سوشل میڈیا: گندا ہے پر دھندا ہے
ایک بازار ہے جہاں ہر کوئی اپنی دکان کھولے بیٹھا ہے۔ اس بازار کا اصول ہے یہاں گاہک کو مال ہر روز فریش چاہیے۔ مانو یہی اس بازار کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گاہکوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور فریش مال کی سپلائی کم۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کا یہی گیپ دکانداروں کو ہر وقت پسوڑی میں رکھتا ہے۔ بازار میں ہر دن فریش مال کا آنا ہی اس دھندے کی لائف لائن ہے۔ اس لئے کبھی ہول سیل میں فریش مال نا ملے تو دکاندار خود مال بنانے لگ جاتے ہیں۔
اگرچہ کام رسکی ہے، پکڑے جانے کا ڈر بھی اور کبھی کبھی مستقبل دکان بند ہونے کا خوف بھی۔ مگر کمپیٹیشن اتنا ہے کہ وہ یہ رسک لینے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ کبھی مال بک جاتا ہے، کبھی پکڑا جاتا ہیں۔ کبھی وضاحت دے کر چھوٹ جاتے ہیں کبھی معافیاں مانگ کر۔ مگر یہاں سب چلتا ہے کیونکہ گاہک کی یاداشت کمزور ہے اور مال کی شیلف لائف بہت کم۔ اگلے دن نیا مال، نیا وبال۔ رات گئی بات گئی۔
اس بازار کے گاہک بھی نرالے ہیں۔ ہر گاہک کا ایک پروفائل ہے جہاں سے آپ اس کی خریداری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ یقین مانئیے کئی پروفائل دیکھ کر آپ پریشان نا ہوئے تو حیران ضرور ہوں گے۔ وہی گاہک جو ایک دکان سے حیا اور ایمان خرید رہا ہے، ساتھ والی دکان سے کسی حسینہ کی تصاویر مانگتا پایا جاتا ہے۔ ایک دکان سے حب الوطنی کے نعرے خرید رہا ہے تو دوسری دکان سے امریکہ کا ویزہ خریدتا پایا جاتا ہے۔ کوئی ابھی ابھی نئے کاروبار کا موٹیویشنل چورن لے کر فارغ ہوا ہے تو ساتھ ہی سرکاری نوکری کا فارم بھی خرید کر جیب میں ڈال رہا ہے۔
کوئی یتیموں بیواؤں کے نام پر سودا بیچ رہا ہے تو کوئی راتوں رات امیر بننے کے نسخے۔ کوئی ایک پڑیا سے ہر بیماری کا علاج بیچ رہا ہے تو کوئی گھر بیٹھے بغیر کام کیے پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کے وعدے۔ ہر گاہک سمجھتا ہے وہ دکاندار کو بے وقوف بنا رہا ہے اور دکاندار سمجھتا ہے گاہک کو۔ دونوں کو پتا نہیں جس نے یہ بازار کھولا ہے، اصل میں سب اس کے ہاتھوں ماموں بن رہے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہاں کی چکا چوند دیکھ کر بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے سب چھوڑ کر اسی محلے میں اپنا مکان بنا لیں۔ انھیں کبھی سیاست کے دلفریب نعرے بہت بھاتے ہیں تو کبھی مذہبی دکانوں کا سودا خالص لگتا ہے، حب الوطنی کے چورن کو پیٹ درد کا علاج سمجھنے لگتے ہیں تو کبھی ہر حسینہ کے وعدے پر یقین کر کے دل دے بیٹھتے ہیں۔ بے چارے یہ بھی نہیں جانتے کہ دکان پر تصویر حسینہ کی ہے پر دکاندار اصل میں پپو چارجر ہے۔ عجیب دوغلا بازار ہے۔ بیچنے والے بھی منافق، خریدار بھی منافق۔ پر یہاں سب چلتا ہے۔ کوئی برا نہیں مناتا۔ خریداری جاری رہتی ہے۔ گندا ہے پر دھندا ہے۔
میری مانیں یا تو اس بازار سے دور رہیں یا پھر ونڈو شاپنگ کر کے نکل جائیں یہاں رشتے داریاں نہ بنائیں کون کب کہاں کیسے آپ کے ساتھ کیا ہاتھ کرے جائے گا آپ سوچ بھی نہیں سکتے لہذا بازار کو بازار ہی سمجھیں فائدے میں رہیں گے۔ باقی آپ کی مرضی۔ مشتری ہوشیار باش میں نے کر دیا۔


