مغرب میں محبت، شادی اور طلاق

یہ خیال عام ہے کہ ہماری بہ نسبت مغرب میں لوگ شادی کے قائل نہیں رہے۔ یورپ امریکا وغیرہ میں لوگ صرف عارضی تعلق میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بس۔ مستقل رشتہ، شادی اور بچے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ وغیرہ۔ یقیناً ایسے لوگ بھی وہاں پائے جاتے ہیں لیکن بہرحال ہنوز لوگوں کی ایک بڑی تعداد محبت اور شادی کی قائل ہے اور یہ لوگ بذات خود یا پھر ان کے والدین ان کی شادی کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ لو اسٹوریز اب بھی واقع اور شائع ہوتی رہتی ہیں۔ رقابتوں کے سلسلے بھی جاری ہیں اور رفاقتوں کے بھی۔ یہاں تک کے کاروکاری یا آنر کلنگ وغیرہ بھی۔ یاد کیجیے گینیتھ پالٹرو اور مائیکل ڈگلس کی ”دی پرفیکٹ مرڈر“ اس قسم کے قصے کہانیوں کو آنر کلنگ ہی قرار دیا جانا چاہیے نہ سادہ سی پریم یا گھورن کتھا! (لو یا ہیٹ سٹوری)۔

اور پھر شہزادی ڈیانا۔ پرنسس آف ویلز انہوں نے ایک شہزادے سے شادی کی۔ بلکہ کی کہاں۔ ہماری طرف کی طرح ان کی شادی بھی ہو گئی۔ جی ہاں صاحبو ہماری طرف اکثر شادیاں ہوجاتی ہیں اور دوسری طرف کی جاتی ہیں یہ ایک بہت بڑا فرق ہے ادھر اور ادھر کی شادیوں میں۔ لیکن بدقسمتی سے شہزادی نے بھی شادی کی نہیں بلکہ لگتا ہے کہ ہو گئی! اور پھر بعد از خرابی بسیار و بہ دقت ہزار طلاق بھی لے لی۔ اور پھر محبت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے ماما پاپا راضی تھے یا نہیں، لیکن پاپا رازیوں کے باعث وہ ایک المناک انجام کو پہنچیں۔ پاکستان میں اپنے مداحوں سمیت اک جہان کو اداس کر گئیں۔ برطانیہ جو کہ نئی تہذیب کا نقیب اور علمبردار کہلاتا ہے اس پر بھی الزام لگا کہ شہزادی ڈیانا کی موت کوئی حادثہ نہیں سانحہ تھا اور وہ بھی آنر کلنگ کا واقعہ۔

اگر پاکستان میں خواتین کے مختلف ڈائجسٹ اور رسائل میں یا فلموں اور ڈراموں نیز ناولوں میں یا کسی حد تک حضرات کی بھی اسی قسم کی تخلیقات میں ہم دیکھتے ہیں کہ تقریباً ہر فرد (اپنی یا پھر کسی اور کی) اور خاندان بچے بچیوں کی شادی کے سلسلہ میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ ہیرو اور ہیروئن معاشی اور معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ عشق و محبت میں بھی مبتلا ہیں اور ابتلا کے شکار بھی۔

والدین، دادے دادیاں، نانے نانیاں، خالائیں اور پھوپھیاں، غرض کہ سالے سالیاں اور بھائی بھابیاں ہر کوئی کسی نہ کسی کے رشتے کرانے کے جتن میں جتا ہوا ہے۔ کبھی کبھی تو بے تکی پروپیگنڈا اور فارمولا کہانیوں کے بیچ شاندار نفسیاتی اور جذباتی پیچیدگیوں سے گندھی ہوئی جاندار کہانیاں بھی پڑھنے دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ انوکھی اور تجرباتی داستانیں، جب کہ کتنی ہی کہانیوں کو پھیلا کر جلدی جلدی سمیٹنے کے چکر میں روایتی حادثات اور واقعات کے ساتھ روایتی انداز میں ”ختم“ کر دیا جاتا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ سارا کھیل ملا نصیرالدین کا کمبل اڑانے کے لیے رچا یا گیا تھا۔ یعنی 20۔ 40 قسطیں یا 4۔ 6 سو صفحات محض ہیروئن کو عروسی لباس میں حجلہ عروسی میں بٹھانے کے لیے لکھے گئے تھے۔

ہم نہ تو انگریزی اور یورپی ادب سے کچھ زیادہ واقف ہیں نہ ہی انگریزی زبان کی کوئی زیادہ جانکاری رکھتے ہیں، اس سلسلے میں اگر کچھ پڑھا ہے تو بچوں کی چند کتابیں یا ان کے سندھی اردو تراجم، جیسے کہ ایڈونچرس آف پنوکیو، (یا اسی ایک ہی کتاب کے تین تین ترجمے بقلم سعید لخت، کمال احمد رضوی اور ایک عدد روسی ترجمے کا بھی اردو ترجمہ مصنف نامعلوم) گلیورز ٹریولز، یا ایڈونچرز آف ٹام سائر وغیرہ، یا پھر سڈنی شیلڈن کے کچھ ناول یا پھر ملز اینڈ بون کے چند درجن بھر ناول یا پھر کچھ ریگل چوکی لٹریچر۔ (یہاں یہ بھی واضح کردیں کہ بہت سارا انگریزی زبان کا ادب جسے ہم خالصتاً انگریزی یا برطانوی ادب سمجھ کر پڑھتے ہیں اس میں عریبین نائٹس کی طرح بہت سی چیزیں یورپ کی دیگر زبانوں سے لی گئیں ہیں، اور الہ دین اور سندباد، جو کہ حقیقتاً سندباد ”ہے، کی طرح انگریزی کی ملکیت اور ورثہ سمجھی جاتی ہیں ) ۔

