کورونا / کوویڈ 19 وبا کا کاروبار (500 ارب امریکی ڈالر کی نئی کوویڈ معیشت)

کورونا، حالیہ تاریخ کا مہلک ترین وائرس، چند لوگوں کے لیے ایک سنہرا موقع ثابت ہوا ہے جبکہ باقی لاچاروں کے لیے یہ نری آفت اور موت ہے، جو کسی نہ کسی طرح اس کے مہیب پنجوں سے بچ نکلے اُن کے لیے یہ شدید معاشی و عمیق نفسیاتی مسائل کا سبب بن گیا۔

انسانی بقا کی اس لڑائی کے دوران سامنے آنے والی سازشی تھیوریوں کو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔

بتدریج، اس وائرس نے عالمی دواﺅں کی ایسی ڈگمگاتی ہوئی نئی معیشت کو جنم دیا جو ڈھیلے ڈھالے اندازوں کے مطابق بھی اس وقت پانچ سو بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے، اس تیزی میں تقریباً پچاس فیصد نقد کا تازہ اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وبا سے پہلے بھی دواﺅں کی یہ عالمی معیشت 1200 بلین امریکی ڈالروں کے آس پاس تھی، جس کا بڑا حصہ فائزر، گلیکسو، مئیرز، سنوفی اینڈ روش وغیرہ جیسے بڑے دواساز اداروں کے پاس تھا۔

زیادہ باریک تفصیلات میں جائے بغیر طائرانہ سا جائزہ لیں تو اب تک اس وبا پر اٹھنے والے نقد اخراجات کے چار بڑے حصے ہیں: پہلی مد ہے کوویڈ کا ٹیسٹ (اس میں تشخیصی کٹ اور ہسپتالوں کے اخراجات شامل ہیں) تقریباً چار بلین لوگوں کے لیے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، اوسط 30 امریکی ڈالر فی فرد کے حساب سے اب تک 120 بلین امریکی ڈالر اس مد میں تادمِ تحریر خرچ ہو چکے ہیں۔

دوسری مد ہے یونیورسل ویکسینیشن، اس مد میں اوسط فی فرد دو خوراک پر 30-32 امریکی ڈالر خرچ ہے یعنی یونیورسل گلوبل امیونائزیشن پروگرام 210 بلین امریکی ڈالر کا ہے۔ اِس حوالے سے اب تک سامنے آنے والے مواد (ڈیٹا) کو اگر دیکھیں تو کورونا ویکسین کی لاگت مختلف برانڈز کے حوالے سے فی فرد 6 امریکی ڈالر سے لے کر 60 امریکی ڈالروں تک پہنچتی ہے، اتنے بھاری خرچ کے باوجود ویکسین کی دستیابی (سپلائی) کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔

کورونا ویکسین کی بڑی پیداواری کمپنیوں میں ایک فائزر (Pfizer)ہے، ان کے اپنے شائع کردہ مالی جائزوں کے مطابق اس کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ 2021ء میں ویکسین کی 2.1بلین خوراکیں اوسطاً بتیس امریکی ڈالر کی لاگت (دونوں خوراکوں کی قیمت) سے امریکہ اور یورپی حکومتوں کے لیے تیار کرے گی۔ ان کا اس برس کا منافع تقریباً دُگنا ہو کر 7.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا یہ گذشتہ برس ہونے والے ان کے نفع سے تقریبا 86 % زیادہ ہے۔ یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ صرف کوویڈ ویکسین کی فروخت فائزر کی دیگر سات سب سے زیادہ بکنے والی (وہ دوائیں جن کا کوویڈ سے وابستہ بیماریوں کا کوئی تعلق نہیں ہے) دواﺅں کے مجموعی فروخت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ فائزر، جس میں بڑا حصہ ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا ہے، گذشتہ 83 برس سے اپنے سرمایہ کاروں میں نفع تقسیم کرتی آ رہی ہے لیکن 2021 کی دوسری سہ ماہی میں اس نے اپنے شراکت داروں میں جو 2.2 بلین امریکی ڈالر کا نفع تقسیم کیا ہے اس جیسی توکوئی مثال اس سے پہلے موجود نہ تھی۔

