عورت کو شادی ہی کافی ہے، محبت کی کیا ضرورت

غلامی کے تصور کی تھوڑی سی وضاحت۔ ہمارے دور کی غلامی ماڈرن غلامی کہلاتی ہے۔ اس سے مراد ہے کہ عین ممکن ہے اب آپ کو سرعام بیچا یا خریدا تو نہ جاتا ہو لیکن آپ کی زندگی پر اصل اختیار کسی اور ہی کا ہو۔ یعنی آپ اٹھارہ سال سے بڑی عمر کے ایک مرد، عورت یا ٹرانسجینڈر ہیں لیکن آپ کو اپنی زندگی کے متعلق فیصلے کرنے کی مکمل آزادی نہیں ہے تو آپ ماڈرن غلامی میں رہ رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، آپ نے کیا کھانا یا پینا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا، کون سا روزگار اختیار کرنا ہے، کہاں رہنا ہے، کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں ملنا ہے، کس کو پسند کرنا ہے اور کس سے دوستی کرنا ہے جیسے فیصلے کرنے کا حق کسی اور کے پاس ہو تو آپ ایک آزاد انسان نہیں ہیں بلکہ ماڈرن غلامی کا شکار ہیں۔ اب آتے ہیں عشق اور محبت کے قانون کے قانون کی جانب۔

افضل اور قیس نے قانون بنایا ہے کہ عشق

دوسری بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

عشق یا محبت ایک خوب صورت احساس کا نام ہے۔ یہ زندگی کو پر لطف اور صحیح معنوں میں جینے کے قابل بناتا ہے۔ عشق یا محبت کے بارے میں کوئی پیشن گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ کسی کے قابو میں ہے نہ اس پر کوئی پابندی لگ سکتی ہے۔ یہ ایک سے زیادہ بار بھی ہوتا ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ یہ ہمارے کسی سوشل ارینجمنٹ کے ماتحت نہیں ہے۔ اس کے شروع یا ختم ہونے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی اس کے دوسری یا تیسری مرتبہ ہونے یا نہ ہونے پر کوئی پابندی ہے۔ اس کا تعلق اس بات سے بھی نہیں کہ آپ والدین بن چکے ہیں، ابھی بننا ہے یا یہ ذمہ داری لینے سے ہی انکاری ہیں۔ مختصر یہ کہ؛ عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب۔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

عشق اور محبت کا جذبہ فطری ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ پدر سری معاشرتی نظام کے کنٹرول سے بچ نہیں سکا۔ ہم عشق اور محبت کے جذبے کے پیدا ہونے یا نہ ہونے کو تو کنٹرول نہیں کر سکے لیکن اس کے اظہار کو کنٹرول کرنے میں خوب کامیاب ہوئے۔ اس کے اظہار کو ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک سٹگما بنا دیا جو ماڈرن غلامی کا شکار ہیں۔ تو ایک بھاری اکثریت کے لیے عشق خود بخود گناہ بن گیا۔ اب عشق اور محبت کے جذبے سے لطف اندوز ہونے کا حق صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے رہ گیا جو آزاد ہیں اور با اختیار ہیں۔

ماڈرن غلامی میں رہنے والے لوگوں کے لیے عشق و محبت ایک ایسا کلنک کا ٹیکا بنا دیا گیا کہ وہ نہ صرف خود اس سے انکاری ہیں بلکہ اپنی ساری برادری کے لیے بھی اسے حرام تصور کرتے ہیں۔ ماڈرن غلامی کا شکار انسانوں کا سب سے بڑا گروپ عورت کہلاتا ہے۔ ہم نے عورت کو بتایا ہے کہ عشق اور محبت جیسی نجس چیز کو دل میں دبا کے رکھتے ہوئے خوش دلی سے اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھانا ہی عورت کے لیے عظمت ہے۔ اسی لیے جب محترمہ نبراس سہیل کا مضمون ”اور اگر عورت کو شادی کے بعد کسی سے محبت ہو جائے تو؟“ ہم سب پر شائع ہوا تو اسے بہت پذیرائی ملی۔

اس مضمون میں انہوں نے عورت کو بتایا کہ ماڈرن غلامی کی جن زنجیروں میں تم جکڑی ہوئی ہو انہی کو چومتے رہنے میں تمہاری عظمت ہے۔ اپنے حقوق کا کبھی نہ سوچے اور پدر سری نظام کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں کو فطری سمجھے۔ اس لیے مذکورہ مضمون میں اٹھائے گئے سوالات بنیادی سوالات نہیں ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کیا کبھی گھر چھوڑنے والی (عورتیں ) معتبر ہوئیں، بلکہ اصل سوال تو یہ ہے کہ گھر چھوڑنا ہی کیوں پڑے۔ عورت اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے تو اولاد جیسے رشتے اس لیے نہیں ٹوٹ جاتے کہ عورت کا فیصلہ کرنا غیر فطری ہے بلکہ اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ اس نے ماڈرن غلامی کی روایات سے انحراف کیا ہوتا ہے۔ اگر ایک عورت پدر سری نظام کی روایات سے آزادی پانے کی کوشش کرتی ہے تو ہم خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اسی طرح ہی ایک ایک کر کے دنیا کے مختلف حصوں میں عورتیں اپنی زندگی پر اپنا اختیار واپس لے رہی ہیں۔ ہمیں اپنا سٹیٹس کو بہت عزیز ہے اور ہم اسے برقرار رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عشق اور محبت جیسے فطری جذبے کے اظہار کی آزادی نہ ہونا مسئلے کی جڑ نہیں بلکہ صرف ایک علامت ہے۔ اصل مسئلہ تو عورت کا اپنی زندگی پر اختیار کا نہ ہونا ہے۔ عورت کے لیے جب عظمت کا مطلب ماڈرن غلامی میں رہنا نہیں بلکہ ایک با اختیار زندگی گزارنا ہو گا تو بہت سارے سوالات جنم ہی نہیں لیں گے۔ تب عورت کو اس دوراہے کا سامنا نہیں ہو گا کہ اپنی اولاد یا اپنی ایک آزاد زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔

بلکہ یہ دونوں ساتھ ساتھ چل سکیں گے۔ اب بھی ان دونوں کے درمیان مقابلہ عورت کے فطری رجحانات کی وجہ سے نہیں بلکہ عورت سے سماج کی توقعات کی وجہ سے ہے۔ جب عورت اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتی ہے تو اولاد سمیت اس کے رشتے اور گھر چھن جانا فطری نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ سزا ہے معاشرہ اسے پدر سری روایات سے بغاوت کرنے پر دیتا ہے۔ اس لیے بنیادی مسئلہ عورت کا اپنی زندگی پر مکمل اختیار کا ہے اور اپنی زنجیروں کو چومنا اس آئیڈیل کو حاصل کرنے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words