“سید کاشف رضا کی شاعری کا تیسرا پڑاؤ: ”گلِ دوگانہ

شاعری کے ساتھ سید کاشف رضا کا تعلق تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے اور اس تعلق کی نوعیت نے نہ صرف انتہائی سنجیدہ ہے بلکہ پیچیدگی اور گہرائی کی حامل بھی ہے۔ شاعری اس کے لیے محض لفظوں کے انبار، کھوکھلی نرگسیت کے اظہار اور داخلی جذبات و احساسات کی بھرمار نہیں ہے بلکہ ایک منفرد اسلوب ِ حیات ہے۔ اسی لیے وہ قلم سے قرطاس پر محض مصرعے سیدھے نہیں کرتا بلکہ شاعری کے ساتھ ایک

Read more

صدیق عالم کا تازہ ناول ”مرگِ دوام“۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اجمل کمال نے اپنے جریدے سہ ماہی ”آج“ میں مکمل ناول شایع کیا بلکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا کرچکے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے انہوں نے صدیق عالم کے تازہ ناول ”مرگِ دوام“ کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے آخر میں ایک جملہ لکھا جس کا مفہوم یہ بنتا تھا : ”میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی موت سے پہلے یہ ناول

Read more

محمود الحسن کی کتاب: ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“

کسی عبقری پر لکھنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اردو میں سب سے مقبول طریقہ خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کا رہا ہے۔ خاکہ نگاری میں نہ چاہتے ہوئے بھی لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا پرتو در آتا ہے جب کہ سوانح نگاری اکثر اسپاٹ اور پھیکے بیانیے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان چیزوں سے بچنے کے لیے محمودالحسن نے جو طریقہ اختیار کیا وہ محنت اور دقت طلب ہونے کے باوجود شان دار محسوس ہوتا

Read more

تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکی کی کہانی: دخترِ رومی

انعام ندیم ایک عمدہ شاعر، مرتب اور مضمون نگار تو ہیں ہی لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ ایک مستند مترجم کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ کردہ ناول ”دوزخ نامہ“ سن دو ہزار میں چھپا اور مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور ترجمے سامنے آئے، جن میں ”بھیشم ساہنی کی کہانیاں“ ، ربی سنکر بال کا مولانا روم پر لکھا ناول ”آئنہ سی زندگی“ اور حال ہی میں برطانوی مستشرق مینوئل موفروئے

Read more

اردو فکشن اور ڈراموں میں کارو کاری کے چند حوالے

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ”خاندان کے مردوں کے ہاتھوں لڑکی یا عورت کے قتل کو اکثر اوقات عزت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ مارنے والے اپنے عمل کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ مرنے والی نے ان کے خاندان کے نام اور ناموس پر بٹا لگایا ہے۔ پدر سری معاشروں میں، لڑکیوں اور خواتین کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ عورتوں کے کنوارے پن اور جنسی پاکیزگی کو برقرار رکھنا مرد رشتہ داروں۔

Read more

مدفن کی تلاش: ظہیر عباس کے افسانوں میں حیرت اور تخیل کا آمیزہ

مجھے جب یہ اطلاع ملی کہ محمد عباس اور ظہیر عباس اپنی دیرینہ دوستی کے باعث اپنے افسانوں کی کتابیں ساتھ لے کر آرہے ہیں تو مجھے ظہیر عباس کے متعلق تشویش لاحق ہو گئی۔ تب تک میں نے آج کے کسی شمارے میں اس کے ایک دو افسانے ہی پڑھے تھے، جو میرے ذہن پر کوئی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے برعکس میں محمد عباس کے کئی افسانے پڑھ کر اس کے فن کا گھائل ہو

Read more

بڑی حویلی کی بیبیاں: تاب ناک کہانیاں

ایک سال پہلے جب انعام ندیم نے اطلاع دی کہ وہ ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کا انتخاب کر رہے ہیں تو حیرت کے ساتھ ایک تجسس بھی ہوا، کیوں کہ کئی سال پہلے اجمل کمال کا کیا ہوا ان کے افسانوں کا ایک انتخاب ”پارسا بی بی کا بگھار“ کے عنوان سے چھپ چکا تھا۔ اس کی اشاعت سے بھی پہلے ذکیہ مشہدی کی کہانیاں آج میں چھپ کر اردو افسانے کے پرستاروں کو چونکانے کے ساتھ اپنا گرویدہ کر

