افغانستان کا ماضی، حال، مستقبل اور خطہ کی صورتحال


افغانستان کا ماضی

جب اچانک نائن الیون ہوا تو امریکہ نے افغان حکومت کو اور اسامہ بن لادن کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ملا محمد عمر سے کہا کہ وہ ملزم کو ہمارے حوالے کردے۔ ملا محمد عمر نے انکار کیا تو امریکہ نے روس کی طرح افغانستان میں فوجیں اتار دیں۔ اس طرح طالبان کی حکمرانی ختم ہو گئی پھر امریکہ اور نیٹو ممالک کی فوجیں یہاں قابض ہو گئیں۔

جس طرح روس قبضے کے دوران سول حکومتیں قائم کرتا رہا اسی طرح امریکہ اور نیٹو افواج نے بھی سول حکومتیں بنائیں وہ مجاہدین جماعتیں جو روس کے خلاف لڑیں پھر آپس میں لڑتی رہیں۔ اس کے بعد طالبان کے خلاف لڑتی ہوئی ہزیمت سے دوچار ہوئیں۔ اب وہ امریکہ کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ امریکہ کے 20 سالہ افغان اقتدار میں وہ بھی اقتدار کا حصہ بنی رہیں ہیں۔ برہان الدین ربانی جو صبغت اللہ مجددی کے بعد افغانستان کے صدر رہے تھے۔ یہ بھی امریکی سائے تلے بننے والی حکمرانی کا حصہ تھے۔

اپنی دانست میں وہ امن کی کوششیں کرتے رہے پھر ایک دھماکے میں دنیا کو چھوڑ گئے۔ اہم لیڈروں میں گلبدین حکمت یار اور استاد سیاف ہی باقی رہ گئے ہیں۔ یہ دونوں بھی کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کا حصہ رہے۔ اس عرصہ میں افغان حکمران آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ روسی دور کے پرانے مجاہد لیڈرز اول تو روس کے خلاف لڑے پھر آپس میں بھی لڑتے رہے۔ روس کے نکلنے کے بعد بھی وہ آپس میں لڑتے رہے۔ بعد میں طالبان حکومت کے خاتمے پر وہ امریکہ کے ساتھ مل گئے اور طالبان کے مخالف کردار ادا کرتے رہے۔

سابق سویت یونین (روس) کے خلاف جو لیڈر لڑائی کر رہے تھے ان میں سب سے بڑے لیڈر گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی تھے۔ احمد شاہ مسعود اپنے لیڈر اور قائد برہان الدین کے کمانڈر تھے۔ ان کے بعد صبغت اللہ مجددی اور استاذ عبد الرسول سیاف بڑے لیڈر تھے۔ نورستان میں مولانا افضل تھے اسی طرح بہت سارے مقامی لیڈر اور کمانڈر تھے۔ افسوس کی بات یہ کہ سب سے بڑی دو جماعتیں حزب اسلامی (حکمت یار) اور جمعیت اسلامی (ربانی) روس کے خلاف بھی لڑے اور پھر آپس میں بھی لڑتے رہے۔

1980 ء کے شروع میں ہونے والی یہ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب سویت یونین (روس) کے آخری صدر میخائل گوربا چوف نے اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ اس کے بعد افغانستان کے پہلے صدر صبغت اللہ مجددی بن گئے۔ اس کے بعد گلبدین حکمت یار اقتدار کی خاطر لڑ پڑے ان کی باہمی لڑائی کی وجہ سے کابل بھی تباہ ہوا اور افغانستان بھی۔ آپس کی جنگ میں سعودی عرب نے ان کو کعبہ شریف میں اکٹھا کیا اور اللہ کے گھر میں باہم نہ لڑنے کا عہد لیا۔ لیکن یہ واپس جاکر آپس میں ایک دوسرے پر بد عہدی کا الزام لگانے لگے۔ یاد رہے اس دوران پاکستان بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں کو جغرافیائی طور پر جو چیز الگ کرتی ہے وہ ڈیورنڈ لائن  ہے یہ وہ سرحد ہے جس کی بنیاد 1893 ء میں برصغیر میں قائم برطانوی راج کے سیکرٹری خارجہ موٹمر ڈیورنڈ  نے رکھی تھی پھر اس سرحد کو 1919 ء میں برطانیہ اور افغانستان کے درمیان لڑی جانے والی تیسری جنگ کے نتیجے میں مستقل حیثیت دے دی گئی۔ اس سرحد کا قیام برطانوی راج کی جانب سے اس بات کا اعتراف تھا کہ وہ افغانستان کے علاقے کے مسلمانوں کے خلاف تین جنگیں لڑنے کے باوجود اس سرحد پار کے علاقوں کو فتح نہیں کر سکا تھا۔

