ارے میاں میں نے کوئی نکاح کرنا ہے تم سے
علی مدد اور ہنزہ ان ناموں سے میرے کان پہلی بار 1958ء کی اس شب آشنا ہوئے تھے۔ جب میرے ماموں علی حسن غضنفر نے بڑے کمرے میں افراد خانہ کے درمیان بادام بھری ان خوبانیوں کو تقسیم کیا تھا جو ان کا وفادار ملازم ہنزہ سے لایا تھا۔
انہوں نے ہمیں علی مدد اور اس کے آبائی گاؤں ہنزہ کے بارے بتا یا۔ پہاڑوں ’جھرنوں‘ گلیشیئروں اور لوگوں کی ایسی پر تحیر باتیں سنائیں کہ ان پر الف لیلوی داستان کا گمان گزرتا تھا۔
اب بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ میں گلگت آ کر ہنزہ دیکھنے نہ جاتی۔ زمانہ 1986 کا تھا۔ راستے دشوار گزار اور سیاحت کا چلن ابھی اتنا عام نہ تھا۔ گو علاقے بے حد پر امن اور عورت محفوظ تھی۔ پریشانی یہ تھی کہ ہنزہ میں کوئی واقف فیملی نہ تھی اور تن تنہا کسی ہوٹل میں رات گزارنا گویا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے والی بات تھی۔ پر یہ بھی تو تھا کہ گزشتہ ہفتہ بھر سے میں ہر روز اپنے آپ کو نت نئے تجربے میں سے گزار رہی تھی۔
”یہ تجربہ بھی سہی۔ میں نے دل کو تسلی دی۔ خدا مسبب الاسباب ہے۔“
ہنزہ جانے کے لئے اڈے پر پہنچی تو ایک عمر رسیدہ ڈرائیور کو گاڑی کا شیشہ صاف کرتے ہوئے پایا۔ میرے استفسار پر کہ ہنزہ جانا ہے اس نے ہاتھ روک کر مجھے دیکھا اور پوچھا۔
”اکیلی ہیں کیا؟“ ”جی“ ۔
جگہ تو ہے مگر گاڑی کسی نے بک کی ہوئی ہے۔ ”
”جگہ ہے تو مجھے بٹھا لینے میں کیا ہرج ہے“ ؟
”کوئی ہرج نہیں ہم آپ کو لے چلیں گے۔“ عقب سے ایک نحیف سی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میں فی الفور گھومی اور دیکھا۔ ساٹھ ستر کے ہیر پھیر میں جو مرد مجھے نظر آیا تھا وہ قامت اور صحت کے اعتبار سے قابل رشک تھا۔
کرائے کی ادائیگی کی اور سیٹ سنبھال لی۔
دو بوڑھوں کی ہمراہی میں سفر شروع ہوا۔ یہ بوڑھے ایسے باتونی ’ایسے چرب زبان، ایسے گالڑی کہ ہنزہ تک ان کی زبانیں تالو سے نہ لگیں۔ ہر مقام اور ہر بستی کی نشان دہی کرتے گئے۔ لوگ پہلے زمین نہیں خریدتے تھے۔ اب کال پڑ گیا ہے۔ دینور کی درختوں سے گھری وادی گزر گئی۔ سلطان آباد بھی خالص ہنزہ والوں کی بستی ہے۔ دریائے ہنزہ چھوٹی سی نالی کی صورت بہہ رہا تھا۔ شاہرہ ریشم کی کشادگی اور پختگی نے راستے کی دشوار گزاری کو نسبتاً بہت کم کر دیا ہے۔ دریا پار پرانی سڑک کچھ یوں نظر آتی تھی جیسے پہاڑوں کے جگر کو تیز دھار کا کوئی آلہ ایک سیدھ میں چیرتا ہوا چلا گیا ہو۔
رحیم آبا دمیں انہوں نے گاڑی روکی اور مجھے علی شاہ کاکس کی مشہور خوبانیاں کھلائیں۔ ایسی لذیذ اور ذائقہ دار کہ منہ میں رکھو اور گھلتی ہوئی پل میں عین حلق سے نیچے۔
اردگرد کے نظاروں سے مخظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ میں ان دونوں بوڑھوں سے بھی باتیں کیے جاتی تھی جب دفعتاً ایک نے پوچھا۔
”عمر کتنی ہو گی آپ کی؟“
