سلگتا ہوا بلوچستان!

ہفتہ رفتہ میں بلوچستان کے سماجی ماحول قبائلی مفاہمت۔ سیاسی فضا اور پرامن زندگی کو مشتعل و متغیر کرنے والے تین واقعات یا سانحے رونما ہوئے ہیں جن پر تفصیلی یا اشارتاً بات کرنا ناگزیر ہے۔

نوجوان محراب پندرانی پر تشدد اور قتل کا واقعہ انتہائی سنگین قانونی جرم ہے اس میں ملوث فرد یا افراد کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے مگر اصولاً اس کے کہ محراب پندرانی کے قتل کی بروقت ایف آئی آر درج ہو جانی چاہیے تھی مگر برعکس اس کے سیاسی سماجی حلقوں کو ایف آئی آر کے اندراج کے لئے احتجاجاً سڑکوں پر آنا پڑا۔ اس احتجاج میں علاقہ کے افراد بلا امتیاز قبائلی وابستگی محض نا انصافی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شامل ہونے تھے۔

ایف آئی آر درج ہوئی تب بھی ملزمان کے خلاف کارروائی میں عملی پیشرفت دیکھنے میں نہ آئی چنانچہ عوامی احتجاج میں دوبارہ ابھار آیا تو پولیس حکام نے کوئٹہ میں واقع ایک بڑے بس ٹرمینل کو گھیرے میں لے کر اسے سیل کر دیا جس پر ٹرانسپورٹرز اتحاد کا احتجاج سامنے آیا۔ اصولاً پولیس کو مقدمے میں مطلوب افراد کا تعاقب کرنا چاہیے تھا بجائے ان کے کاروباری مرکز کو بند کرنے کے۔ اس عمل سے محرب پندرانی کے قتل کے سانحے کی نوعیت میں جوہری تبدیلی آئی کیونکہ ٹرانسپورٹرز اتحاد اور لہڑی قبائل یکجا ہو گئے دوسری طرف سدا بہار ٹرانسپورٹ کے ذریعے مختلف شہروں کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو بھی کوفت و دقت کا سامنا کرنا پڑا۔

محراب پندرانی چونکہ زہری قبیلہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان تھا۔ تو زہری قبیلہ کے سربراہ چیف آف جھالاوان کے لئے اس واقعہ سے لاتعلق رہنے کی گنجائش کم تھی جناب نواب ثناءاللہ زہری نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ دہراتے ہوئے سدا بہار ٹرمینل کوئٹہ کی زمینی ملکیت پر سوال اٹھا دیا جس کے ردعمل میں لہڑی قبائل کے معززین نے مشترکہ طور پر پولیس کے رویے پر غم و غصہ کا اظہار کیا نیز انہوں نے نواب ثناءاللہ زہری سے بھی گلے شکوے کیے اب صورتحال شاید یہ ہے کہ محراب پندرانی اور اس کے ساتھی کا قتل انفرادی واقعہ سے بڑھ کر دو قبائل کی رنجش میں بدل رہا ہے اور یہ پہلو ہر اس شخص کے لئے جو سرزمین بلوچستان کا سپوت اور صوبے میں بھائی چارے امن وامان اخوت انسان دوستی شانتی اور پیار و محبت کے ساتھ پرامن خوشگوار ذاتی و اجتماعی زندگی کا خواب دیکھنا ہے قطعی طور پر ناگوار تشویش کا حامل ہے کہ قبائل کی کشیدگی انسانی خون کی ارزانی ہے۔ اور بلوچستان دو دہائیوں سے لہولہان ہے بد امنی کے فوائد بلاشبہ دہشت کی معیشت سے وابستہ حلقے کو حاصل ہوتے ہیں امید کرتا ہوں کہ دونوں معزز قبیلے محراب کے قتل پر قانونی چارہ گوئی کے مشترکہ موقف و کردار اختیار کریں گے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران لورالائی میں قانون نافذ کرنے والے حکام کی کارروائی میں ملزمان کی ہلاکتیں ہوئیں۔ حکام کا دعوی ہے کہ اس کارروائی میں مارے گئے افراد کا تعلق ایک کالعدم مسلح تنظیم سے تھا مذکورہ چھ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی جیبوں سے پاکستانی اور افغانی کرنسی سمیت آتشی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا اور وہ پاکستان میں دہشت گردی کی واردات کا ارادہ رکھتے تھے حکام کی اس ”اطلاع“ پر معاشرے اور ذرائع ابلاغ میں گویا تسلی بخش اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

