آموں کے بغیر ملتان

وہ چار دن بعد کام پر آیا تھا۔ پہلے دو دن موبائل بند رہا۔ تیسرے دن بات ہوئی تو بہت بجھا بجھا لگا۔ اتنا کہ آگے سے یہ بھی نہیں کہا جا سکا کہ پودے، گھاس، درخت سب پانی اور صفائی کو ترس رہے ہیں۔ بھاگ بھاگ کر کچھ کوشش تو کر رہی ہوں۔ لیکن باقی ذمہ داریوں کے ساتھ اتنے بڑے حصے کو پانی دینا بھی بمشکل ہو پاتا ہے۔ شدید گرمی صرف ایک دن کے لئے بھی غیر

Read more

عائشہ خان: مُردوں کو کچھ نہیں چاہیے

منجھی اور خود میں ایک ادارہ، عائشہ خان اس جہان سے رخصت ہو گئیں۔ فنی دنیا کا ایک اور نقصان۔ پہلے پہل یہ خبریں آئیں۔ کبھی سوشل میڈیا پر، سبھی ٹی وی چینلز پر پھر یہ تفصیلات کہ کس حالت میں مردہ پائی گئیں؟ کیسے معلوم ہوا؟ کتنے دن بعد پتہ چلا؟ کیسی بے خبری، کسمپرسی اور تنہائی میں وقت نزع آیا اور ان کی روح قبض کر کے لے گیا؟ کس کو سب سے پہلے خبر ہوئی؟ کس نے

Read more

اباجی اور ان کی زراعت سے محبت

شادی کے چار سالوں میں ایک شہر، دو گھر وہ بدل چکے تھے۔ وجہ نوکری تھی۔ وہ ابھی جوان تھے۔ پہلی پہلی نوکریوں کی محنت اگلی بہت بہتر مواقعوں کی صورت ان کے سامنے آ رہی تھیں۔ اس لئے وہ ’رسک اور مشقت‘ سے نہیں گھبراتے تھے۔ ایبٹ آباد سے اسلام آباد ان دنوں، دونوں ہی اب سے زیادہ خوشگوار تھے۔ تیسرا گھر اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی کی ایک پرانی لیکن اچھی رہائشی کالونی میں تھا۔ جس کے

Read more

انسانی جان اور ہمارے ادارے

گھر کی مددگار آج پھر کافی تاخیر سے آئی تھی۔ خاتون خانہ آج دفتر سے چھٹی پر تھی۔ ہاں تھوڑا بہت ضروری ساتھ ہو بھی رہا تھا کہ طبیعت کچھ نڈھال تھی۔ لیکن ملازمہ کا دیر سے آنا اسے آرام سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ خیر جب وہ آئی تو اس نے شکر ادا کیا۔ ابتدائی دعا، سلام کے بعد کہنے لگی۔ آج بہت پریشان ہوں۔ پھر گھر پر لڑائی ہوئی ہے۔ نہیں باجی۔ تو پھر پیسوں کی وجہ

Read more

کیا بھوک کے بت، ابراہیم علیہ السلام کے کعبے کے بتوں سے بھی بڑے ہیں؟

بھائی صاحب آپ دس قدم کی دوری پر آئے ہوتے ہیں۔ ہماری طرف لوگ ویسے ہی کم ہوتے ہیں۔ گاڑی بھیجتے ہیں لیکن آپ کبھی آتے ہی نہیں۔ مجلس اور درس میں آ جایا کریں۔ کیا آیا کروں؟ اتنے سال بعد آیا ہوں لیکن تم لوگوں کا تبرک چنے والوں چاولوں سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہماری طرف تو اب غریب سے غریب بھی چکن پلاؤ اور بریانی سے کم بات نہیں کرتا۔ اور خود میں تو روسٹ بانٹتا ہوں۔ اوپر

Read more

سفر حجاز: کیا تیاری ہو؟

خانہ کعبہ پہلی مرتبہ نظروں کے سامنے آئے تو یہ دعا مانگنی ہے۔ طواف کرتے ہوئے ان کلمات کا ورد اور ذکر کرنا ہے۔ سعی کی دوڑ کرنی ہے تو یہ گڑگڑا کر کہنا تو ہرگز نہیں بھولنا۔ روضہ رسول ﷺ پر حاضری ہو گی تو یہ التجا کرنا تو بالکل نہیں بھولنی۔ فلاں کا سلام، فلاں کی دعا تو لازمی پہنچانی ہے، اور ایسی کئی باتوں کی تیاری جو روح کو مطمئن کرنے کا سبب بنیں، سبھی حاجی اور

Read more

صورت کسی کی، عمرہ اماں کا

’توں اداس نہیں ہوندی، میں تاں بڑی اداس آں‘ (تو اداس نہیں ہوتی؟ میں تو بہت اداس ہوں ) ۔ فون بوتھ کے ایک طرف یہ آواز ابھرتی تو دوسری طرف خاموشی ہوتی۔ اظہار کرنے والی تو کہہ کر ہلکی ہو جاتی۔ اور جدھر خاموشی ہوتی ادھر یہ الفاظ دل پر لکھے جاتے۔ ان مٹ رہتے۔ ہفتے میں ایک مرتبہ جامعہ سے گھر بات ہونے پر وہ یہ یا اس سے ملتا جلتا جملہ سنتی۔ سو روپے کا کارڈ ڈالنے

Read more

کچن گارڈننگ: گھروں میں ٹھوس فضلے کا حل

پوش علاقوں میں بھی گزریں تو گھریلو کچرے کے شاپر گلیوں میں کتے، بلیوں کے ہاتھوں بھنبھوڑے نظر آتے ہیں یا پرندے ان میں سے کچھ نہ کچھ اپنی چونچوں میں پکڑے کھاتے، گراتے اڑ رہے ہوتے ہیں۔ جگہ جگہ بڑے بڑے عموماً کھلے منہ والے کوڑے دان بھی کوڑے کی بدبو، مچھروں اور مکھیوں کا پسندیدہ ترین مسکن ہوتے ہیں۔ بلیاں الگ ان کے اوپر جھول رہی ہوتی ہیں یا ان کے اندر دعوت عام منا رہی ہوتی ہیں۔

Read more

لڑکوں کو داماد بنتے ہی کیا ہو جاتا ہے؟

کھانا گرم کروا کے بھیجا تھا؟ کیا چارپائیوں کا انتظام نہیں ہو سکتا؟ نیچے فرشی نشست پر کیسے سوئیں گے؟ بستروں کی چادر اور تکیوں کے غلاف گرم موسم کے مطابق کرو اور لحاف نئے دو۔ فلاں بہن کے شوہر تو صرف کمبل لیتے ہیں۔ یار صبح ناشتے میں تازہ گھر کے پراٹھے اور دودھ پتی بنوانی ہیں۔ گیزر بھی نہیں ہے۔ انھیں ٹھنڈے پانی سے منہ، ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔ کم از کم کل نہانے کا پانی گرم

Read more

اپنا کمانے والیاں

دیکھ بیٹی! جو عورتیں خود کماتی ہیں۔ انھیں اپنے فیصلے کرنے کی کافی خود مختاری ہوتی ہے۔ اس لئے اپنا کما۔ یہ ڈائیلاگ ایک ڈرامے ’تن من نیل و نیل‘ میں سنا۔ دل پر لگا اور کئی خود کمانے والیاں پردہ یادداشت پر آ گئیں۔ اپنی ’زندگیوں‘ میں کتنا اختیار ان کے پاس ہے؟ آئیں ان میں سے کچھ کو آپ بھی دیکھ لیں۔ پہلی کمانے والی کی شادی کو تو اب بیس سال ہو گئے ہیں۔ اور اس سے

Read more

ہمارے سارے مسائل کا حل: ٹھڈے، ڈنڈے، چھٹیاں، جلاؤ گھیراؤ

رات کے نو بجے جب سارے دن کی تھکن اور بھاگ دوڑ ذہن تک آ جاتی ہے۔ سارا گھر اور اس کے افراد جلد از جلد اپنے آرام دہ اور ذاتی کمروں میں لیٹنے کو جانا چاہتے ہیں۔ اس گھر میں دو بچے اپنی والدہ کے ساتھ معمول سے زیادہ دیر تک کتابیں کھولے بیٹھے تھے کہ امتحانات کا آخری پرچہ وہ اپنی تمام ذمہ داری، سمجھ اور تیاری سے دینا چاہتے تھے۔ اچانک ماں نے موبائل اٹھایا تو کئی

Read more

ہماری دعائیں بھی ہماری طرح کاہل ہیں

کسی درس میں جائیں یا محفل میں، کسی مجلس کا حصہ بنیں یا گھر میں کسی دعا کا۔ جمعہ کا اجتماع ہو یا عیدین کا۔ جب بھی امام، مدرس، عالم یا عالمہ دعا کرواتے ہیں۔ تو بڑا عجیب محسوس ہوتا ہے یا وقت کے ساتھ ساتھ ہونے لگا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم عمومی طور پر بہت ہی سست ہیں۔ عمل سے عاری۔ جدوجہد سے دور۔ سب کچھ اللہ پر ڈال کر اپنے حصے کی محنت سے بھاگنے والے۔

