افغانستان، اسلام اور چند حقائق


*کیا طالبان اسلامی شریعت کے مطابق اقتدار تک پہنچے ہیں؟ *

اسلام اس حوالے سے واضح ہے کہ اقتدار کے حصول کا دین میں صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے لوگوں کی رائے اور مشورہ۔ قرآن نے یہ اصول ان الفاظ میں بیان کیا ہے وامرہم شورٰی بینھم۔ ﴿الشوریٰ2 4: 83﴾ ”اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔“

مذہبی علماء بالعموم قرآن مجید کی اس ہدایت کو دو پہلووں سے بیان کرتے ہیں، پہلا یہ کہ مشورے کا یہ عمل تمام مسلمانوں سے نہیں بلکہ صرف ارباب حل و عقد یعنی راسخ العقیدہ جمہور علماء اور مذہبی شناخت رکھنے والے زعمائے قوم سے ہوگا۔

دوسرے، مشورے کا عمل اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد ضروری ہے، پہلے نہیں!

ہماری رائے میں یہ دونوں باتیں قرآن میں بیان ہونے والے اس اصول سے ٹکراتی ہیں چونکہ قرآن نے اس بات کو تمام لوگوں سے متعلق ہی بیان کیا ہے کسی خاص طبقے کی قید نہیں لگائی لہذا مشورہ سب سے ہوگا، دوسرا یہ مشورہ کوئی اضافی یا مفید تجویز نہیں بلکہ مسلمانوں امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد ہی مشورے سے ہونا ہے۔

یہ مشورہ کیسے لیا جائے گا، اس کا تعلق انسانی معاشرت اور تمدن کے تقاضوں سے ہے، یہ دین کا موضوع نہیں۔ موجودہ دور میں انتخابات نے اسے باقاعدہ ایک منظم نظام کی شکل دے دی ہے۔

لہذا لوگوں کی رائے کے بغیر بنے والا ہر نظام دین کی ہدایت کے منافی ہوگا۔ اس لیے طالبان کا اقتدار پر قبضہ انتقال اقتدار سے متعلق دین کی ہدایات کی سر تا سر خلاف ورزی ہے۔ ایسی تمام حکومتیں اصلا ناجائز ہی ہوتی ہیں۔

*طالبان نفاذ شریعت کی بات کرتے ہیں، کیا شریعت کا نفاذ ان کے اقتدار کو دینی جسٹیفیکیشن نہیں دے دیتا؟ *

شریعت کا سب سے پہلا تقاضا خود شریعت پر عمل کرنا ہے۔ طالبان کا اقتدار پر قابض ہونے کا طریقہ کار خود ”خلاف شریعت“ ہے۔

اس کے بعد یہ جاننا چاہیے کہ اسلامی شریعت میں دو طرح کے احکام ہیں، ایک جو فرد کو بحیثیت فرد دیے گئے ہیں، اور دوسرے جو مسلمانوں کے معاشرے کو دیے گئے ہیں، پہلی قسم کے احکام خدا اور بندے کے درمیان ہے، ان میں کسی حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ مداخلت کرے یا زبردستی عمل درآمد کروائے، دوسری طرح کے وہ احکام جو معاشرے کو دیے گئے ہیں وہ چند ہیں، لیکن طالبان کے ہاں یہ ترتیب الٹ گئی ہے۔ وہ ماضی میں ان احکامات کو لوگوں پر نافذ کرتے رہے جو نہ صرف یہ کہ فرد سے متعلق تھے بلکہ فرد سے یہ حق بھی وہ چھین چکے تھے کہ وہ ان احکام کو سمجھنے میں طالبان سے اختلاف کرسکیں۔ ڈاڑھی، پردہ، خواتین کی تعلیم، نوکری سفر، آرٹ موسیقی، ٹی وی اور کیمرا، بینکنگ، غیر مسلموں کے مقدس مقامات، ان کے مذہبی تہوار اور شناخت ان تمام معاملات میں انھوں نے خود ساختہ تشریحات کو لوگوں پر نافذ کیا، یہ شریعت پر عمل درآمد نہیں تھا بلکہ شرعی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔

*طالبان کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہو سکتا ہے؟ *

طالبان کا سب سے بڑا چیلنج خود ان کا ماضی ہے! جن چیزوں کو وہ دین کا تقاضا قرار دے کر ماضی انھیں نافذ کرتے رہے ان پر اگر وہ اب کمپرومائز کرتے ہیں تو انھیں اس بڑے سوال کا جواب دینا ہوگا کہ کیا مذہب کے وہ احکام اب تبدیل ہو گئے ہیں؟ یا پھر طالبان کے مذہبی تصورات میں تبدیلی آئی ہے؟

ہم یہ جانتے ہیں کہ طالبان کے مذہبی افکار میں ایسی کسی فکری تبدیلی کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ وہ اصلا اسی نظریہ کو دینی لحاظ سے درست سمجھتے ہیں جس پر وہ عمل پیرا رہے،

چنانچہ ان کے رویے میں یہ تبدیلی اگر عالمی دباو یا اقتدار کو قائم رکھنے کی مجبوری کا نتیجہ ہے تو اس سے طالبان کی حیثیت بہت مجروح ہوگی۔ ان کے اندرونی گروپس اسی طرز پر نفاذ شریعت پر اصرار کریں، اور مسلح تنظیموں میں یہ اصرار جلد انتشار تک پہنچ جاتا ہے۔

طالبان کی تحریک دراصل ان ریاستی قوانین کے فقہی تصورات کی تجسیم ہے جن کا آغاز تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں ہوا تھا، جس کے پس منظر میں عالمی سطح پر غلبہ اسلام اور شوکت کفر کے خاتمے کا مقصد، دارالسلام اور دار الحرب کی جغرافیائی تقسیم، اور مسلمان عوام کی رعایا کے طور پر تنظیم کی نفسیات کارفرما ہے۔

تاریخی عمل نے انسانوں کو جمہوری اقدار، حریت فکر اور اظہار رائے کی آزادی کی صورت میں سماجی سائنسز کو ترقی کی جس منتہا تک پہنچا دیا وہاں ان قدیم سماجی تصورات کا نفاذ اور غلبے کی بنیاد پر بننے والی سلطنتوں کے قدیم قوانین کا اطلاق اب عملاً ممکن ہی نہیں رہا۔ لہذا جب طالبان کا عمل خود ان کے نظریات کی تکذیب کرے گا تو اس میں روایتی مذہبی فکر کے لیے سب بڑا یہی چیلنج ہوگا کہ کیا وہ اپنی فکر کی Reconstruction پر آمادہ ہوں گے یا پھر خاموشی سے اپنے مذہبی تصورات ناقابل عمل قرار دے کر باقی دنیا کے طریقے پر آ جائیں گے۔

*کیا طالبان سعودی عرب کو اپنا رول ماڈل بنا سکتے ہیں؟ *

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم دنیا میں مذہبی حکومتوں کا ٹرائیکا وجود میں آ چکا ہے۔ سعودی عرب میں حنبلی، ایران میں اہل تشیع اور افغانستان میں حنفی دیوبندی نقطہ نظر کی ریاستیں ہیں۔

ان میں طالبان کی زیادہ مماثلت ایرانی طرز کی ریاست سے ہے۔ سعودی عرب کا نظام اصلا بادشاہت پر مبنی ہے۔ اس میں مذہبی معاملات کو محمد بن عبدالوہاب کے خلفاء یعنی آل شیخ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ وہی ہیں جو اب ریاست میں عدالت یا قضا کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ ایران میں طالبان کی طرح ایک نظریاتی مذہبی انقلاب آیا تھا۔