یہ سوال بڑا تیکھا اور چبھنے والا ہے کہ کوئی بھی خاتون خواہ وہ سچ گوئی کی کتنی بڑی دعویٰ دار کیوں نہ ہو اس سلسلے میں ضرور ڈنڈی مار جاتی ہے۔ چار پانچ سال کا ہیر پھیر تو میرے جیسی بھی کبھی کر ہی لیتی ہے۔ پر پتہ نہیں اس خالص سمے میں سچ کا کوئی جن مجھے چمٹ گیا تھا۔ جس نے ذرا سی ہیرا پھیری نہیں کرنے دی۔ میرے جواب دینے پر اسی بوڑھے نے بغور میرے چہرے کو دیکھا اور قطعیت سے کہا۔
”نہیں بھئی۔ اتنی عمر نہیں ہے آپ کی“ ۔
مجھے عجب سی خوشی کا احساس ہوا۔ شاید ہر عورت کے اندر کم عمر نظر آنے کا فطری رجحان ہوتا ہے۔ اسی لئے میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
”آپ کے خیال میں کتنی ہو سکتی ہے“ ؟
بھئی آپ پینتالیس اور پچاس سے کم تو ہرگز نہیں۔
میرے تن میں جیسے آگ لگ گئی۔ جی چاہا گردن سے پکڑ کر سڑک پر پھینک دوں۔ ”کمبخت کہیں کا“ ۔ یہ درست تھا کہ میں نے اپنا حلیہ بگاڑا ہوا تھا۔ بال سفید ہو رہے تھے۔ انہیں رنگا نہیں تھا۔ موٹی سی چادر سے سر کو ڈھانپا ہوا تھا۔ چہرے پر کوئی لیپا پوتی نہیں تھی۔ پر اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ میں اپنی عمر سے نو دس سال بڑی نظر آؤں۔
مجھے شدید قسم کی چبھن ہو رہی تھی۔ سچ بھی بولا اور جھوٹی بھی بنی۔
پر میں بھی اول درجے کی کمینی ہوں۔ اب اس کی عمر کا پوچھ بیٹھی۔ جاننے پر اتنا ہنسی کہ آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔
”آپ سمجھتی ہیں میں پچاس سال کا نہیں“ ۔ قدرے خفگی سے پوچھا گیا۔
”ارے بھئی آپ کہاں پھرتے ہیں؟ کسی طور بھی ستر بہتر ( 70,72 ) سے کم نہیں“
میں نے بھی اپنے پھپھولے پھوڑ دیے تھے۔
”آپ نے بہت غلط اندازہ لگایا ہے“ ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر متحرک اس کے ہاتھ اضطرابی انداز میں ہلے۔ وجود نے جھٹکا کھایا جیسے اسے بھڑ نے کاٹ لیا ہو۔ اس نے یوں مجھے دیکھا جیسے سمولچا ہی نگل جانا چاہتا ہو۔
”واہ غلط کیسے ہے؟ آپ کی گردن کی لکیریں، آنکھوں کے گرد لکیریں اور کلائیوں پر بکھرے ماہ و سال سب تو پول کھول رہے ہیں۔ آپ نے کیا مجھے احمق اور گاؤدی سمجھا ہے؟
”دیکھئے خاتون آپ زیادتی کر رہی ہیں“ ۔
اف بیچارا تلملا رہا تھا۔ میں نے محظوظ ہوتے ہوئے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔ وہ بھی ہماری اس نوک جھونک سے لطف اٹھا رہا تھا۔
جب تکرار بڑھی میں نے دونوں ہاتھ اس کی طرف جوڑ دیے۔ معاف کیجیے گا غلطی ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد اسے جیسے پھر ابال سا اٹھا۔ اس نے مجھے لعن طعن جیسے انداز میں پھر طعنہ مارا کہ میں بہت الو کی پٹھی قسم کی عورت ہوں۔ تیسری بار جب اس نے پھر وہی راگ چھیڑا میں نے چیخ کر کہا۔ ”عجیب احمق سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ ارے بھائی کوئی بیاہ رچانا ہے میں نے تم سے۔ چلو ستر کے نہیں پچاس کے سہی۔ اب تو خوش ہیں نا“ ۔
بعض مردوں کو بھی عورتوں کی طرح کم عمر بننے کا کتنا خبط ہوتا ہے۔ میں نے سوچا۔ اور پھر کریم آباد پہنچ کر اترنے کے بعد میں نے بھی اپنی بھڑاس نکالی۔
تم تو عورتوں سے بھی بدتر نکلے۔


