افغانستان: اقتدار اعلیٰ کا مخمصہ


افغانستان کی صورتحال ہنوز گمبھیر اور الجھی ہوئی ہے۔ حکومتی تشکیل میں تاخیر کا سبب امریکی افواج کے مکمل انخلا کے مطالبے سے زیادہ داخلی سیاسی تضادات کی عکاسی ہے۔ طالبان کی صفوں میں بھی اتفاق رائے کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے قندھار میں طالبان کی مرکزی شوری یا قیادت نے 12 رکنی اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جو افغانستان کی مقتدر اعلیٰ ہوگی۔

افغان آئین عملاً منسوخ ہو چکا ہے لہذا مستقبل کے تمام سیاسی حکومتی امور معاملات کی سمت کا تعین طالبان کی 12 رکنی کمیٹی کرے گی۔ اطلاعات ہیں کہ طالبان قیادت ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو شامل اقتدار کرنے کی بجائے تمام قومیتوں نسلی لسانی مذہبی حلقوں سے اپنی پسند کے افراد پر مشتمل کابل میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے جس میں سابقہ حکومت میں شامل افراد کو شریک نہیں کیا جائے۔ جناب حامد کرزئی۔ جناب عبداللہ عبداللہ اور جناب حکمتیار کو کابینہ یا مرکزی حکومت میں شریک نہیں کیا جا رہا اس اطلاع کے پس منظر میں افغانستان میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشمولہ حکومت کے قیام کا فارمولا تحلیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے افغانستان کے ذریعے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں افغان عوام کی اکثریت جنگجوئی سے گریز چاہتی ہے لیکن انہیں سیاسی مفاہمت کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے لوگ بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں چمن بارڈر پر سینکڑوں افغان مہاجرین پاکستان آرہے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں ہو رہا۔

سفری دستاویزات کے بغیر بے شمار افراد کوئٹہ و دیگر اضلاع کا رخ کر رہے ہیں۔ ہزارہ قبیلہ کے چار افراد کو کوئٹہ پہنچانے کے لیے ٹیکسی ڈرائیور حضرات 25000 روپے جبکہ دیگر سے 16 تا 18 ہزار روپے کرایہ وصول کر رہے ہیں اس وقت ہزارہ ٹاؤن بروری روڈ کوئٹہ کی مساجد و امام بارگاہ میں کئی مہاجر خاندان پناہ لے چکے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے ارکان تفصیلی اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں۔ پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات سے افغان عوام پاکستانی حدود میں پناہ لے رہے ہیں۔

طالبان قیادت نے ماضی کی طرح قندھار ہی سے امور مملکت کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے 12 رکنی کے ارکان کے ناموں کا اعلان دو روز تک متوقع ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ رہبر کمیٹی ہی امیر المومنین کی مشاورت کرے گی طالبان ماضی کی اپنی اسلامی امارت کے تصورات سے قریب قریب نئی حکومتی پالیسی پر کاربند رہیں گے۔ یہ ان کے اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے تو عالمی قبولیت کے لیے سد راہ۔ طالبان قیادت اسی مخمصے میں الجھی ہے جو حکومت سازی میں سدراہ ہے علاوہ ازیں طالبان کی اول درجہ قیادت میں شامل کئی رہنما تاحال عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وہ منظر عام پر نہیں آرہے۔ عدم تحفظ کے ڈانٹے عالمی اور داخلی نوعیت کے ہیں۔

Facebook Comments HS