سیاست جب مصلحت کا شکار ہو جائے

امسال چودہ اگست کو دو بڑے واقعات رونما ہوئے۔ ایک بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایک ہی خاندان کے چودہ افراد ایک کریکر کے دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے اور دوسرا واقعہ مینار پاکستان میں ایک ٹک ٹاکر دوشیزہ کے ساتھ پیش آیا جب قریباً چارسو نوجوانوں نے ان پر ہلہ بول دیا اور ان کی عزت کو پارہ پارہ کر دیا۔ بلدیہ ٹاؤن والا واقعہ تو خبروں میں اسی دن آ گیا پر اس دن پھر پس پردہ چلا گیا۔ جب کہ مینار پاکستان والا واقعہ گو کہ اسی دن تو خبروں میں نہیں آیا سترہ تاریخ کو منظر عام پر آیا یا لایا گیا اور اب تک لایا جا رہا ہے اور اس گھناونی حرکت میں شریک اوباش نوجوانو کو یک کے بعد دیگرے پکڑا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان کو شناخت پریڈ کے عمل سے بھی گزارا جا رہا ہے۔

مزید گرفتاریاں ابھی جاری ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ان ٹک ٹاکر کے خلاف بھی کسی نے پرچہ کٹوانے کی درخواست دی ہے اور ان کے خلاف بھی پرچہ ہو چکا ہے۔ اب آپ بھی حیران ہوں گے کہ یہ بات تو درست ہے کہ دونوں واقعات قانونی، اخلاقی اور سماجی تور پر غلط تھے اور دونوں چودہ اگست کے دن رونما ہوئے اس مماثلت سے تو ٹھیک ہے دونوں ایک ساتھ ڈسکس کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ یہ کیسے ایک ساتھ دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔

تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ وہ اس طرح مماثلت کے کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے کہ سول سوسائٹی بمقابلہ سیاسی پارٹیوں کے تناظر میں اگر یہ موازنہ کیا جائے تو سول سوسائٹی فاتح اور سیاسی پارٹیاں مفتوح نظر آ رہی ہوں گی وہ اس طرح کہ بلدیہ ٹاؤن کے واقعے کے پیچھے سیاسی پارٹیوں کی آواز اور مینار پاکستان کے پشت پر سول سوسائٹی کی پکار تھی۔ سول سوسائٹی کی پکار ایک للکار کی طرح سامنے آ گئی اور ایک اخلاقی اور جائز جواز سماجی اور سول سوسائٹی کا فشار برداشت نہیں کر سکا اور نامعلوم ملزمان کو موڈرن ڈوائسز کے ذریعے نادرا کی وساطت سے پکڑنے، انٹیروگیٹ کرانے اور شامل تفتیش کرنے کے لئے ان کے چہروں سے شناخت کرا کر چپہ چپہ اور کونے کونے سے ڈھونڈ نکالا، اب ان کو سزا ہوتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن جہاں تک سکیورٹی اداروں اور سول سوسائٹی کی کاوشوں کا تعلق ہے انھوں اس سلسلے میں اپنی حد تک اس کیس میں اپنا کردار ادا کر دیا ہے لیکن دوسری جانب بلدیہ ٹاؤن کے سانحے کے سلسلے میں یہ طریقہ کار جو سیاست سے تعلق رکھتا تھا بالکل مختلف ہے۔

ایک تو بنیادی فرق صوبوں کے الگ الگ ہونے کا ہے ایک صوبہ پنجاب کے دل لاہور کا واقعہ ہے اور دوسرا واقعہ منی پاکستان کراچی صوبہ سندھ کا واقعہ ہے۔ جس طرح لاہور میں ملزمان کے پکڑنے کا طریقہ اپنایا گیا بالکل وہی طریقہ اگر یہاں کراچی میں بھی بروئے کار لایا جاتا تو ملزمان جو لاہور واقعے سے تعداد میں یقیناً کم ہوں گے ادھر لگے ہوئے موجود سی۔ سی۔ ٹی۔ وی کیمروں کی مدد اور موڈرن ڈیوائسز کے نادرا آلات سے بآسانی ملزمان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن تاحال میرے معلومات کے مطابق سندھ حکومت نے ایسا کوئی قدم اٹھانے کی زحمت نہیں کی ہے۔

ان دونوں دہشت گردی کے واقعات میں جو فرق ان دونوں واقعات کو الگ کرتا ہے وہ یہ کہ انتظامی امور کے سرانجام دہی کی ذمہ داری کے فقدان کا ہے۔ اس کے علاوہ مینار پاکستان کے واقعے کے پیچھے جو سول سوسائٹی کی آواز تھی تقسیم نہیں تھی۔ اس آوازوں کے پیچھے کسی سیاسی پارٹی کا جھنڈا اور ایجنڈا نہیں تھا بس صرف اور صرف معاشرتی اور اخلاقی دباؤ اور فشار تھا۔ جبکہ کراچی میں بلدیہ کے واقعے کی پشت پر جو چپ یا خاموشی تھی وہ سیاسی پارٹیوں کے جھنڈوں اور ایجنڈوں کی تقسیم کے پردے میں لپٹی ہوئی تھی۔

اور پھر اگر ایسے موقعے پر سیاسی بصیرت اپنی پارٹی کے لیڈر کی اخلاقی سیرت یہ بیانیہ اپناتی اور سناتی ہو کہ یہ شہادت اپ کے گھر خود چل کر آئی ہے۔ اس کے لئے تو لوگ ملکوں ملکوں میلوں میلوں سفر کرتے ہیں۔ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ گھر ہی میں اتنے بڑے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں تو وقتی تسلی کے لئے تو یہ بیانیہ تازہ زخم پر مرہم لگانے کے مترادف تو ہے پر کافی اور شافی علاج نہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے سول سوسائٹی اب سیاست پر حاوی ہو چکی ہے لیکن ان کو یکجا کرنے کے لئے ایک مخلص، ایماندار، دیانتدار، باصلاحیت اور نڈر راہنما کی ضرورت ہے جب کہ سیاست کے بے شمار راہنما اب بھی پرانی سوچ پر گامزن اپنے خیالوں اور گمانوں میں لوگوں کا ایک ریوڑ ( سول سوسائٹی) کو ایک نامعلوم سمت کی جانب ہانکے جا رہے ہیں۔ اب اس کو سیاسی مصلحت کہیں یا مصلحت کی سیاست بولیں یا سمجھیں شکار عوام ہی ہوگی نشانہ سول سوسائٹی ہی ہوگی ان کے لئے کوئی آواز اٹھائے یا نہ اٹھائے خود ایک دوسرے کی آواز بن کر مسائل کا حل ڈھونڈ نکالے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words