ڈاکٹر ساجد علی کے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری کی ”سفری زندگی“ :
سفر نامہ نگاری ایک سنجیدہ ادبی نصف ہے لیکن بدقسمتی سے اردو میں اسے ایک رومان پرور ماحول کی عکاسی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا۔ لیکن اس کے باوجود اردو میں ہمیں ابن انشا کی ”چلتے ہیں تو چین کو چلیے“ ، محمد خالد اختر کی یاترا اور ان کا ”نواں کوٹ سے ڈیپلو“ کا سفر جیسے چند عمدہ اور تخلیقی نمونے مل جاتے ہیں۔
سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ محض شوق آوارگی کی تسکین کے لیے کیے جاتے ہیں لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جو مجبوری کے عالم میں بسلسلہ ملازمت یا بیماری کیے جاتے ہیں اور ناگزیر ہوتے ہیں۔ بابو غلام محمد مظفر پوری کی کتاب ”سفری زندگی“ بھی کچھ ایسی ہی کہانی سناتی ہے۔ یہ کتاب ایک صدی پہلے کیے گئے ہندوستان کے مختلف علاقوں، برما، عراق، ایران اور مشرقی افریقہ کے ان کے مختلف اسفار کی روداد پر مشتمل ہے۔
بابو غلام محمد مظفر پوری کا تعلق برطانوی ہند کی تحصیل نکودر، ضلع جالندھر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ وہ 1912 میں اپنے گاؤں سے نکل کر اپنے ایک رشتہ دار، جو ایک اوور سینیئر تھا کے پاس سول انجینئرنگ کا کام سیکھنے کے لیے سینٹرل انڈیا، باندہ، ضلع کان پور گئے اور اس طرح اس دلچسپ سفری زندگی کا آغاز ہوا۔ وہ ذات کے آرائیں اور ایک طرح سے پکے مسلمان تھے لیکن ایک وسیع المشرب مسلمان۔ وہ انگریز کے زمانے کے ہندوستان کا چپا چپا گھومتے رہے لیکن انہوں نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ کبھی کسی بڑے شہر ( بمبئی، کلکتہ وغیرہ) کے بازار حسن کے پھیرے نہیں لگائے۔ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، قادیانیوں، مقامی اور افریقی عیسائیوں، انگریزوں، یونانیوں غرض بھانت بھانت کے لوگوں کے ساتھ مل جل کر اپنی پیشہ ورانہ زندگی گزارتے رہے۔
اپنی ابتدائی زندگی کا نہایت مختصر حال بتانے کے بعد بابو صاحب اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ باندہ، کانپور میں پانچ مہینے گزارنے کے بعد جب وہ چند روز گاؤں میں گزارنے کے لیے واپس آئے تو تھوڑے ہی عرصے بعد انہیں بمبئی پورٹ ٹرسٹ سے نوکری کی چٹھی آ گئی یوں ان کی نوکری کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ انہوں نے کبھی مستقل نوکری نہیں کی۔ وہ ہمیشہ نوکری کو ایک طرح کی غلامی سمجھتے رہے۔ انہوں نے زندگی بھر افسروں کی خوشامد کرنے کے بجائے محنت و مشقت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ زندگی کے کسی بھی موقعے پر وہ کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آئے، چاہے اس کے جو نتائج بھی بھگتنے پڑیں۔ ایسے کھرے اور سادہ مزاج کے تھے بابو غلام محمد مظفر پوری۔ اپنے حق کے لیے ہر طرح کی لڑائی لڑنے والے۔
ان کا زیادہ عرصہ ریلوے کنسٹرکشن میں گزرا۔ انگریز کے دور میں ہندوستان کے چپے چپے تک ریل کا نظام قائم کیا گیا۔ برما، عراق، ایران اور مشرقی افریقہ کے مختلف شہروں میں قیام کی وجہ یہی تھی۔ ہر بار کنسٹرکشن کا کام مکمل ہو جانے کے بعد بابو صاحب اپنے گاؤں لوٹ آتے اور وہاں سے مخلتف جگہوں پر چٹھیاں بھیجتے رہتے اور جواباً آنے والی ایک چٹھی ان کے ایک نئے سفر کا در وا کر دیتی اور وہ اس کے دوش پر سوار ایک نئے سفر کے لیے نکل پڑتے۔ یہ سلسلہ تقسیم ہندسے کچھ عرصہ پہلے تک چلتا رہا۔
ایران میں قیام کے دور ان وہ رضا شاہ پہلوی سے زبردست متاثر ہوئے۔ انہوں نے اس کے اقتدار میں آنے کی پوری کہانی ایک ولولے کے ساتھ تحریر کی ہے لیکن اس کے بعد جب خمینی نے رضا شاہ پہلو کو جلاوطن کیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے بابو غلام محمد مظفر پوری اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔
اس ”سفری زندگی“ کا انداز بیان سیدھا، کھرا اور مختصر ہے۔ وہ بلا کے اختصار پسند ہیں اور بڑے سے بڑے واقعے کو مختصراً بڑی خوبی سے اس طرح بیان کر دیتے ہیں کہ دلچسپی بھی زائل نہیں ہوتی۔ لیکن اپنے قارئین کو بار بار ناظرین کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ اس کتاب کے ایڈیٹر کو یہ ناظرین حذف کر کے قارئین لکھ دینا چاہیے تھا۔ کیوں کہ بہر حال یہ ایک بیانیہ انداز میں لکھی گئی کتاب ہی ہے۔ یہ ”سفری زندگی“ جو سراسر حقیقی واقعات پر مبنی ہے، اس کے باوجود کسی ناول کا اثر رکھتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سب لوگوں کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے۔
”سفری زندگی“ از غلام محمد مظفر پوری
قیمت چھ سو روپے، عکس پبلشرز، لاہور۔


