کابل، شہر افسوس!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ ڈاجم کارز چلاتے اور آئس کریم کھاتے ان مبینہ طور پر ’بدلے‘ ہوئے طالبان کو دیکھ کر پہلے تو میں ہنسی اور پھر مجھے رونا آ گیا۔

ہنسی شاید اس لیے کہ دل کے کسی کونے میں یہ امید تھی کہ اب اس ملک کی بدبختی ٹل جائے گی اور روئی اس لیے کہ مجھے معلوم تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

کابل کے وقتی سکوت اور ہوائی اڈے پر جاری افراتفری کے پیچھے آنے والی کسی آفت کے منحوس سائے لہرا رہے تھے۔ طالبان پر اعتبار کرنے کو بہت سے لوگ تیار نہیں۔

دنیا ایک بار پھر کابل سے ہاتھ کر گئی۔ دوحہ مذاکرات کے دوران ہی آنے والے وقت کا نقشہ بہت حد تک واضح ہو چکا تھا۔

یہ مذاکرات کچھ ویسے ہی تھے جیسے مذاکرات کے ذریعے بیسیویں صدی میں نو آبادیات آزاد ہوئیں۔ نہ انگریز کو جاتے ہوئے ہندوستانی عوام کی حفاظت کا کوئی احساس تھا اور نہ ہی امریکہ کو افغانوں سے کوئی ہمدردی۔

انتقال اقتدار کھیل نہیں۔ ہمارے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ بادشاہ کا جنازہ کوئی نہیں دیکھ پاتا تھا، نہ اس کی موت کا تذکرہ ہوتا تھا۔ صرف اتنا کہتے تھے کہ ’گھی کا کپا لنڈھ گیا۔‘

یہ حکایتیں ہی سہی لیکن کیا آج کی جدید دنیا ان روایتوں، حکایتوں سے بھی زیادہ بے سروپا فیصلے نہیں کرتی ہے؟

برصغیر سے انگریز جانے کے لیے نہیں آیا تھا، دوسری جنگ عظیم نے اس کی کمر توڑی تو وہ جوتے چھوڑ کر بھاگا۔ امریکہ کو بھی افغانستان سے کم انس نہیں، اپنی داخلی مصیبتوں اور مسائل کے تحت اچانک نکل بھاگتے ہوئے اس نے صرف اور صرف اپنا سوچا۔

برصغیر کی آزادی نے اس خطے کے عوام کو جو زخم دیے وہ شاید کبھی نہ بھر پائیں گے۔ اس وقت کے ناسور کشمیر کی صورت صدیوں رسیں گے۔ اگر کبھی مندمل بھی ہوئے تو داغ نہیں جائیں گے۔

ان لوگوں کی خام کاری کا نتیجہ افغان عوام بیس برس بھگت چکے ہیں۔ اشرف غنی صاحب اور ان کی حکومت انتقال اقتدار کے بغیر فرار ہو گئی۔

جو ابتری پھیل رہی ہے وہ کم ہے۔ ان حالات میں تو آبادیوں میں لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے۔ شاید افغانستان میں ابتری کے وہ سب ادوار اتنی بار گزر چکے ہیں، لوٹنے والے بھی نہیں بچے۔

کابل ہوائی اڈے کے دھماکوں اور مبینہ فائرنگ سے اتنا تو معلوم ہو ہی گیا کہ امن کی فاختہ ابھی افغان کہساروں سے کہیں دور پرے چھپی ہوئی ہے اور جنگ گزیدہ افغانستان پر عیار گدھ اب بھی منڈلا رہے ہیں۔

افغانستان بھی ایک شہر نگاراں تھا۔ عظیم تہذیبوں کا مرکز، انسانی علم و ہنر کا مظہر، گندھارا آرٹ اور تہذیب اور آثار قدیمہ کا گہوارہ۔ مانی، بہزاد اور گوہر شاد کا افغانستان۔

اسی شہر کابل کے بارے میں بزرگوں سے سنا تھا کہ چھٹیاں گزارنے کی بہترین جگہ تھی۔ وہی شہر ہے، جدید انسان کی حماقت، جلد بازی، انا اور خود غرضی کی بھینٹ چڑھ کے شہر افسوس بن کے رہ گیا ہے۔

شاید ایک روز ایسا آئے کہ نحوست اور بدی کے یہ بادل افغانوں کے سر سے ٹل جائیں مگر آج کی دنیا، ناانصافی، حمق اور منافقت کے جن اصولوں پر چل رہی ہے ان کی موجودگی میں امن دیوانے کا خواب ہے۔

بد امنی کا یہ بھوت تادیر اسی خطے تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ پنڈورا کا وہ پٹارا ہے کہ جب کھل گیا تو آفت سب کے گھر جائے گی۔ چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں۔

آشوب چشم کا ایک مریض معالج کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ میری دائیں آنکھ آ گئی ہے۔ معالج اس کی بائیں آنکھ کا معائنہ کرنے لگا۔ بھلے آدمی نے کہا کہ آئی تو دائیں آنکھ ہے، دیکھ تم بائیں رہے ہو، اچھے معالج ہو؟

معالج نے کہا کہ یہ دونوں آنکھیں اتنا قریب ہیں کہ بائیں آنکھ بھی نہیں بچنے والی۔

پاکستان اور افغانستان کا بھی یہ ہی معاملہ ہے۔ افغان مہاجرین کی نئی کھیپ پاکستان پہنچنے والی ہے۔ ہم سوائے ہر بار کی طرح ہاتھ ملنے اور سر پیٹنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ افسوس، اے شہر کابل افسوس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words