ایرانی ریاست نے مذہبی آمریت میں جمہوریت کا ایک پیوند لگایا ہے۔ چنانچہ اس نظام میں ایک تسلسل بھی ہے اور عالمی سطح پر اس کی قیادت کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔ طالبان کے لیے عملاً یہ ماڈل زیادہ حسب حال ہوگا کہ وہ دستور بنانے کے بعد کسی رہبر کے تقرر اور اس کی تصویب سے انتخابی حکومت قائم کر لیں۔ لیکن اس ماڈل پر عمل درآمد کے لیے سب سے بڑا چیلنج انتخابات سے متعلق ان کے مذہبی تصورات ہوں گے جن میں کسی وسعت کی خواہش ایک افسانے سے کم نہیں۔

*پاکستان میں طالبان کی اتنی سپورٹ کیوں ہے؟ *

پاکستانی معاشرہ اصلا مذہبی معاشرہ ہے۔ چنانچہ جو مذہبی تصورات ہمارے علماء عوام تک پہنچاتے ہیں، عوام انھیں ہی حقیقی دینی لائحہ عمل سمجھتی ہے۔ علما کی سطح پر یہ بات طے ہے کہ جمہوریت اصلا دین میں مطلوب نہیں ہے۔ جو مذہبی جماعتیں اس جمہوری نظام کا حصہ ہیں وہ بھی اسے منزل تک پہنچنے کی محض ایک سیڑھی تصور کرتی ہیں، علما کی نظر میں مذہبی حکومت زمین پر کفر، شرک اور ارتدار جیسے ان جرائم پر سزا دے سکتی ہے جن کا تعلق خدا سے ہے۔

تیسری چیز عالمی سطح پر اسلام کا غلبہ اور شوکت کفر کا خاتمہ ہے۔ طالبان نے ان تمام تصورات کو اپنے عمل سے ظاہر کیا ہے، ان کی نظر میں گیارہ ستمبر کا حملہ دراصل طاغوت کی اسی حیثیت کو چیلنج کرنا تھا۔ اور وہ اسے ایک دینی تقاضا سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اقدام کو انھوں نے اپنے جانیں دے کر بیس سال تک جسٹیفائی کیا۔ چنانچہ پاکستان میں ان کی تائید بہت فطری ہے۔

پاکستان عوام اس تائید میں دراصل طالبان نہیں بلکہ اپنے مذہبی تصورات کی تائید کر رہی ہے۔
*امریکہ کے لیے طالبان سے جنگ میں کیا سبق ہے؟ *

امریکہ کے لیے سب بڑا سبق یہ ہے کہ نظریاتی گروہوں کی حیات ان کی فکر ہوتی ہے۔ یہ فکر جب تک چیلنج نہ ہو، ان کا خاتمہ یا احیا سب وقتی ہیں۔ طالبان مسلمانوں کی اس دینی فکر کی نمایندگی کرتے ہیں جن پر کم و بیش تمام علماء کا اتفاق ہے۔ طالبان نے انھی کے نظریات کو زمین پر لا کر دکھایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب پاکستانی علما نے طالبان کے بعض اقدامات پر ان سے اختلاف کیا تو طالبان قیادت نے انھیں بحوالہ وہ ساری مذہبی فکر یاد دلائی جو انھی علما سے وہ ان کے مدارس میں پڑھ کر اس مقام تک پہنچے تھے۔

لہذا عالمی طاقتوں کو سمجھنا چاہیے کہ اس سوچ سے لڑنے کے لیے صرف B.52 طیارے کافی نہیں، اس مذہبی فکر پر عالمی سطح پر ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اور یہ ڈائیلاگ اصلا مسلمان علماء سے ہونا چاہیے۔ عالمی امن کی ضرورت ہو یا پھر خطے کے استحکام کی طالبان جیسے نظریاتی گرہوں سے اصل جنگ فکر کی سطح پر ہی ہو سکتی ہے۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ طالبان کے استدلال کو counter کرنے کے لیے کوئی جوابی بیانیہ ہو۔ اور یہ جوابی بیانیہ اسلام کے انھی سورسز سے اٹھے جن پر طالبان کا بھی ایمان ہے۔ طاقت سے وقتی تحفظ تو سکتا ہے، دائمی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد حسن الیاس کی دیگر تحریریں