چار ڈالر میں دو شریفے

 ٹورنٹو میں وبا سے قبل کے اچھے دنوں میں جمعے کے روز بعد از نماز ایک پک اپ ٹرک میں اپنے دیسی بھائی، دیسی سبزیاں اور پھل براٰئے فروخت لایا کرتے تھے۔ دام بھی کافی مناسب ہوا کرتے تھے۔ فوم میں ملفوف تازہ شریفوں کو دیکھ کر بے انتہا طبیعت للچائی۔ قیمت پوچھی، دو ڈالر کا ایک شریفہ، تھا تو بہت عمدہ اور ایک مدت ہوئی تھی کھائے ہوئے تو چار ڈالر میں دو شریفے خریدے۔ میرے سامنے ایک صاحب نے پورا ڈبہ خرید لیا۔ گھر آ کر خوب لطف اندوز ہوئی۔ سوچا اس کے بیج گملے میں لگا لوں لیکن یہاں کی آب و ہوا موافق نہیں ہے تو خواہ مخواہ کی محنت ہے۔

کراچی میں پہلی مرتبہ جب شریفہ چکھا تو اس کا ذائقہ اور بناؤٹ منفرد لگی۔ سبحان اللہ، پرت کھولتے جاؤ اور بیجوں کے اوپر لپٹے ہوئے مٹھاس کو کھاتے جاؤ۔ انگریزی میں کسٹرڈ ایپل، ہندی میں سیتا پھل پھر سنا کہ ایک رام پھل بھی ہوتا ہے۔

اسی شریفے کے بیج باورچی خانے کے سامنے کی کیاری میں پھینک دیے۔ اللہ کی شان کہ چند ہی روز میں ننھی ننھی کونپلیں نکل آئیں اور بغیر کسی خاص محنت کے اس کے پودے بننے لگے پودے کچھ جھاڑی نما تھے ابھی پودے دو فٹ کے ہی ہوں گے کہ اس میں پھول آئے اور ان میں چھوٹے چھوٹے شریفے لگے۔ پھل کے ساتھ پودے بھی بڑھتے رہے اس پر جب کوئل منڈلانے لگی تو دیکھا کہ کئی پک کر تیار ہیں۔ پھل میں ہلکی سی نرمی اور سفیدی آئی تو پھل بہترین تیار تھا۔

چند ایک تو پک کر نیچے گر گئے اور مزید پودے نکل آئے یوں پوری کیاری شریفے کے پودوں سے بھر گئی۔ زیادہ مقدار میں پھل آیا تو عزیز و اقارب اور دوستوں کے ہاں ارسال کیے ۔ اسلام آباد سے میرے والدین اور بھائی بہن آئے تو شریفوں کے خوب گرویدہ ہوئے۔ پھر تو اسلام آباد جانے والوں کے ہاتھ ان کو بھی ارسال کیے ۔ لیکن چونکہ گھر کا پھل تھا اور بآسانی میسر تھا تو اس کی قدر جب آئی جب ایک طویل مدت کے بعد اس پر نظر پڑی اور دو ڈالر میں ایک بھی مہنگا نہ لگا۔ جب انسان سے ایک نعمت چھن جائے تو بے حد قدر آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words