سندھی بنو

میرے ایک آفس کولیگ نے سندھ کے ایک مرحوم لیڈر کا کلپ لگایا جس کا نچوڑ یہی تھا کہ سندھ میں رہنا ہے تو سندھی بن کر رہنا ہوگا۔ بات کچھ اس لئے سمجھ سمجھ میں نہ آ سکی کہ کیا سندھ اور پاکستان دو الگ الگ ممالک ہیں؟ سندھ پاکستان کا ہی ایک صوبہ ہے اور ہم سب اس ناتے سے پاکستانی ہوئے پھر سندھی بن کر رہنے کا مفہوم کیا ہوا۔ ایک بات اور حیران کن تھی اور وہ یہ تھی کہ یہ بات صرف سندھ میں رہنے والی ایک خاص آبادی والوں سے مخاطب ہو کر کہی جا رہی تھی جو پاکستان بن جانے کی محبت میں اپنا تمام مال و اسباب چھوڑ کر پاکستان اور خصوصاً کراچی آ کر بس گئی تھی جبکہ اسی کراچی میں کشمیری، پشتون، گجراتی، کچھی میمن، کاٹھیا واڑی وغیرہ بھی کثیر تعداد میں آباد ہیں اور اپنی اسی پہچان کے ساتھ رہنا فخر سمجھتے ہیں۔

کلپ کے اسی حصے میں ایک اور بات جو نہایت سستی سی تھی وہ یہ تھی کہ دیکھو یہی وہ لوگ تھے جو نہایت بدحالی میں آئے تھے اور اب کوٹھیوں بنگلوں کے مالک بن گئے ہیں۔ ایسا ہے تو ضرور لیکن بدترین حالات میں آنے کے باوجود اگر مناسب زندگی کی جانب آتے جا رہے ہیں تو کیا بنا محنت ایسا ہو رہا ہے اور اس پر فخر کی بجائے غصہ کیوں؟

ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے صرف سندھ میں ہی تو آباد نہیں ہوئے، پاکستان کے ہر صوبے، خصوصاً پنجاب میں بڑی تعداد میں آباد ہوئے اور بسلسلہ روز گار اب بھی نہ جانے کتنے خاندان در خاندان یہی سب لوگ پنجاب کی جانب ہجرت کرتے نظر آتے ہیں لیکن کسی نے وہاں یا اور کسی اور صوبے والوں نے ان سے یہ نہیں کہا کہ خبردار پنجابی، پٹھان یا بلوچی بن کر رہو۔

یہ بات واقعی اچھی نہیں کسی صوبے میں رہ کر کوئی آبادی اپنی الگ پہچان بنائے لیکن کیا جس صوبے کی بات ہو رہی ہے وہاں بنا پہچان بنائے آبادیاں آباد ہیں؟

کلپ دیکھ کر میں بہت دیر تک اس سوچ میں مستغرق رہا کہ سندھی بنا کیسے جاتا ہے۔ کسی غیر مسلم کے مسلمان ہو جانے کے لئے کلمہ پڑھ لینا اسے غیر سے اپنا بنا دیتا ہے تو کیا سندھی بن جانے کے لئے کوئی آیت، کلمہ یا سورت پڑھ کر سندھی بن جانا ممکن ہے۔ دائیں بائیں آگے پیچھے ہی نہیں اوپر نیچے بھی دیکھا لیکن کہیں ایسی کوئی تحریر دکھائی نہ دی۔ ایک ایک کر کے سندھی مکینوں سے معلوم کیا کسی نے ایسے کسی قول و قرار کی نشاندہی نہیں کی۔

وہ تمام انسان جو دو چار سال ہی کے رہے ہوں، آج سے 73 برس برس گزر جانے کے بعد چند فیصد بھی زندہ نہ رہے ہوں اور گمان غالب یہی ہے کہ وہ جن جن کی اولاد رہے ہوں گے وہ تو شاید ہی حیات ہوں۔ چار سے پانچ برس والوں کا شعور ہی کیا ہوا کرتا ہے۔ جنھوں نے شعور کی منزلیں ہی یہاں طے کی ہوں اور پھر ان ہی کی اولادوں نے سندھ کی سر زمین پر جنم لیا ہو بھلا ان کو بھی غیر سندھی تصور کرنا کیا ماورائے عقل نہیں؟

ایک خیال یہ بھی آیا کہ شاید سندھی بن جانے کے لئے سندھی زبان کا بولنا انسان کو پاکستانی سے سندھی بنا دینے کی سند ہو۔ جائزہ لیا تو ایسا بھی نہیں تھا۔ سندھ میں رہنے والے لاکھوں پنجابی، بگٹی، جکھڑانی، کشمیری اور پختون ایسے ہیں جو نہ صرف سندھی زبان سے نا آشنا ہیں بلکہ اندازہ ہی ہے کہ ایسا کرنے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ قومی زبان ”اردو“ ان کی ہر ضرورت کو پورا کر دینے کے لئے کافی ہے۔

