اپوزیشن نے "ووٹ کی عزت” پر مہنگائی کا کمبل ڈال دیا

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کراچی میں پاکستان جمہوری تحریک کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا سیلاب ہی اس ناکام اور ناکارہ حکومت سے نجات دلوا سکتا ہے۔

کراچی میں جلسہ منعقد کرکے پاکستان جمہوری تحریک کی باقی ماندہ جماعتوں نے اس سال کے شروع میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ اختلافات کے بعد اس تحریک کے تن مردہ میں جان ڈالنے کے لئے ’تحریک ‘ کا از سر نو آغاز کیا ہے۔ تاہم اس جلسہ میں شہباز شریف کی موجودگی اور نواز شریف و مریم نواز کی غیر حاضری سے پی ڈی ایم کے بنیادی لائحہ عمل کے بارے میں نئے سوالات سامنے آئیں گے۔ اس جلسہ میں عمران خان اور حکومت پر تنقید کے علاوہ کوئی خاص بات سننے کو نہیں ملی ۔ حالانکہ اگر ملک کی اہم سیاسی جماعتیں جن میں حکمران جماعت کے بعد ملک کی سب سے بڑی پارٹی بھی شامل ہے، صرف بیان بازی سے عوام کے جوش و خروش میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں یا اپنی سیاسی موجودگی کا جواز فراہم کرنا چاہتی ہیں تو یہ طرز عمل ملک کے سیاسی مستقبل، جمہوری روایات اور اپوزیشن جماعتوں کی سوچ و استعداد کے بارے میں درجنوں سوالات کو جنم دے گا۔ سب سے اہم اور ضروری سوال تو یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس ان مسائل کا کیا حل ہے جو اس کے بقول موجودہ ’غیر جمہوری اور ناکام‘ حکومت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

اپوزیشن لیڈروں سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ موجودہ حکومت کے خلاف ان کا مقدمہ جمہوریت کی بالادستی سے شروع ہو کر اب مہنگائی کے قضیہ تک کیسے پہنچ گیا؟ کیا اب اپوزیشن کے لئے یہ بات اہم نہیں ہے کہ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی اور ملک کے بعض ادارے زور زبردستی سے ملک پر اپنی پسند کی پارٹی اور لیڈر مسلط کرنے میں سرگرم رہے تھے۔ اپوزیشن کا دعویٰ رہا ہے کہ اسی طرز عمل کی وجہ سے عمران خان اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود ملک کے وزیر اعظم بنا دیے گئے۔ واضح رہے اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے دھاندلی اور سیاسی بادشاہ گری کے حوالے سے عائد کئے جانے والے الزامات کے دو نمایاں پہلو ہیں۔

 ایک: 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی اور انتخابی ہیرا پھیری سے اس وقت اپوزیشن میں شامل جماعتوں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی و دیگر کے امیدواروں کو ناکام بنوایا گیا تاکہ تحریک انصاف کے امید وار زیادہ تعداد میں کامیاب ہوسکیں۔ اپوزیشن ان انتخابات کے حوالے سے قبل از انتخابات دھاندلی کی مثالیں بھی سامنے لاتی رہی ہے۔ جن میں متعدد الیکٹ ایبلز کو دھکیل کر پسندیدہ جماعت میں شامل کروانے کا طریقہ سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ ’محکمہ زراعت‘ نامی عناصر کی طرف سے اپوزیشن پارٹیوں کے لئے استقامت کا مظاہرہ کرنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ہے۔ گو کہ عمران خان اور ان کے حامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سابقہ حکمران جماعتوں کی بدعنوانی اور سیاسی ناکامی کی وجہ سے عوام نے جوق در جوق عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی طرف رجوع کیا تھا۔ لیکن اپوزیشن تسلسل سے اس دعوے کو مسترد کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی کامیابی عوام کی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں تھا بلکہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لئے انتخابات کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

دوئم: اس حوالے سے دوسرا شکوہ یا احتجاج یہ سامنے آتا رہا ہے کہ انتخابات میں تمام تر دھاندلی اور انتخابی حلقوں کے سیاسی لیڈروں پر ہر قسم کا ناجائز دباؤ استعمال کرنے کے باوجود تحریک انصاف کو قومی یا پنجاب اسمبلی میں حکومت سازی کے لئے اکثریت نہیں مل سکی تھی۔ اس لئے مسلم لیگ (ق) اور آزاد ارکان کو ہانک کر تحریک انصاف کی طرف لایا گیا اور اس طرح مرکز اور پنجاب میں اس پارٹی کو اقتدار پلیٹ میں رکھ کر دے دیا گیا۔ اپوزیشن اس طریقہ کو مسلمہ جمہوری طریقہ کار اور ملک کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ اسی لئے عمران خان کے بارے میں نامزد وزیر اعظم کی پھبتی کسی گئی تھی جسے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو اب بھی سیاسی بیانات میں استعمال کرلیتے ہیں۔

اس پس منظر میں پاکستان جمہوری تحریک کے قیام کے فوری بعد 16اکتوبر 2020 کو گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے ایک پرجوش خطاب میں انتخابی دھاندلی اور انہیں اقتدار سے محروم کرنے کی ذمہ داری فوج اور آئی ایس کے سربراہان پر عائد کی تھی۔ اپوزیشن لیڈر اگرچہ سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کا حوالہ دیتے رہے ہیں اور جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے قائد ایوان منتخب ہونے پر انہیں ’نامزد وزیر اعظم ‘ قرار دیاتھا تو یہ بھی دراصل سیاسی معاملات میں فوج اور اس کے زیر نگین اداروں کی براہ راست مداخلت کی طرف ہی اشارہ تھا۔ تاہم ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک سابق وزیر اعظم نے حاضر سروس آرمی چیف اور ملک کی اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی کے آن ڈیوٹی سربراہ کا نام لے کر سیاسی بدعنوانی کا الزام عائد کیا اور قرار دیا کہ ان کی ملی بھگت سے ہی انہیں وزارت عظمی سے محروم ہونا پڑا تھا۔