تاہم حکام کے اس دعویٰ سے کابل پر 15 اگست سے براجمان طالبان کی اس یقین دہانی پر سوالات پیدا ہو گئے انہوں نے پاکستان کی مقتدرہ کو یقین دلایا تھا کہ اب افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی وہاں سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد اور کارروائیاں ختم کرا دی جائیں گی۔ لیکن لورالائی کا واقعہ جیسا کہ بیان کیا جا رہا ان یقین دہانیوں کی عملاً نفی ہے پاکستانی حکام کو افغان طالبان کے ساتھ اس دراندازی کو لے کر بات کرنی چاہیے کیونکہ اگر ہمارے حکام کا دعویٰ درست ہے تو پھر افغان طالبان کی جانب سے دلائی گئی یقین دہانیاں محض ہوائی باتیں شمار ہوں گی ۔ اور اگر طالبان کی یقین دھانی محکم ہے تو سماجی سطح پر سوالات کا اٹھنا بعید از قیاس نہیں۔

اس واقعے کے اگلے روز زیارت کے قریب مانگی ڈیم پر لیویز فورس کی گاڑی پر بم دھماکہ ہوا اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی جس سے چھ لیویز اہلکار جاں بحق ہو گئے ایک کالعدم مسلح تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے لورالائی واقعہ کا رد عمل یا بدلا قرار دیا۔ لورالائی سنجاوی زیارت متصل علاقے ہیں جہاں پشتون قبائل آباد ہیں جبکہ ان اضلاع کے عقبی پہاڑی راستوں سے بلوچ سرمچاروں کی آمدورفت رہتی ہے علاقے میں ان کی آمدورفت یا محدود معنوں میں موجودگی ایک حقیقت ہے۔ جبکہ یہ واقعہ بجائے خود سیکورٹی اداروں کے دعوؤں کے برعکس کہانی ہے۔ جن میں دہشت گردی پر بہت حد تک قابو پا لینے یا مسلح جتھوں کے خاتمے کے دعوے کیے جاتے ہیں اس نقطے پر آگے بات کروں گا

خیر زیارت مانگی ڈیم سانحے کے بعد مرحومین کے لواحقین نے احتجاج کیا شاہراہ بند کی لیکن حکومت نے توجہ دینے کی بجائے بڑی مہارت سے صرف نظر کا مظاہرہ کیا پھر مظاہرین جنہیں سیاسی، سماجی قبائلی اور انسانی حمایت حاصل ہے زیارت کراس پر آ گئے ان کے دھرنے کی سربراہی کاکڑ قبیلہ اور پشتونوں کے نواب محترم نواب ایاز خان جوگیزئی کر رہے ہیں۔ جنہوں نے تسلسل سے رونما ہونے والے بدامنی کے واقعات مگر ان کے تدارک کے لئے ان علاقوں میں تعینات فرنیٹرز کور کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے نواب صاحب کا کہنا تھا کہ اگر ایف سی کی بجائے مقامی لیویز فورس کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے تو وہ علاقے میں موثر طور پر ہر مقیم فرد اور مسافر کی جان و مال کے تحفظ کے فرائض بہ احسن انجام دے سکتی ہے لیویز مضبوط ہو تو ایف سی کو سالانہ ادا کیے جانے والے مالی مسائل بچ سکتے ہیں جنہیں حکومت بلوچستان دیگر شعبوں اور امن عامہ کی بحالی کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی برادرم نصر اللہ زیرے کے مطابق ان علاقوں سے نکلنے والے کوئلہ پر حکومت بلوچستان 150 روپے فی ٹن ٹیکس وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرتی ہے جبکہ علاقہ میں تعینات ایف سی حفاظت کے نام پر فی ٹن 500 روپے الگ سے وصول کرتی ہے جسے انہوں نے سرکاری ٹیکس کی بجائے بھتہ قرار دیا۔

