افغانستان میں بیس سالہ نیو وار (Neo war)

اکتوبر 2001 کو امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف آپریشن (OEF۔ A) شروع کیا۔ اور گزشتہ رات اس آپریشن کا خاتمہ کیا گیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ کیا یہ ایک جنگ تھی یا آپریشن تھا؟ فوجی آپریشن ریاست، یا غیر ریاستی اداکاروں کی مربوط فوجی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ یہ کارروائیاں ایک فوجی منصوبے کے طور پر بنائی جاتی ہیں تاکہ ریاست یا فریق کے حق میں حالات کو سازگار بنایا جا سکے۔ جنگ عام معنوں میں، سیاسی گروہوں کے درمیان ایک تنازعہ جس میں کافی عرصہ اور شدت کی دشمنی شامل ہو کو کہتے ہیں۔

آپریشن ایک محدود پیمانے پر اور ایک خاص منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ جبکہ جنگ ایک تنازعہ کے اوپر لڑی جاتی ہے۔ جنگ کے مقاصد ہوتے ہیں۔ اور جنگ مقاصد کی حصول کے لیے لڑی جاتی ہے۔ افغانستان میں نہ تو آپریشن تھا اور نہ ہی جنگ بلکہ افغانستان میں نیو وار تھی۔ نیو وار کا مطلب وہ جنگ جس کے کئی مقاصد ہو۔ جس کا ایک مقصد نہ ہو۔ جس میں مختلف گروہ مختلف مقاصد کو لے کر لڑے۔ افغانستان کی بیس سالہ جنگ کئی دھڑوں کی طرف سے لڑی گئی، بشمول افغانستان مسلح افواج جس کو ملی اردو کہتے تھے۔

امریکہ اور اس کے بین الاقوامی اتحادی اور دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) ، داش ہراسان، طالبان، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، مختلف افغان وار لارڈز شامل تھے۔ دوسری طرف مختلف پڑوسی ممالک اور علاقائی طاقتوں پاکستان، انڈیا، چائنہ، ایران، روس اور عرب ممالک بھی افغانستان کی جنگ میں ذاتی اہداف کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل رہے یہ بیرونی ممالک، جیسے ایران، روس، پاکستان اور انڈیا ایک یا دوسرے دھڑے کو مدد فراہم کرتے رہے۔

ان تمام دھڑوں میں ایک چیز مشترک رہی وہ ہے۔ جنگ اور جنونیت اس جنگ میں لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ براون یونیورسٹی کے حالیہ ریسرچ کے مطابق 69000 افغانستان کے فوجی مارے گئے ہیں۔ جبکہ 51000 طالبان اور دیگر افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ جبکہ 3500 امریکی اور اتحادی ہلاک ہوئے۔ اندازہً لاکھوں زخمی ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ 2001 کے بعد پہلی بار افغانستان کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں۔

گزشتہ دنوں کابل ائرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کرلی۔ داعش خراسان افغانستان، پاکستان اور دیگر وسطی ایشیاء ریاستوں میں کافی سرگرم عمل ہیں۔ اس تنظیم نے ابھی تک افغانستان میں 100 مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی مسلم ریاست کا قیام۔ دلچسپ آمر یہ ہے کہ افغانستان میں یہ تنظیم طالبان کے خلاف ہے۔ افغانستان کی سرزمین اس وقت بیرونی ممالک کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر بیس سالہ جنگ ایک مخصوص مقصد کے لیے نہیں تھی۔ پاکستان اور بھارت اپنی دشمنی اور بالادستی کے لیے فریق بن چکے ہیں۔

ہندوستانی اثر و رسوخ افغانستان میں امریکی چھتری کے نیچے بڑھ گئی تھی کیونکہ یہ افغان سرزمین پر پاکستان مخالف تنظیم کو پراکسی وار کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ جیسا کہ ڈی ایس پی داوڑ کے قتل، پی ٹی ایم کی سرگرمیوں، بلوچ عسکریت پسندوں کی تنظیم اور افغانستان میں ان کے تربیتی کیمپوں سے دیکھا جا سکتا تھا۔ چین سے قربت کی وجہ سے افغانستان کا چین کی سلامتی پر براہ راست اثر ہے۔ مشرقی ترکستان اسلامی تحریک افغان سرحد واخان راہداری کے ذریعے چینی صوبے کاشغر میں داخل ہوئی چین ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ اور سی پیک رابطہ افغانستان میں امن اور استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔

ایران کا افغانستان میں اپنا اسٹریٹجک مفاد ہے، ایران کابل میں اس قسم کی حکومت چاہتا ہے جو ایرانی مفاد کے حق میں ہو اور یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ ایران کی دلچسپی افغانستان میں پشتونوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ہے۔ ان تمام ممالک نے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف دھڑوں کی مدد کی۔ اور یہ امداد ہنوز جاری ہے۔ لہذا افغانستان میں بیس سال سے نیو وار جاری ہے۔ جن میں مختلف کھلاڑی مختلف اقسام کے مفادات اور ترجیحات کو لے کر لڑ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words