ویسے ایک پتے کی بات یہ بھی ہے کہ کراچی سے باہر کے سندھ کے جتنے بھی شہر بشمول حیدرآباد، ہیں اس میں وہ کمیونٹی جس سے یہ مطالبہ ہے کہ سندھ میں رہنا ہے تو سندھی بن کر رہو، ان کا بچہ بچہ سندھی، لکھنا، پڑھنا اور بولنا جانتا ہے اور شاید اہل سندھ سے کہیں شستہ و شائستہ لہجے میں بولتا ہے۔ سوچا کہ شاید اہل سندھ ان کو سندھی مان چکے ہوں لیکن جب یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کو بھی اہل سندھ نے اب تک سندھی ہونے کی سند نہیں نہیں تو پھر کئی اور باتوں پر غور کرنا ضروری ہو گیا۔

سمجھ میں یہی آیا کہ کسی دھرتی پر رہنا، وہاں پیدا ہو کر اسے کی پر ورش کرتے رہنا، اسی دھرتی والوں کی زبان پر عبور بھی ہونا سندھی کہلائے جانے کا استحقاق حاصل کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ کیونکہ ایک خاص کمیونٹی کو بہر صورت سندھی بنائے جانا لازمی قرار دیدیا گیا تھا اس لئے 1973 میں قانون سازی کر کے ایک چکی ”کوٹا سسٹم“ کے کے نام سے بنائی گئی جس سے سندھی ”سازی“ کے عمل کو مہمیز دی جا سکتی تھی۔

نوے کی دہائی تک کسی کو بھی اپنی پہچان بنائے جانے کا شوق نہ ہوتے ہوئے بھی ان سب کو کوٹا سسٹم کے دونوں پاٹوں (شہری و دہی) میں خوب کوٹا گیا مگر ان میں سے جو بھی آٹا نکلا خالص ہی نکلا۔ بد قسمتی سے اپنی پہچان کو آگے بڑھانے والوں کی وجہ سے 90 کی دہائی سے آج تک ان کو ہر لمحہ سندھی بنا دینے کی جو بھیانک تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں شاید ہی تاریخ ان کو بھلا سکے۔

حیران تھا کہ آخر اپنی 70 برس کی عمر میں سندھی بنوں تو کیسے بنوں۔ آج کل کے سوشل میڈیا نے اس الجھن کو کافی حد تک سلجھا کر رکھ دیا۔ غور کیا تو پتا چلا کہ سندھ میں ایک فیصد سے زیادہ ”سندھی“ نہیں ہیں باقی سب کے سب سندھی کہلائے جائے والے سندھی صرف سندھی بن کر رہ رہے ہیں۔ ان ایک فیصد سندھیوں کے گند کی صفائی سے لیکر، اپنے خاندانوں کو گروی رکھ کر اور ایک فیصد وڈیروں کی وڈیرہ گردی برداشت کر کے رہنے والے سب کے سب کے اصل سندھی کہلائے جاتے ہیں۔

کاش یہ بات آج سے 40 سال قبل مجھے اس وقت پتا چل جاتی جب کشمور سے سکھر جاتے ہوئے میری سرکاری گاڑی کو ایک ٹریکٹر ٹرالی نے چھیل ڈالا تو میں اب تک شاید سندھی بن ہی چکا ہوتا۔ دونوں تھانے پہنچے۔ ڈرائیور کے کاٹو تو خون نہیں۔ وڈیرے کا اہل کار ہانپتا کانپتا پہنچا۔ تخمینے کے مطابق مطلوبہ رقم لایا۔ ادھر تھانے میں سندھی بنائے جانے کا ایک منظر بھی دیکھا، کسی مشکوک کو الف ننگا کیا گیا اور پھر اس پر ظلم کی ہر حد گزار دی گئی۔ پیسے لے کر جب روانہ ہونے لگا تو میں نے ٹرالی ڈرائیور کی جانب دیکھا جو سردی کھائے کسی انسان کی طرح کانپ رہا تھا۔ ایس پی سے کہا کہ ڈرائیور کو بھی جانے دیں تو کہا گیا ڈرائیور تو ہمارا نہیں وڈیرے کا مسئلہ ہے۔ آپ جائیں ہم نے مالک کو طلب کیا ہے۔

Latest posts by حبیب الرحمان الیاس (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words