ہتھیلی سے ہاتھ کرنا

غریب مذہبی گھرانوں کی طرح ہمارے گھر کا ماحول بھی تعویذ یا دم سے علاج کرنے کی طرف زیادہ مائل تھا۔ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں : اولا تو گاؤں میں کوئی باقاعدہ طبیب یا طب خانہ نہیں تھا، دوم، گاؤں میں ان دنوں کچھ ایسے مخلص بزرگ موجود تھے کہ جو غربا کو عزیز رکھتے تھے اور جب کبھی خدا کا کلام پڑھ کر دم کرتے، تو سانپ کے ڈسے ہوئے مریض بھی آنکھوں کے سامنے صحت مند ہو جاتے تھے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، ہمدردی کی جگہ قیمت نے لے لی اور اب انہی بزرگوں کی اولادیں نا صرف پیسے کو ترجیح دیتیں بلکہ عزیز تر بھی بس انھیں ہی رکھتی ہیں جو مالدار ہیں، مگر اب کے زبان پہ رسما جاری رہنے والے کلام کی تاثیر کسی بھی مریض کا علاج نہیں کر پاتی۔

اکتوبر 2005 میں کشمیر میں آنے والے زلزلے سے بہت تباہی ہوئی، جہاں ایک طرف ہزاروں انسانی جانیں موت کی نیند سو گئیں تو دوسری جانب لاکھوں لوگ اپنے عزیزوں، جن میں کئی زخمی بھی شامل تھے، انھیں لے کر پاکستان کے کئی شہروں کی طرف ہجرت کر آئے۔ اسی دوران میں بھی اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی، پاکستان ہجرت کر آیا۔ والد صاحب محنت کش تھے، پورا دن خوب محنت کرتے تو گھر کا چولہا جلتا تھا اور اب بھی ہمارے گھر کا وہی ماحول تھا کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اسے پانی میں ملا کر کوئی تعویذ پلایا جاتا یا پھر والد دم کر دیتے، جو انھیں دادا جان نے بہت بچپن میں سکھائے تھے، مگر اس سب کے ساتھ ساتھ یہاں شہر میں ایک ایسے فرد کی کمی بہت محسوس کی جا رہی تھی جو روحانی عملیات سے واقف ہو، دلوں کے بھید کریدنا، غموں کا علاج کرنا اور ساتھ ہی ساتھ ذہنی تسکین بھی دے سکے۔

میرے چچا جو کہ امام مسجد تھے اور انھیں کچھ ایسے مسائل کا سامنا تھا کہ وہ بھی کسی بزرگ سے ملنا چاہتے تھے، جو انھیں عملیات کی مدد سے کوئی راہ دکھائے اور حالات بہتری کی طرف آ سکیں۔ انہی دنوں چچا جان کو مورگاہ روڈ، راولپنڈی میں مقیم ایک پیر صاحب کی خبر ملی، جن کے بہت چرچے تھے اور ان کی ایک ہی کرامت سننے کو ملتی تھی کہ منہ سے مانگ کر پیسے نہیں لیتے اور ہر کوئی انھیں اپنی استطاعت کے مطابق دے دیتا ہے۔

ان پیر صاحب کے کام کرنے کا انداز کچھ یوں تھا کہ آپ اپنے ساتھ کسی چھوٹے بچے کو لے کر جائیں اور بچے کو اس کی دائیں ہتھیلی پر سارا ماجرا دکھا دیتے تھے، چاہے کسی پر کسی نے تعویذ کیا ہو یا جادو کیا ہو، چاہے کسی کے چوری ہوئی ہو تو چور چوری کرتا دکھائی دیتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ خیر چچا جان مجھے اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچ گئے، ہم صبح کے تقریباً آٹھ بچے وہاں پہنچے، مگر ہمارے وہاں پہنچنے تک لوگوں کا کافی مجمع لگ چکا تھا، جن میں کوئی بیمار تھا، کسی پر سایہ تھا، کسی کو جنوں سے شکایت تھے اور سب اپنے ساتھ ایک کم عمر بچہ بھی لیکر کر آئے تھے۔

