افغانستان۔ کیا پکچر ابھی باقی ہے؟

جب سے اچھے والے طالبان نے کابل کے ایوانوں میں بنا کسی پنجہ آزمائی کے قدم رنجہ فرمائے ہیں، بہت سے ایوانوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب یہ ایوان چاہے وائٹ ہاؤس کا ہو، اسلام آباد کا، بیجنگ کا یا نئی دلی کا۔

آج کا نیا کابل گویا کہ ”لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام کچھ اور“ کا منظر پیش کر رہا ہے، طالبان کو سمجھنے کے لئے کرکٹ کے ٹاس کو اچھالنے والے سکے کو سمجھنا ہوگا۔ یعنی ہیڈ یا ٹیل، چاند یا چھاپ، اب اس نئے سکے کی ایک جانب دراز زلفوں والے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس کلاشنکوف لئے طالبان دکھائی دیں گے تو دوسری جانب، کلف لگی دستار اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس میں معصوم سا چہرہ لئے فر فر انگریزی اور اردو بولتے ہوئے ترجمان اور ماہر ڈپلومیٹ دکھائی دیتے ہیں۔

عالمی ایوانوں میں بیٹھے حکمران اور مغربی میڈیا کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ماہرین پریشان ہیں کہ الہی یہ ماجرا کیا ہے، کیا ہے اصل حقیقت اور کس پر بھروسا کریں۔

سب گول مال ہے، سب گول مال ہے والا گانا کہیں پس منظر میں بج رہا ہے، لیکن کسی کو سنائی نہیں دے رہا، جو بائیڈن اور مغربی ممالک فی الوقت اپنے پیچھے پھنسے ہوئے اہلکاروں اور ہمدردوں کا نکالنے کی فکر میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ اس وقت انہیں یہ فکر نہیں کہ کون سے والے طالبان کے گوڈے گٹے پکڑ کر اپنے بندے چھڑائیں، انہیں تو بس غرض اس سے ہے کہ کل کو تاریخ اور ان کے عوام ان کا ہی گلا نہ پکڑ لیں کہ کیوں اپنے شہریوں کو یوں بیچ منجھدار چھوڑ کر نکل آئے تھے۔

جو بائیڈن کسی روٹھی ہوئی محبوبہ کی انا والا موڈ بنائے بیٹھے ہیں اور بضد ہیں کہ وہ فون کا ریسیور نہیں تھامیں گے اور کپتان سے بات نہیں کریں گے، ویسے یہ بات بھی کسی آنے والی نئی خطرناک پالیسی کا پیش خیمہ لگتی ہے اور اس میں سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

ویسے بھی کراچی کی فضاؤں میں کچھ امریکی ”پرندے“ اڑتے دکھائی دینا شروع ہو چکے ہیں۔ اس ساری کارروائی سے بے خبر معصوم سے وزیراعظم عمران خان پرانے ادوار کی بنائی گئی موٹر ویز کے خساروں کے کھاتے کھول کر عوام کو نیا ہاشمی منجن مفت میں بانٹ رہے ہیں۔

افغانستان اس وقت کئی دہائیوں کی دھول مٹی میں اٹا ہوا ایک ایسا دھواں ہے جہاں ہر چیز دھندلی ہے اور کوئی بھی شے واضح دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ عالمی دگج سیاسی پنڈت بہت کنفیوژن اور مخمصے میں ہیں اور یہ بات سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ کس چالاکی سے طالبان نے نہ صرف افغانستان میں جاری یہ جنگ اپنے نام کر لی بلکہ انتہائی منظم منصوبہ بندی اور شاطر حکمت عملی و مہارت سے حکومت پر بھی بنا کسی چوں چراں کے قبضہ حاصل کر لیا۔

بظاہر تو جس طرح تحریک پاکستان کو علی گڑھ کے چند لونڈوں کی شرارت کہا جاتا تھا، یہاں بھی طالبان کی اس عمدہ کار کردگی کے پیچھے پنڈی کے کچھ شریروں کا ہاتھ تاریخ دان بعد میں بتائے گا۔

