پیرس میں تین یادگار دن ( 2 )

میں ائرپورٹ لاؤنج سے باہر نکلا تو بھائی اپنے دو دوستوں کے ساتھ پریشان کھڑا تھا کیونکہ پی آئی اے کے تقریباً تمام ہی مسافر جا چکے تھے۔ اب وہ اس پریشانی میں تھے کہ شاید میں آیا ہی نہیں ہوں۔ مجھے دیکھ کر سب ہی خوش ہو گئے۔ سب بڑی گرم جوشی سے گلے ملے۔ بھائی کے ساتھ ان کا دوست کامران تھا اور تیسرا کامران اور بھائی کا مشترکہ دوست تھا۔ انہوں نے مجھ سے بیگ لے کر گاڑی میں رکھا۔ پھرسب کو گاڑی میں بٹھایا اور ائرپورٹ سے باہر نکل آئے۔

وہ چوبیس اکتوبر اور جمعہ کا دن تھا، پیرس میں اس وقت شام کے سات بجے تھے۔ ائرپورٹ سے باہر موسم بڑا خوشگوار تھا۔ اتنی زیادہ سردی بھی نہیں تھی۔ کامران نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی جان، اگر آپ تھکے ہوئے ہیں تو فلیٹ پر چلتے ہیں۔ لیکن اگر فریش ہیں تو فلیٹ پر چلنے سے پہلے آپ کو تھوڑا شہر گھماتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جیسے آپ کی مرضی۔ مجھے تھکاوٹ تو کوئی نہیں ہے۔

پھر پروگرام یہ بنا کہ ائرپورٹ سے چیپس الیسیس Champs۔ Élysées کے خوبصورت ایونیو پر چلتے ہیں۔ وہاں گھومیں پھریں گے، انقلاب کی یادگار آرک ڈی ٹرمف The Arc de Triomphe پر چلیں گے۔ شانتا لیزے میں کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھا کر رات دس بجے آئفل ٹاور جائیں گے۔ کیونکہ روزانہ رات دس بجے ٹاور پر روشنیاں چمکتی ہیں جو ایک بہت ہی منفرد نظارہ ہوتا ہے۔ ہم تقریباً آدھے گھنٹے میں چیپس الیسیسپر پہنچ گئے۔ شام ہونے والی تھی۔

شانتا لیزے تقریباً دو کلو میٹر لمبی شاہراہ ہے جو ڈی لا کنکورڈ محل اور آزادی کی یادگار آرک ڈی ٹرمف کو ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے خوبصورت شاہراہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ پیرس کی سیر کرنے والا ہر سیاح اس شاہراہ پر ضرور سیر کرنے جاتا ہے۔ اس شاہراہ پر واقع انگنت ریستوران، کیفے، بار، سنیما ہاؤس اور خوبصورت شاپنگ سینٹر سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس کی کشادگی اس کی خوبصورتی میں اور اضافہ کرتی ہیں۔

ہم نے یہیں ایک ریستوران میں کھانا کھایا۔ اسی دوران ایک ساتھی نے مجھے کہا کہ آئیں آپ کو وہ جگہ دکھائیں جہاں لیڈی ڈیانا کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ ایک پل کے نیچے جس مقام پران کی مرسڈیز کار کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس جگہ پر ایک چھوٹی سی یادگار بنی ہوئی ہے۔ چارلس ڈی گال پلیس میں کھڑی اونچی یادگار فرانس کے انقلاب اور نپولین کی جنگ لڑنے والوں کے اعزاز میں بنائی گئی ہے۔ ہم سب نے اس یادگار آرک ڈی ٹرمف پر کچھ وقت گزارا۔

یہاں بہت ہی خوبصورت اور دلوں کو مبہوت کر دینے والا نظارہ تھا جو اگرچہ کیمرے کی آنکھ نے تو محفوظ نہیں کیا لیکن آنکھوں کے ہزاروں میگا پکسل کیمرے نے ان نظاروں کو دماغ کے کمپیوٹر میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔ رنگ برنگی روشنیوں نے اس جگہ کے حسن کو اور دوبالا کر دیا تھا۔ پتہ نہیں دنیا کے کس کس کونے سے لوگ ان نظاروں کو دیکھنے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ایک دنیا تھی، خوبصورت خواتین تھیں، بے خطر گھومتی دوشیزائیں تھیں، حسین جوڑے تھے جو اپنے حال میں مگن تھے لیکن کہیں کوئی الہڑ بازی کسی سے شرارت یا کوئی ڈر خوف نہیں تھا۔

