مینوں سب پتا ہے!

بحیثیت قوم ہم کچھ بھی سیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو انتہا کا قابل اور ہر فن مولا سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے ہم جس میدان میں کود پڑیں گے وہاں فتح کے جھنڈے گاڑ کر آئیں گے۔ ہمارے نزدیک اپنے آپ کو نو آموز ظاہر کرنے سے ہماری عزت گھٹ جائے گی۔ اس رویے سے ہم نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ معاشرتی تعلقات ہوں، ذاتی زندگی ہو، پیشہ ورانہ زندگی ہو یا اجتماعی معاملات ہم شتر بے مہار کی مانند چھلانگیں لگاتے رہتے ہیں۔

ہر دوسرا شخص اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ عقل مند ظاہر کرنے میں عمر گزار دیتا ہے اور یہی نہیں اپنے بچوں کو بھی اس دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نسلیں کی نسلیں ہر میدان میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ اجتماعی سطح پر دیکھیں یا ذاتی سطح پر یہ انحطاط ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ تربیت کا فقدان ہے۔ نئی نسل کی رہنمائی کے لیے کوئی ادارے نہیں، قومی سطح پر کوئی کام نہیں کیا جاتا۔ بچوں کو کیا پڑھنا چاہیے، آگے جاکر وہ کیا کام کریں گے، کسی کو کچھ نہیں پتا۔

ماں باپ اپنے اپنے اسٹیٹس کے حساب سے ان کو اپنی خواہشات کی سولی پر چڑھاتے ہیں۔ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر کے شو بزنس سے وابستہ ہوجانا یا انجنئیرنگ کرنے کے بعد بینک میں نوکری کرلینا عام مثالیں ہیں۔ میٹرک انٹر پاس کی ہوئی لڑکیاں / لڑکے بغیر کسی مناسب تربیت کے استاد مقرر ہو جاتے ہیں اور نئی نسل کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔ پڑھتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ زندگی کے سب سے اہم سنگ میل، شادی جیسے بندھن میں بھی بچوں کو بغیر کسی آگاہی کے دھکیل دیا جاتا ہے۔

نتیجتاً، یہ غیر تربیت یافتہ افراد ہر جگہ اچھاڑ پچھاڑ مچاتے ہیں اور ایسی کی تیسی کر دیتے ہیں۔ یہ مانا کہ بہت سے لوگوں میں غیرمعمولی صلاحیتیں ہوتی ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ یہ غیر معمولی لوگ کسی طرح کی تربیت حاصل کرنے کے بعد ہی پیشہ ورانہ یا ذاتی زندگی کے اہم پڑاؤ پہ قدم رکھیں اور ممکنہ ناکامیوں سے بچ کر ایک اچھی پرسکون اور کامیاب زندگی گزاریں۔ کتنا اچھا ہو کہ ہم یہ تسلیم کر لیں کہ جس بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات حاصل کر کے تھوڑا بہت سیکھ کر آگے بڑھنے میں ہماری اور دوسروں کی بھلائی ہے۔ اپنی زندگی کو تجربوں کی نظر کرنے سے بہتر ہے مستند تعلیم، ہنر یا آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ سیکھنے میں کوئی برائی نہیں اور نہ ہی اس کے لیے ہمیں شرمندہ ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words