سفارش زدہ معاشرہ

سفارش کا لفظ پاکستانی معاشرے میں بڑا ہی معتبر اور معزز گردانا جاتا ہے کام چھوٹا ہو یا بڑا سفارش لازم اور ملزوم ہے۔

پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا جوں جوں وقت گزرتا گیا سفارش کی اہمیت اور افادیت بڑھتی گئی

حالانکہ ہر حکومت اسی نعرے پہ ووٹ لیتی ہے رشوت اور سفارش کو ختم کریں گے لیکن رشوت اور سفارش کے نہ انداز بدلے اور نہ اہمیت کم ہوئی۔ بڑے تو غریبوں کے لیے مسائل۔

جب کوئی نیا قانون پاس ہوتا ہے رشوت کے ریٹ بڑھتے ہیں اور اب تو قوم کا یہ حال ہے جب تک کسی کی مٹھی گرم نہ لیں کام کے ہونے کا یقین نہیں آتا جب پیسے دے لیے پھر ایسا گمان ہونے لگتا ہے جیسے ہاتھ میں پکے یقین کی رسید آ گئی ہو۔

میری اکثر سہیلیاں پوچھتی ہیں اپنے بچوں کو کوئی جاب ہی دلوا دینی تھی میرا صاف اور دو ٹوک جواب سفارش نہیں ہے وہ سوال کرتیں ہیں فلاں فلاں تو اکثر آپ کے گھر تشریف لاتے ہیں ان سے کہنا تھا آپ کا کام ہوجاتا مجھے پھر Justifucation دینی پڑتی ہے میرے بچے نہیں مانتے

پاکستان میں خود دار اور انا پرستوں کے لیے قطعاً کوئی جگہ نہیں میرٹ کا رونا ضرور رویا جاتا ہے لیکن سب بکواس باتیں ہیں ہمارے علم میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو لوگ سفارش کے بل بوتے پر کسی بھی عہدے پر لگے وہ آج بھی اسی کام میں مصروف عمل ہیں۔ ۔ پروموشن کروانا ہو ٹرانسفر کروانا ہوتو۔ سفارش ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور پھر پتہ نہیں چلتا سیاسی یا غیر سیاسی انداز سے اپنے رکے ہوئے اور ناممکن کام نکلوا لیتے ہیں اور مسلسل ترقیوں کی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں البتہ کبھی کبھار سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہلکا پھلکا نقصان بھی ہو جاتا ہے لیکن وہ ان حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر جاتے ہیں۔

میں حیران ہوں جس معاشرے میں انصاف ناپید ہو وہ کیسے قائم رہ سکتا ہے لیکن یہ ایسا ملک ہے جو دیکھنے میں بظاہر چلتا نظر نہیں آتا لیکن قائم و دائم ہے البتہ جو لاوہ پک رہا ہے ڈر ہے کہیں سب کچھ نہ بہا کے لے جائے

میری ایک دوست ہے جس کا ماننا ہے کوئی کاروبار پاکستان میں سچ کی بنیاد پر نہیں چل سکتا اگر آپ کسی گاہک کے سامنے سو فیصد اخراجات کا تخمینہ رکھ کر بھی چیز فروخت کریں وہ نہیں بکے گی جب تک اس میں جھوٹ شامل نہ کریں اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ۔ ہم سفارش سے اپنے معاشرے کو کیسے نکال سکتے ہیں؟

Latest posts by بشریٰ نواز (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words