ساڑھے نو بجے ہم وہاں سے نکلے اور سیدھے آئفل ٹاور پہنچ گئے۔ مناسب پارکنگ ملنے میں کچھ دیر لگی۔ یورپ یا برطانیہ میں گاڑی کی پارکنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں پر کہیں بھی فری پارکنگ نہیں ہے آپ کو پارکنگ کے لئے فیس دینا پڑتی ہے۔ بغیر فیس ادا کیے پارکنگ پر حکومت جرمانہ کرتی ہے جو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یورپ۔ امریکہ اور برطانیہ میں قانون پر بڑی سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ قانون کا احترام نہ کرنے والوں کو سخت سزاؤں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو ان کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے اس لئے مجبوراً سب لوگ قانون کو مانتے ہیں اور سب خوش رہتے ہیں۔ آئفل ٹاور بہت بڑے رقبہ پر واقع ہے۔ یہ پیرس شہر بلکہ فرانس کی سب سے نمایاں ایسی یادگار ہے جہاں سے آپ پورے شہر کا ایک غیر متزلزل نظارہ کر سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر فولاد سے بنا یہ ٹاور انیسویں صدی کے آخر میں بنایا گیا تھا۔ ( اس کی تفصیل اگلی قسط میں ملے گی) ۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی یادگاروں میں سے ایک ہے۔

ہم جیسے ہی آئفل ٹاور کے نزدیک پہنچے تو کامران نے سب کو وارننگ دی کہ اپنے پرس کا خیال رکھیں۔ بہتر ہے کہ اسے پتلون کی پچھلی جیب سے نکال کر اگلی جیب میں ڈال لیں کیونکہ یہاں رات کو جیب کترے بہت ہوتے ہیں جو بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے پرس جیبوں سے نکال لیتے ہیں۔ اس پر مجھے منور ظریف مرحوم کی فلم جیرا بلیڈ یاد آ گئی جس میں وہ مختلف انداز میں لوگوں کے پرس نکلوا لیتا تھا۔ ہم کچھ دیر وہاں گھومتے رہے اور ٹاور کو مختلف اینگل سے دیکھا۔

دس بجے تک سب لوگ ٹاور کے سامنے جمع ہو گئے جس سے ایک ہجوم وہاں اکٹھا ہو گیا۔ جیسے ہی دس بجے، پورا ٹاور روشنیوں میں نہا گیا۔ روشنیاں ستاروں کی طرح دمکنے لگیں۔ تقریباً دس منٹ تک روشنیاں جگمگ کرتی رہی۔ سب لوگوں نے مل کر تالیاں بجائیں۔ یہ ایک بڑا منفرد نظارہ تھا۔ پندرہ بیس منٹ اور ٹھہرنے کے بعد ہم سب وہاں سے باہر نکلے، آئفل ٹاور کی پارکنگ میں آ کر گاڑی میں بیٹھے۔ بھائی کے دوست کامران نے کہا کہ اب فلیٹ پر چلو۔

جو لڑکا گاڑی چلا رہا تھا اس نے ایک شرارت کی کہ ہمیں ایک ایسی سڑک پر لے گیا جو ریڈ لائٹ ایریا میں واقع تھی۔ سڑک کے آغاز میں پولیس کی دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سوائے اس ڈرائیور کے کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ کون سی جگہ ہے۔ ایک جگہ اس نے گاڑی کھڑی کی جس کی دائیں جانب ایک پارک سا بنا ہوا تھا۔ ابھی گاڑی کھڑی ہی ہوئی تھی کہ پارک سے ایک لمبا سا اور کوٹ پہنے ایک خاتون ہماری گاڑی کی طرف آ گئی اور ڈرائیور سے فرانسیسی میں بات کرنے لگی۔ اس کی گفتگو سن کر کامران نے ڈرائیور لڑکے کو بہت جھڑکا کہ تم ہمیں کہاں لے آئے ہو۔ بھائی جان کیا سوچیں گے۔ میں اور میرا بھائی بھی شرمندہ تھے کہ اس لڑکے نے کیا کیا ہے۔ تھوڑی سی بدمزگی ہو گئی جس پر سب ہی نے معذرت کی۔

فلیٹ والی بلڈنگ پر پہنچ کر ڈرائیور ہمیں اتار کر اپنے ڈیرہ پر جانے لگا تو مجھے کچھ شرمندہ سا لگا۔ میں نے اسے گلے لگایا اور تھپکی دی یار کوئی بات نہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے پھر اس کا شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ عمران اور کاشف جیسے آپ کے بھائی ہیں ویسے ہی ہمارے بھی۔ شکریہ کی کوئی بات نہیں۔ فلیٹ بلڈنگ کی چھٹی منزل پر واقع تھا جس کا راستہ عمارت کی پچھلی طرف تھا۔ لفٹ کے ذریعے ہم چھٹی منزل پر پہنچے۔ فلیٹ دو کمروں، کچن، باتھ اور چھوٹے سے کوریڈور پر مشتمل تھا۔

