مشترکہ خوشحالی، عملی اقدامات کی متقاضی

کسی بھی معاشرے کو صرف اسی صورت میں خوشحال قرار دیا جا سکتا ہے جب وہاں کے عوام کو تمام ضروریات زندگی دستیاب ہوں اور عوامی حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کیا گیا ہو۔ چین چونکہ آبادی اور رقبے کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے جہاں چھپن مختلف قومیتیں بستی ہیں لہذا دیگر ممالک کی نسبت یہاں مشترکہ خوشحالی کا حصول یقیناً کوئی آسان ہدف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج پوری دنیا چین کی کرشماتی ترقی اور معاشرتی خوشحالی و استحکام کی معترف ہے۔

چین کے تناظر میں مشترکہ خوشحالی جہاں سوشلزم کی ضرورت ہے وہاں تمام چینی عوام کی مشترکہ خواہش اور دیرینہ خواب بھی ہے۔ انسداد غربت میں بے مثال کامیابیاں سمیٹیں اور غربت کو شکست دینے کے بعد اب چین ایک عظیم، جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے دوسرے صد سالہ ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ خوشحالی اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ چین کی اعلیٰ قیادت کے نزدیک ”مشترکہ خوشحالی“ سوشلزم کا ایک لازمی تقاضا ہے اور چینی خصوصیات کی حامل جدت کاری کی ایک اہم خوبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) اور چینی حکومت عوام کی مرکزی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کے ترقیاتی ماڈل پر عمل پیرا رہنا چاہتی ہیں تاکہ عوام میں خوشحالی کا احساس بیدار ہو سکے اور ترقیاتی ثمرات ان کی دسترس میں ہوں۔

اس ضمن میں اگر چین کی پالیسی سازی کا جائزہ لیا جائے تو چین نے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ شعبے کی بھی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ مساوی ترقی کے تحت ہر اعتبار سے عوام کے لیے ثمرات حاصل کیے جا سکیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین میں پرائیویٹ انٹر پرائزز نے چار دہائیاں قبل اصلاحات اور کھلے پن کے آغاز کے بعد سے ملکی معیشت میں زبردست شراکت کی ہے۔ 1978 کے بعد سے انہوں نے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 60 فیصد اور تکنیکی جدت میں 70 فیصد حصہ ڈالا جبکہ ٹیکس آمدنی میں 50 فیصد، شہری روزگار میں 80 فیصد اور نئی ملازمتوں میں ان کی شراکت 90 فیصد رہی ہے۔

یقیناً یہ اعداد و شمار پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہیں کہ نجی اداروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں سرمایہ کاری کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتے ہوئے بے شمار اقتصادی سرگرمیاں رواں رکھی جا سکتی ہیں۔ چین کا نجی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کا ایک واضح مقصد ہے کہ قومی دولت کو بڑھایا جائے اور امیر اور غریب کے درمیان آمدنی کا فرق کم کیا جائے۔ جہاں تک مشترکہ خوشحالی کا سوال ہے تو چینی قیادت کا اصل مشن عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔

عام خوشحالی اعلیٰ معیار کی معاشی نمو پر انحصار کرتی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے بغیر معاشرے میں مساوات کا حصول ناممکن ہے اور اسی باعث غربت اور دیگر سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ شہریوں کی ذاتی آمدنی میں اضافے کے علاوہ، مشترکہ خوشحالی کی ایک اور نمایاں خصوصیت حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی عوامی فلاح و بہبود ہے مثلاً تعلیم اور طبی دیکھ بھال وغیرہ، اور پھر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انہیں آگے بڑھنے کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی ہے۔

دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی آمدنی میں عدم مساوات بدستور موجود ہے۔ اصلاحات اور کھلے پن کے آغاز کے بعد سے ملک میں پیداواری صلاحیت اور معاشی گورننس میں کارکردگی کو مساوات پر ترجیح دی گئی تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جاسکے اور مطلق غربت کو ختم کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ منصوبہ بند معیشت نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بنا دیا ہے اور آج چین کے شہری اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی خلیج بھی گزرتے وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے اور مساوی ترقی کا خواب تعبیر کی جانب بڑھ رہا ہے۔

عوام سے ہمیشہ قریبی تعلق استوار رکھنا چینی قیادت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جارح قوتوں کے خلاف کامیاب جنگ سے لے کر عوامی جمہوریہ چین کی تعمیر تک، اصلاحات و کھلے پن کے فروغ سے لے کر اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تعمیر تک، سی پی سی کی رہنمائی میں چینی عوام اور اداروں کی تخلیقی صلاحیتیں بھرپور انداز سے نکھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ آج چین کا فی کس جی ڈی پی دس ہزار امریکی ڈالر سے زائد ہے، دنیا میں سب سے بڑا متوسط آمدنی والا طبقہ چین کا ہے، دنیا میں سب سے بڑا سماجی ضمانتی نظام اور دنیا میں سب سے محفوظ ملک چین ہی ہے، یہ تمام ثمرات چینی عوام کی خوشحالی کے عکاس ہیں اور سی پی سی کی سو سالہ جدوجہد کی خدمات بھی ہیں۔ ہمیشہ سے عوام کو اولین حیثیت دینا سی پی سی کی کامیابی کا راز ہے اور مزید بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کی قوت کا منبع بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words