سیاست کھیل نہیں غریبوں کا

آج سے بیس پچیس برس پہلے بچوں کے کھیل عام اور سادہ تھے جن میں چھپن چھپائی، گیند بلا اور گلی ڈنڈا وغیرہ شامل تھے اور حکومت بھی انہی کھیلوں کی طرح سادہ ہوا کرتی تھی۔ نہیں کچھ غلط بیان ہو گیا بلکہ آج سے تیس سال پہلے جو حکومت تھی اور جس جماعت کی تھی اس نے یہ باری باری کا کھیل شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جی بات ہو رہی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جنہوں نے حکومت کو گیند بلا سمجھا اور عوام بیچاری کو بیوقوف بنایا۔ ایک نے پانچ سال حکومت کی پھر دوسرے نے پھر پہلے والی نے، اسی طرح عوام کے یہ تیس سال ان کی باریوں کی نذر ہو گئے۔

پھر پی ٹی آئی تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی لیکن اس سے بھی کچھ نہیں بن پایا۔ کیونکہ جو پچھلے تیس سال میں بیج بوئے گئے تھے وہ اب تناور درخت بن چکے تھے۔ ملاوٹ، کرپشن، رشوت، سٹہ بازی، سفارش میرٹ کی دھجیاں اڑانا یہ سب معاشرے میں بہت گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ سیاستدانوں کے مکروہ چہرے عوام کے سامنے آ چکے ہیں لیکن پھر بھی یہ مفلوج عوام ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اس عوام کی کوشش سعی لاحاصل کی طرح ہے۔ مہنگائی نے غریب آدمی سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک چھین لی ہے، اسے صرف اپنی دو وقت کی روٹی کی فکر ہے اور ہماری سابقہ کا حکمران پارٹیاں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ سابقہ جماعتوں نے پچھلے تیس سال میں جتنا نقصان اس ملک کو پہنچایا ہے اتنا تو ہمارے دشمنوں نے بھی نہیں پہنچایا اور ان جماعتوں کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت بھی نہیں۔ ان کی اولادوں کی شادیوں پر جو اخراجات ہوتے ہیں وہ غریب عوام کے کئی سالوں تک راشن پانی کے لیے کافی ہیں۔

مجھے اپنے ایک جاننے والے نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر ایک سیمینار میں شرکت کرنے کے لیے گئے تو وہاں موجود دوستوں یاروں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ کون سا ملک امیر ہے اور کون سا ملک غریب۔ تو ایک صاحب نے بولا پاکستان!

تو میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب دلیل مانگی اس نے کہا کہ جس ملک کو پچھلے ساٹھ سالوں سے اس کے حکمران نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں جیسے گدھ گوشت کو نوچتی ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان آج بھی سلامت ہے۔

اب دوبارہ پھر باری باری کا کھیل شروع ہوگا اور اب دیکھتے ہیں کہ کس کی باری آتی ہے۔ لیکن ہم سب کو دعا بھی کرنی چاہیے اور ایک سچا اور محب وطن پاکستانی بن کر اپنے ملک کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی باگ ڈور اس آدمی کے سپرد کرنی چاہیے جس کا جینا مرنا پاکستان میں ہوں اور جو پاکستان کے لیے کچھ کر دکھانا کا جذبہ رکھتا ہو۔ دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو مخلص اور ایماندار حکمران عطا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ہشام اظہر ملک کی دیگر تحریریں