Read more

ہمارے شہر، ہماری گلیاں

یورپ جائیں تو سبھی اشارے، دکانوں اور مکانوں کے سارے نام وہاں کی مقامی و قومی زبانوں میں، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ اتریں تو عربی کا راج نظر آتا ہے، ایران کی سیر کو نکلیں تو فارسی کا بول بالا لگتا ہے، انگلستان دیکھنے کا موقع ملے تو انگریزی کی بادشاہت، امریکہ کا دورہ کریں، تو وہی انگریزی لیکن امریکی طرز کی، جاپان میں صرف جاپانی میں ہی لکھا ملتا ہے، ‘جانا ہو تو چین کی طرف چلئے‘ اور

Read more

وہ آٹھ

آئیے آپ کو ان سے ملواتے ہیں جو آٹھ ہیں اور خاص ہیں۔ مختلف ہیں لیکن دوستی کے رشتے سے بندھی ہیں۔ اب بوجہ فاصلوں دور ہیں لیکن دل سے قریب ہیں۔ سالوں، مہینوں بعد بھی ملیں تو وہیں سی شروع ہوتی ہیں جہاں پچھلی مرتبہ سلسلہ ٹوٹا ہوتا ہے۔ کچھ مزاحیہ ہیں، باقی سنجیدہ۔ سات نے شادی کے لڈو کھا لئے ہیں اور ابھی تک پچھتا نہیں رہیں۔ جبکہ ایک کو اس لڈو کھانے میں دلچسپی نہیں۔ اس لئے

Read more

اگر کوئی سوئٹزرلینڈ سے پاکستان آ جائے؟

اس دن ہم دفتر سے نکلے۔ شام ابھی دور تھی۔ ہمارے دو مرد ساتھی بھی ساتھ تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ویسے تو موسم گرما تھا۔ لیکن لندن کی گرمی بھی آپ کو ہلکی جیکٹ ساتھ رکھنے کو مجبور کرتی ہے۔ نجانے کب آسمان برس جائے؟ کب دھوپ چمکنے لگے؟ اس لئے ساوتھ پول سے گئے باشندوں کو تو ٹھنڈ لگتی ہے اور ’نارتھ پول‘ والے بے دھڑک پھرتے ہیں۔ ان میں سے دو دنیا کے جنوب (پاکستان) اور

Read more

بھرواں ٹینڈے

گرمیاں ہوتیں تو وہ گیراج کے اختتام پر یا تو سامنے چھ فٹ چوڑی، تیس فٹ لمبی، بنا چھت کے اس گلی میں سوئی ملتی جو پچھلے حصے کے صحن، پھر دالان اور باورچی خانے تک جاتی تھی۔ یا گیراج کے الٹے ہاتھ والے صحن میں۔ لکڑی کی سوتی بنی چارپائی پر بغیر کسی بستر کے، پائینتی کی طرف ملتانی ٹھنڈا کھیس ڈالے۔ ابا کی آواز پر فجر کی نماز کے لئے اٹھتی، مندی آنکھوں سے نماز ادا کرتی اور

Read more

ساحل عدیم، خلیل الرحمان قمر یا معاشرتی زعم

مائیک پکڑے لڑکی کے دائیں طرف ایک اور لڑکی اور بائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا تھا۔ اوپر نیچے بنی حاضرین کی قطاروں میں وہ پہلی قطار تھی۔ سبھی شرکاء لڑکے، لڑکیاں جوانی کی حدوں کو چھوتے تھے۔ نام بتانے کے بعد اس کا کہنا تھا کہ آپ نے خواتین کو جاہل کہا۔ اس لئے آپ کو معافی مانگنی چاہیے۔ دو چار فقروں پر مشتمل اپنی بات میں اس نے یہ بات دو دفعہ دوہرائی۔ کیمرا اس وقت تک صرف حاضرین

Read more

باجی نصرت کا دوسرا نکاح

آج پھر باجی نصرت کا فشار خون بلند ہو گیا۔ آج پھر انھیں اسپتال ایمرجنسی لے جانا پڑا۔ آج پھر ان کے پانچ اور چھ سالہ بچوں نے ماں کو تڑپتے دیکھا۔ آج پھر ان کی رات ماں کے انتظار اور باپ کی یاد کے ساتھ گزری۔ آج پھر اس پچیس سالہ تمکنت نے گھر میں وہی پرانی بات کی۔ آج پھر اس کو آپا بلقیس سے ڈانٹ پھٹکار سننے کو ملی۔ آج پھر گھر کے مرد لاتعلق رہے اور

Read more

ریس کے گھوڑوں کو گدھا بنانے کی ضد

مجھے شادی نہیں کرنی۔ ایک دو سال میں اپنا کاروبار کرنا چاہتی ہوں۔ اس سلسلے میں مزید دو کورسز کرنے ہیں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ میں زندگی کا سفر شروع کرنے سے پہلے معاشی طور پر مستحکم ہوں۔ میں شادی کی مخالف نہیں لیکن مجھے بس کچھ وقت درکار ہے۔ وہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویٹ تھی۔ گھر کی بڑی اولاد تھی۔ والدین تعلیم کے شعبے سے ہی منسلک تھے اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی انویسمنٹ بچوں

Read more

اماں اور بغیر احرام کا حج

چائے کی پتی کا رنگ نکال (بلیک ٹی) کے آج ہی رکھ دینا۔ آج ہی؟ کیوں؟ ابھی تو دن پڑے ہیں۔ ہاں، آج رات ہی۔ کل صبح مہندی گھولوں گی اور پھر کل ہی مہندی لگاؤں گی (وہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں، ناخنوں، پیروں کے تلووں اور سر کے بالوں پر دیسی مہندی لگاتی تھیں)۔ پیچھے تو اب کوئی دن نہیں بچے۔ ابھی پورے چار دن پڑے ہیں۔ تو پھر؟ میرے پاس تو اگلے دنوں میں مصروفیت رہنی ہے۔ اس لئے

Read more

موسمی تبدیلیاں اور شجرکاری کے بارے ہماری سنجیدگی

2021 میں باون ہزار سیپلنگز گوجرانوالہ میں ایک منٹ سے کم وقت میں لگائے جانے کا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ 2018 سے 2023 کے دوران دس بلین پودے لگانے کی سونامی مہم کا آغاز ہر سال ہر گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکول میں شجر کاری کی سوشل میڈیا پر بھرمار گورنمنٹ اداروں کے افسران بالا کی پودے کو ہاتھ لگاتے، پودے کو زمین میں کھڑا کرتے پرنٹ میڈیا پر تصاویر غیر منافع بخش اداروں کی ’درخت لگاؤ، ماحول بچاؤ‘ واکس

Read more

خوف کا کھیل

میڈم! یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ کو یہ کرنے سے پہلے کسی سینیئر افسر سے مشورہ کر لینا چاہیے تھا۔ بڑی مشکل میں پھنس سکتی ہیں۔ کہتے کہتے حضرت میز کے دوسری طرف، سامنے کرسی پر براجمان ہو چکے تھے۔ اور خاتون افسر فائلیں دیکھتی، ان صاحب کی گل افشانیاں اور بے تکلفی ملاحظہ کر رہی تھی۔ اس کی سوالیہ نظروں کے جواب میں صاحب کہنے لگے۔ میڈم! جس فائل کو آپ نے آج دوبارہ کھول کر آرڈر لکھا

Read more

پاکستان میں ’الیکٹریکل اسکوٹرز‘ کا سونامی

الیکٹریکل اسکوٹر کو پہلی دفعہ دو ہزار دس میں کمبوڈیا میں دیکھا تھا۔ دیکھنے میں ’اسٹائلو‘ ، استعمال میں آسان، وزن میں ہلکی اور رنگوں میں رنگین۔ پچھلی طرف ایک چھوٹی سی ’ڈگی‘ جو سامان رکھنے کے لئے کارآمد۔ علاوہ ازیں پاؤں ٹکانے کو پائیدان۔ جس کی وجہ سے ٹانگوں اور پیروں میں تھکن نہیں اترتی۔ اور تین پہیوں کی بدولت توازن بھی بہتر ہے۔ اور اہم ترین یہ کہ بجلی یعنی بیٹری سے چلتی تھیں۔ شور تو کوئی ہے

Read more

پلاٹوں سے آگے زندہ شہر ڈیزائن کریں

دو ہزار چوبیس کی بہار، پھر بے موسمی بارشیں اور اب یک دم موسمی پارہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت کی سوئیاں اوپر چڑھنے سے پہلے مہنگائی اور بجلی کے نرخوں نے بھی صارفین کو سنجیدگی سے بہت کچھ سوچنے اور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ  بھی گزشتہ کئی برسوں میں شتر بے مہار کی طرح بڑھتی بجلی پٹرول، گیس، ایندھن اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں ہیں۔ سخت گرما پنکھے،

Read more

اوراق منتشر: پرانے لکھاری کی پہلی کتاب

صاحب کتاب کی تصنیفی صلاحیت سے رابطہ ایک ادبی گروپ میں ان کی شیئر کردہ کچھ تحریریں پڑھنے سے ہوا تھا۔ تب وہ مصنف کے درجے پر نہیں پہنچے تھے۔ جب یہ رتبہ ملا اور معلوم ہوا کہ جناب نے کتاب لکھی ہے تو سوچا تھا کہ ضرور خریدوں گی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن پھر ایک دن ایک ’گوگل فارم‘ کتاب خریدنے کے لئے سامنے آ گیا۔ جس نے مجھ جیسوں کے لئے آسانی پیدا کر دی۔ فوراً