اسی طرح ہی انگریزی سماج کے بارے میں بھی کچھ زیادہ جانتے ہیں لیکن خاص طور پر ملس ایبڈ بون کے ناولس کی مطابق ہمیں محسوس ہوا کہ ہر زندہ معاشرے کے اور اس کی انسانوں کے کچھ مسائل مشترک بھی ہیں۔ جیسا کہ ملس اینڈ بون کے ناولس میں ہم نے نوٹس کیا کہ دو استانیاں اپنے طلبا اور ان کی تعلیم کے سلسلے میں اسی طرح سے پریشان تھیں جیسا کہ ہمارے اساتذہ ہوتے ہیں، ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ آج کل کے (برطانوی) طلبہ و طالبات (اپنی مادری زبان میں ہی) اپنے لفظوں میں درخواست لکھنا تو کجا ایڈمیشن یا اس قسم کے فارم تک پر نہیں کر سکتے۔ تو بے چارے پاکستانی طلبہ کسی قطار شمار میں ہیں؟

ایک ناول میں تو میں ہمیں کچھ نسوانی کردار کرکٹ اور عمران خان صاحب کا بھی گن گان کرتے نظر آئے!

ارے بھائی ہم تو سمجھتے ہیں کہ وہاں شادی کا شوق اتنا زیادہ ہے کہ بعض اوقات شادی کرنے والے جلدی اور فرط شوق میں صنف و جنس کی بھی پروا نہیں کرتے، اور عجلت میں لڑکا لڑکے سے اور لڑکی لڑکی سے شادی کر بیٹھتی ہے۔ اور ہمارے اس لطیفے کو ہی بے کار بنا دیتے ہیں کہ کیا لڑکے کی لڑکے سے اور لڑکی کی لڑکی سے بھی شادی ہو سکتی ہے؟ اسی طرح سے یہ لطیفہ بھی اب کم از کم ایسے ملکوں میں ایکسپائر ہو چکا ہے کہ کیا آپ شادی شدہ ہیں اور نہیں تو آپ کے کتنے بچے ہیں اور اگر آپ کے بچے ہیں تو کیا آپ شادی شدہ بھی ہیں۔

ملز اینڈ بون کے ناولز میں محبت کے ان قصوں میں ہم نے پایا کہ مغرب میں بھی ایک عام لڑکی اپنی تمام تر آزادی اور بے باکی کے باوجود شادی کے بندھن کی خواہاں ہے۔ محبت کرنا چاہتی ہے شادی کا شوق رکھتی ہے، اور چاہنے اور چاہے جانے کی چاہت میں مبتلا ہے۔ اور ماں بھی بننا چاہتی ہے، اور اس قسم کے مرد بھی پائے جاتے ہیں باقاعدہ اور قاعدے سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ قاعدے سے مراد اپنی طرف والی قرآن شریف سے شادی جیسی کوئی شادی مت سمجھیے گا!

شاید 40 برس پہلے کی بات ہے کہ، انگریزی کی ایک دس بیس برس سی پرانی ایسی پاکٹ بک ہماری نظر سے گزری، جس کا نام یاد ہے نہ ہی مصنف وغیرہ لیکن اس کتاب کے سرورق پر لکھی تحریر آج بھی یاد ہے کہ ”اس وقت کی کہانی جب ہر لڑکی کنواری اور ہر لڑکا ہیرو ہوتا تھا۔“

ہمارے لیے یہ عجیب بات ہو سکتی ہے لیکن وہاں کبھی کبھار جسم ذہنوں سے بھی پہلے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ اور ذہنی ہم آہنگی کے بارے بعد میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہے کہ، ہوئی کہ نہیں؟ یہاں تک کہ بچے بھی ہو جاتے ہیں، لیکن شادی بعد میں ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ وہاں سب کچھ باقی و برقرار ہے لیکن کبھی کبھی ترتیب یا ترکیب میں کچھ گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا کیٹ لاریل آرڈن اور ان کے شوہر نامدار کلیرک گیفورڈ ہیں۔ جنہوں نے بچی کی پیدائش کے تین سال بعد منگنی اور شادی کی۔

اس کے باوجود کچھ لوگ اس پر مصر ہیں کہ نہیں جی وہاں شادی کا سا ادارہ برقرار نہیں تو صاحبان اگر وہاں لوگ شادیاں نہیں کرتے تو پھر ہمیں بتائیں کہ وہاں طلاق کی شرح کیسے بڑھتی جا رہی ہے؟ کیا شادی کے بغیر طلاق کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words