تعلیم، تربیت اور قانون کی حکمرانی
وزیر اعظم عمران خان کی یہ بات بنیادی طور پر درست ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام عملی طور پر تربیت کے فقدان کی وجہ سے اچھے انسان سمیت بہتر معاشرہ بنانے کے عمل میں ناکام ہوا ہے۔ حالیہ کچھ عرصہ میں عورتوں یا معصوم بچیوں کے حوالے سے جو ہمیں تشدد، جنسی خوف ہراس، عورتوں کی عزت اچھالنا، کردار کشی، جنسی زیادتی کے واقعات انفرادی یا اجتماعی طور پر دیکھنے کو ملے ہیں وہ معاشرہ سمیت ریاستی یا حکومتی نظام یا ادارہ جاتی نظام کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف مسئلہ معاشرے میں موجود لوگوں کی تعلیم و تربیت یا معاشرتی کردار کا ہے جو ان میں مثبت رویوں کے مقابلے میں منفی رویوں کو جنم دیتا ہے تو دوسری طرف عورتوں کے خلاف ہر قسم کے جرائم پر قانون پر عملدرآمد یا انتظامی و قانونی اداروں کی کمزوری کے کئی پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا مجموعی تعلیمی نظام جن میں اسکولز سے لے کر جامعات تک یا دینی مدارس سے لے کر گھریلو یا معاشرتی نظام کافی حد تک فرسودہ بھی ہے اور ہماری روزمرہ سے جڑے سنگین نوعیت یا حساسیت پر مبنی معاملات کو حل کرنے میں بری طرح ناکام یا مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔ یہ ہی وجہ ہے سوچنے، سمجھنے یا پالیسی سازی سے جڑے اہم افراد یا اہل دانش میں موجودہ تعلیمی نظام کی افادیت اور معاشرے سے اس کی جڑت پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری تعلیمی پالیسی سے جڑے اہم افراد جو فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے ہیں یا وہ جو حکومتی سطح پر ذمہ داران جوابدہ ہوتے ہیں ان کی ترجیحات میں تربیت سے جڑے معاملات بڑی ترجیح کا حصہ نہیں بن سکے۔ اسی لیے جب عورتوں، بچیوں یا کسی بھی معاشرے میں موجود افراد کے بارے میں ہمیں منفی رویوں یا مجرمانہ طرز کے سلوک کو دیکھنا پڑتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہماری تعلیم اور تربیت کے درمیان جو جڑت ہونی چاہیے، وہ کیونکر نہیں ہو سکی۔
بدقسمتی سے معاشرے میں موجود عورتوں یا بچیوں کے بارے میں منفی رویے یا طرز عمل سے بہت سے افراد ان معاملات کا درست تجزیہ پیش کرنے کی بجائے کچھ جذباتی انداز میں ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو معاشرے کی مجموعی منفی تصویر سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کا بڑا نقصان عالمی دنیا میں ہمارے بارے میں منفی رویوں یا منفی اشاریوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یقینی طور پر معاشرے میں لاتعداد ایسے مسائل ہیں جو حقیقت پر مبنی ہیں۔
لیکن ان مسائل کو معاشرے کے مجموعی کردار کو بنیاد بنا کر پیش کرنا بھی درست حکمت عملی نہیں اور ہم عملی طور پر مسائل کی پوری تصویر دیکھنے کی بجائے جذباتی انداز میں ایک ردعمل کی سیاست کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ سماج سے جڑے معاملات پر تحقیق، سوچ اور فکر کے فقدان نے ہمیں درست تجزیہ بھی پیش نہیں کیا۔ یہ کردار عمومی طور پر ہمارے تحقیق سے جڑے علمی و فکری اداروں یا ملکی سطح پر موجود سماجی علوم سے جڑی جامعات یا اسکالرز کا بنتا ہے کہ وہ میں تجزیاتی طور پر سیاسی، سماجی، اخلاقی، انتظامی، قانونی یا معاشی پہلووں کو بنیاد بنا کر تجزیہ بھی دیں اور کوئی متبادل سوچ اور فکر بھی دیں کہ ان معاملات سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔
معروف دانشور، استاد، ماہر تعلیم اور وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر زیدی کے بقول یہ بات بجا ہے اور سب اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں تربیت کی کمی ہے اور بچوں کو ایک بہتر انسان کے طور پر تیار نہیں کر رہے۔ لیکن اب مسئلہ محض اس اعتراف کا ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط پالیسی، حکمت عملی اور عملدرآمد کے شفاف نظام کا ہے جو تمام فیصلہ ساز یا فریقین کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس کے لیے ہمیں اپنی اخلاقی، دینی تعلیمات، سیرت نبوی کے فرمودات سمیت دنیا میں جدیدیت کی بنیاد پر اپنی نئی نسل کی تربیت کو بنیاد بنانا ہوگا اور اسی میں بڑی اصلاحات یا پالیسی سازی کو اہمیت دینی ہوگی۔ اسی طرح نئی نسل کو معاشرتی یا تعلیمی نظام میں ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنانا ہوگا جو ان میں منفی رجحانات کی بجائے مثبت طرز عمل کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو۔ بالخصوص ہمیں استاد اور طالب علم کے درمیان باہمی تعلق اور سیکھنے سکھانے کے ماحول کو پیدا کرنا ہوگا۔