Read more

کیا ہمارے گھر بچوں کے لئے محفوظ ہیں؟

جیسے ہی گھڑی کی سوئیاں پونے سات، سات پچپن پر آتی ہیں۔ مجھے نہیں جانا، نہیں جاؤں گا۔ نہ بھیجیں۔ نہیں جانا، گھر رہنا ہے کی آوازیں رونے کے شور کے ساتھ سنائی دینے لگتی ہیں۔ چیخیں تو اتنی کہ دل دہلاتی ہیں۔ بلکنا ایسا کہ روز مجھے رلاتا ہے۔ اور اس کے ردعمل میں ڈرامے نہ کرو، کوئی چھٹی نہیں ہے۔ ماروں گا۔ روز کا یہی حال ہے۔ کب سے کہہ رہی ہوں، تیار ہوتے ہیں لیکن کوئی اثر

Read more

اربن پلاننگ میں خواتین کا حصہ کہاں ہے؟

میں بہت تھک گئی ہوں۔ برا بننا نہیں چاہتی لیکن بسا اوقات تھکن، مایوسی، بیزاری اتنی ہو جاتی ہے کہ اچھائی ہاتھوں سے پھسلتی لگتی ہے۔ پکڑنا بھی چاہوں تو ہاتھ نہیں آتی۔ یقین جانو! بہت تکلیف میں ہوں۔ لگتا ہے پورا شہر، سارے خاندان والے، ارد گرد کا ماحول سبھی مخالف ہیں۔ میرا کچھ بھی نہیں۔ جو سہارا دے۔ آسانی بنے۔ اگر یہ امتحان ہے تو میں تو دینے کو تیار ہوں۔ آزمائش ہے تو مولا کی منشا میں

Read more

مونگرے اور اماں کی یاد

کرونا کی وبا جب عروج پر پہنچی اور لاک ڈاؤن پاکستان میں بھی اتنا سنجیدہ ہوا کہ گھروں کے مرکزی دروازے دنوں مقفل رہنے لگے۔ گھریلو ملازمین اور مددگاروں کی مہینوں چھٹی ہو گئی۔ اسکول اور دفاتر یا تو آن لائن ہو گئے یا غیر معینہ مدت کے لئے بند۔ تب لوگوں کو اگر تالے لگے دروازے ڈرتے ڈرتے، وہم زدہ سوچوں کے ساتھ کھولنے پڑتے تو صرف دوا دارو یا سبزی راشن کے لئے۔ اور اس کے ہاں تو

Read more

دیہی ترقی: اربنائزیشن کے مسائل کا ایک ممکنہ حل

اس کا نام کینڈی ہے۔ گورا چٹا، درمیانہ قد، تھوڑا فربہ، باہر کو ہلکی نکلی توند جو اس کی خوش خوراکی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خوش اخلاقی اور تواضع انگریز ہونے کے باوجود اس کی اضافی خوبی ہے۔ مجھے وہ لندن میں دفتری کاموں کے دوران ملا تھا۔ انگلستان کے دیہی علاقے سے اس کا تعلق ہے جو اس مہنگے شہر سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سمجھئے اپنے ملک میں ملتان سے ساہیوال یا لاہور

Read more

الیکشن 2024 اور شہروں کے لئے پارٹیوں کی انتخابی ترجیحات

تین سال پہلے برادر اسلامی ملک ایران جانے کا موقع ملا۔ بقر عید کے آٹھویں دن یعنی اٹھارہ ذوالحجہ کو پوری دنیا میں فقہ جعفریہ سے نسبت رکھنے والے لوگ ایک اور خوشی بھی مناتے ہیں جسے ’عید غدیر‘ کہا جاتا ہے۔ اپنے پہلے اور آخری حج سے واپسی پر خاتم النبیین محمد ﷺ نے مقام خم پر ایک خطبہ دیا جس میں اپنے چچازاد اور داماد امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ دن اہل تشیع

Read more

گرم روٹی اور نئی بہو

میں تو ٹھنڈی روٹی کھا ہی نہیں سکتی۔ نہ ہی میرے بچوں کو اس کی عادت ہے۔ تمہارے ماموں رات کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔ رات بارہ بجے کے بعد ہی گھر آتے ہیں۔ ہمیشہ اس پہر تازہ روٹی بنا کر دیتی ہوں۔ کبھی اگر میری صحت خراب ہو تو بچیوں میں سے کوئی ایک یہ ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ لیکن چپاتی ہاتھ کے ہاتھ توے سے اتار کر دیتے ہیں۔ ٹھنڈی روٹی بھی بھلا حلق سے نیچے اترتی ہے؟

Read more

لندن مہنگا ہے لیکن۔ ( 4 )

پاکستان میں ابھی بھی ستر فیصد سے زیادہ آبادی ’انڈین کموڈ اور لوٹے‘ کا استعمال کرتی ہے۔ ’انگلش کموڈ اور شاور‘ کئی وجوہات کی بنا پر اتنا مروجہ اور پسندیدہ طریقہ نہیں سمجھا جاتا۔ بالخصوص اس کے استعمال کے بعد بزرگ لوگوں کو تو لگتا ہے کہ وہ پورے ہی ناپاک ہو گئے ہیں اور جب تک وہ نہا کے لباس نہیں بدلیں گے، تب تک وہ نماز ادا نہیں کر سکتے۔ قرآن تلاوت نہیں کر پاتے۔ وضو مکمل نہیں

Read more

پاکستان میں شہری منصوبہ بندی کے ادارے غیر فعال کیوں ہیں؟

جنرل ایوب نے 1960 میں پہلی بار میونسپل ایڈمنسٹریشن آرڈیننس متعارف کروایا۔ بیورو کریسی لوکل گورنمنٹ کو کنٹرول کرتی تھیں۔ پھر 1979 میں دوسرا لوکل آرڈیننس منظور ہوا۔ جو مارشل لاء کی گود میں بیٹھ کر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی غیر موجودگی میں 2000 تک چلا۔ دونوں فوجی امراء نے لوکل حکومتوں کو بنانے میں بڑی دلچسپی دکھائی لیکن ان کو قانونی طور پر مستحکم کرنا ان کا مطمح نظر نہیں تھا۔ وہ دوسرے فوائد کے حصول کے لئے

Read more

سرکاری افسر کیوں مرتے ہیں؟

پہلے پہل جب آپ نئی نئی افسری کا ٹیگ لگا کر کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں جاتے ہیں تو کوئی آپ کو ڈراتا ہے، اینٹی کرپشن، نیب، پرانے کیسز، اثر و رسوخ والے لوگوں وغیرہ وغیرہ۔ کوئی دبے لفظوں ایسا بھاشن آتے جاتے سناتا ہے کہ ہم نے اپنے سینیئرز کو پروٹیکٹ کرنا ہے۔ فائلوں میں کچھ ایسا نہیں لکھنا کہ ان پر حرف آئے۔ اور ایسا بھی آپ کے قلم سے نہ نکلے جو آنے والوں کے گریبان تک آئے۔

Read more

روزانہ سونے سے پہلے اپنی ماں سے معافی مانگتی ہوں

اس کا شمار میری اچھی دوستوں میں ہوتا ہے۔ اس کو مولا نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔ گھرداری ہو یا علمی، عملی میدان۔ وہ ہر ایک میں سبقت لے جاتی ہے۔ اس کے باوجود دل کی صاف، بناوٹ سے دور، عاجز مزاج اور ہمدرد۔ سادہ کھاتی اور پہنتی ہے۔ امارت کی جھلک اور نمودو نمائش سے پرہیز کرتی ہے۔ چاق و چوبند۔ لیکن پچھلے چار ماہ سے غیر متوقع طور پر اسے ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض لاحق

Read more

لندن مہنگا ہے لیکن۔ ۔ ۔

ٹریفک، ٹرانسپورٹ، سڑکیں، گاڑیاں، ریل، ہوائی اڈے پاکستان کے ہوائی اڈے سے ترقی یافتہ ممالک کی سمت اڑنے کے کچھ دیر بعد دنیا بدلنے لگتی ہے۔ پہلے آسمان، پھر زمینی مناظر اور بالائی نظارے۔ افراط زر اور افراط الرجال کا فرق واضح ہونے لگتا ہے۔ زیادہ چیزیں اور طریقے مشینی بننے لگتے ہیں اور انسانوں کا دخل کم ہونے لگتا ہے۔ واش بیسن کی ٹونٹی سے لے کر ٹوائلٹ کے فلیش سبھی خودکار سنسرز میں بدل جاتے ہیں۔ سب کچھ

Read more

وقت کرتا ہے پرورش برسوں: سموگ اور ہمارے شہر

کیسی ہو؟ ٹھیک ہوں۔ کچھ جان پہچان ہوئی؟ ہو رہی ہے۔ شہر کیسا لگ رہا ہے؟ خاموشی۔ دل نہیں لگ رہا؟ لگ جائے گا۔ تو پھر بجھی بجھی اور پریشان کیوں ہو؟ پھر چپ کا وقفہ۔ اور جب فون بوتھ کے دوسری طرف رندھی ہوئی آواز گئی تو یہ تھی: ابا! یہاں کے آسمان پر تو ستارے ہی نظر نہیں آتے۔ بیس سال پہلے جب وہ پڑھنے اس شہر کی جامعہ آئی تھی۔ تو بولائی بولائی پھرتی تھی۔ دن تو

Read more

قابل رہائش شہروں میں کیا چار چاند لگے ہوتے ہیں؟

اقوام متحدہ اور عالمی بنک کی تحقیقات کے مطابق سن دو ہزار سات سے اب تک دنیا کی آدھی آبادی شہروں میں آن بسی ہے۔ جس کا سب سے زیادہ زور براعظم ایشیا کے جنوبی حصے اور بر اعظم افریقہ میں ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں واقع تمام ممالک میں اس مد میں سب سے اوپر ہے۔ جہاں پر حکومت کی طرف سے ’ڈکلیئرڈ اربن ایریاز‘ میں پچھلی دو دہائیوں میں چار سو اڑسٹھ سے چھ سو چوبیس کا بیس

