پاکستان میں ‘جبری گمشدگیوں’ کا معاملہ، ‘وزیرِ اعظم کے وعدے کے باوجود ہمارے پیارے لاپتا ہیں’

لاپتا افراد نے پیر کو کراچی میں احتجاج بھی کیا تھا۔

سلیم انیس الرحمٰن کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ان کی موٹر سائیکل ورکشاپ تھی۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں 11 جنوری 2016 کو اورنگی ٹاؤن کی پولیس اپنے ساتھ لے کر گئی جس کے گواہ مارکیٹ میں موجود کئی افراد تھے۔ لیکن وہ دن اور آج کا دن چار بچوں کے باپ سلیم کی کوئی خبر نہیں ملی کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔

سلیم کے بھائی نعیم کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کا سب سے بڑا بیٹا عبداللہ اکثر اپنے والد کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ چچا میرے والد کب آئیں گے۔

اُن کے بقول "ہم عبداللہ کو تسلی دے دے کر تھک چکے ہیں، اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ہم نے ہر دروازے پر دستک دی۔ ہر جگہ درخواست دی، ایف آئی آر کٹوائی، ہائی کورٹ میں پٹیشن چل رہی ہے وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔”

نعیم کہتے ہیں کہ انکوائری کمیشن میں گئے تو کہا گیا کہ ان لوگوں کو گواہی کے لیے دوبارہ لاؤ جنہوں نے سلیم کو لے جاتے دیکھا تھا۔ لیکن اب اتنے عرصے کے بعد گواہ کہاں سے لاؤں اور پھر کوئی گواہی دینے کو تیار ہی نہیں۔ نہ کوئی ادارہ یہ ماننے کو تیار ہے کہ سلیم کہاں ہے۔

سلیم کے والد اور والدہ نے پیر کو لاپتا افراد کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی اور اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

باسٹھ سالہ اسلم آرائیں بھی ایک نوجوان کی تصویر اٹھائے مظاہرے میں شریک تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دس برس قبل لاپتا ہونے والے اپنے بیٹے فیصل آرائیں کی گمشدگی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ فیصل کراچی کے شپ اونرز کالج میں انٹر کا طالبِ علم تھا۔ نو جنوری 2012 کو گھر سے کچھ سامان لینے کی غرض سے صدر کی جانب بتا کر گیا۔ لیکن اس کے بعد اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

فیصل کی گمشدگی کی ایف آئی آر نمبر 26 تھانہ مومن آباد میں داخل کرائی گئی مگر پولیس ڈھونڈنے میں ناکام رہی۔ اسلم کے مطابق ان کا کیس ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا اب سپریم کورٹ جا پہنچا ہے لیکن اتنے برسوں میں بیٹے کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اکثر نامعلوم نمبروں سے کال آتی ہے کہ ان کا بیٹا ٹھیک ہے، اسے جلد چھوڑ دیا جائے گا۔ آپ درخواست واپس لے لو اور کچھ عرصے کے بعد وہ فون نمبر بند ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ یقین ہے کہ ان کا بیٹا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کے پاس ہے۔ جب ان سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو اسلم کے بقول ہائی کورٹ میں ان کی درخواست کی شنوائی کے موقع پر پولیس اور رینجرز نے اپنا جواب جمع کرا دیا کہ فیصل ان کی تحویل میں نہیں۔ لیکن خفیہ ایجنسیوں ‘آئی ایس آئی’ اور ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے اس بارے میں کوئی جواب جمع ہی نہیں کرایا گیا۔ اسلم نے سوال کیا کہ اگر میرا بیٹا ان کے پاس نہیں تو انہوں نے اس کا انکار کیوں نہیں کیا؟

ایسی درجنوں کہانیاں لیے مبینہ جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ نے کراچی کے گورا قبرستان سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی اور اس کے اختتام میں علامتی دھرنا دیا۔

بلوچستان کے علاقے تربت سے تعلق رکھنے والی سیما بلوچ کے بھائی شبیر بلوچ کو لاپتا ہوئے کئی برس گزر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کے اور دیگر لاپتا افراد جلد واپس لوٹ آئیں گے۔ سیما بلوچ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد واپس تو آئے لیکن زندہ نہیں بلکہ گولیوں سے چھلنی ان کی لاشیں ملیں۔

سیما کہتی ہیں کہ "وزیرِ اعظم صاحب کیا یہ آپ کے وعدے کا نتیجہ ہے کہ ہمارے پیاروں کی لاشیں لوٹ رہی ہیں۔”

سمی بلوچ کراچی یونی ورسٹی میں طالبہ ہیں۔ ان کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو لاپتا ہوئے لگ بھگ 11 برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔

سمی بلوچ ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسن آرگنائزیشن’ کی بھی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر شیریں مزاری نے مارچ 2021 میں ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا تھا کہ جبری طور پر گمشدہ تمام لوگوں کو بازیاب کرایا جائے گا۔

سمی بلوچ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کو چھ ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن اب تک لاپتا افراد کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اُن کے بقول "ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جبری طور پر گمشدہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے جہاں انہیں اپنے اوپر عائد الزامات کے دفاع کا موقع دیا جائے۔”

ان کا کہنا تھا کہ پیاروں کی گمشدگی کا درد وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے پیارے ان سے یوں جدا کر لیے گئے۔ اس عمل سے وہ اور ان کے خاندان والے کرب سے گزر رہے ہیں۔

سمی بلوچ کے مطابق صرف بلوچستان میں ایسے پانچ ہزار افراد ہیں جو لاپتا ہیں اور ان کے بارے میں یہی شبہہ ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں نے جبری طور پر گمشدہ کر رکھا ہے۔

‘حکومت جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کے لیے پُر عزم ہے’

اگرچہ پاکستان میں جبری گمشدگی کو اب تک جرم قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت، فوج اور خفیہ ایجنسیوں سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جبری گمشدگی سے متعلق مجوزہ بل اب بھی پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ حکومت جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کے لیے پُر عزم ہے اور اس بارے میں آگے بڑھ رہی ہے۔

پیر کو ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں متعلقہ حکومتی بل قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان گمشدہ افراد کے بلوچ خاندانوں سے ملاقات کی تھی جس میں ان کی جانب سے ایسے افراد کی فہرست بھی فراہم کی گئی تھی۔ شیریں مزاری کے مطابق ان میں سے کچھ واپس آ چکے ہیں جب کہ دیگر کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کے کیسز کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ کے مطابق یکم ستمبر 2020 تک کمیشن کے پاس ایسی چھ ہزار 752 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے چار ہزار 642 کیسز کو نمٹایا جا چکا ہے۔ جب کہ کمیشن میں اس وقت مزید دو ہزار 110 کیسز زیرِ التوا ہیں۔

جبری گمشدگی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی کارکردگی پر سوالات

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق ان کیسز کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کمیشن نے جبری گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن، اس کے چیئرمین کی کارکردگی پر بھی سوال اُٹھائے ہیں۔

‘ایچ آر سی پی’ کے مطابق اس خراب کارکردگی کی وجہ نااہلی یا گمشدہ افراد کا کھوج لگانے کے لیے نیت نہ ہونا ہے۔

‘ایچ آر سی پی’ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران گمشدگی کے واقعات ملک کے تمام صوبوں تک پھیل گئے ہیں اور اس میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کا حکومتی بل کاغذ پر تو بھلا معلوم ہوتا ہے لیکن اس قانون پر عمل درآمد حکام کے لیے اصل چیلنج ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words