بھارت اور پاکستان: عوام کی بے دست و پائی کا مقابلہ
آپ اتنے جھگڑالو کیوں ہیں؟ آپ کسی کی سنتے کیوں نہیں؟ آپ اتنے ضدی کیوں ہیں؟حوصلہ کریں آپ اکیسویں صدی کے وزیرِ اعظم ہیں۔ یہ سوالات نریندر مودی وزیرِاعظم ہند سے کئے گئے ہیں۔ اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مخالفین پر مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ وہ اگر مطلوبہ سیاسی پارٹی میں شامل ہو جائیں تو ٹھیک، ورنہ ان کی زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے۔ یہ اطلاع بھی بھارت کی موجودہ حکمران جماعت کے بارے میں ہے۔ ضمانت معمول کی بات ہے۔ جیل بھیجنا غیر معمولی عمل ہے۔ وکیلوں کو بھارت میں جج صاحبان کو یاد کروانا پڑا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ناجائز قابضین سے علاقہ خالی کروایا جا رہا ہے۔
کوریگاوں میں جہاں دس ہزار جھونپڑیاں تھیں اب وہاں ہزار جھونپڑی رہ گئی ہے۔ یہ وہ سرپھرے لوگ ہیں جو اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی بغیر لڑے سرکار کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے پولیس اورفوج کے دستے بھیجے گئے ہیں۔ یہ بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات ہیں۔ وکیلوں نے پولیس والوں کی دھلائی کر دی۔ دہلی کی خبر۔ اکشے کمار کی فلم ’ گبر زندہ ہے‘ میں ہسپتال کا سین سب کے ذہن میں ہو گا جس میں انتظامیہ ایک لاش کا علاج کرنے کے لیے تیار ہے۔ لاش سے یاد آیا، میڈیا پر بھی ایسی ایسی ہی مہربانیاں ہیں۔ دلت لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی رپورٹنگ کے لیے آئے صحافی جیل میں۔ البتہ ملزم باہر۔ یہ نیا بھارت ابھی زیرِ تعمیر ہے۔
لیکن نئے میڈیا آرڈینینس کی صورت میں نیا پاکستان، اظہار پر قدغن کی خواہش و کاوش میں بھارت سے آگے نکل گیا ہے۔
باقی، آپ کی دعا سے، اپنے ہاں بھی سب کچھ ایسا ہی ہے۔ جھگڑالو، ضدی، کسی کی نہ سننے والا، جسے معلوم ہی نہیں کہ وہ اکیسویں صدی کا (کٹھ پتلی) وزیرِ اعظم ہے۔
بھارتی اداروں والی ساری داستان لفظ نیب میں سموئی جا سکتی ہے۔ کراچی میں ایمپریس مارکیٹ اور وہاں کے رہائشیوں کے ساتھ پچاس سال بعد جو ہوا۔ باقی غریب علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تاہم بحریہ ٹاون، بنی گالا اور حیات ریجنسی کے لیے قانون کے دل میں نرم گوشہ ہے۔ بھارت میں تو چیف جسٹس رنجن گوگوئی ریٹائر ہوتے ہی حکمران جماعت کی طرف سے راجیہ سبھا کے ممبر ہو گئے۔ افسوس !پاکستان میں ریٹائر چیف جسٹسوں کی خدمات کو ایسے نہیں سراہا جاتا۔ جبکہ بھارتی اپنے ریٹائر جرنیلوں کی اتنی عزت نہیں کرتے جتنی پاکستان میں کی جاتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ آج سے 74 سال پہلے برطانوی ہند کی جانشین ریاستوں کے طور پر بھارت اور پاکستان کے وجود میں آنے سے فرق کیا اور کہاں پڑا؟ جواہر لال کا سوشلسٹ معاشرہ اور جناح صاحب کا ماڈرن نیشنل سٹیٹ کا خواب! دونوں ریاستیں اپنے اپنے عوام کے حق میں پیشرو برطانوی سماج سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئیں۔ آکار پٹیل نے تو بھارتی ریاست اور نہرو کے تعلقات کا تجزیہ کرتے ہو ئے یہاں تک لکھا ہے کہ جہاں عوام اور ریاست کے مابین ٹکراو نظر آیا وہاں پنڈت جی ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ریاستی مفاد کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ یہ تبصرہ محض بھارتی ریاست پر نہیں ہے۔