Read more

وطن کی خوشبو

2022 کی بقر عید ایران میں منائی۔ عید سے دو دن پہلے ایک سہ پہر مشہد پہنچے۔ جس کا ائر پورٹ مختصر، خاموش اور صاف ستھرا ہے۔ اترتے ساتھ آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ آپ ایران میں ہیں۔ ہر چیز فارسی میں۔ دکانوں کے نام، اشتہارات، خبریں، اشارے، ہدایات وغیرہ وغیرہ۔ جس سے یہ پیغام ضرور ملتا ہے کہ انھیں اس کی فکر نہیں کہ غیر ملکی، زبان ناآشنا ان کے ملک میں کس طرح رہیں گے؟ بلکہ

Read more

کینیڈا، بھارت گرمی، تصویر کا دوسرا رخ، ایک نوحہ

ہردیپ سنگھ نجر الگ سکھ ریاست اور اس کے لئے چلائی جانے والی تحریک بنام ’خالصتان‘ کا سرگرم سربراہ تھا۔ انڈیا کے اندر اور باہر سکھوں کو اس مقصد کے لئے مجتمع کرنے کے لئے اس نے بڑا کام کیا۔ تاکہ مشرقی پنجاب انڈیا سکھوں کی علیحدہ جغرافیائی سلطنت بن جائے۔ اس کو بمطابق کینیڈین حکومت، دو ہزار پندرہ میں وہاں کی شہریت ملی۔ اس مد میں ہردیپ کی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں کینیڈا کی حکومت کی

Read more

لندن مہنگا ہے لیکن۔ ( 2 )

پاکستان اور لندن کے وقت میں چار گھنٹے آگے کا فرق ہے۔ اس لئے ہفتہ، دس کا قیام آپ جیٹ لیگ سہتے گزارتے ہیں۔ وہاں کی شامیں، اپنے ملک کی آدھی رات، وہاں کی صبحیں، یہاں کی دوپہر۔ تو آپ کام کے دوران جاگنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے ہیں اور سونے کے وقت، آنکھیں بند کر کر کے تھکتے ہیں لیکن نیند کوسوں دور بھاگتی ہے اور آپ الو بنے رہتے ہیں۔ اور اسی چوہے، بلی کی دوڑ میں

Read more

بے حسی ذہن کی اور آنکھ میں جالا ہوتا۔۔

سال کی تین ہزار ہر ماہ اور بارہ ارکان والی بیسی میں اس کا نمبر دسواں تھا۔ گھر میں کپڑے سلائی کرتی تھی۔ پوری بستی میں چونکہ وہی تربیت یافتہ، ماہر اور فیشن کے مطابق سیتی تھی اس لئے ادھر بھی اس سے سلوانا مجبوری تھی اور ساتھ کی پوش کالونی کی بیگمات کے لئے تو وہ مفت ہی بن جاتی تھی۔ پیسے اس کی نسبتا بہت کم لگتے جو کسی مہنگی مارکیٹ میں بیٹھے درزی کو دینے پڑتے۔ دبا

Read more

زندگی تماشا بنی: دیر آید درست آید

میں اس یوم آزادی کچھ آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ مالی نقصان تو جو ہوا، سو ہوا۔ بڑے پردے کا کام دکھانے کا خواب ٹوٹا، سو ٹوٹا۔ دل سے قریب موضوع کے منظور نہ ہونے کا دھچکا اس سے سوا۔ لیکن پھر بھی میں بلا قیمت ناظرین تک یہ لانا چاہتا ہوں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کہ یہ کیسی فلم اور کیسا کام ہے؟ یو ٹیوب پر ایک کانٹینٹ دیکھتے ہوئے اس نے یہ ٹکڑا دیکھا۔ جس میں ایکٹر، پروڈیوسر،

Read more

سونے کی بالیاں

عید کی صبح تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک، گالوں پر ہلکا سا غازہ، اور پلکوں پر مسکارے کی ہلکی سی تہہ تھی۔ وہ بہت کم میک اپ پسند کرتی ہے۔ چوڑیاں، مہندی، لمبے بندے کبھی بھی اس کی ترجیحات نہیں رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ کم لیکن ایلیگنٹ پہننا چاہتی ہے۔ بھلے کپڑے ہوں، زیور ہوں یا جوتے۔ آج بھی اس کا یہی ارادہ تھا۔ موقع کی مناسبت سے معمول سے ہٹ کر تیار

Read more

لندن مہنگا ہے لیکن ۔۔۔۔ (1)

گڈ ہوٹل دریائے ٹیمز پر بستا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ دریا کے اوپر ہے۔ اور واقعی جب گراونڈ فلور پر پیچھے کی طرف بنی بیٹھنے کے ان جگہوں میں سے کسی ایک کرسی پر بیٹھے ہوں جس کی کھڑکیاں سیدھی دریا میں کھلتی ہیں تو دو چار سیکنڈز بیٹھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ بھی پانی کی لہروں کے سنگ بہہ رہے ہیں۔ ہلکا ہلکا، سبک رو۔ سر چکراتا ہے اور پانی اپنی طرف کشش

Read more

کیا عورتوں کی تعلیم اور کام کرنا ضروری ہے؟

پچھلے دنوں ایک واقف کار خاتون کا آپریشن تھا۔ اور وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے سے ڈاکٹرز اور اسپتال آ جا رہی تھیں۔ آپریشن سے پہلے جسم کی مدافعت کی ممکنہ تیاری جاری تھی۔ ڈرپس، دوائیاں، غذا، پرہیز سب ہو رہا تھا۔ بیماری محبت کی طرح بڑے عرصے سے پالی گئی تھی۔ وقتی ٹوٹکے، دیسی جگاڑوں نے صورت حال اتنی خراب کر دی کہ مرتا کیا نہ کرتا، کے مصداق جراحی ہی آخری حل رہ گیا۔ سات آٹھ دن

Read more

بے وارث موت

چودہ جون دو ہزار تئیس: یونان کے لونیئین سمندر میں ڈنکی کے ذریعے غیر قانونی طور پر جانے والی کشتی الٹ گئی۔ جس میں اندازہ چار سو سے ساڑھے سات سو مہاجر سوار تھے۔ بیاسی اموات کی تصدیق ہوئی اور ایک سو دس کے قریب کو بچا لیا گیا۔ باقی سب لاپتہ ہیں۔ ان میں دو سو نو پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اٹھارہ جون دو ہزار تئیس: ٹائٹینک کی سال خوردہ باقیات کو دیکھنے جانے کا ایڈونچر کرنے والے اینگرو

Read more

مقدس گائے

پاکستان میں پچھلے پچھتر سال سے جو کچھ ہو رہا ہے۔ ہم سب کے سامنے ہے۔ اتنے سالوں میں ادارے تنزل کا شکار ہی ہوئے ہیں چہ جائے کہ ’پروفیشنل معیار‘ تک پہنچتے۔ خود احتسابی کو متعارف کرواتے۔ ’کرپشن فری‘ نظام جس پر عام بندے کی رسائی ممکن ہو، کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اپنی ’ڈومین‘ میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دیتے۔ کیونکہ ہمیشہ سے حکومتیں، عدلیہ، فورسز، بیوروکریسی سب گٹھ جوڑ کر اپنا الو سیدھا کرتے

Read more

مستنصر حسین تارڑ: ”شہر خالی، کوچہ خالی“

اردو کی چار، پانچ کتابیں آخری بار خریدے بھی ایک سال ہو گیا تھا۔ آن لائن منگوائی تھیں جو کہ ترجمہ شدہ علی شریعتی کی تحریریں تھیں۔ درمیان میں انگریزی کی دو کتابیں بک شیلف کا حصہ بنیں لیکن اردو کی کتابوں کی باری نہیں آ سکی۔ خیر مہینہ پہلے بعد از نماز فجر، موبائل اٹھانے پر سنگ میل پبلشرز کی ایک پر کشش آفر سامنے آ گئی اور یکے بعد دیگرے پانچ کتابیں آرڈر کر دیں۔ اور ساری کتابوں

Read more

اماں کی خوشبو

وہ ’چٹی ان پڑھ‘ تھیں۔ اور اچھا ہی تھا کہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ ورنہ شاید آج کل کی ماؤں کی طرح چیختی، ڈانٹتی یادیں ہی باقی یادوں پر حاوی ہوتیں۔ وہ بچوں کو خود نہیں پڑھا پاتی تھیں لیکن اپنے سامنے کتابیں کھلوا کے بٹھا لیتی تھیں۔ سمجھا نہیں سکتی تھیں لیکن نظر ضرور رکھتی تھیں۔ سارا دن وہ متحرک رہتیں۔ سات اولادوں کو اکیلے پالتی تھیں۔ صبح اذان کی آواز کے ساتھ جو بستر چھوڑتیں۔ تو سارا دن

Read more

نور جہاں ہتھنی کی موت اور ہماری بے حسی

میں نے اسے پہلی دفعہ بی بی سی کی ایک مختصر دس پندرہ منٹ والی رپورٹ میں دیکھا تھا۔ جس میں اس کی صحت کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات پر بات کی گئی تھی۔ فور پاز کے ڈاکٹروں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا ذکر تھا۔ اور ان کی یہ تشویش کہ ہم بار بار اس چیز کی درخواست کر چکے ہیں کہ کراچی کے چڑیا گھر کا ماحول اس کے لئے سازگار نہیں۔ اس کے

