نازی قاتل ایڈولف آئخمین کی مخبری کس نے کی؟

ایڈولف آئیخمین کی گرفتاری اور اسرائیل میں مقدمہ چلنے کی کہانی کسی سنسنی خیز جاسوسی فلم کی کہانی جیسی ہے کہ جسے موساد کے خفیہ ہرکاروں نے گرفتار کر کے اسرائیل پہنچایا۔ لیکن اس کی ارجنٹینا میں موجودگی اور پتے کی اطلاع کس نے پہنچائی تھی؟ اس حوالے سے موساد اور جرمن حکام نے کبھی کسی کو بھنک تک نہ پڑنے دی۔ لیکن اب یہ راز فاش ہو گیا ہے کہ ایک جرمن ماہر ارضیات نے جو اسی ادارے میں کام کرتے تھے جس ادارے میں آئیخمین بھی کام کرتا تھا، نے اس کی موجودگی کی اطلاع جرمن حکام کو دی جنھوں نے یہ اطلاع موساد تک پہنچا دی۔ اور یہی وہ اطلاع تھی جو آئیخمین کی گرفتاری کی وجہ بنی۔ اس بات کا انکشاف جرمن اخبار ”سوڈائشٹے زٹونگ“ نے کیا ہے۔

وہ افراد کہ جو تاریخ میں خاص دلچسپی نہیں رکھتے، کی اطلاع کے لیے بتاتے چلیں کہ ایڈولف آئیخمین ہی وہ شخص تھا جس نے دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کی نظر میں یہودیوں، معذوروں، خانہ بدوشوں اور دیگر ناپسندیدہ افراد سے نجات حاصل کرنے کے لیے گیس چیمبر میں انہیں ہلاک کرنے کی تجویز دی اور وہ اس پر عمل درآمد کے عمل کی نگرانی کا ذمہ دار تھا۔

گزشتہ ساٹھ سالوں سے اس مخبر کی شناخت خفیہ رہی تھی لیکن اسرائیل میں اس کا ذکر نہایت احترام و عزت سے کیا جاتا تھا۔ اب اس مخبر کی وفات کے بھی کوئی بتیس سالوں بعد اس کے خاندان نے ”تاریخ کو درست“ کرنے کے لیے اس کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔

گیرہارڈ کلیمر نے نازی دور کے جرمنی میں ارضیات، فلسفہ اور تاریخ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ سنء 1950 ء میں وہ ملازمت کی غرض سے ارجینٹینا چلے آئے۔ اسی دوران ایڈولف آئیخمین بھی ایک نقلی نام کے پاسپورٹ پر ارجنٹینا چلا آیا جہاں سابقہ نازی اور نازیوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی کمی نہیں تھی۔

گیر ہارڈ کلیمر کو شمالی ارجنٹینا کے ٹکمان صوبے میں واقع ”کپری کنسٹرکشن کمپنی“ میں ملازمت مل گئی۔ شومئی قسمت کہ آئیخمین نے بھی کچھ عرصہ بعد اسی ادارے میں ”ریکارڈو کلیمنٹ“ کے نقلی نام سے ملازمت اختیار کر لی۔ کلیمر اس کو دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ شخص جو خود کو ریکارڈ و کلیمنٹ کے نام سے متعارف کروا رہا ہے، اصل میں آئیخمین ہے۔ آئیخمین کے حوالے سے یہ افواہیں تو سب کو پتا تھیں کہ وہ جنوبی امریکا کے کسی ملک میں رہ رہا ہے۔

ارجنٹینا میں سابقہ نازیوں کی ایک بڑی تعداد رہتی تھی اور ان میں سے بہت سے لوگ اسی کپری کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ گیرہارڈ کلیمر کے خاندان کے مطابق وہ نازی سوچ اور نازیوں کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے چھٹیوں پر جرمنی واپس آتے ہی خاموشی سے جرمن حکام کو اس بارے میں اطلاع فراہم کر دی۔ لیکن ان دنوں کی جرمن حکومت نازیوں کو ان کے جرائم کی سزا دینے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ جرمن حکام گو کہ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے مظالم پر جرمن قوم کی جانب سے پشیمانی کا اظہار کرتے تھے لیکن جرمن افسر شاہی میں اب بھی نازیوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی کمی نہیں تھی۔

دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہودیوں پر مظالم میں جرمنوں کی طرف سے نازیوں کی مدد کرنے کی وجہ سے اسرائیل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ جرمن بدل گئے ہیں اور وہ مغربی جرمنی کو تسلیم کرنے اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکاری تھا۔ چنانچہ اس وجہ سے بھی جرمن حکام اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ گیرہارڈ کلیمر کی یہ اطلاع بھی سرکاری مثلوں (فائلوں ) کی دستاویزات کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو کر رہ گئی۔

