ہمارے”وڈّے“ بھائی جان

انیس، بیس سال کا وہ نوجوان ایمرسن کالج ملتان سے بی اے کا امتحان دے کر واپس آیا تو پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ والدین کی آنکھیں مستقبل پر لگی ہوئی تھیں، دعائیں اسے حصار میں لیے رہتیں۔ یہ بیسویں صدی کے(غالباً) 54ویں سال کی بات تھی، اُن دِنوں بی اے پاس کر لینا گویا معراج کو چھو لینا تھا۔ مولانا غلام رسول مہر جیسے محقق اپنے نام کے ساتھ بی اے کا لاحقہ لگاتے تھے۔ نکلتے قد، گورے رنگ، فراخ پیشانی اور اونچی ناک والے اس نوجوان سے بھی امیدیں وابستہ تھیں۔ اُسے بڑا افسر بن کر وسائل میں اضافہ کرنا، اور اپنے خاندان کو آسودگی فراہم کرنے کی کاوش میں شریک ہو جانا تھا۔ مقابلے کے امتحان کی بات بھی شاید ہوتی ہو، مختلف مقامات پر بڑے عہدوں پر فائز اعزا سے بھی والد صاحب کا رابطہ ہوا ہو گا کہ کوئی اعلیٰ ملازمت تلاش کر لی جائے۔ ایک دن محلے کے چند لڑکوں نے بوریوالہ ٹیکسٹائل ملز دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ یہ نئی نئی قائم ہوئی تھی، اور اُس علاقے کے لیے ایک عجوبہ تھی، اسے دیکھنے اور اس میں کام کرنے کا شوق جوان دِلوں میں چٹکیاں لے رہا تھا۔ ایک دن وہ گورا چٹا لیکن سنجیدہ نوجوان بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ بوریوالہ روانہ ہو گیا کہ اس وسیع کارخانے کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ سکے۔

وہاں پہنچے تو بھرتی ہو رہی تھی، درخواست گذاروں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ پاک پتن کے محلہ سمادھانوالہ سے آنے والا گروپ بھی قطار میں لگ گیا کہ قسمت آزمانے میں کیا مضائقہ ہے؟ تین چار یا پانچ افراد میں سے اور تو کسی کی قسمت نے یاوری نہ کی، لیکن اِس نوجوان کو پروانہ ملازمت تھما دیا گیا، جو ازراہ تفنن لائن میں لگ گیا تھا۔ نوے روپے مشاہرہ مقرر ہوا تھا، پروانہ تھامے والدین کے پاس پہنچے، افسری کا خواب دیکھنے والوں کو کلرکی پسند تو نہیں آ سکتی تھی، لیکن یہ سوچ کر کہ امتحان کا نتیجہ آنے میں دو، تین ماہ لگیں گے، اس لیے گھر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ کچھ کرنا شروع کر دیا جائے، اجازت دے دی۔ سوچا گیا ہو گا کہ جب نتیجہ آئے گا تو پھر ہاتھ پاؤں مار لیں گے کہ انہیں کسی نے باندھا تو نہیں ہو گا۔ یوں وہ نوجوان ایک صندوق میں اپنے کپڑے اور کچھ ضروری سامان رکھ کر بوریوالہ جانے والی گاڑی میں بیٹھ گیا، اگلے ہی روز مل کے لیبر افسر کے دفتر میں کام کا آغاز ہو چکا تھا۔

نتیجہ آیا، بی اے پاس ہو گئے تو افسر انچارج نے ترقی کی سفارش کر دی۔ سپرنٹنڈنٹ بن گئے، تنخواہ میں بھی اضافہ ہو گیا، تو ملازمت جاری رکھنے کا جواز ہاتھ آ گیا، کچھ ہی عرصہ بعد افسر بنا کر دفتر کا انچارج بنا دیا گیا، تو بس یہ سمجھئے کہ دِل لگی دِل کی لگی بن گئی۔ خوابوں کی تعبیر اگر یہیں مل سکتی ہے تو پھر ”آوارہ گردی“ کا کیا فائدہ؟ یہ سوچا اور جم کر بیٹھ گئے۔ رہنے کے لیے کوارٹر دستیاب تھا، پھر کوٹھی میں پہنچ گئے۔ ان دِنوں ٹیکسٹائل مل محض چند مشینوں کا مجموعہ نہیں تھا، اس کے لیے پورا شہر بسانا پڑتا تھا۔ سینکڑوں کارکنوں کے لئے کوارٹر بنتے، کوٹھیاں تعمیر ہوتیں۔

بوریوالہ مل نے بھی داؤد آباد کے نام سے شہر بسانا شروع کیا، جس میں مسجد، ڈاک خانہ، سکول، ہسپتال، بنک سب کچھ موجود تھا۔ کھیلوں کے میدان تھے، ثقافتی تقریبات کے لیے جگہ مخصوص تھی، قوالیاں ہوتیں، آل پاکستان مشاعرے ہوتے، تقریری مقابلے ہوتے، انعامات تقسیم ہوتے، اسناد بانٹی جاتیں، یوں مل کے اندر کام کرنے والوں کی ذہنی اور فکری نشوونما کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ مَیں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا، تو بوریوالہ میں میونسپل ڈگری کالج قائم ہو چکا تھا، سو پاک پتن سے وہیں بھجوا دیا گیا۔ لیبر افسر صاحب کے بنگلے میں ایک کمرہ مل گیا۔ کچھ ہی عرصہ گذرا تھا کہ لیبر افسر داؤد کارپوریشن کے وظیفے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے برطانیہ روانہ ہو گئے۔ لندن سکول آف اکنامکس سے پرسانل مینجمنٹ کا ڈپلومہ ان کا ہدف تھا۔ وہ لندن پہنچے تو مجھے ساہیوال کا رخ کرنا پڑا، گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل نے میرے لئے بانہیں کشادہ کر رکھی تھیں۔