Read more

آئیے بے فیض باغیچوں کو با فیض بنائیں

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک قصبہ تھا۔ جہاں زرخیز زمینیں آہستہ آہستہ گھٹنے لگی تھیں۔ وہاں کے رہنے والے دلیر اور محنتی تھے۔ لیکن سالوں کے بدلتے چہرے پر وہ بزدلی اور کسل مندی کا شکار ہوتے گئے۔ وہ جو ہر لمحہ شکر گزار رہتے تھے۔ اب ہر دم شکوے، گلے، شکایتوں میں مبتلا رہنے لگے۔ جو خود اگانے والوں میں سے تھے۔ اب اناج حاصل کرنے کو پورا پورا دن لمبی قطاروں میں لگے رہتے۔ بلکہ ماں، بہن،

Read more

لان کے نرم کپڑے ہم سے خفا ہو گئے

اماں کی ساری شاپنگ ابا کرتے تھے۔ اور اولاد کی بھی۔ وہ خود کبھی بازار نہیں جاتی تھیں۔ عام اور خاص سب کپڑے ابا ہی خرید کر لاتے۔ اور لانے بھی کتنے ہوتے تھے۔ دو سرما کے اور دو گرما کے۔ یعنی کل ملا کے چار سوٹ ہر سال نئے خریدنے ہوتے۔ کوئی شادی، تہوار اور تقریب ہو تو بحیثیت گنجائش اور ضرورت اس کے علاوہ بھی جوڑا بن جاتا تھا۔ ابا عیال دار تھے۔ چار بچیوں کے باپ۔ اور

Read more

آکاس بیل

وہ سیالکوٹ سے ملتان پہنچنے والے تھے۔ گاڑی رواں تھی۔ اس دفعہ انھوں نے گھر کی طرف جانے کے لئے موٹروے سے اتر کے صرف این۔ فائیو کو استعمال کرنے کی بجائے، موٹر وے سے پاکستان اسکوائر تک این۔ فائیو کے ذریعے وہ لنک لیں نے کا ارادہ کیا۔ جس کے آج کل بہت چرچے تھے۔ پچھلے مہینے ہی اس لنک کا باقاعدہ استعمال شروع ہوا ہے۔ لیکن وہ دونوں ابھی تک اس پر سفر نہیں کر سکے تھے۔ ورنہ

Read more

مہنگا آٹا، سستی غیرت و خود داری

ایران پہنچے دوسرا دن تھا۔ بچوں کے ہمراہ کھانے کے لئے پیدل نکلے۔ حرم امام رضا علیہ السلام، مشہد سے ہماری رہائش انتہائی قریب تھی۔ اور اس کے اردگرد رنگ برنگے بازار، مصروف دنیا۔ کھانے اور ٹھہرنے کے ہوٹل، کپڑوں، جوتوں، زیورات کی دکانیں۔ روز مرہ استعمال کی اشیا، دوا خانے۔ سڑک کے ایک طرف حرم کی عمارت اور دوسری طرف کمرشل مرکز اور رہائشی آبادیاں۔ جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کی گہما گہمی سے آباد ہیں۔ مردوں کے ساتھ

Read more

ہم کیسا ملک بنانا چاہتے ہیں؟

بچپن سے نصابی کتابوں میں پڑھتے اور غیر نصابی باتوں میں سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ والدین کے ساتھ جب بھی شہر سے گاؤں تک کا مختصر سفر کرتے تو واقعی اس بات کا یقین ہونے لگتا۔ آبادیاں کم اور کھیت زیادہ دیکھنے کو ملتے۔ گرما ہوتا تو جگہ جگہ گندم کی کٹائی، بھرپائی ہو رہی ہوتی۔ لوگ پسینہ بہاتے، لو کے دنوں میں فصل کو سنبھالنے میں لگے ہوتے۔ پوری فضا میں تھریشر چلنے، اور

Read more

اس ماں نے اپنے بچے کو کتاب پڑھنے کی عادت کیسے ڈالی؟

میں نے اسے چھ سال کی عمر میں دیکھا تھا۔ جب میں اس کی ماں کو (جو میری قریبی دوست ہے ) ملنے گئی تھی۔ وہ لونگ روم کے ایک کونے میں اوپر جانے والی سیڑھیوں پر مگن بیٹھا تھا۔ سامنے ایک انگریزی کتاب کھلی ہوئی تھی۔ کمرے میں مختلف نوعیت کے کام ہو رہے تھے۔ اس کا چھوٹا بھائی اور اس کی ہم عمر میری اکلوتی نور نظر آپس میں کھیل رہے تھے۔ کبھی بلاکس، کبھی دوڑ بھاگ۔ کبھی

Read more

قربتوں میں فاصلے

کیا کبھی آپ نے وہ بے توجہی محسوس کی ہے جب کوئی آپ کو دبائے۔ ہاتھ تو آپ کے کندھوں پر حرکت کریں لیکن جو تسلی، دباو اور آرام ملنا چاہئیے۔ وہ نہ ملے۔ بے چینی ہو؟ کیا آپ نے کبھی دو ایسے انسان دیکھے ہیں جو کسی بہت قریبی تعلق میں بندھے ہوں، ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے ہوں۔ سر سے سر جڑے ہوں۔ ایک ساتھ لیٹے ہوں لیکن صدیوں کے فاصلے پر ہوں۔ بے توجہی کا شکار ہوں۔

Read more

کنفیوزڈ ہم اور آئیڈنٹی کرائسس

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اس خبر سے حادثاتی طور پر واسطہ پڑ گیا جس میں نجی اسکول میں انگریزی نہ بولنے پر بچی کی استاد اور باقی ہم جماعتوں کے ہاتھوں تحقیر کی داستان تھی۔ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں تھی کہ جس تیزی سے اخلاقی پستی کے مظاہرے آج کل دیکھنے، سننے اور برتنے کو ملتے ہیں۔ ان حالات میں یہ کچھ انہونا نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی دل و دماغ مکرتے ہی رہے۔ اندر ہی اندر اس بات کے جھوٹا ہونے کی امید باندھے رہے۔

لیکن ایک اور واٹس ایپ گروپ میں بھی کسی مستند رکن کی طرف سے یہی شیئر کیا جا رہا تھا۔ اور پھر چل سو چل۔ شیخ چلی کی سبھی خوش فہمیوں کی طرح میری بھی سبھی توقعات زمین بوس ہوئیں۔ لیکن تکلیف بہت ہوئی۔ بہت سے بھرم ٹوٹتے ہیں۔ استاد سے کچھ بہتر کرنے کا بھرم۔ نوجوان بچے، بچیوں سے اچھے برتاؤ کرنے کا بھرم۔ انسانیت کے زندہ ہونے کا بھرم۔ پاکستانی، مسلمان ہونے کا بھرم۔ اور اردو قومی زبان، شلوار قمیض قومی لباس، ہاکی قومی کھیل وغیرہ وغیرہ والے ساری غلط فہمیوں کا بھرم۔ یہ سارے نعرے کتابی اور مذاق اڑاتے محسوس ہوتے ہیں۔

Read more

شکر کریں ہم کسی پر خرچ کر سکتے ہیں؟

کیشیر کی سکرین کا وہ حصہ جو گاہک کی طرف ہوتا ہے۔ جوں جوں اس پر آنے والے ہندسے ایک سے دو، دو سے تین، تین سے چار اور پھر پانچ ہندسوں میں تبدیل ہونے لگے۔ تو اس نے فکر مندی سے ٹرالی کی طرف دیکھا۔ جس میں رکھی چیزیں، سالوں بعد بھی کم و بیش وہی تھیں۔ لیکن بل کے ہندسے روز بروز بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ ہر دفعہ جب بھی بل بنتا، تو اس کی طرف دیکھنا

Read more

ہماری تعلیم اور سماجی ذمہ داریاں

یہ پوش کالونی کی گلی نمبر 10 اور بلاک ڈی ہے۔ جس میں آٹھ سے دس مرلے کے کشادہ مکان ہیں۔ کل ملا کے پندرہ گھر ہیں۔ جس میں کم و بیش بیس خاندان رہتے ہیں۔ ایک دو مکان ابھی زیر تعمیر بھی ہیں۔ مستقبل قریب میں وہ بھی اپنے مکینوں سے آباد ہو جائیں گے۔ تقریباً سارا محلہ ہی متوسط سے ہائی طبقے میں داخلے کے دروازے پر دستک دیتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ گلی میں پہلا گھر

Read more

کیا ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے؟

صرف چھ ماہ رہ گئے ہیں۔ داخلہ ٹیسٹ میں۔ پچھلے سال فرسٹ ائر میں بھی نمبر امید سے کم ہیں۔ کسی اور اکیڈمی کا بھی پتہ کرنا چاہیے۔ اگر اپنے شہر کے کسی کالج میں میرٹ نہ بنا تو؟ اور اگر اوپن میرٹ پر نہ آ سکا، تو اور تباہی ہے۔ کسی پرائیویٹ کالج میں فیس بھرنے کی جرات بہت مشکل کر دے گی۔ اور اگر جمع جوڑ کر ہی لیا، تو باقی کے دو بچے بھی تو ہیں۔ سنو!

Read more

بھوک کی اقسام

جب چھوٹے تھے تو بس بھوک سے مراد پیٹ پوجا ہی لگا کرتی تھی۔ جو وقت بے وقت آپ کو محسوس ہوتی رہتی تھی۔ صبح بستر سے نکلو، تو بھوک۔ اسکول جاؤ تو آدھے دن کے بعد بھوک۔ گھر واپسی پر دوپہر کے کھانے کی بھوک۔ پھر سونے سے پہلے رات کے کھانے کی بھوک۔ اور جو بس یونہی چلتے پھرتے، ہر کھیل کے بعد ، ہر مہمان کی آمد پر چھوٹی موٹی بھوک لگا کرتی تھیں، ان کا تو

Read more

کھوٹے سکے

آئیے ان سے ملیے۔ دستاویزات میں نام محمد بلال ہے۔ جو کہ اب ماں باپ کو بھی یاد نہیں۔ کیوں کہ کوئی اسے بھالو کہتا ہے۔ کسی کی زبان بالو بلاتی ہے۔ کسی کے لئے بلا ہے اور کسی کے لئے بالی۔ دکھنے میں جسم چوڑا، موٹاپے کی طرف تیزی سے مائل، بال کھردرے لیکن گھنے، قد پانچ فٹ سات انچ، عام خدوخال، چوڑا ناک، عمر تیس سال۔ پڑھائی میں واجبی۔ پھر بھی کھینچ کھانچ کے ایم۔ اے کر لیا

Read more

وقت کی پابندی کا درس

دوپہر ساڑھے گیارہ بجے پارکنگ میں گاڑی لگا کے اسکول کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے میں نے فون پر ایک نمبر ملایا۔ ہیلو! السلام علیکم! جی! وعلیکم السلام۔ میڈم! آج بچوں کی سالانہ تقسیم انعامات ہے۔ جی۔ جو نوٹس ہمیں ملا ہے، اس پر چھوڑنے کا وقت تو درج ہے لیکن واپس کب لے جائیں؟ براہ مہربانی متعلقہ ہیڈ مسٹریس سے پتہ کر کے مجھے بتائیں۔ یا میں خود تھوڑی دیر میں دوبارہ کال کرتا ہوں۔ سر! آپ چھ

Read more

آسمانی نمائندے کا پاکستان میں زمینی خلفاء کے گھروں کا دورہ

ارادہ تو میرا بڑا ہی تیز رفتار اور بالائی آنکھ سے معلومات اکٹھی کرنے کا تھا لیکن کیا کیا جائے کہ اس ملک کی تین تہائی آبادی نے اپنے گھر دڑبوں سے مشابہ بنا لئے ہیں۔ چھتیں، صحن، سیٹ بیکس سب بند کرنے کا رجحان ہو گیا ہے۔ کہیں پکے، کہیں جالیوں سے، کہیں عارضی، کہیں مستقل۔ اس لئے میری نظر وہاں کہاں گزر پاتی، جہاں سے روشنی اور ہوا تک کا داخلہ بھی بند تھا۔ تو مجبوراً دروازوں سے

Read more

ارشد شریف کا ابدی سفر اور میٹھی گولیاں

وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں ایمبولینس سڑکوں پر راستے ڈھونڈتے پھرتے چیخ رہی تھی۔ اندر نئی مملکت کا پہلا گورنر جنرل بے حال تھا۔ دم توڑ رہا تھا۔ اس کے نا چاہنے کے باوجود اسے زیارت سے کراچی واپس لایا گیا تھا۔ لیکن ائرپورٹ سے اس کی سرکاری رہائش گاہ تک پتہ نہیں ٹریفک اور انسانوں کا کون سا ہجوم نکل آیا تھا کہ ایمبولینس کو منزل تک پہنچنے

Read more

تہجد

پہلی رات: اس کی آنکھ کھلی۔ لیکن اس کا پورا جسم جامد تھا۔ یوں جیسے صرف اس کا دماغ زندہ ہو اور اس کا نچلا دھڑ مردہ۔ حتی کہ حلق سے آواز نکلنا تک ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ یوں جیسے زبان تالو سے جا لگی ہو جس نے آج تک ایک لفظ بھی ادا نہ کیا ہو۔ اسی بیڈ پر لیٹے وہ اپنی بیوی کو اٹھانے کی سکت بھی اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔ تقریباً دس سے پندرہ

Read more

ایک اسپیشل بچے کی ماں کی کہانی، میری زبانی

شہر کے ایک پوش علاقے کے نسبتاً پر سکون حصے میں واقع ریستوران میں سات خواتین ایک گول میز کے گرد بیٹھی ہیں۔ برسوں بعد آج ملاقات کے لمحے آئے ہیں۔ ورنہ جامعہ کے دنوں میں ان کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ چھ سالوں کی شب و روز کی رفاقت تھی۔ ان میں سے تین کا تو ڈیپارٹمنٹ بھی ایک ہی تھا۔ اور چار میں سے دو دو کا گروپ ہاسٹل میں کمرے بھی شیر کرتا تھا۔ کھانے کی

Read more

عقیدت زینب علیہ السلام کے تقاضے

محمد ﷺ کی نواسی، فاطمہ و علی علیہ السلام کی دختر، حسن و حسین علیہم السلام کی ہمشیرہ، عون و محمد علیہ السلام کی والدہ ماجدہ زینب علیہ السلام۔ جن کی پہچان کے حوالے بے شمار۔ لیکن دین اسلام کا امتیاز یہ بھی ہے کہ خواتین اپنی پہچان آپ بھی ہیں۔ جن کا علمی و اخلاقی قد انفرادی طور پر اس قدر بلند ہے کہ باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لاحقے ان کے نام کے ساتھ نہ بھی ہوں

Read more

معاشرتی تضادات کا ایک بیان

باجی یہ میری بہو ہے۔ اچھا ماشاءاللہ۔ کتنی بہویں ہیں آپ کی؟ ابھی تو ایک ہی بیٹے کی شادی کی ہے۔ لیکن دو اور رہتے ہیں۔ بیٹی ایک ہی ہے۔ اس کو بھی تین سال پہلے بیاہ دیا تھا۔ مولا نصیب اچھا کرے۔ ارے یہ تو بتائیں ہماری بہو کیا کرتی ہے؟ گھر پر ہی ہوتی ہے۔ اگر مجھے بھولا نہیں تو آپ کا بیٹا تو ڈاکٹر ہے ناں؟ جی جی۔ تو بہو کتنا پڑھی ہے آپ کی؟ جی یہ

Read more

بعد از سیلاب نقصانات: تیار رہیں

جنوب سے شمال تک پورا پاکستان پانی میں ڈوب کر بہہ گیا۔ بلوچستان سے کے۔ پی۔ کے تک تیار باغ اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ لائیو اسٹاک کا بھاری نقصان اس سے سوا ہے۔ اور انسانوں کا تو نہ ہی پوچھیں کہ ان پر کیا بیت گئی۔ لیکن آج ہم سیلاب زدہ علاقوں کی نہیں بلکہ سیلاب سے محفوظ لوگوں کی بات کرتے ہیں ( جو کہ ایک خام خیالی ہے ) ۔

زرعی ملک جس کی معیشت کا بائیس فیصد فصلوں پر ہے۔ اس سال کیا حصہ ڈلے گا؟ شاید اونٹ کے منہ زیرہ۔ بلوچستان میں کالے سیب کے کھڑے نخلستان اجڑ گئے۔ جو درختوں پر لگے تھے وہ پانی کا ریلا لے گیا۔ جو پیک تھے وہ منڈیوں تک ہی نہ پہنچ سکے۔ سندھ میں تو کھجور لٹکی لٹکی گل گئی۔ پانی کے قطرے اس کے لیے زہر ہوتے ہیں۔ مسلسل اور وقت سے پہلے ہونے والی بارشوں نے انھیں تیار ہونے ہی نہیں دیا۔ ہری کھجوریں پھپھوندی اور کیڑوں سے کالی ہو گئیں۔

Read more

قدرتی آفتوں میں ریلیف، رسپانس اور ہماری غلطیاں

سنہ 2010 میں کمبوڈیا جانا ہوا۔ دارالحکومت فنوم پن پہنچے ابھی گھنٹا ہی گزرا تھا اور ہوٹل کے راستے میں تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ اور لمحوں میں جل تھل ہو گیا۔ لیکن جو بات حیران کن تھی وہ یہ کہ سڑک پر موجود ہر موٹر سائیکل سوار، سائیکل گاڑی، بائیسکل والے اور پیدل چلنے والے نے رنگ برنگے پیرہن اوڑھ لئے۔ اتنی تیز بارش میں نہ کوئی رکا، نہ راستے میں سایہ دار جگہ میں پناہ

Read more

سیلاب کی آفت اور اکیسویں صدی میں ہمارے بہانے

آج واٹس ایپ پر ایک جاننے والی نے شیئر کیا تھا کہ آیت اللہ سیستانی نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے امام کے سہم سے دو تہائی حصہ دینے کا فرمان جاری کیا۔ جسے ہر فرد انفرادی طور پر پورا کر سکتا ہے۔ اس سے تین دن پہلے ایک بیٹھک میں ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ امریکی صدر نے اتنے پیسے آئی۔ ایم۔ ایف کی گرانٹ کے علاوہ سیلاب زدگان کے لئے عطیہ کیے ہیں۔ آج دوپہر ایک

