پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اس خبر سے حادثاتی طور پر واسطہ پڑ گیا جس میں نجی اسکول میں انگریزی نہ بولنے پر بچی کی استاد اور باقی ہم جماعتوں کے ہاتھوں تحقیر کی داستان تھی۔ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں تھی کہ جس تیزی سے اخلاقی پستی کے مظاہرے آج کل دیکھنے، سننے اور برتنے کو ملتے ہیں۔ ان حالات میں یہ کچھ انہونا نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی دل و دماغ مکرتے ہی رہے۔ اندر ہی اندر اس بات کے جھوٹا ہونے کی امید باندھے رہے۔
لیکن ایک اور واٹس ایپ گروپ میں بھی کسی مستند رکن کی طرف سے یہی شیئر کیا جا رہا تھا۔ اور پھر چل سو چل۔ شیخ چلی کی سبھی خوش فہمیوں کی طرح میری بھی سبھی توقعات زمین بوس ہوئیں۔ لیکن تکلیف بہت ہوئی۔ بہت سے بھرم ٹوٹتے ہیں۔ استاد سے کچھ بہتر کرنے کا بھرم۔ نوجوان بچے، بچیوں سے اچھے برتاؤ کرنے کا بھرم۔ انسانیت کے زندہ ہونے کا بھرم۔ پاکستانی، مسلمان ہونے کا بھرم۔ اور اردو قومی زبان، شلوار قمیض قومی لباس، ہاکی قومی کھیل وغیرہ وغیرہ والے ساری غلط فہمیوں کا بھرم۔ یہ سارے نعرے کتابی اور مذاق اڑاتے محسوس ہوتے ہیں۔
Read more