لواحقین نے اپنے مطالبات پر غور کے لئے بلوچستان کو حکومت کو 2 دن کی مہلت دی ہے جس کے بعد احتجاج کی کمیت و کیفیت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ تمام شاہراہوں کی بندش شٹر ڈاؤن جیسے اقدامات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کیا موجودہ صوبائی حکومت ان لواحقین اور مظاہرین کے مطالبات کو نظر انداز کر کے حالات پر اپنی دسترس کا مظاہرہ کر سکے گی؟ اور کیا اس کے لئے قبائل کے مطالبات قبول کرنا ممکن ہوگا؟ کیونکہ اس کا تمام انحصار مرکزی مقتدرہ کے ذہنی میلان پر منحصر ہوگا۔ میں دہراتا ہوں کہ۔ تاریخ گواہ ہے اب تک بلوچستان کے سوالات کو آتش و آہن کے ذریعے حل کرنے کی ہر کوشش مزید بدامنی لائی ہے۔ آئندہ بھی ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ بلوچستان کے سبھی مسائل جو عوام اور مملکت کے بیچ کشیدگی کے طویل سلسلہ میں ڈھل چکے ہیں وہ سراسر سیاسی و آئینی بالادستی سے متعلق ہیں، انہیں سیاسی تدبر بصیرت دور اندیشی اور ملک کی سلامتی کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کشادہ قلبی اور کھلے ذہین کے ساتھ سیاسی گفتگو کے ذریعے۔

اگر اسلام آباد اب افغانستان کے مسائل کے حل کی کلید مذاکرات کو قرار دیتا ہے اور فوجی حل کو مفید المعنی نہیں سمجھتا تو پھر اپنے گھر آنگن میں اس صائب رائے پر عمل سے گریز کیوں؟

افغانستان بد قسمتی سے سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے دو روز قبل کابل ائر پورٹ پر دھماکہ اور حملہ آنکھیں کھولنے کے لئے بہت مواد مہیا کرتا ہے امریکی حکام نے اسے داعش کی کارروائی قرار دیا ہے جبکہ یہ دلخراش واقعہ دراصل خطے میں سرایت شدہ شدت پسندی کے نیٹ ورک کا ہی مظہر ہے آنے والے دنوں میں افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کے ممکنات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں داخلی سلامتی امن اور سیاسی اتفاق رائے مضبوط اور وسیع بنیادوں پر موجود ہو۔

ملک پر صاحب بصیرت و مدبر افراد فیصلہ سازی و حاکمیت کے حامل ہوں جن کو عوام کی وسیع پرتوں کی غیر متزلزل جمہوری حمایت حاصل ہو، اس کے علاوہ سبھی راستے عدم استحکام و بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔ سنبھلیے قبل اس کے کہ یو این او دہشتگردی کے تدارک کے لئے ایسی نئی قرار داد منظور کر لے جو ہماری لیے مصائب لانے والی ہو۔ اقوام متحدہ میں پاکستان پہلے ہی ندامت کے دو مواقع دیکھ چکا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب کو مدعو نہیں کیا گیا یا پھر بولنے کی اجازت نہیں ملی۔ ایسا کیونکر اور کس طرح ممکن ہو رہا ہے یہ سنجیدہ مباحثے کو سوالات ہیں۔

حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کے حساس علاقوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں آئینی کردار ادا کرنے کے لیے ملک کے سیاسی حاشیے سے نکال کر باعزت و باوقار مقام دیا جائے بصورت دیگر بلوچستان سلگتا رہے گا۔

لورالائی میں مارنے جانے والے افراد کی بابت عوامی حلقوں کی گفتگو کو تو جانے دیں جن کا خیال ہے کہ ہلاک شدگان تو لاپتہ افراد تھے۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words