Read more

کولیکٹیو الوژن (اجتماعی وہم)۔

بھائی صاحب مجھے اس مشکل میں نہ ڈالیں۔ آپ کو میرا جواب معلوم ہے۔ تم مجھے ہاں میں جواب دو۔ اپنے سگے بھائی پر دوسروں کو ترجیح دے رہی ہو۔ آپ میرے ماں جائے ہیں۔ میرے بڑے ہیں۔ اگلے ہفتے لڑکے والے منگنی کی رسم کرنے آنے والے ہیں۔ میری پوزیشن کا اندازہ کریں۔ ہم زبان دے چکے ہیں۔ پچھلے چار ماہ سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمارے عم زاد کا بیٹا ہے۔

Read more

پبلک ٹوائلٹس پر گفتگو کرنا ہمارا ناپسندیدہ موضوع کیوں ہے؟

پروفیسر صاحب شہری منصوبہ بندی کی ایک کلاس پڑھا رہے تھے۔ سامنے پندرہ بیس طلباء متوجہ تھے۔ ہمارے شہروں کے کیا مسائل ہیں؟ ان کی طرف سے سوال پوچھا گیا جس پر اس طرح کے جواب جماعت کے ہر طرف سے آنے لگے۔ ہاؤسنگ، ماحولیاتی آلودگی، پبلک ٹرانسپورٹ، سولڈ ویسٹ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ایک خاتون طالب علم نے جواباً برملا کہا کہ پبلک ٹوائلٹس کی فراہمی اور کوالٹی۔ ساری کلاس گردنیں موڑ کر اس کو حیرانی، ناپسندیدگی، تنبیہی اور مستفر

Read more

بصری آلودگی اور مون سون

سن دو ہزار بیس میں مون سون کے دنوں میں کراچی میں دو افراد بل بورڈ کے گرنے سے بری طرح زخمی ہوئے۔ اور ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے۔ یہ بڑے بڑے بدنما اسٹرکچرز جو بے شتر مہار ہر جگہ لگے ہیں۔ اشتہاری کمپنیوں اور ان کے مالکان کے علاوہ عام آدمی کے لئے بس باعث آزار ہی ہیں۔ کبھی آندھیاں انھیں گراتی ہیں اور کبھی بارشیں۔ اور جانی اور مالی نقصان ہر گزرنے والے کا۔ اس سال جو

Read more

عید قربان اور جمعرات والی

گھر کے بڑے اور کشادہ صحن میں خوب ہلچل ہے۔ اس سے متصلہ سامنے والا بر آمدہ بھی با رونق ہے۔ گھر کی نسبتاً بزرگ (جو سارے محلے میں بی اماں کے نام سے معروف ہیں ) وہاں بیٹھیں ہر آنے جانے والے مہمان اور خاندان کے لوگوں سے میل ملاقات کر رہی ہیں۔ مبارک سلامت ہو رہی ہے۔ مسکراہٹوں، قہقہوں اور خوش گپیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ خاطر تواضع بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ شربت، جوس، فروٹ چاٹ،

Read more

العجل تو کہتے ہیں، آ گئے تو کیا ہو گا؟

سردیاں اب ہمارے ملک میں کم ہی ٹھہرتی ہیں۔ اور جتنی ہوتی ہیں، وہ بھی خشک اور سموگ میں لپٹی ہوئی۔ گرمی چھ سے نو مہینوں تک پھیل چکی ہیں اور بہار اور خزاں کے موسم ویسے ہی انسانوں کی نادانیوں میں گم ہوتے جا رہے ہیں۔ اور اگلے کچھ سالوں میں شاید ہم یہ کہنے کے قابل نہیں رہیں گے کہ پاکستان الحمدللہ چار موسموں سے نوازا ہوا ہے۔ گرما طویل ہو رہا ہے اور بارشیں روٹھ رہی ہیں۔

Read more

برقعہ کالا ہی کیوں؟

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں سال کے بارہ مہینوں میں سے آٹھ مہینے موسم گرم رہتا ہے۔ اور ان میں سے بھی پانچ مہینے آخیر گرمی پڑتی ہے۔ شمال کے کچھ علاقوں اور بلوچستان کے بعض شہروں کے علاوہ باقی سارا ملک ان دنوں تپتا ہے۔ بقول میر صاحب کے بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر۔ اور یہ شدت ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ چرند، پرند، انسان اور پودے پینتیس ڈگری سے اوپر بے چین ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جوں جوں تھرما میٹر چالیس کا ہندسہ کراس کرتا ہے۔ توں توں دم نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ پرندے اور انسان محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھول، پودے مرنے لگتے ہیں۔ سورج یوں سروں پر چمکتا ہے کہ کوئی بھی جاندار دن میں باہر نکلے، تو اس کی تپش اور حرارت سے سانسیں اٹکنے اور بدن بہنے لگتے ہیں۔

Read more

عامر لیاقت حسین

کل فیس بک کھولا تو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کی خبر کسی نے پوسٹ کی ہوئی تھی۔ میں بالکل حیران رہ گئی۔ اور مزید حیرانی اور افسوس تب ہوا جب جس سے ہو سکا، اس کی موت پر بولنا اور لکھنا شروع کر دیا۔ کوئی اس کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلا ہے اور کوئی اسے مردود لکھ رہا ہے۔ کسی کے نزدیک وہ قتل ہوا اور کوئی اسے اپنے گناہوں سے مرنے والا کہہ رہا ہے۔ بہت

Read more

پانچواں خط دانیہ کے نام

پیاری دانیہ! بہت دور جا بسی ہو۔ لیکن دل اس لئے خوش اور مطمئن ہے کہ جب بھی بات ہوتی ہے، خوشی تمہاری آواز سے جھلکتی ہے۔ لفظوں میں بولتی ہے۔ اللہ کرے یہ ویسی ملمع زدہ ہنسی اور اطمینان نہ ہو جو بیاہی بیٹیاں، بہنیں اور بہوئیں اس وقت اپنے لہجے اور چہروں پر سجاتی ہیں جب کئی دکھوں کا پردہ رکھنا ہو۔ اگرچہ اب ویڈیو کالز پر شکلیں بھی نظر آتی ہیں اور تاثرات بھی۔ لیکن پھر بھی

Read more

قحط زدہ نسلیں

میں پندرہ سال کی تھی جب پہلی دفعہ ایک سنڈے میگزین میں پانی کی کمی کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا تھا۔ جس کی ہیڈ لائن کچھ اس طرح کی تھی کہ مستقبل میں عالمی جنگیں پانی کے لئے ہوں گی۔ اس تحریر کا نہ مصنف یاد ہے نہ کوئی اور حوالہ۔ لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ جنگ یا خبریں اخبار کا ہفتہ وار رسالہ تھا۔ قلم کار نے اس وقت اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمیں

Read more

ہمارے باغیچے اتنے بے فیض کیوں ہیں؟

کبھی آپ نے ایسی زمینیں دیکھی ہیں جو سونا اگلتی ہوں لیکن وہاں غذائی قلت ہو۔ اجناس مہنگی ہوں۔ بچے، بوڑھے اور جوان سو سو کر دن کی رات کرتے ہوں۔ مشغلوں کی کمی ہو اور سب سے بڑھ کر روز کا دھنیا، پودینہ، پالک، ٹماٹر بازار سے بھاری داموں اور کم کوالٹی میں خرید کر مہنگائی کا رونا روتے ہوں۔ گھروں میں لان ہوں لیکن سجے سجائے۔ نہ کوئی کھدی کیاری، نہ تازہ سبزی، نہ گھر کے کسی فرد

Read more

چوتھا خط ایک بہن کا بھائی کے نام

میرے دوست، میرے ماں جائے! کیسے شروع کروں اور کیا لکھوں؟ کبھی کبھی انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن زبان پر تالا لگ جاتا ہے اور حرفوں کو قلم میں پرونے کا سلیقہ بھی نہیں ہوتا۔ اور یوں ان کہی کا بھگتان سبھی کو سہنا پڑتا ہے : جو کہنا چاہتا ہے، اسے بھی اور جسے بتانے کی ضرورت ہوتی ہے، اسے بھی۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ میں مزاجاً کیسی رف ٹف اور سنکی ہوں۔ جذبوں کو

Read more

بڑھاپے میں رفاقت کی قیمت

مجھے لگتا ہے کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے۔ ورنہ میں بے کار ہو گئی ہوں۔ کیا کرنا چاہتی ہیں آپ؟ کچھ بھی جس سے کارآمد رہوں۔ میرے خیال میں آپ کو اپنے دوست احباب سے ملاقات کرنی چاہیے۔ ان کو ملنا اور بلانا چاہیے۔ یا شاید آپ کی عمر تک آتے آتے ان سے بھی ملنے کا دل نہیں ہوتا۔ کیا ہوتا ہے؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ، دیکھو! یہ دوست یار بھی اچھے وقتوں کے ساتھی ہوتے

Read more

ماں کی خدمت

کھلے صحن میں لوگوں کا رش ہے۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ پوری جگہ کو شامیانوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ رونے اور سسکیوں کی آوازیں مسلسل پورے ماحول پر حاوی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ (اے اللہ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما) کا بلند ہوتا ورد بھی میرے کانوں تک آ رہا ہے۔ میرے بچے میرے اردگرد بیٹھے ہیں۔ کوئی میرا سر چوم رہا ہے۔ کوئی میری ٹانگوں پر اپنے ہاتھ رکھے خاموش آنسو بہا