پاکستان اور بھارت میں بنیادی فرق بھارت کے مسلسل انتخابات ہیں۔ اب یہ بھارتی حکمرانوں کی ذہانت ہے کہ انتخابات بھی ہو رہے ہیں اور عوام کو اوقات میں بھی رکھا ہوا ہے۔ پنڈت نہرو کے زیرِ نگرانی بھارتی مقتدرہ نے یہ کمال تو کر دکھایا ہے۔ حوالے کے لیے خوفناک مثال تو دلت ہی ہیں۔ باقی مسلمان، عیسائی اور سکھ تو ہیں ہی دوسرے درجے کے شہری۔ یہی فقرہ پاکستان میں ایسے لکھا جائے گا۔ عیسائی، ہندو، سکھ تو ہیں ہی دوسرے درجے کے شہری۔ قادیانیوں کا ذکر ہم نے خود نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ آئین، قانون اور ایسے ریت رواج جو ہر انسان کو برابری کا حق دیتے ہیں ؟وہ سب گئے تیل لینے۔
یہ پاکستانی عوام کی تعریف ہے کہ طاقت کا ننگا استعمال بھی انہیں اپنے حقوق طلب کرنے سے نہیں روک سکا۔ مین لینڈ بھارت کے بالکل برعکس۔ یہاں عوام کو ان کا حق دینے سے بچنے کے لیے مقتدرہ کو پاکستان کے دو ٹکڑے کرنا پڑے۔ اس کے باوجود باقی ماندہ پاکستان میں بھی بھٹو آمریت، ننگا مارشل لا اور ہائبرڈ جمہوریت کو بروئے کار لانا پڑا۔ پاکستان میں مقتدرہ کی یہ مجبوری رہی ہے۔ اس عجیب و غریب ملغوبے میں کئی مداری اپنا کرشمہ دکھاتے رہے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔
بنیادی سوال تو یہی ہے کہ آخر برطانوی سامراج کی جانشین یہ ریاستیں نظام کو عوام دوست کیوں نہیں بنا سکیں؟حکمران طبقے کی کرپشن کو ختم کرنا تو کجا، یہ تو اسے بڑھاوا دینے میں معاون و مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بیگماتی طریقے سے اقتدار کی منتقلی نے تمام سامراجی اداروں کو برقرار رکھا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ان میں جبر اورعوام کی فلاح و بہبود روکنے کے مشن میں نئی روح پھونک دی۔ یہ پھونک مقامی سیاست دانوں نے ماری تھی۔ تاہم اب آزادی کے اتنے برسوں بعد یہ محض ایک درسی مشق ہو گی کہ اگر برصغیر مسلح جدوجہد کے نتیجے میں سامراج کو مار بھگاتا تو اس کے اداروں کی نوعیت کیا ہوتی۔ (ویسے اس جدوجہد کی ایک جھلک نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کی صورت میں ہمارے پاس ہے)۔ نتیجہ یہ کہ ابھی تک جنوبی ایشیا میں ریاستوں نے فرد کے حقوق کا اقرار شروع بھی نہیں کیا۔ دائروں کے اس سفر سے نکلنا ایک طویل کشمکش ہے۔ جس میں ریاستیں فرد کی معاون کی بجائے مخالف ہیں۔ مشکل مرحلہ ہے فرد کے حقوق کا بطور فرد اقرار۔
ریاست اور فرد کا تضاد۔ سماج اور فرد کا تضاد۔ جنوبی ایشیا میں انتہائی استبدادی ریاستوں کے ہوتے ہوئے بھی یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل امر ہے کہ فرد کو بطور عاقل و بالغ مرد یا عورت کے طور پر قبول کرنا، جس کے حقوق اور حدود کا احترام لازم ہے، سماج کے لیے زیادہ مشکل امر ہے یا ریاست کے لیے؟ اب تک آئینی حقوق کے ہوتے ہوئے بھی معاشرتی و ریاستی ریکارڈ مایوس کن سے بھی کچھ اوپر کا معاملہ ہے۔ اسی لیے تو دہلی دنیا کا rape capital ہے اور لاہور شہر میں ہزاروں کا مجمع عورت کا محافظ نہیں، تماشبین ہو گیا ہے۔
فرد کی سماج اور ریاست میں محترم ترین اکائی کے طور پر اعتراف۔ ان دونوں مراحل کا احساس اور اس کے لیے تحریک۔ اگر یہ یک جا نہ ہوئیں تو آزادی کا یہ سفر مزید کٹھن ہو جائے گا۔ کہ کسی بھی ایک محاذ پر کمزوری دوسرے محاذ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔


