محنت کش کا دشمن محنت کش: افسوسناک رویہ

کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں گزشتہ دنوں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 17 مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آتشزدگی کے واقعے کے ساتھ ہی متاثرہ فیکٹری کے حوالے سے جو قانونی انکشافات سامنے آئے، وہ کسی بھی باشعور معاشرے کے لئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام رکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں اس سے قبل اسی نوعیت کے ایک سانحے میں 300 مزدور ظلم و الم کی اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ تاہم نو سال گزرنے کے بعد بھی کسی ملزم کو مجرم ثابت نہ کیا جا سکا، بلکہ اب تو جن لوگوں پر الزامات لگے تھے وہ تمام کے تمام باعزت بری ہوچکے ہیں۔ جہاں 300 مزدوروں کی موت بھی احساس کا عنصر پیدا کرنے سے عاری ہو۔ وہاں یہ 17 لاشیں کیا کریں گی؟

یہی وجہ ہے کہ ہم زیر نظر کالم میں ان قانونی معاملات کا ذکر نہیں کر رہے، جن کی فیکٹری میں خلاف ورزی کی گئی۔ ہم ان مسائل کا ذکر بھی نہیں کر رہے جو بالادست طبقے کی جانب سے محنت کشوں کو درپیش ہے۔ بلکہ ہم ایک ایسے مسئلے کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہ رہے ہیں۔ جس کا تعلق اسی طبقے سے ہے جو پسا ہوا اور مظلوم طبقہ ہے۔ جہاں مزدور کو مزدور سے خطرہ درپیش ہے۔ ہم غلامی کی انتہا پر پہنچے اس ضمیر کی بات کر رہے ہیں، جو درجنوں افراد کو شعلوں میں گھرا دیکھ کر بھی نہیں جاگتا۔

ہم چند ٹکوں کے عوض مالکان کے وفادار ان کرداروں کی بات کر رہے ہیں، جو معمولی سی نوکری کی خاطر اپنے ہی ہم جنسوں، اپنے ہی ہم طبقہ افراد کی بے رحمانہ موت کا رقص بڑی خاموشی سے دیکھتے ہیں اور مالکان کی نظر میں خود کو وفادار سے بڑھ کر غلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اخلاقیات کی تمام حدوں سے گرے ہوئے بدبودار اور گلے سڑے نظام کے پروردہ معاشرے میں جنم لینے والے ان محنت کشوں سے شکوہ کر رہے ہیں، جو چند ٹکوں کی نوکری کو انسانی جان کی قیمت سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا یہ رجحان کیسے پیدا ہوتا ہے؟ لیکن فی الوقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اس پر بات پھر کبھی سہی۔

جی ہاں ؛ آپ درست سمجھے ہمارا موضوع قومی سانحات میں معاشرے کے پست ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے چوکیداروں کا پست ترین کردار ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے پوش علاقے کی امیر کبیر فیملی میں ہوئے نور مقدم قتل کیس میں بھی چوکیدار نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کا ہی ایک تسلسل گزشتہ روز کورنگی کی فیکٹری کے سانحے میں بھی سامنے آیا۔

کورنگی کی فیکٹری میں جاں بحق ہونے والے 17 مزدوروں کے لواحقین کی جانب سے یہ بیانات ریکارڈ پر آچکے ہیں کہ جس وقت فیکٹری میں آگ بھڑکی تو موقع پر موجود لوگوں نے فیکٹری کے چوکیدار سے تالا کھولنے کا مطالبہ کیا، کچھ لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید چوکیدار آگ کے خطرے کے پیش نظر دروازے کے قریب جانے سے ڈر رہا ہے۔ یہ پیشکش بھی کی کہ چابی ان کے حوالے کردی جائے، وہ خود جاکر دروازے کو کھول لیں گے۔ تاہم چوکیدار نے نہ تو خود دروازہ کھولا اور نہ ہی کسی کو چابی دی کہ وہ جاکر دروازہ کھول دے۔

عینی شاہدین، جن میں سانحہ میں جاں بحق کاشف کی والدہ بھی شامل ہے کا کہنا ہے کہ جس وقت ہم جائے حادثہ پر پہنچے اس وقت 5 سے 6 مزدور کھڑکی پر کھڑے، جن میں کاشف بھی شامل تھا، دروازہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہم چوکیدار سے چابی مانگتے رہے، لیکن چوکیدار نے یہ کہتے ہوئے چابی دینے سے انکار کر دیا کہ ”مالکان کا حکم ہے کہ دروازہ نہ کھولا جائے، دروازہ کھولنے کی صورت میں لوگ سامان لوٹنا شروع کردیں گے“ ۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اگر بروقت دروازہ کھول دیا جاتا تو شاید اموات کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہوتی۔ لیکن چوکیدار کی ہٹ دھرمی، غلامانہ سوچ اور شاہ سے زیادہ شادہ کی وفاداری والی سوچ کی وجہ سے 17 مائیں اپنے لخت جگر کھو بیٹھیں۔

قارئین کرام، جب بات امیر اور غریب، حاکم اور محکوم، بالادست اور تنگ دست کی ہو تو بے حسی کے ایسے واقعات کا جنم لینا، اگر چہ سخت ناقابل قبول ہے لیکن ان کی وجوہات پھر بھی سمجھ آتی ہے کہ دولت کا نشہ انسان کو انسان کے مرتبے سے گرا کر فرعون کے مرتبے پر فائز کر دیتا ہے۔ لیکن ایک محنت کش کی جانب سے روا رکھے گئے ایسے رویہ کو کیا نام دیا جائے؟ اور اس کا سدباب کیسے ممکن ہو؟ یہ ایسا سوال ہے، جس کا حل ہونا لازم ہے۔

چلتے چلتے یاد آیا سانحہ بلدیہ میں بھی چوکیداروں کا رویہ کچھ ایسا ہی تھا، جن کا خمیازہ 300 جنازوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ملک کے چوکیداروں کا کردار بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ لاکھوں پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لیکن غموں کی کالی آندھی کا اختتام کسی صورت ہوتا نظر نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words