رانگ نمبر

جس طرح آم کے درخت میں امرود نہیں اگتے، اس طرح پرامن ذہن میں دہشت پیدا نہیں ہوتا۔ دو مختلف فکر کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ آج کل معاشرے کا جائزہ لیں۔ تو پورا معاشرہ دو مختلف افکار اپنا کر اپنے دن گزار رہا ہے۔ ایک طرف نفرت، جنگ، ظلم و جبر اور درندگی ہے تو دوسری طرف محبت، امن، خلوص اور انسانیت کا بول بالا۔ انسانیت کا مقابلہ درندگی سے عروج پر ہے۔ بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ درندگی انسانیت کے مقابلے میں کافی آگے نکل چکی ہے۔

کچھ چیزیں ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ اور پھر یہ ہماری عادتیں بن کر ہم اس سے دوسروں کا جینا حرام کر دیتے ہے۔ جب بھی دوسرا انسان تکلیف اور مشکلات میں ہو تو ہمیں سکون راس آتا ہے۔ کیونکہ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ جو تمھارا جیسا نہیں، ان کے خون بہانے اور گلا کاٹنے میں کوئی ڈر کیسا؟ کیونکہ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم دوسرے کو اپنا جیسا بنانا چاہتے ہے۔ اور اس سے کھول عام بیچ راستے میں اپنا جیسا بننے کی دعوت دیتے ہے۔

اگر وہ دعوت قبول کر لے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے تاج محل شاہجہان نے نہیں بلکہ ہم نے تعمیر کی ہے اور اگر وہ انکار کر دیں تو سمجھو جان سے گیا۔ کیونکہ ہمیں اپنے جیسے چاہیے۔ جو کہ ہمارے ہر فعل میں حلال اور پاک طریقے سے ہماری مدد کریں اور ہم دھاڑی پر ہاتھ پھیر کر ایک عظیم فاتح رہنما بننے کی کیفیت کو محسوس کر لیں۔ تھوڑے عرصے کے لئے ہم بھی دوسروں پر خدائی کر سکے۔ ہماری تربیت اور ہمارے ورثے میں ملے ہوئے تعلیمات کا یہ حال ہے کہ ہمیں نہ اٹھنے بیٹھنے کا پتہ ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا، اور نہ ہی ڈھنگ کے لباس کا خاص علم ہے۔

ہاں اگر ہمیں پتہ ہے تو وہ ان چیزوں کا ہے کہ چہرہ دھوتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ہے؟ اور پانی کہاں تک ڈالنا ہے؟ اور اگر آگے کچھ خاص علم ہے تو وہ حلال سیکس ایجوکیشن کے بارے میں ہے، جو ایک عام آدمی کو یہ ایجوکیشن پاکیزہ اور ثواب کی نیت سے با آسانی دستیاب ہوتا ہے۔ یہاں پر مسئلہ سیکس ایجوکیشن سے نہیں، دراصل مسئلہ ان سیکس ایجوکیشن کے پڑھانے والوں سے ہے، جو کہ تیوری پڑھانے کی بجائے پریکٹیکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

ماشاءاللہ وہ تمام خوبیاں اور خصوصیات جو کہ ایک تہذیب یافتہ اور نئے معاشرتی نظام کے ساتھ چلنے پھرنے والے انسان کی ہوتی ہے، ان خوبیوں کے ساتھ ہمارا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ لیکن پھر بھی ہم بہترین مخلوق ہے کیونکہ ہم خود کو دھوکہ دے کر ماضی کے بے مطلب اور بے ذوق کہانیاں اپنے آپ کو دوہراتے ہیں، ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اتنا فخر محسوس کر لیتے ہے کہ ہمارا خون جوش کر جاتا ہے اور نتیجتاً کسی بے گناہ، معصوم کو اذیت دے کر، یہاں تک قتل کر کے اپنی کامیابی کا جشن اپنی دنیا میں ان نعروں کے ساتھ مناتے ہیں، باقی دنیا میں جن نعروں کی گونج سے لوگ ڈر و خوف محسوس کر ارد گرد دیکھتے ہیں کہ ابھی لوگ ہوا میں اڑنا شروع ہو جائے نگیں۔

سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس مکمل نصاب موجود ہے۔ کوئی شخص ایک فعل کردیں لیکن وہ فعل ہمارے نصاب کے مطابق نہ ہو تو ہم وہ گناہ شمار کرتے ہے اور پھر خود سے گناہ کے سزا کا حد تعین کر کے فخریہ انداز سے اپنی درندگی پر اتر آتے ہے۔ ہمیں کسی کی جان کی فکر ہے اور نہ کسی کی مال کی، ہاں اگر ہمیں فکر ہے تو اس بوسیدہ خیالات کی اور ذاتی مفاد کی، جس کی خاطر ایک خون خوار درندے اور ہم میں فرق ختم ہو جاتا ہے۔ بہت سی واقعات کے مثال موجود ہے کہ جن کیفیات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کافی نہیں ہوتے، لیکن بشرط یہ کہ محسوس کرنے کے لیے اگر کوئی انسان موجود ہو۔

ہم نے ابتداء سے لے کر ابھی تک چند ایسے خیالات کو مدنظر رکھ کر درندگی کی، جو کہ وہ خیالات آج کے اکیسویں صدی میں قابل قبول بھی نہیں۔ لیکن ہم ایک بار پھر وہاں جا رہے ہیں، جہاں سے ہم نے ابتداء کی تھی، اور جن کی بدولت آج تک ہم نے محبت، امن اور سلامتی کو الوداع کہا تھا۔ جنگ، نفرت اور ظلم و جبر کو گلے لگایا تھا۔ وہ وادی پھر سے سر سبز و شاداب ہو گئی ہے اور ہمیں بے تکلفی کے ساتھ دعوت دے رہی ہے۔ کہ آؤ، ہمارے ساتھ گول مل جاؤ اور درندگی کے نئے مثال قائم کرو، تاکہ کل آپ کو اپنے آقاؤں کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔

Latest posts by خان وزیر اورک زئی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words