یا  طاقت کے زور پر غیرمؤثر  کرسکتے ہیں۔ داعش کے علاوہ القاعدہ،  ترکستان اسلامی پارٹی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں اور کسی  دوسرے ملک یا غیر ملکی طاقت سے زیادہ طالبان کے اختیار کے لئے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز کی دہشت گردی کے بعد واضح  کیا ہے کہ ’ہم   نہ بھولیں گے ، نہ ہی معاف کریں گے۔ ہم تمہارا تعاقب کریں گے اور تمہیں اس کا حساب دینا ہوگا‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی فورسز کو ان عناصر کا پتہ لگانے اور انہیں انجام تک پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ امریکہ جو بھی کارروائی کرے گا، وہ بھی افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے لئے براہ راست چیلنج ہوگی۔ طالبان امریکہ کے ساتھ معاہدہ میں وعدہ کرچکے ہیں  کہ  افغان سرزمین کو  کسی بھی غیر ملک کے خلاف   استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم اگر طالبان سیاسی رعایت دینے سے گریز کرتے ہیں اور اتفاق رائے سے حکومت سازی کا خواب  پورا نہیں ہوتا تو اختیار سنبھالنے سے پہلے ہی ان کی مشکلات کا آغاز ہوجائے گا۔

افغانستان میں انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول نہ کیا جاسکا تو طالبان کو صرف امریکہ اور مغربی ممالک  ہی کی مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ پاکستان، چین یا روس بھی ان کے ساتھ تعاون سے گریز کریں گے۔    طویل جنگ جوئی کے بعد سرخرو ہونے والے طالبان کے عسکری لیڈر اور اعلیٰ قیادت   نے اگر وقت کی اس اہم ترین ضرورت کو سمجھنے اور اس کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش نہ کی تو  انہیں درحقیقت  افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجوں سے بھی بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابھی  تک طالبان کی اعلیٰ قیادت نے سامنے آکر کوئی حتمی اعلان نہیں کیا ہے۔  طالبان کے پاس اب   یہ آنکھ مچولی کھیلنے کا زیادہ وقت نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words