لیکن جرمن حکومت میں کم از کم ایک اعلی افسر ایسا تھا کہ جو نازیوں کو پکڑنے اور انہیں ان کے جرائم کی سزا دینے میں کسی رو رعایت کا قائل نہ تھا۔ اور یہ افسر تھے ”فرٹز باؤئر“ ، ایک جرمن یہودی وکیل استغاثہ کہ جو آئیخمین کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے بے چین تھے۔ باؤئر دوسری جنگ عظیم کے دوران تو جان بچانے کے لیے جرمنی سے بھاگ گئے تھے لیکن جنگ ختم ہونے پر واپس جرمنی چلے آئے اور وزارت قانون میں چلے گئے۔ جلد ہی وہ جرمنی کی ریاست ”ہیس“ کے سرکاری وکیل استغاثہ بن گئے۔ وہ سنء پچاس کی دہائی میں جرمن حکومت کی وزارت قانون میں سب سے اعٰلی عہدے پر فائز یہودی تھے۔ اس وقت کہ جب جرمن حکومت آئیخمین کو پکڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی تھی تو باؤئر اس حوالے سے اپنی پوری کوشش کرنے میں جت گئے۔

باؤئر کو آئیخمین کی جائے پناہ کے بارے میں پہلی آدھی ادھوری اطلاع لوتھر ہرمن سے ملی جن کے والدین میں سے ایک یہودی تھا اور جو ارجنٹینا منتقل ہو گئے تھے۔ ہرمین کی بیٹی ایک دفعہ آئیخمین کے بیٹے کے ساتھ ڈیٹ پر گئی جہاں اس نے لڑکی کو متاثر کرنے کے چکر میں اپنے باپ کی اصلیت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بیٹی نے باپ کو یہ اطلاع دی جس نے سن 1957ء میں یہ اطلاع باؤئر تک پہنچائی۔ باؤئر نے یہ اطلاع موساد کو دی جس نے اپنے ہرکارے ارجنٹینا بھجوائے لیکن وہ خالی ہاتھ واپس آئے کیونکہ ہرمین نے جو معلومات دی تھیں، وہ ادھوری اور الجھن میں مبتلاء کرنے والی تھیں۔ لیکن بہرحال اس سے اس افواہ کی تصدیق ہو گئی تھی کہ آئیخمین جنوبی امریکا کے خطے میں کہیں روپوش ہے۔

اس دوران کپری کنسٹرکشن کمپنی مالی مشکلات کا شکار ہو گئی تو آئیخمین ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس منتقل ہو گئے جبکہ گیرہارڈ کلیمر واپس جرمنی لوٹ آئے۔ سنء 1959 ء میں جرمنی واپس آنے کے بعد کلیمر نے اپنے ایک گہرے دوست جو کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج میں رہے تھے اور جنگ کے بعد تارک الدنیا ہو کر راہب بن گئے تھے، کو ایک ملاقات میں باتوں باتوں میں آئیخمین کی جائے پناہ کی اطلاع دی اور اس مایوسی کا اظہار کیا کہ ان کی جانب سے اطلاع دیے جانے کے باوجود جرمن حکومت نے کچھ نہ کیا۔

اس راہب نے یہ اطلاع اپنے بشپ کو دی جس نے یہ اطلاع باؤئر تک پہنچا دی۔ تو باؤئر کلیمر سے ملے اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کا نام صیغہ راز میں رکھیں گے اور مزید تفصیلات جانیں۔ یہ تفصیلات نہایت اہم ثابت ہوئیں کیونکہ ان میں آئیخمین کے گھر کا پتا اور کمپنی کے ملازمین کی ایک ساتھ بنائی گئی تصویر بھی موجود تھی جس میں کلیمر اور آئیخمین شانہ نشانہ کھڑے نظر آ رہے تھے۔ یہی تفصیلات بلاآخر آئیخمین کو پکڑنے کا موجب بنیں۔

باؤئر فوری طور پر اسرائیل روانہ ہوئے اور اس وقت کے موساد کے سربراہ عیسر ہیرل اور اسرائیل کے اٹارنی جنرل ہیم کوہن کو یہ اطلاع فراہم کی۔ موساد نے اپنے ہرکارے کلیمر کے دیے گئے پتے پر روانہ کیے۔ اس وقت تک آئیخمین وہ جگہ چھوڑ کر ایک دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے لیکن تازہ ترین تصویر کی وجہ سے موساد کے ہرکاروں کے لیے نیا پتا ڈھونڈنا زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا۔ اور سنء 1960 میں وہ آئیخمین کی اس نئے پتے پر موجودگی کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کے بعد کی کہانی تاریخ سے ذرا سا شغف رکھنے والے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ رفیع ایٹن کی سربراہی میں موساد کے ہرکاروں نے آئیخمین کو اغوا کر کے اسرائیل جانے والے طیارے پر سوار کرا دیا جہاں اس پر انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہونے پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔ آئیخمین اسرائیل کی تاریخ کا واحد مجرم ہے جسے مقدمہ چلا کر پھانسی کی سزا دی گئی۔

باؤئر نے کلیمر سے کیا گیا وعدہ مرتے دم تک نبھایا اور کبھی ان کی شناخت ظاہر نہ کی۔ موساد نے بھی اپنی زبان بند رکھی۔

اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد اسرائیل نے یکایک مغربی جرمنی کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ آج اس واقعے سے جڑا کوئی بھی فرد زندہ نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words