ادھر دوسری طرف سے یہ ڈائیلاگ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست، یعنی طالبان کو مطلق العنان تن تنہا افغانستان پلیٹ میں رکھ کر دینے کے بھی کچھ مقاصد ہو سکتے ہیں۔ جس میں سے ایک تقسیم کرو اور لڑوا کر ان کی قوت کو توڑنا مقصود ہو سکتا ہے، دوسرا یہ کہ طالبان کی کہانی پلٹ بھی سکتی ہے اور کل کے دوست آج کے دشمن بھی بن سکتے ہیں جو کہ پنڈی کے لونڈوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بنتی دکھائی دیتی ہے۔

اب یہ نئے فرمانبردار طالبان اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست بناتے ہیں یا نہیں، یہ بات طے ہے کہ ریاست کو چلانے کے لئے اب انہیں پشتو، دری، اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ چینی زبان بھی سیکھنا شروع کرنا ہوگا۔ کیا کریں بیجنگ سے مراسم اور دلی کو بھی سلام؟

پتہ نہیں یہ فارمولا چل بھی پائے گا یا نہیں لیکن ہندوستان کو اس سے غرض نہیں، وہ افغانیوں کی مدد کے صلے میں جو خواہش مند ہے وہ طالبان پورا نہیں کر پائیں گے، اس طرح عارضی ہی سہی پر مطلق العنان طاقت رکھنے والے طالبان کے لئے یہ سخت امتحان کی گھڑی ہے، اور فیصلہ کے لئے انہیں اپنی ریاست کا مفاد سامنے رکھنا ہوگا نہ کہ کسی اور آقا کا۔

انہیں جہاں کسی غیر ملکی آقا کے سامنے سر جھکانے سے پرہیز کرنا ہے وہیں اہم ترین کٹھنائی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دیگر غیر ملکی شریر قسم کے جہادی عناصر یہاں آ کر پھر سے بسیرا نہ کرنے لگ جائیں، کیونکہ یہ کسی کے بھی مفاد میں نہ ہو گا۔

اگر اس زمین کو دنیا کے لئے دہشت گردی کا مرکز پھر سے بننا ہے تو پھر اس خطے میں ایک آخری جنگ اور لڑی جا سکتی ہے جس کی ضد میں اس بار کئی اور مکان بھی آئیں گے۔

ویسے بھی ترجمان بھائی صاحب پاکستانی طالبان کے بارے میں پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ تحریک طالبان کا معاملہ افغانستان کا نہیں، وہ پاکستان خود دیکھے۔ تاہم دوسری جانب وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر پاکستان والے طالبان، افغان طالبان کو اپنا سربراہ مانتے ہیں تو پھر وہ ان کی ”بات“ بھی مانیں، اب یہ وضاحت نہیں ہو پائی کہ کون سی والی بات؟

ذبیح اللہ مجاہد، سہیل شاہین، ملا ہیبت اللہ، اس وقت افغان میڈیا کے افق پر چھائے ہوئے ہیں اور دنیا کے حکمرانوں کی طرح شاید وہ بھی اب تک کنفیوزڈ ہی چل رہے ہیں، اور یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اب آگے کیا کرنا ہے

یہی امتحان طالبان کے ساتھ طویل عرصہ شانہ بشانہ چلنے والے پنڈی بوائز کا بھی ہے کہ اب وہ کس منہ سے کھل کر طالبان کا ساتھ دیں، عوامی بیانیہ طالبان کے حق میں کریں یا مخالفت میں، ایک طرف امریکی ڈالر، دوسری جانب چینی سی پیک، تیسری جانب بیس سال کی محنت سے حاصل کیا گیا کابل کا تخت، ایک عجیب کشمکش کی سی صورتحال ہے، یہ ہڈی نہ اگلی جائے نہ نگلی، تجزیہ نگاروں اور ماہرین تو ابھی بھی یہی اشارے دے رہے ہیں کہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔

Comments - User is solely responsible for his/her words