نواز شریف کے اس دو ٹوک انداز نے ایک طرف عوام کے ایک طبقے میں یہ امید پیدا کی تھی کہ اپوزیشن اب ’ووٹ کو عزت دو‘ کے سلوگن کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے گی اور اب سیاسی سودے بازی میں اداروں کے کردار کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اس تقریر کا اثر تھا یا پی ڈی ایم کی صفوں میں اتحاد سے پہلے ہی ’انتشار ‘کے آثار تھے کہ پہلے چئیرمین سینیٹ منتخب کروانے کے سوال پر اور پھر سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے کے معاملہ میں پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے لائحہ عمل پر چلنا ضروری نہیں سمجھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اپنے قیام کے 6 ماہ سے بھی کم مدت میں پی ڈی ایم کو اتحاد میں شامل دو اہم جماعتوں کو ’ شو کاز نوٹس‘ دینا پڑا ۔ یوں ان دونوں جماعتوں نے حکومت مخالف تحریک کو خیر آباد کہا اور اپنے طور پر ’نامزد سرکار‘ کو گرانے کی بات کی جانے لگی۔ حیرت ہے کہ پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی پیپلز پارٹی بھی تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی بات کرتی ہے تو مہنگائی کو ہی اہم ترین موضوع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اب پی ڈی ایم کے لیڈروں نے بھی عمران خان کے خلاف تحریک کو منظم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مہنگائی اور حکومتی ناکامی پر ہی زور بیان صرف کیا ہے۔

یہ بات قابل فہم ہے کہ اس وقت افراط زر اور حکومت کی مالی پالیسیوں یا مجبوریوں کی وجہ سے ملک میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہؤا ہے۔ حکومت ایک طرف مہنگائی پر قابو پانے کی بات کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی وجہ سرکاری بدانتظامی اور ناکامی کو ماننے کی بجائے عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ کو اس کی اصل وجہ بتایا جاتا ہے۔ یہ معاملہ چونکہ ہر گھر میں درپیش ہے، اس لئے حکومت مخالف عناصر اسے موضوع گفتگو بنا کر موجودہ حکومت کی نااہلی کو اس کا الزام دیتے ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات ہے کہ حکومتی اقدامات کو ناکام بتاتے ہوئے یہ واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ اپوزیشن کیسے ان معاملات کو حل کرے گی۔ شہباز شریف نے بھی آج کراچی کے جلسہ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کو حکومت مل گئی تو وہ مہنگائی کم کردیں گے لیکن یہ بتانے سے پہلو تہی کرگئے کہ اپوزیشن کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے وہ تمام معاملات درست کرلے گی؟

حکومت پر تنقید کو جائز اور جمہوری حق قرار دے کر بھی یہ سوال کرنا ہر ذی شعور شہری کا استحقاق ہے کہ اپوزیشن جو دعوے کررہی ہے، ان کی تکمیل کیسے ہوگی۔ اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر مکمل طور سے ناکام ہورہے ہیں۔ وہ معاشی احیا کا کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کرپارہے۔ کسی حکومت پر تنقید سے معاملات درست نہیں ہوسکتے۔ لیکن اپوزیشن صرف جوشیلے بیانات سے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرکے کسی طرح موجودہ حکومت سے اقتدار چھین لینا چاہتی ہے۔ اس طرح معاملہ گھوم پھر اسی موضوع کی طرف لوٹ آتا ہے کہ کیا یہ سیاسی تنازعہ عوام کے حق حکمرانی کے بارے میں ہے اور اپوزیشن کا مقدمہ دراصل ووٹ کی عزت پر ڈاکہ ڈالنے والے عناصر، انتخابات میں دھاندلی اور اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت ہے یا اپوزیشن کسی بھی قیمت پر بس موجودہ حکومت کے خلاف فضا آلودہ کرنا چاہتی ہے۔ جمہوریت کی بالادستی کی بجائے محض ایک سماجی و معاشی مسئلہ کو بنیاد بنا کر اگر کسی بھی حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی تو کسی جمہوری اصول کی بنیاد پر اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

اپوزیشن پارٹیوں کو اگر موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے مسئلہ ہے تو ایک ایسے وقت میں تحریک چلانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی باتیں کرنا جب انتخابات محض دو سال کی دوری پر ہیں، بے بنیاد اور ناکام حکمت عملی ثابت ہوگی۔ مہنگائی یادیگر داخلہ و خارجہ حکمت عملی پر اختلاف کو انتخابات کے دوران حکومتی پارٹی کے خلاف دلیل اور نعرے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کو ایک سیاسی تحریک کی بنیاد بنانے کا مقصد یہ ہوگا کہ اپوزیشن ملک میں شفاف جمہوری نظام کے قیام کے اصل مقصد سے گریز کا اعلان کررہی ہے۔ شہباز شریف یا کسی بھی اپوزیشن لیڈر کا یہ رویہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی یا ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کے حوالے سے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words