اسی طرح سماجی علوم کے ایک اور معروف دانشور، استاد، محقق اور وائس چانسلر اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹر زکریا ذاکر جو سماجی معاملات پر تحقیق کا ملکی و بین الا اقوامی میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں کہ بقول مثبت اور تعمیری معاشرتی رویوں کی تشکیل اور خود کو مہذب معاشرے کے طور پر پیش کرنے کے لیے ہمیں علمی و فکری بنیاد پر ایک بڑے بیانیہ کی جنگ لڑنی ہوگی۔ یہ جنگ عملی طور پر معاشرے سے عورتوں، بچیوں، اقلیت اور کمزور طبقات کے بارے میں موجود تعصب، تشدد یا منفی رویوں کے خاتمہ میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکے۔
اس میں تعلیمی نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ جنگ تعلیمی محاذ پر ہی لڑی جائے گی لیکن یہ کام تنہا نہیں ہوگا۔ اس میں معاشرے کے تمام اہم فریقین کو مل کر اسے ایک بڑا قومی سیاسی و سماجی ایجنڈا بھی بنانا ہوگا۔ تاکہ ان معاملات پر عملی اقدامات کی بنیاد پر ایک مشترکہ حکمت عملی اور عمل درآمد کے نظام کو نئی جہت کی بنیاد پر ترتیب دینا ہوگا۔ کیونکہ ہمیں تعلیم سمیت میڈیا اور تمام کرداروں کو بھی اس معاشرتی جنگ میں ذمہ داری اور جوابدہی کے نظام میں لانا ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان کو قومی رویوں یا تربیت کے ایجنڈے پر ضرور بات کرنی چاہیے۔ لیکن ان کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ عملی طور پر ہمارا انتظامی، قانونی اور لوگوں کو تحفظ دینے کے عملی ادارے بہت کمزور ہیں او ریہ اپنی افادیت کے باوجود وہ کام نہیں کر رہے جو ان کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے حکومت کو محض تربیت کی کمی کا بہانہ بنانے کی بجائے اپنے قانونی، عدالتی اور بالخصوص پولیس کے نظام کی بڑے پیمانے پر سرجری درکار ہے۔
کیونکہ داخلی و خارجی معاملات جو معاشرتی سطح پر ہماری بدنامی یا رسوائی کا باعث بنتے ہیں اس کی وجہ ملک میں کمزور قانون کی حکمرانی یا عملدرآمد کا نظام بھی ہے جو عدم شفافیت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ یہ نظام مجرموں کی سرکوبی کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا سیاسی سمجھوتوں کی بنیاد پر اپنی کمزوری دکھاتا ہے۔ بالخصوص جرائم سے جڑے معاملات پر تفتیش کا نظام بہت سے مسائل کا شکار ہے جو خود مظلوموں کی داد رسی کرنے کی بجائے ان پر مزید ظلم کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اسی طرح میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کی سطح پر ہمیں زیادہ سنجیدگی سے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور اس کو قوم کی تعمیر نو یا سماجی رویوں کی تشکیل نو میں شامل کرنا ہوگا۔ کیونکہ جو سماجی رویے بگاڑ کا شکار ہیں ان میں خاص طور پر سوشل میڈیا کا کردار بڑھتا جا رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سول شل میڈیا سے جڑی تعلیم کو قومی تعلیم اور قومی نصاب یا تربیت کے نظام سے جوڑنا ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت علم و تحقیق سے جڑے اداروں کا کردار مضبوط ہونے کی بجائے کمزور یا داخلی سیاست کا شکا رہے۔
اس کے لیے ہمیں خود تعلیم کے نظام میں جدیدیت کی بنیاد پر ایک بڑے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ کام محض نمائشی نعروں، دعووں یا سیاسی جگالی کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ بلکہ اس کے لیے سماجی قومی بیانیہ کی تشکیل نو میں ریاست، حکومت اور تعلیمی اداروں یا سربراہان یا فیصلہ سے جڑے افراد کے درمیان باہمی رابطہ کاری، مربوط پالیسی، فیصلہ سازی سمیت عملدرآمد کے نظام میں بڑی مشاورت کی ضرورت ہے۔ اسی مشاورت کی بنیاد پر ایک نیا تعلیمی ایجنڈا جو تعلیم اور تربیت کے درمیان کلیدی کردار ادا کرسکے ہماری قومی ضرورت بنتا ہے۔ یہ کام محض کسی بھی فریق پر بوجھ یا جبر کی بنیاد پر ایجنڈا مسلط کرنے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے مشاورت اور اعتماد سازی کے ماحول کی ضرورت ہے۔ مگر سوال یہ ہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟


