عورت: تحفظ کی متلاشی


سانحہ مینار پاکستان نے ہمارے سماج کی بنت پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں گو کہ یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے ایسے شرمناک واقعات آئے روز رونما ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل موٹر وے پر بھی ایسا ہی دلخراش واقعہ ہوا، رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آنے والی ماں بیٹی کے ساتھ لاہور میں اجتماعی زیادتی، مزدوری کے لیے گھر سے شیر خوار بچہ لے کر نکلنے والی عورت کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل، ایسے بے شمار شرمناک واقعات ہمارے سماج کی اخلاقیات کا پردہ چاک کرتے اور بے شمار سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں مگر ہمارا سماج ان سوالات کے جواب دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت چاہتی ہے عورت کے مسئلہ پر معاشرے میں ابہام قائم رہے اور عورت کے ساتھ یہی سلوک جاری رہے کیونکہ بد نصیبی سے ہمارے سماج میں جنگ ہو، خاندانی لڑائی ہو، نشانے پر عورت ہی رہتی ہے۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھیں، دو مردوں کی لڑائی میں گالی عورت کو ہی دی جاتی ہے اور ان گالیوں میں مرد جنسی زیادتی کا ہی ارادہ ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ کبھی مخالف کی ماں تو کبھی بیٹی یا بہن نشانے پر ہوتی ہے۔

ہر ایسے سانحہ کے بعد ہمارے ہاں نظریاتی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ مذہب سے دوری کا نتیجہ ہے، کچھ کہتے ہیں کہ عورت کو گھر تک محدود ہونا چاہیے، کچھ لوگوں کا لاہور سانحہ کے بارے میں یہ خیال ہے کہ کیا ضرورت تھی ایسے رش میں جانے کی، اس سے عورت کے حوالے سے ہمارے سماج کے نظریات کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے جو لوگ کہہ رہے ہیں عائشہ جو کہ ٹک ٹاکر بھی ہیں ٹک ٹاک بناتی ہیں اس لیے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا۔ ان لوگوں کے لیے عرض ہے کہ کچھ سال پہلے کراچی میں ہاکس بے پر پکنک کے لیے آنے والی طالبات کے ساتھ بھی ایسی صورت حال ہوئی تھی ان میں سے کوئی ٹک ٹاکر نہیں تھی، رکشہ میں سوار ہو کر اپنے رشتہ دار کے گھر جانے والی ماں بیٹی بھی کیا ٹک ٹاک بناتی تھیں جنہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بہت سے پنچایت یا جرگوں میں مردوں کی غلطی کی سزا عورتوں کو برہنہ کر کے گھمانے یا زیادتی کی صورت میں دی گئی ہے۔ کیا کسی سماج میں ایسے شرمناک واقعات پر نظریاتی بحث ہوتی ہے۔ یا معاشرہ اجتماعی طور پر اس موقف پر کھڑا ہوتا ہے کہ ایک جرم ہوا ہے اس کی سزا ہونی چاہیے جو کہ قانون میں واضح لکھی گئی ہے مگر یہاں مذہبی اور لبرل ازم کا جھگڑا شروع کر دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت خطرات کی زد میں ہے۔ وہ اس سماج سے ایک انسان کے ناتے جینے کا حق چاہتی ہے۔ مینار پاکستان میں عائشہ اکرام پر تشدد کرنے والے 400 افراد تھے۔ مطلب ہمارے معاشرے کا 40 فیصد حصہ، اس سے اندازہ لگائیں سماج کس طرف جا رہا ہے۔

اس واقعہ کا سب سے خطرناک پہلو اجتماعی وحشت ہے، ایک ہیجان جو ایک ہجوم پر طاری ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اس جنونیت اور حیوانیت کی وجوہات کیا ہیں۔ آخر وہ کون سے پہلو ہیں جن سے فرد کی تربیت میں کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ وہ کون سے افعال اور تقاضے ہیں جن کو اخلاق و مذہب، شرم و حیا اور مشرقیت کے قالین کے نیچے دبایا جا رہا ہے، اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے آخر ہم کب تک یہ سوچتے رہیں گے کہ عورت کو درپیش مسائل پر بات کرنے سے ہمارے سماج کا نظام اقدار کیوں خطرے میں پڑتا ہے، عورت کے ساتھ ہی ظلم اور اسے ہی مجرم ٹھہرایا جائے، یہ روایت کب بدلے گی، سماج کے اسی رویے کی وجہ سے جرائم کرنے والے سزا سے بچ جاتے ہیں جب تک عورت کے ساتھ ہونے والے ایسے واقعات کو جرم نہیں مانا جائے گا، بہتری کی صورت نہیں نکلے گی۔ دوسری قانون کی بالادستی قائم کرنا اور سزا کا خوف ان واقعات کی روک تھام کی وجہ بنے گا اور اس کے ساتھ ساتھ تربیت ہے جس کا فقدان ہماری نئی نسل میں نظر آ رہا ہے۔ آج کی نسل خودرو ہے جو کبھی ایک تہذیب سے متاثر ہو رہی ہے تو کبھی دوسری سے، انٹرنیٹ کی صورت میں غیر ضروری معلومات نے اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے تھی وہاں پر ایک ہجوم عائشہ پر تشدد میں مصروف تھا اور دوسرا ہجوم صرف ویڈیوز بنانے اور تماشا دیکھنے میں مشغول تھا، کسی نے بھی آگے بڑھ کر روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ یہ تربیت میں شامل نہیں ہے کہ اپنے سامنے ہونے والی زیادتی کو روکنا ہے اور پھر اس کے بعد سوال اٹھتا ہے وہاں کے سکیورٹی گارڈز اور انفورسمنٹ کے اداروں پر، جہاں اڑھائی گھنٹے تماشا چلتا رہا مگر نہ پولیس پہنچی اور نہ ہی کوئی دوسری فورس، قانون مکمل طور پر ناکام اور لاتعلق نظر آیا۔ کیا صرف یہ کہہ کر عورت کو ہجوم میں نہیں آنا چاہیے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، یقیناً نہیں۔ ہمیں قانون کی بالادستی اور سماجی رویوں کو سدھارنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ سماج کل یہی کچھ ہماری بیٹیوں کے ساتھ بھی کرے گا۔

Facebook Comments HS