Read more

سو جوتے مارنے کی کہانی

یہ قصہ آج سے کم از کم پچیس سال پہلے کا ہے۔ جو گھر کا سر پرست اور ان بچوں کا باپ اکثر سنایا کرتا تھا۔ اس وقت لوڈ شیڈنگ اکثر ہوتی تھی اور دیہاتوں کے لئے بجلی صحیح معنوں میں ایک عیاشی سمجھی جاتی تھی۔ اور جن شہری علاقوں کے فیڈرز دیہی آبادیوں کے ساتھ ہوتے، تو ان کو بھی زیادہ تر بجلی کی گمشدگی کا سامنا کر کے اس پر فاتحہ پڑھنی پڑتی۔ ڈھلتی شامیں تو بیشتر تاریکی

Read more

حسد کا بھانبھڑ

بیڈ منٹن کھیلتے کھیلتے شٹل لان کے اس حصے کی طرف بار بار جا رہی ہے جو سبزیوں اور پھولوں کے لئے مختص ہے۔ کھلاڑیوں کی عمریں بتدریج سات اور تیس سال ہیں۔ جو آپس میں ماں بیٹا ہیں۔ ماں اپنے پودوں کے بارے میں محتاط ہے اور بیٹے سے کہتی ہے کہ جذبات میں اتنی زوردار شاٹس نہ لگاؤ کہ شٹل پھولوں میں گرے۔ ساتھ ساتھ کھیل اور باتیں جاری ہیں۔ کہ بیٹا پوچھتا ہے : مما! میرے پودے

Read more

بند کھڑکیاں

آپ نے کبھی ہمارے اکثر گھروں کی کھڑکیاں دیکھی ہیں؟ اگر کبھی دھیان نہیں دیا تو اب دیں۔ شاید آپ کو بھی وہی کچھ نظر آئے جو میں دیکھتی ہوں۔ مٹی دھول سے اٹی ہوئی کہ جالیوں کے سوراخ ہی بند۔ شیشے ایسے دھبوں سے داغدار کہ اصل ہی دھندلا گیا۔ آگے کی جگہ چیزوں مثلاً تیل کی شیشی، کتابیں، اسپرے کی بوتلیں، کنگھیاں، موبائلز وغیرہ وغیرہ سے بھری ہوئی کہ اس بے چاری کو کھلے ہوئے دنوں گزر جائیں۔ اور بعض اوقات تو ایسے جام اور رکے ہوئے پٹ بھی دیکھے ہیں جو سالوں سے ہلے بھی نہیں۔

Read more

دوسرا خط: ان کے نام: جن سے ہاتھ باندھ کے معافی مانگنے کو دل چاہتا ہے

میرے مظلومو! پتا نہیں اس وقت، جب میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں، تم سب کہاں ہو؟ دنیا کا کون سا گوشہ تمہارا ٹھکانہ ہے؟ تم سب کیسے لوگوں کی رفاقت میں ہو؟ آسمان کے کس ستارے میں تمہاری چمک مخفی ہے؟ نہیں معلوم کہ تمہارے شب و روز کی داستان میں خوشیوں کے مثبت سندیسے آنا شروع ہوئے ہیں کہ نہیں؟ لیکن میں بہار میں جب بھی سنبل کے درخت دیکھتی ہوں تو مجھے تم سب کی یاد آتی

Read more

ایک ماں کا دس سالہ بیٹے کے نام خط

میرے پیارے معصوم! بڑا دل تھا کہ میں تمہیں خط لکھوں۔ دل کی باتیں کہوں۔ تمہاری شرارتیں بیان کروں۔ تمہارے چھوٹے بھائی کے قصے تحریر کروں۔ تمہارے باپس (بابا) کی فکریں اور خواب اور محنتوں کی کہانی رقم کروں۔ جن کو تم پڑھو ، جب تمہیں یہ نامہ ملے۔ تم اس پیار کو محسوس کرو۔ جب تم اس کو چھوؤ۔ تم ان لفظوں کی حدت کو اپنے دل پر جانو، جب تم ان کو پڑھو۔ تم اس لمس کی نرمی

Read more

دلوں کا کوڑا

دھند ہے۔ سردی ہے اور یخ ہوا بھی لیکن گاڑی موٹروے پر رواں ہے۔ موسم چاہے کیسا بھی ہو۔ چھٹیاں ہر خاندان کے لئے تفریح کا ایک ذریعہ ہے۔ اسی لئے گاڑی میں سوار چاروں مسافر بھی اپنوں سے ملنے اور قدرت کے نظارے دیکھنے چل پڑے ہیں۔ صاحب گاڑی چلانے میں مگن، بچے اپنا کوئی انگریزی گیت سننے میں مشغول اور بیوی دوڑتی بھاگتی سڑک کے ساتھ باہر کے بدلتے مناظر میں گم ہے۔ ساتھ ساتھ شغل، گپ شپ

Read more

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

سب کہتے ہیں کہ بڑھاپا تب آتا ہے، جب آپ خود کو بوڑھا سمجھنے لگتے ہیں۔ یا یہ کہ اولاد کی طرف دیکھنے کی بجائے آپ کی اپنی مصروفیات اور مشاغل ہونے چاہیے تاکہ جب وہ اپنے گھونسلوں کو چھوڑ کر آگے کی اڑان بھریں تو آپ کی نظریں دیدار کی چوکھٹوں اور آپ کے کان فون کی آوازوں کے منتظر زندگی کے کتاب کے ختم ہونے کا انتظار نہ کریں۔ بلکہ آپ کے پاس اپنا جہاں آباد ہو، جس

Read more

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

وہ ایک یونیورسٹی کی ذہین طالبہ کے ساتھ بیٹھی تھی۔ جس کا تعلق پنجاب کے ایک گاؤں سے تھا۔ موسم، مزاج، انسانی رویے، باہمی دلچسپیاں، پڑھائی وغیرہ وغیرہ جب سب پر بات ہو چکی۔ تب اس نے اس سے پوچھا کہ تم جب اپنے گھر سے باہر نکل کے گلیوں سے گزر کر مرکزی شاہراہ تک آتی ہو۔ اور وہاں سے کسی رکشے پر سوار اپنی منزل پر پہنچتی ہو۔ تو اس سارے وقت میں تمہاری آنکھوں کو دیکھنے میں

Read more

جنت کا حصول

میرے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ میرے کئی دروازے ہیں۔ میں باغوں کا مسکن ہوں۔ میں تخیل سے پرے، گمان سے بلند اور دل کی تمام ممکنہ آرزوؤں سے اوپر کا مکان ہوں۔ میں انگوروں، کھجوروں، اناروں، میووں اور خوشبوؤں کا گھر ہوں۔ میں پائیدار اور آخر ہوں۔ میں پیار، عزت اور امن کا گہوارہ ہوں۔ میں قابل حصول ہوں ان سب کے لئے جو رب کے اصولوں کے مطابق اس کی رضا چاہتے ہیں۔ بلکہ میں تو اجر ہوں مومنین

Read more

ایمرجنسی کا پلان بی

آج وہ گھر سے ہی بوجوہ دیر سے نکلی تھی۔ مزید تاخیر، راستے کی ٹریفک اور ہجوم نے کر دی۔ گاڑی پارکنگ میں لگائی۔ اور تیز قدموں سے اسکول کے دروازے پر پہنچی۔ مردوں اور عورتوں کی الگ الگ قطاریں ہونے کی بجائے ہر بندہ اپنی تربیت خود دکھا رہا ہوتا ہے۔ عام دنوں میں بھی اپنی باری کا انتظار کرنا اور لائن میں لگنا اکثر لوگوں پر گراں گزرتا ہے لیکن آج تو منظر ہی اور تھا۔ اسے قطار

Read more

کچھ آنکھوں پر بوجھ کے بارے میں

وہ کسی کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی اور جتنی مہنگی اور ٹرینڈی چیزوں کا آپ سوچ سکتے ہیں، ان میں سے بہت کچھ وہاں موجود تھا۔ لیکن آنکھوں کو بھلا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ دل بیزار تھا۔ سب قیمتی چیزیں وہ تاثر پیدا کرنے میں ناکام ہو رہی تھیں جو ہو سکتا تھا۔ الجھن سلجھ نہ پا رہی تھی کہ نظر پھر پورے کمرے کا طواف کرنے لگی۔ اور یک دم معاملہ حل ہو گیا۔ کمرے میں رنگوں

Read more

بے موسمی اظہار

رات کا تیسرا پہر ہے۔ کمرے کے اندر سائیڈ لیمپ کی روشنی ہے اور کمرے کے باہر چاند کی جس کو کھڑکی سے جھانکتی کرنوں سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہر طرف گہری خاموشی کا راج ہے اتنی زیادہ کہ کمرے میں موجود سوتے نفوس کے سانسوں اور دیوار پہ آویزاں گھڑی کی ٹک ٹک کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ مدھم مدھم جلتے لیمپ کے قریب والے بیڈ پر وہ قرآن کھولے بیٹھی ہے۔ اس کا ایک ایک

Read more

حکمت بھری کہانی

گھر کا ایک کونہ سبزیوں کی کاشت کے لئے مختص ہے جہاں موسم کے مطابق کھیرے، مولی، مرچیں، ٹینڈے، کدو، مٹر، پالک، میتھی، دھنیا، پودینہ، لہسن، پیاز، ادرک، بینگن، ٹھنڈی اور کریلوں کی بہار نظر آتی رہتی ہے۔ خاتون خانہ یہ سب شوق اور محبت سے کرتی ہیں۔ اور دوائیوں والے اسپرے سے پاک، نامیاتی کھاد سے تیار، پیار اور توجہ سے لگائی ہوئی فصل ذمہ داری اور احساس کی دولت کے بھگار کے ساتھ ہمسائیوں اور دوست احباب میں

Read more