راولپنڈی کے کسی ناصر صاحب کا یہ فلیٹ تھا جو بقول کامران انہوں نے چند سال پہلے دو لاکھ یورو میں خریدا تھا۔ ان دنوں وہ پاکستان گیا ہوا تھا۔ ایک کمرے میں وہ خود رہتا تھا۔ دوسرے کمرے میں تین آدمی رہتے تھے ایک تو میرے بھائی کا دوست کامران جو سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ کمرے میں اس کے ساتھ دوسرا ساتھی گجرات سے تھا جو عمارتوں پر پینٹ وغیرہ کا کام کرتا تھا۔ اور تیسرے ساتھی کا تعلق بھی گجرات سے تھا وہ کسی انڈین ریستوران میں کام کرتا تھا۔

کامران پیرس میں فون کارڈ بیچنے کا کام کرتا تھا۔ وہ صبح ہول سیل والوں سے کارڈ لے کر مختلف چھوٹے چھوٹے سٹورز پر جا کر وہ کارڈ بیچتا اور شام کو ساری رقم اکٹھی کر کے مالکان کو لا کر دیتا اور دوسرے دن کی ڈیمانڈ بھی انہیں بتا دیتا۔ اس کو جو روزانہ کی بنیاد پر کمیشن ملتا اس میں سے کھا پی کر اسے دن کے چالیس پچاس یورو بچ جاتے تھے۔ اس کام میں محنت بہت تھی۔ دس بارہ ہزار یورو کے کارڈ لے کر سارا دن گھومنا ایک بڑا رسک کا کام تھا۔

وہ سب ہی روزانہ دس بارہ گھنٹے کام کرتے تھے۔ ایک اور لڑکا کھاریاں سے تھا جو کہ وہاں غیر قانونی تھا، اس کو بھی انہوں نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔ اس کے پاس کام بھی کوئی نہیں تھا اور ساتھ لایا ہوا زاد راہ بھی وہ راستے میں خرچ کر بیٹھا تھا۔ سب نے مل کر اس کا بوجھ اٹھایا ہوا تھا۔ مجھے اور بھائی عمران کو انہوں نے مالک والا کمرہ دے دیا اور خود اپنے کمرے میں سو گئے۔ ہمیں بھی بستر پر لیٹتے ہی نیند نے آ لیا۔

یورپ میں پاکستانی تارکین وطن 1979 میں جانا شروع ہوئے۔ یورپ میں امیگریشن کے سخت قوانین اور مشکل زبانوں کی وجہ سے وہاں جانے کا رجحان کم ہی تھا۔ جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لا کے دور میں بہت سارے لوگوں نے یورپ میں سیاسی پناہ لی۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ جرمنی۔ فرانس۔ اٹلی اور سپین میں منتقل ہوئے اور کسی نہ کسی طرح وہاں سیٹل ہو گئے۔ کچھ لوگ سمگل ہو کر بھی یورپ پہنچے۔ مارشل لا کے خاتمے پر جب یورپ میں سیاسی پناہ لینے والے افراد پاکستان واپس آئے۔ ان لوگوں سے وہاں کی زندگی کی رنگینیوں اور سہولیات کا ذکر سن کر نوجوان طبقہ بڑا متاثر ہوا اور غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے یورپ سمگل ہونے لگا۔ ایران اور ترکی کے راستے ہزاروں نوجوان یورپ منتقل ہوئے۔ نوے کی دہائی میں اولمپک کھیلوں کی وجہ سے امیگریشن میں نرمی کے تحت یہاں غیر قانونی مقیم لوگوں کو سیٹل ہو نے کا موقع ملا۔ شمالی پنجاب کے گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن کے زیادہ لوگ یورپ میں منتقل ہوئے۔

اس وقت فرانس۔ سپین۔ اٹلی اور دوسرے یورپین ممالک میں پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی رہ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق گجرات۔ منڈی بہاوالدین۔ کھاریاں اور سیالکوٹ سے ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر اکیلے رہ رہے ہیں جب کہ ان کے خاندان پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد یورپ میں غیرقانونی طور پربھی رہ رہی ہیں۔

یورپ میں طرز رہائش برطانیہ سے یکسر مختلف ہے۔ فرانس اور سپین میں زیادہ تر عمارتیں چھ منزلہ نظر آئیں۔ گراؤنڈ فلور پر دکانیں، فرسٹ فلور پر دفاتر اور اس سے اوپر چار منزلوں پر رہائشی فلیٹ بنے ہوتے ہیں۔ موسم کی مناسبت اور جگہ کی قلت کی وجہ سے کمروں کے سائز کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ایک کمرے میں بمشکل ایک چھوٹے سائز کا ڈبل بیڈ آ سکتا ہے۔ بڑے شہروں پیرس، بارسلونا، میڈرڈ وغیرہ میں رہائش بہت مہنگی اور نایاب ہوتی ہے۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words