مینار پاکستان اور موجودہ نفسیاتی کیفیت

یہ ایک پوش علاقے کا کمیونٹی سنٹر ہے جہاں آج کچھ رہائشی بیٹھے ہیں۔ اور اس گروپ میں اتفاقاً سبھی ڈاکٹر ہیں۔ ہاں البتہ ڈاکٹری کی نوعیت مختلف ہے۔ کوئی انسانوں کا ڈاکٹر ہے تو کوئی جانوروں کا اور کچھ انسانی علوم کے (پی۔ ایچ۔ ڈی) ۔ نشست میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں۔ اور بے تکلفانہ مگر با ادب گفتگو ہو رہی ہے۔ تمام شرکا معاشرے کے مہذب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

حال احوال اور رسمی سوالات کے بعد ان میں سے ایک خاتون کہتی ہیں کہ جناب مینار پاکستان والے واقعے نے مجھے شدید ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔ میں نے کبھی ایسا غیر محفوظ محسوس نہیں کیا گھر سے باہر نکلتے جیسا اب کرتی ہوں۔ میں تو خود کو بہت بہادر سمجھتی تھی لیکن اب تو ہر آن دھڑکا لگا رہتا ہے۔ ساتھ ہی دوسری نشست پر موجود صاحب کی طرف نگاہیں کرتی بولتی ہیں کہ آپ دونوں میاں ہائلی کوالیفائیڈ ہیں اور بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ آپ دونوں کو باہر شفٹ ہو جانا چاہیے۔ یہاں رہنا محفوظ نہیں۔ خاص طور پر خواتین کے لئے۔ خیال رہے کہ مذکورہ خاتون ایک نامی گرامی گورنمنٹ جامعہ کی پروفیسر ہیں۔ چار افراد کے گھر کی کفیل ہیں جس میں کوئی مرد نہیں۔ والد صاحب دار فانی سے چار سال پہلے کوچ کر گئے اور بھائی مولا کی رضا سے نہیں تھا۔ باپ کی وفات کے بعد وہ اپنی بیوہ ماں، ایک بہن، ان کی جواں ہوتی بیٹی اور اپنے آپ کی ذمہ دار ہیں۔ یہ فرائض بائے چوائس نہیں بلکہ قدرت کی طرف سے ان کو ملے اور انھوں نے خوش اسلوبی سے ادا کرنے شروع کر دیے۔ ملازمت کے علاوہ گھر سے باہر کے سارے کام مثلاً سودا سلف، خوشی غمی، لانا لے جانا، ملنا ملانا سب ان کا محتاج ہے۔ اپنے گھر کو چلانے اور دوسروں کا منہ دیکھنے کی بجائے انھوں نے خود کو کھڑا کیا ہے اور اپنے سارے اندیشے اپنے اندر ہی دبانے اور چھپانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

وہ ڈاکٹر میاں، بیوی جن سے پروفیسر صاحبہ امیگریشن کا کہہ رہی ہیں، مختصر وقفے کے بعد ان سے باری باری یوں مخاطب ہوتے ہیں :

بیوی: آپ کے خدشے بجا ہیں اور ہم اب سنجیدگی کے ساتھ موو کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ میرے جیسی حساس عورت کے لیے ان حالات میں یہاں سروائیو کرنا کافی دشوار ہے یا پھر وقت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی ہو جاؤں گی۔

شوہر: ڈاکٹر صاحبہ! ایک پیغام جو مجھے اس واقعے نے بہت شدت سے ایک شہری ہونے کے ناتے دیا ہے وہ یہ کہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہوتا رہے، لوگ تماش بین ہیں۔ آپ کو بچانے اور ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں۔ بے حسی عروج پر ہے۔ میں جو کہتا تھا کہ میرے پاس اپنے ملک میں با عزت روزگار، خوشحال زندگی، رشتے، محبتیں اور دین پر عمل کرنے کی آزادی ہے تو میں بلاوجہ دیار غیر کیوں جاؤں؟ ہر ایسا موقع میں خود کراس کرتا رہا۔ آج تک دل میں ایسا خیال نہیں آیا لیکن اب میری سوچ بدل رہی ہے۔ میں جو اپنی بہنوں اور بیوی کو مثبت خود مختاری اور جائز آزادی کا حامی ہوں۔ میرا دل اس طرح اور خاص طور پر اس حادثے نے وسوسوں سے بھر دیا ہے۔ ساری خوش فہمیاں اور یقین میرا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ احساس بڑا تکلیف دہ ہے کہ ہماری خواتین، بچے اور ہم بہ حیثیت شہری یہاں غیر محفوظ ہیں۔