فائزر کے جرمن شراکت دار بائیون ٹیک اور موڈرنا (ریاستہائے متحدہ امریکہ) جن کے پاس بہ مشکل ہی کوئی نقد آور دوا موجود تھی اب راتوں رات ہی دُنیا کی بیس بڑی فارما کمپنیوں میں شامل ہو گئے ہیں اور اس وقت یعنی 2021 میں اُن کے نفع کا اندازہ 5 بلین امریکی ڈالر (فی کمپنی) لگایا جا رہا ہے اور یہ سب صرف ایک دوا کی بدولت ہوا ہے: کوویڈ 19 کی ویکسین کی بدولت۔ فائزر / بائیون ٹیک اور موڈرنا انسانی تاریخ میں پہلی بار لیبارٹری میں تیار کردہ جینوم کنٹرول۔ میسنجر آر این اےmRNA) ) ویکسین کی تیاری شروع کر چکے ہیں، اس کے برعکس چینی ویکسین کی بنیاد وائرس کو غیر فعال بنانے کی تکنیک پر ہے، جیسے پولیو کے لیے تیار کردہ ویکسین کام کرتی ہے۔ روسی ویکسین، سپوٹنک، آسٹرا زینیکا اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین وائرل ویکٹر تکنیک پر کام کرتی ہیں، مذکورہ تکنیک پر اس سے پہلے ایبولا وائرس کے لیے بنائی جانے والی ویکسین کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

کوویڈ مریضوں پر امریکہ کے اندر اوسطاً 92000 امریکی ڈالر فی مریض، نو دِن ہسپتال رہنے کے اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے ہیں۔ عالمی سطح پر ہونے والی چالیس لاکھ ہلاکتوں میں سے تقریباً نصف پر کسی نہ کسی شکل میں ہسپتال میں داخلے کے اخراجات مختلف سطحوں پر ہوئے ہیں۔ صرف امریکہ میں اب تک 18 بلین امریکی ڈالر 196000 مریضوں کے ہسپتالوں میں علاج پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ امریکہ میں یہ ہسپتالوں میں جیب سے کیے جانے والے اخراجات میں ہونے والے اضافے سے 400% زائد اخراجات ہیں جبکہ غریب ملکوں میں تو لوگوں نے اپنے گھروں کا سامان تک بیچ کر اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے اخراجات کیے ہیں۔ عالمی سطح پر ہسپتالوں کے اندر علاج پر اب تک لوگ 60 بلین امریکی ڈالروں سے زیادہ اخراجات کر چکے ہیں۔

اور آخری بڑی مد ہے بریک تھرو کیس (وہ لوگ جنہیں ویکسین لگوانے کے باوجود کوویڈ کا سامنا ہوا) اور بوسٹر ڈوز کا، اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ آنے والے چند برسوں میں مخصوص وقفوں کے بعد ان کی ضرورت باقی رہے گی، جب تک، اِس وائرس سے نپٹنے کے لیے کوئی پائیدار اور مستقل نوعیت کی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی۔ کوویڈ ویکسینوں کی اکثریت کی پہلے چھے ماہ میں (ویکسین لگوانے والوں میں) موثر ہونے کی شرح 60-93% کے درمیان ہے، ان میں سے اکثریت پر اس کا اثر ایک فیصد فی مہینہ کے حساب سے کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا آنے والے چند برسوں کے دوران کوویڈ ویکسین لگانے کا عمل جاری رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فائزر نے پہلے ہی، کوویڈ 19کے انڈین ڈیلٹا ویرئینٹ کے خلاف تیسری، بوسٹر ڈوزلگانی کی مہم کو اپنی ویب سائٹ پر بڑھاوا دینا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر دواﺅں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 16% کی مہنگائی صرف سات مہینوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔

کورونا کاروبار کا خلاصہ:

حوالہ: بڑے ادویات ساز اداروں کا چھپا ہوا مالی مواد۔ (مصنف نے جامعیت کے لیے اس مواد کا خلاصہ کیا ہے)۔

اونگھ لینے سے پہلے جو سفر آپ کو طے کرنا ہے!