Read more

عرفان جاوید کی خاکہ نگاری

خاکہ نگاری ایک دل چسپ لیکن مشکل فن ہے۔ اس کے لیے لکھنے والے میں مہارتِ تامہ کا ہونا ضروری ہے۔یہ سوانح نگاری کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے الگ ہے کیوں کہ خاکہ نگار کسی انسان یا اس کی شخصیت کو جانب داری سےقارئین کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات وخیالات اور ان کے اخذ و قبول کا ایک آئینہ پیش کرتا ہے۔خاکہ نگاری کو جو بات اہم اور

Read more

عمران خان: عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

ایک اعتراف کرنا ہے کہ میں 2013 تک عمران خان اور اس کی جماعت کا گرویدہ تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، سول بیور و کریسی اور فیوڈلز کی بیساکھیوں کے بغیر پاکستانی سیاست میں انقلاب لائے گا۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے زیر سایہ پنپنے والی نام نہاد پاکستانی جمہوریت کو صحیح معنوں کو عوامی لباس پہنا کر ایک عوامی نظام لائے گا۔ مشرف نے اپنے دور میں اسے وزیر اعظم بننے کی پیش کش

Read more

اخلاق احمد کے افسانوں کی پانچویں کتاب”جانے پہچانے”

اخلاق احمد کا شمار اسی کی دہائی میں منظر عام پر آنے والے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ یہ کم وبیش وہی زمانہ ہے جب کہانی کی واپسی کی ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والوں نے جہاں جدیدیت کی تحریک کے زیر اثر افسانے میں در آنے والی علامیت، تجریدیت اور خالص داخلیت سے گریز کا رویہ اپنایا، وہیں پر انہوں نے اپنے زمانے کے نقادوں کے خلاف بغاوت بھی کی کیوں کہ اس دور کے

Read more

ڈاکٹر ساجد علی کے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری کی ”سفری زندگی“ :

سفر نامہ نگاری ایک سنجیدہ ادبی نصف ہے لیکن بدقسمتی سے اردو میں اسے ایک رومان پرور ماحول کی عکاسی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا۔ لیکن اس کے باوجود اردو میں ہمیں ابن انشا کی ”چلتے ہیں تو چین کو چلیے“ ، محمد خالد اختر کی یاترا اور ان کا ”نواں کوٹ سے ڈیپلو“ کا سفر جیسے چند عمدہ اور تخلیقی نمونے مل جاتے ہیں۔ سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ محض شوق آوارگی

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

ناول” خوشبو کی ہجرت” کے بارے میں

بظاہر ایک ناول کا مطالعہ نامعلوم سے معلوم کے سفر جیسا ہے۔ یعنی مطالعے سے پہلے وہ ہمارے لیے ایک نامعلوم جزیرے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہم اسے پڑھنا شروع کرتے ہیں، نامعلوم ہمارے لیے دھیرے دھیرےمعلوم میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور مزید کچھ وقت گزرنے کے بعد ہم اس معلوم کے اس درجہ عادی ہوتے چلے جاتے ہیں کہ ہم یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ ناول کے صفحات پرلفظوں کی قطاروں کے پیچھے حرکت کرتا

Read more

مرزا اطہر بیگ کے ناول "غلام باغ” کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے، شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔ اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت

Read more

آصف صاحب – کچھ یادیں کچھ ملاقاتیں

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہوچکا ہے۔

انیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کے مطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اور چند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

Read more

بھید بھرے انسانوں کے بھید کھولتا ہوا عاصم بٹ کا ناول

عاصم بٹ کے نئے ناول ’’بھید‘‘ کے مطالعے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو ناول رواں صدی میں سرعت کے ساتھ فکشن کی نئی منزلوں کا سراغ پانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ نئی منزلیں ایسی ہیں، جن سے اردو ناول پچھلی صدی کے دوران یکسر نابلد نہیں تو کم از کم ناآشنا ضرور رہا ہے۔ پچھلی صدی کے اردو ناول میں ہیئت یا فارم کو وہ اہمیت بالکل نہ دی گئی جو اس نئی صدی میں منظرِ

Read more

زمین سے بچھڑتی ہوئی دو نسلوں کی کہانی

وہ چھوٹا سا گاؤں، جس کا نام سُکا یعنی سوکھا ہے اور جو میاں والی سے تلہ گنگ جانے والے راستے پر واقع ہے۔ وہ چھوٹا ساگاؤں بہت پہلے سر کولن کیمپ بیل کے نام پر رکھے جانے والےشمالی پنجاب کے ضلع کیمپ بیل پور کی حدود میں آتا تھا، جسے مقامی لوگ اپنی سادہ لوحی کے سبب ضلع کیمل پور کہتے تھے۔ بعد میں اس ضلعے کا نام اٹک رکھ دیا گیا۔ عرصہ دراز تک وہ گاؤں اسی ضلعے

Read more