سبھی افراد بھاری کیفیتوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں اور کہیں دور سے کسی جانور کے رونے کی آواز آ رہی ہے ( یہ رہائشی علاقہ گھنے باغوں کے درمیان ہے ) ۔ اتنے میں ایک ممبر کسی اور ڈاکٹر خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خیریت ہے؟ آپ آج سارا وقت خاموش ہی رہیں۔ آپ کچھ کہنا چاہیں گی؟

وہ امریکہ پلٹ، چار بچیوں کی ماں ہیں۔ اپنے پورے خاندان سمیت اس دیس میں زندگی کے کئی سال گزار کر دو سال قبل یہاں واپس آئی ہیں۔ کہتی ہیں۔ کیا بولوں؟ میری بڑی بیٹی کا دوسرے شہر میں ٹاپ آف دی لسٹ یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا ہے اور تب سے میں بہت پریشان ہوں۔ اس پر سب ان کو حیرانی سے دیکھتے ہیں۔ مبارک سلامت کی آوازیں آنے لگی اور ان سب میں سے کسی نے کہا کہ آپ کو تو پھر خوش ہونا چاہیے۔ یہ اداسی کیسی؟ پریشان کیسے نہ ہوں؟

مینار پاکستان والے واقعے نے ہلا کے رکھ دیا ہے۔ سیفٹی اور سیکورٹی کے مسائل نے کوئی خوشی، خوشی نہیں رہنے دی۔ کبھی دل کو طفل تسلیاں دیتی ہوں کہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ کرافٹڈ سانحہ تھا ورنہ حالات ایسے بھی خراب نہیں۔ ویسے جب ہم امریکہ میں رہتے تھے تو ساری بچیوں کو کراٹے کی تربیت دلوائی تھی۔ جس نے یونیورسٹی جانا ہے، وہ تو بلیک بیلٹ ہے۔ اب جانے سے پہلے تین دن کا سیلف ڈیفنس کا کریش کورس کروا رہی ہوں تاکہ اس کو ایسی کسی سچویشن کا سامنا کرنا پڑے تو وہ کچھ تو اپنا بچاؤ کر سکے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے تو نہیں بیٹھ سکتے۔

پھر کسی کو بھی مزید کچھ کہنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ہر بندہ اپنی جگہ یونہی بے یقینی، ہراس اور خوف کا شکار ہے جس کا سامنا اسے گھر سے باہر نکلنے والی ہر بیٹی، بہن، ماں اور بیوی کے ساتھ سہنا پڑ رہا ہے۔ گھر کا ایک مرد، ایک وقت میں کہاں کہاں، کس کس کے ساتھ اور کیسے جائے؟ اور جہاں کسی مرد کا ساتھ ہی نہ ہو تو وہ خواتین یہ نام نہاد سہارا کہاں سے لائیں؟ صحت مند معاشرے رنگ، نسل، ذات پات، جنس، امیری، غریبی اور عمر سے اوپر تحفظ اور عزت سب کے لئے یقینی بناتے ہیں۔ ورنہ آئے دن ہونے والے اصلی اور نقلی واقعات، شہرت کے جھوٹے پجاریوں اور حقیقی مجرموں کو کھلی آزادی دیں گے کہ وہ آپ کی خواتین اور شہریوں کا جسمانی، روحانی اور ایمانی قتل کرتے رہیں۔ ظلم کماتے رہیں اور کسی بھی آزاد و محفوظ جگہ پر رہنے کے یقینی تابوت میں بے یقینی، ڈر، عدم تحفظ کے کیل ٹھونکتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words