ہو سکتا ہے کوئی اپنی سادہ لوحی میں یہ دلیل سامنے لائے کہ کوویڈ کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی کے لیے اخراجات فرد نہیں بلکہ حکومتیں ادا کر رہی ہیں۔ اچھا، اگر ایسا ہو بھی تو یہ بتائیے کہ حکومتیں اپنے اخراجات کہاں سے کرتی ہیں، آپ کے ادا کیے ہوئے ٹیکسوں سے۔ نو دریافت مواقع کی قیمت۔۔۔ کورونا!

دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ ایمرجنسی بنیادوں پر ممکنہ ویکسین کی وسیع پیمانے پر تیاری اور ان کے کلینیکل ٹرائل کے لیے بائیو میڈیکل ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BARDA) نے، جو کہ امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات (HHS) کا ایک ذیلی دفتر ہے، امریکہ اور یورپ میں کوویڈ 19ویکسین بنانے والی پانچ بڑی ادویات ساز کمپنیوں کو 10 بلین امریکی ڈالر سے زائد کی امداد مہیا کی، محکمہ صحت کا یہ ذیلی ادارہ امریکی محکمہ دفاع کی مشاورت کے ساتھ بیماریوں سے بچاﺅ کے لیے جوابی اقدامات اٹھاتا ہے۔ ایمرجنسی سے نپٹنے کے لیے مہیا کی جانے والی یہ امداد بھی امریکی ٹیکس دہندگان کے ادا کیے گئے پیسوں سے ہوئی۔

واحد مثبت مقصد، اگرچہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں، بظاہر یہ دکھائی دیا ہے کہ فطرت نے عمومی طور پر اور ترقی یافتہ اور اوپری درجے کی آمدنی رکھنے والے ممالک کو خاص طور پرسیدھی راہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ حیران کن طور پر، امریکہ کے بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے مطابق، کوویڈ سے ہونے والی اموات کی تعدا د ترقی یافتہ ممالک میں کم ترقی یافتہ کی نسبت چھے گُنا زیادہ ہے۔

یہ بات ورطہ حیرت میں مبتلا کر دینے والی ہے، 10 اگست 2021 کو جاری ہونے والی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کی رپورٹ کے مطابق، اس وبا کے دوران اس وائرس کے متاثر کرنے کی مجموعی بلند ترین شرح ترقی یافتہ دنیا میں 89% اور اس سے ہونے والی اموات کا 90% تک جا پہنچی۔ مجموعی اموات کا 47% امریکہ میں، 29% یورپ میں اور جنوب مشرقی ایشیا میں 14% رہا۔ امریکہ کے بروکنگ انسٹیٹیوٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی اموات کی تعداد کم ترقی یافتہ ممالک کی نسبت چھے گُنا زیادہ ہے۔ یہ وائرس اتنا ذہین کیونکر ہے کہ ا س نے اپنا ہدف امیر اور ترقی یافتہ ممالک کو ہی بنایا اور وبا سے نپٹنے کے حوالے سے ان کے نظامِ صحت اور سیاسی نظام کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ کیا وقت نہیں آن پہنچا کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ انسانیت کی ترقی اور اس کے عروج کے یہ خود ساختہ مراکز خود کو فطرت کے اس قہر سے بچانے میں ناکام رہے؟

اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر یہ وبا ادھیڑ عمر کے لوگوں کے لیے بہت ہلاکت خیز اور تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ امریکہ میں ہونے والی اموات (67%) کا دو تہائی 65 برس سے زائد عمر کے ریٹائر لوگوں پر محیط ہے۔ تیس برس سے کم عمر میں ہونے والی اموات کی شرح جنوری 2021 تک 3.5% تھی۔ فطرت واضح طور پر بہت سیانی اور تفریق روا رکھنے والی ثابت ہوئی ہے۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکہ میں بے گھر افراد، جن کو بد بختی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور جن کی حفظان صحت کی صورت حال بہت ہی دگرگوں ہے، ان میں امریکہ کے بے گھر پانچ لاکھ افراد میں صرف 462 اموات کی اطلاع ملی۔ endhomelessness.org کے مطابق امریکہ میں ہونے والی اموات کی شرح میں سے نصف سے بھی کم کی شرح ان میں رپورٹ کی گئی۔ یہ کیونکر ہوا؟

اس کے ساتھ ساتھ بڑے ادویات ساز ادارے اپنے حصص کی قیمتوں میں ہونے والے اضافوں اور آمدنی کے باعث بڑا نفع اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں۔ یورپی پارلیمان کے اندر بڑی ادویات ساز کمپنیوں کے سینکڑوں لابسٹوں نے صدر بائیڈن کی یہ اپیل کہ بڑی فارما کمپنیاں اپنی ادویات پیٹنٹ کرانے کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کریں اور زیادہ انسانیت نواز اور داخلی سوچ اپنائیں، مسترد کر دی ہے۔ برسلز میں قائم crrporateeurope.org کے مطابق ادویات ساز کمپنیوں کے لابی کرنے کا خرچ سالانہ 38 ملین امریکی ڈالر ہے (یا دوسرے لفظوں میں یہ فارما سے حاصل آمدنی کا 0.002 % بنتا ہے)۔

قصہ کوتاہ کہ ترقی یافتہ ممالک نے کورونا وبا کے باوجود اپنے رویے میں رتّی بھر تبدیلی نہیں کی۔ سیاست، ادویات کی سفارت کاری اور منافع اندوزی ہر شے عروج پر ہے، ہمیشہ کی طرح، اور بہ مشکل ہی اس فطری تباہ کاری سے کوئی سبق سیکھا گیا ہے۔ سبق تو خیر کیا سیکھا جاتا، کوویڈ وائرس جو انسانیت کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوا، وہ بڑے ادویات ساز اداروں کے لیے غیر انسانی نفع کمانے کا ایک اور ذریعہ بن چکا ہے۔

چالیس لاکھ سے زائد اموات ہونے کے باوجود اس وبا نے سرمایہ کار دُنیا کو دھچکا نہیں پہنچایا۔ جب اس انسانی المیے سے حاصل ہونے والے فوائد کی تقسیم کی بات ہوتی ہے تو یہ ان لوگوں کے لیے بالکل معمول کا عمل دکھائی دیتا ہے۔ اور اب کی بار تو ایسا انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اس گلوب پر سانس لینے والا ہر فرد ان کا گاہک /مریض ہے کیونکہ کوویڈ اپنے پھیلاﺅ میں عالمی نوعیت کا حامل ہے۔ یہ بیماری کا شکار کوئی چھوٹا سا مخصوص گروہ نہیں ہے جو ”بگ فارما“ کا ہدف ہے بلکہ ساری نوع انسان، سات ارب سے زائد لوگ اس بار ان کا ہدف ہیں۔

سازش؟ فائزر، موڈرنا ، جانسن اینڈ جانسن (امریکہ)اور بائیوٹیک (جرمنی) کو گذشتہ پانچ برس میں حاصل ہونے والے نفع کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو اس سوال کا جواب آسانی سے سامنے آ جائے گا۔

مترجم: ثقلین شوکت

Comments - User is solely responsible for his/her words