تھوڑی دیر بعد پیر صاحب آئے، جن کا ظاہری حلیہ میری توقعات کے تقریبا برعکس تھا، کلین شیو، سر پہ ٹوپی، ساتھ دو چار محافظ، بہترین اور قیمتی لباس۔ اور پیر صاحب اپنی نشست پر براجمان ہو گئے۔ لوگ اپنے مسائل بتاتے گئے اور بچوں کی مدد سے علاج ہوتا گیا۔ ہماری باری آنے تک ظہر کا وقت گزر چکا تھا اور پیر صاحب خدمت خلق میں اتنے مگن تھے کہ نماز کے لیے جانا، انھیں یاد ہی نہیں رہا تھا۔

اب ہماری باری بھی آنے والی تھی، چچا نے مجھے ایک بھی پھر صحیح سے وضو کر کے آنے کا حکم دیا کیونکہ ہم سے پہلے کچھ لوگ اپنے مسائل کا حل تلاش نا کر پائے تھے اور ان کے بچوں کو ہتھیلیوں پہ کچھ دکھائی بھی نا دیا تھا، اور پیر صاحب مصر تھے کہ بچوں نے ٹھیک سے وضو نہیں کیا۔ خیر میں ٹھیک سے وضو کر کے لوٹا اور اب ہماری باری آنے والی تھی۔ جوں جوں ہم پیر صاحب کے قریب ہوئے تو میری نظر ان کے عقب میں ایک خاص جگہ پر پڑی جہاں سبھی لوگ حسب توفیق رقم چھوڑ کر جاتے تھے اور ابھی تک وہاں 500 یا ہزار اور دیگر کئی قسم کے نوٹوں کا ڈھیر لگ چکا تھا۔ میں انہی نوٹوں کے ڈھیر کو گھورنے میں مگن تھا کہ ہماری باری آ گئی اور چچا جان نے مجھے کندھے سے پکڑ کو جھنجھوڑا۔

علیک سلیک کے بعد پیر صاحب نے چچا سے کچھ بنیادی باتیں پوچھیں اور پھر میری طرف مخاطب ہوئے، بیٹا دیوار پر دیکھو تین تصاویر ہیں، (جو کچھ بزرگوں کی تھیں) اور پھر دیکھو تمہارے باتھ پر ان تصاویر میں سے کون سے بزرگ کی تصویر بن رہی ہے۔ میں نے دیوار پر موجود ان تصاویر کو غور سے دیکھا اور پھر ہتھیلی کو دیکھا، مگر کچھ نہیں تھا، کوئی تصویر نا تھی، پیر صاحب مصر تھے کہ غور سے دیکھو، مگر اب بھی دیکھنے پر مجھے ہاتھ پر چند لکیریں دکھیں جنھیں نجومی قسمت، دولت، مروت، شادی یا دیگر ناتوں سے جوڑتے ہیں اور جو سب سب کی سب کسی خطرناک پہاڑ پر موجود رستے کی مانند تنہا تنہا، الگ الگ تھیں، میں نے پھر نفی میں سر ہلایا، تیسری بار چچا اور پیر کے اصرار پر میں نے درمیان والی تصویر کی طرف اشارہ کر دیا کہ مجھے ہاتھ پر وہ تصویر بنتی دکھ رہی ہے۔

اب پیر کے چہرے پر متانت واضح تھی۔ مجھے کہنے لگے غور سے دیکھو اب کیا دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے نفی میں سر ہلایا کہ کچھ نہیں۔ اب کی بار پیر صاحب میرے چچا سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے کہ لگتا ہے کہ بچے نے وضو ٹھیک سے نہیں کیا۔ چچا نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور میں بول اٹھا، ابھی تو ٹھیک سے وضو کر کے آیا ہوں اور پھر چچا پیر صاحب سے کہنے لگے : حضور ابھی میں نے خود اسے دوبارہ بھیجا تھا اور یہ ٹھیک سے وضو کر کے آیا ہے۔

پیر صاحب کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے، ”ابھی آپ چلے جائیے، پھر کسی روز صبح پہلے وقت آئیے گا، ابھی تقریباً 3 بج چکے ہیں، وقت بہت گزر چکا ہے، لہذا اس وقت عملیات یا کلام کی تاثیر کم پڑ جاتی ہے، لیکن اگلی بار جب آپ آئیں گے، آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا“ چچا نے جیب سے کچھ پیسے نکالے، پیر صاحب کے عقب میں چھوڑے اور میرا ہاتھ پکڑا اور واپس چل دیے، یہی سوچ کر کہ اگلی بار جلدی آئیں گے اور کام ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words