کتنے مودب ہیں یہ کبوتر

کچھ دنوں پہلے حضرت اقبال کے شاہین پر لکھنے کا موقع ملا تو بابا کہنے لگے کہ مکہ اور مدینہ کے کبوتروں پر کیوں نہیں لکھا؟ میرے دل کو بھی یہ بات بہت بھائی کیونکہ حرمین شریفین جاتے ہوئے دونوں جگہوں پر سب سے پہلے یہ کبوتر ہی تو استقبال کرتے ہیں۔ کس قدر مانوس ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کو اپنائیت سے یوں دیکھتے ہیں کہ جیسے جانتے ہوں کہ یہ سب اللہ پاک کے مہمان ہیں یا پھر شاید جانتے ہوں کہ مکہ اور مدینہ امن کے شہر ہیں۔

سراسر امن : انسان، حیوان، چرند پرند ہر ایک کے لئے امن۔

حج یا عمرہ کے احرام باندھے ہوئے شخص کے لئے اس کا شکار کرنا اور اسے بھگانا تک جائز نہیں ہے، اسی طرح اس غیر محرم کے لئے بھی یہ نا جائز ہے جو حدود حرم کے اندر ہو، لیکن جب حدود سے باہر نکل جائے تو ان کا شکار جائز ہے، جس طرح دیگر جانوروں کے شکار کا مسئلہ ہے ؛ اللہ تعالى کا فرمان ہے :

”اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔“
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :

بے شک اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھا، اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا، اس حدود میں گرى چیز نہ اٹھائى جائے، نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے، اور نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے۔ ”

اسے بخاری نے روایت کیا ہے، اور آپ ﷺ کا یہ قول بھی ہے کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا بنایا، اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ ( بخاری جلد نمبر 3 ; صفحہ 93 )

ان عاشق رسولﷺ اور مودب کبوتروں کی کیا شان جو نسل در نسل مسجد نبوی کے اطراف ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے پیارے نبی ﷺ کے عاشق کبوتر جو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف ﷺ کے صحن میں چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ وہ مودب کبوتر جو مکہ مکرمہ کعبۃ اللہ کا جھنڈ کے جھنڈ طواف کرتے تھے۔ ذاکر کبوتر جو مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں موجود رہ کر اپنی غٹرغوں میں تسبیح رب کریم پڑھتے ہیں اور محسن کبوتر جو کہ صدقہ اور منتوں کے دانے چگ کر دعائیں کرتے ہیں اور پھر ہم اس کبوتری کو کیسے بھول جائیں جس نے غار ثور کے دہانے پر اللہ تعالی کے حکم سے فوراً ہی گھونسلا بنا ڈالا اور قدرت کاملہ نے اس کبوتری کے انڈوں سے لمحے کے ہزارویں حصے میں بچے پیدا کر کے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کے دشمنوں کو غار ثور کے پاس بھٹکنے بھی نہ دیا۔ شاید اسی نیکی کا صلہ ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے عمرہ پر پابندیاں صرف انسانوں کے لئے ہیں مگر کبوتر اپنی تسبیح جاری رکھے ہوئے ہیں، انہیں کسی اجازت نامے یا توکلنا ایپلیکیشن کی بھی ضرورت نہیں۔

محترم نعت گو شاعر صبیح رحمانی صاحب نے کیا خوب لکھا:
کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں
کس کو ادب یہ سکھاتے نہیں ہیں
کتنے مودب ہیں یہ کبوتر
اللہ اکبر اللہ اکبر

یہ روشن حقیقت ہے کہ سب پرندوں میں کبوتر اللہ رب العزت کی وہ نفیس ترین تخلیق ہے جس سے انبیاء علیہم السلام ملائکہ اور اولیاء کرام نے بے مثال محبت کی ہے۔ اقبال کے شاہین کی طرح یہاں کے طلباء کو بھی میرے پاپا حجاز مقدس کے کبوتر کہتے ہیں :

با ادب، مگن اور فرمانبردار۔

ایک مرتبہ ہمارا سامان الاؤڈ لگیج سے کچھ زیادہ تھا تو بابا کے ایک طالب علم نے ائرپورٹ پر کلیرنس میں مدد کا وعدہ کیا۔ فلائیٹ غالباً 11 بجے صبح کی تھی، سعودی کلچر میں یہ وقت سونے کے لئے مخصوص ہے مگر وہ لڑکا خلاف توقع مقررہ وقت پر پہنچ آیا، یہاں کے لڑکے اپنے ہیر سٹائل کے بارے میں بڑے فکرمند ہوتے ہیں، بڑے سٹائل سے بالوں کو سیٹ کیا ہوتا ہے، سپائکس والے ہیر سٹائل بنائے ہوتے ہیں مگر اس کے ہئیر سٹائل سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ نیند سے اٹھ کر سیدھا ائر پورٹ آ گیا ہے، اس نے بابا کے ہاتھ سے ٹکٹس لے لیں اور تھوڑی ہی دیر میں ساری کلیرنس کرا کے ٹکٹس واپس دے گیا۔

جب ہم لوگ پاکستان سے واپس آئے تو وہ ہمیں رسیو کرنے بنا کہے پہنچا ہوا تھا بابا نے اسے کہا کہ آپ سے کس نے کہا تھا کہ ہمیں لینے آئیں، وہ سر جھکائے مسکراتا ہوا آگے بڑھتا گیا، ہم لوگ گاڑی میں بیٹھ گئے، گھر کے لئے اترے تو اس نے جلدی سے اپنی گاڑی سے میل پیکس نکالے اور بابا کو تھماتے ہوئے کہنے لگا سر یہ میری طرف سے قبول کیجئے۔ بابا نے انکار کیا تو ہاتھ کے اشارے سے کہنے لگا کہ وہ میرا گھر ہے، اگر گھر میں کھانا بناتے ہوتے تو آپ کو اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلاتا، چار و ناچار بابا کو وہ پیک پکڑنا پڑے۔

کبھی کبھی وہ بابا کو مسجد میں نظر آتا، نماز کے بعد قرآن پاک ضرور پڑھتا، بابا سے نظریں چار ہوتیں تو ہاتھ ہلا کر سلام کر دیتا۔ کچھ دن پہلے مما سے بات کرتے ہوئے بابا آبدیدہ ہو گئے اور بتایا کہ کیا آپ کو وہ لڑکا یاد ہے جو ہمیں ائر پورٹ سے لایا تھا، میرا وہ مؤدب کبوتر ہمیشہ کے لئے پرواز کر گیا ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ وہ ایک کار حادثے میں اس دنیا سے چلے گئے۔ بابا اسے اور اس طرح کے تمام طلباء کو حجاز مقدس کے کبوتروں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

محب، مست، مگن مگر مودب۔

Comments - User is solely responsible for his/her words