لیبر افسر صاحب اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے واپس آئے، تو اعلیٰ ملازمتیں ان کی تلاش میں تھیں، کچھ ہی عرصہ بعد وہ عباسی ٹیکسٹائل ملز رحیم یارخان میں پرسانل منیجر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ تنخواہ میں خوب اضافہ ہوا، اور نہر کنارے ایک عالی شان کوٹھی بھی مل گئی۔ یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور تھا، محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، تو گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بھی ان کے نعرے لگائے جانے لگے۔ مَیں یہاں انجمن طلبہ کا صدر منتخب ہو چکا تھا، اور لندن پلٹ افسر رحیم یار خان میں عباسی ٹیکسٹائل ملز کے حلقے سے انتخاب لڑ کر پہلے بی ڈی ممبر اور پھر چیئرمین منتخب ہو گئے تھے۔ مل کی انتظامیہ کی خواہش انہیں اس کوچے میں لے گئی تھی۔

ساہیوال میں ہمارا گروپ محترمہ فاطمہ جناحؒ کا پرچم بردار تھا، تو رحیم یار خان میں بی ڈی چیئرمین بن جانے والے پرسانل منیجر ایوب خان کے حق میں سرگرم تھے۔ رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر اُن کے سر ہو گئے، کہ آپ کا چھوٹا بھائی ساہیوال میں طوفان اٹھائے ہوئے ہے، اسے لگام ڈالیے۔ ان دِنوں موبائل تھے نہ انٹرنیٹ، فون پر بات کرنے کے لیے بھی کال بُک کرانا پڑتی تھی، سو رحیم یار خان سے اضطراب کی گھنٹیاں بجنے لگیں، ساہیوال کا گذارا رحیم یار خان ہی کے وظیفے پر تھا، لیکن ساہیوال کو اصولی موقف سے دستبرداری منظور نہ تھی، وہ نتائج سے بے پرواہ اپنی جگہ ڈٹا ہوا تھا، رحیم یار خان نے یہ صورتِ حال دیکھی تو منہ خود ہی دوسری طرف کر لیا، زبانِ خاموش سے انتظامیہ کو جواب دے دیا کہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل تھا۔

عباسی ٹیکسٹائل ملز کے پرسانل منیجر یہاں سے علی آٹوز کراچی منتقل ہو گئے، کہ دونوں اداروں کی انتظامیہ ایک ہی تھی، علی آٹوز ہی میں تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آئے تو انہوں نے صنعتوں کو قومیا لیا۔ علی آٹوز اور اس کے جملہ افسران و کارکنان بھی نذر سرکار ہو گئے، اور یوں موصوف اعلیٰ سرکاری افسر بن گئے۔ یہاں سے پاکستان نیشنل آئلز، انڈس پائپ انڈسٹریز، نیشنل سیمنٹ اور پھر پی آئی ڈی سی پہنچے، یہاں تک کہ پی آئی ڈی سی کے چیئرمین بنا ڈالے گئے۔ نوے روپے ماہوار سے شروع ہونے والا سفر ”ایم ون“ پر جا کر ٹھہر گیا۔ کم و بیش پچیس سال پہلے ریٹائر ہوئے، مختلف نجی اداروں کی سربراہی کی، اور جب قویٰ مضمحل ہو گئے تو پھر گھر ہی کے ہو کر رہ گئے۔ آخری چند سال نقل و حرکت محدود رہی، صحت خراب ہوتی گئی، یہاں تک کہ چند روز پہلے آخری ہچکی لی، اور اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔

یہ صاحبزادہ ضیاء الرحمن شامی کی کہانی ہے، جو ہم سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے، ہمشیرہ وسیم اختر کے بعد وہ اس دنیا میں وارد ہوئے تھے، مجھ سے دس سال بڑے تھے، ان سے تین سال چھوٹے رضاء الرحمن شامی تھے، ضیاء صاحب کو ہم وڈے بھائی جان، اور رضا صاحب کو چھوٹے بھائی جان کہہ کر پکارتے تھے۔ پاکستان کے ممتاز بزنس منیجرز میں ان کا شمار ہوتا تھا، وہ جس بھی قومی ادارے میں گئے، اسے نفع بخش بنانے میں دن رات ایک کر دیے، کارکنوں کے ساتھ گھل مل گئے، ان کو آسانیاں فراہم کرنے میں لگے رہے، ہماری طرح وہ ان کا بھی سائبان تھے۔ انہوں نے دوسروں کے لیے جینے کا گُر سکھایا بھی اور آزمایا بھی۔ ان کے بیٹے صاحبزادہ عمران شامی اور ان کی اہلیہ علویہ نے ان کی خوب خدمت کی، عزیزم عمر شامی بھی ہمہ وقت متوجہ رہے، ہماری سانس بھی ان کی سانس سے جڑی رہی۔ ان کی جان میں ہم سب کی جان تھی، ان کے سایے میں ہم سب اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے، اور ان سے رہنمائی کے طالب رہتے تھے۔ وہ آخر دم تک اپنے عزیزوں، دوستوں اور دوستوں کی اولادوں سے جڑے رہے، اور یہی سبق دہراتے اور یاد کراتے رہے کہ

ہیں وہی لوگ جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

بشکریہ: ڈیلی پاکستان

Latest posts by مجیب الرحمن شامی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words