لہٰذا جہاں تک وہ فتح کر سکا وہ علاقے ڈیورنڈ لائن کے ایک طرف قائم برطانوی راج کے زیراثر آ گئے جبکہ باقی علاقے اس سرحد کی دوسری جانب رہے قطع نظر اس کے سرحد کے دونوں اطراف پر پشتون مسلمان ہی آباد تھے جن کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں۔ لہٰذا یہ اپنی نوعیت کی ایک غیرفطری اور مصنوعی سرحد تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے موقع پر جب برطانیہ یہاں سے نکلا تو انگریز کی کھنچی ہوئی یہ لکیر اسی طرح قائم رہی اور آج کی تاریخ تک یہ اسی طرح قائم چلی آ رہی ہے۔ اب اس پر پاکستان نے خاردار تاروں کے ذریعہ باڑ لگادی ہے اس لئے کہ سرحد پار سے جنگجوؤں اور دہشت گردوں کو روکا جاسکے تاکہ پاکستان کا امن خطرے میں نہ پڑے۔

اس 20 سالہ جنگ میں امریکہ کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ایک امریکی سینیٹر جم بنکس کا چونکا دینے والا بیان جو آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ وہ کہتے ہیں افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنے پر جو قیمتی سامان چھوڑا گیا ان کی تفصیل یہ ہے : امریکہ نے 85 ارب ڈالر مالیت کا سامان افغان طالبان مجاہدین کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔ 75 ہزار گاڑیاں، 200 سے زائد طیارے، ہیلی کاپٹر، 6 لاکھ سے زائد چھوٹے موٹے ہتھیار اور طالبان کے پاس دنیا کے 85 فیصد ممالک سے زیادہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود ہیں اور یہ ہتھیار ہی نہیں ان کے پاس رات کو دیکھنے والے چشمے، باڈی آرمر اور ناقابل یقین طور پر طالبان کے پاس بائیومیٹرک ڈیوائسز بھی موجود ہیں جن میں فنگر پرنٹس، آئی سکینر اور بائیوں گرافیکل معلومات والے آلے شامل ہیں جس میں ان تمام افغانیوں کی معلومات موجود ہے۔

جو 20 سال سے ہمارے ساتھ تھے اور ہماری مدد کر رہے تھے۔ دوسری طرف ہم اس جنگ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس جنگ پر امریکہ نے طالبان کی شورش کا مقابلہ کرنے اور افغانستان کی تعمیر نور کے لئے اربوں کھربوں ڈالر خرچ کیے ۔ امریکی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2010 ء سے لے کر 2012 ء تک امریکہ کے ایک لاکھ فوجی تعینات تھے اور اس پر جو لاگت آئی ہے وہ ایک کھرب ڈالر سالانہ تھی۔ امریکی فوج نے افغان افواج کی ٹریننگ کی، تب یہ اخراجات کم ہوئے تھے۔

2016 ء سے 2018 ء کے درمیان سالانہ اخراجات 40 ارب ڈالر تھے اور 2019 ء ستمبر تک یہ اخراجات 778 بلین ڈالر ہو گئے۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (US AID) اور دیگر تعمیر نور کے منصوبوں پر 44 ارب ڈالر خرچ کیے ۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق 2001 ء سے لے کر اب تک مجموعی لاگت 822 ارب ڈال رہے۔ یاد رہے اس میں پاکستان کو دی جانے والی امداد کی رقم شامل نہیں اور پاکستان ان کا اتحادی رہا ہے۔ جبکہ براؤن یونیورسٹی امریکہ کی تحقیق کے مطابق کانگریس نے افغانستان اور پاکستان میں آپریشنز کے لئے 978 ارب ڈالر خرچ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رقم پر سود کی لاگت شامل نہیں ہے۔

اس جنگ کے لئے امریکہ نے ان سالوں میں تعمیر نو میں خرچ ہونے والی رقم کا تقریباً 16 فیصد یعنی 43.27 ارب ڈالر ادا کیا ہے اور اب سود کی رقم ادا کرنے کے لئے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان 20 سالوں میں طالبان کے خلاف اس جنگ میں امریکی افواج کے 2300 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 20660 فوجی زخمی ہوئے۔ اس کے مقابل پر افغان صدر اشرف غنی کے 2014 میں صدر بننے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کے 45 ہزار سے زائد ہلاک ہوئے جبکہ یہ اصل تعداد نہیں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔

ماضی کے حوالے سے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف درست ثابت ہوا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں گفت و شنید ہے اور یہ کہ ہم امن کی کوششوں میں شامل ہوں گے جنگ میں نہیں۔ دیکھا جائے تو اس عرصہ میں ہمارے وطن عزیز کی بڑی قربانیاں ہیں۔ بم دھماکوں میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر اہل پاکستان 80 ہزار سے زائد جانی قربانیاں دے چکے ہیں۔

خطہ میں رونما ہونے والی تبدیلی سے اطراف کے ممالک کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جس طرح یہ دونوں ممالک حالات کے پیش نظر متاثر ہوتے ہیں تو ان دونوں ممالک کی سیاست بھی متاثر ہوتی ہے۔

افغانستان کا حال اور مستقبل

طالبان کی افغانستان میں سیاسی برتری کے بعد انہیں سب سے بڑا چیلنج اس کے حال اور مستقبل کا ہے۔ طالبان کو سیاسی برتری نے جہاں ان کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے وہیں ان کے بارے میں افغانستان سمیت دنیا بھر میں کئی طرح کے خدشات، خوف اور تحفظات پائے جاتے ہیں۔ وجہ طالبان کا ماضی ہے۔ طالبان کی کابل سمیت دیگر تمام صوبوں پر قبضے کا عمل بہت ہی پرامن اور بغیر کسی تشدد کے دیکھنے کو ملا ہے جو ایک حیران کن ہے لگتا ہے یہ کوئی خفیہ معاہدہ کا حصہ ہو۔

طالبان کے لئے بڑا چیلنج یہ کہ وہ افغانستان میں دیگر فریقوں سمیت افغان معاشرے میں اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرنا ہے۔ یہ بات انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے طالبان سے مختلف ہیں۔ افغان طالبان نے جو سیاسی پالیسی جاری کی وہ واقعی قابل غور اور حوصلہ افزاء ہے کہ انہوں نے اپنے تمام مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور کسی سے انتقام نہ لینے کا عندیہ دیا۔

موجودہ حالات کے تناظر میں افغانستان اور پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ دور رس پلاننگ کریں اور اس پر گہری نظر سے جائزہ لیں اور غیرسنجیدہ بیانات سے پرہیز کریں۔ دونوں ممالک کو سیاسی سطح پر ساتھ مل کر آئندہ کے لئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ سابقہ تاریخ اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرونی اور سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے دونوں ممالک اور خطہ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔ ان مشترکہ عمل کو ترتیب دیتے وقت روس، چین، ایران، ترکی اور خطہ کی اسلامی ریاستوں کو اتحاد میں شامل کریں اس سے خطہ میں امن آئے گا اور معاشی خوشحالی بھی۔

اس کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو امریکہ اور اس کے اتحادی اس کو پسند نہیں کریں گے چونکہ انہوں نے 20 سالوں کی جنگ اور جدوجہد اور مفادات کو ہار دیا ہے اور یہ ان کے لئے لاحاصل رہا ہے جس سے وہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو افغانستان کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے ان کی حیثیت جیت میں تو بدل گئی ہے مگر طویل سفر ابھی باقی ہے۔ پچھلی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ افغانستان جنگ کے حالات میں ہی رہا ہے اور یہ سلسلہ سو سال پر محیط ہے۔

اس ضمن میں راقم الحروف ماضی کی تفصیل اوپر بیان کر چکا ہے۔ برطانوی راج، ان کی اندرونی لڑائیاں، روس، اس کے بعد امریکہ اس کے اتحادیوں سے جنگ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا امریکہ اس کے اتحادی طالبان کو فری ہینڈ دیں گے؟ علاوہ ازیں طالبان نے جیلوں سے تمام قیدی جن کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے تھا ان میں داعش اور القاعدہ کے لوگ بھی تھے۔ حالیہ دنوں میں کابل میں دو بڑے دھماکے ہوئے جن میں 180 افراد مارے گئے جن میں 30 امریکی بھی تھے۔ امریکہ نے اس میں داعش کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اب تو 31 ؍اگست کے بعد امریکی افواج افغانستان سے واپس چلی گئی ہیں۔

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے چند ماہ اور سال بعد حالات کا صحیح تجزیہ ہو سکے گا۔ اس ضمن میں ایک سوال حل طلب ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جس طرح افغانستان سے نکلے اور ان کی بنائی گئی کٹھ پتلی حکومت نے جس طرح طالبان کو ان کے حوالے کیا اس سے کیا تاثر ملتا ہے۔ کیا یہ ایک پلان اور خفیہ معاہدہ تھا؟ علاوہ ازیں سوشل میڈیا اور ٹاک شو میں پاکستان کے ریٹائرڈ جرنیل جس طرح خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اس سے کیا تاثر ملتا ہے کہ یہ جنگ امریکہ نے نہیں پاکستان نے جیتی ہے۔ یہ تمام بیانات ان کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ جنگ 20 سال تک جاری رہی اس عرصہ میں کئی پاکستانی جرنیل اس وقت اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ لازماً ان کو حکمت عملی، ٹریننگ، پلاننگ اور ہر قسم کا تعاون فراہم کیا ہوگا۔ لہٰذا اس کے پیش نظر پاکستان کو بہت احتیاط سے رہنا ہوگا۔

اگر ہم ان علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کا جائزہ لیں تو ایک طرف پاکستان ایٹمی صلاحیت سے لیس ہے اور زراعت اور معدنیات پر مشتمل ان گنت وسائل سے مالامال ہے پاکستان سے اس کی تجارت باآسانی ہوتی رہی ہے اور اب پاکستان خوشحالی کی طرف گامزن ہے جس سے افغانستان کو فائدہ مل سکتا ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں وسطی ایشیا کے ممالک سے تیل، گیس، بجلی اور تجارت کے کئی معاہدے سائن کیے ہیں۔

دوسری طرف افغانستان میں بھی بے شمار معدنیات پائی جاتی ہیں۔ 14 جون 2010 ء کو نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی پینٹاگون کے سرکاری اہلکاروں اور جیولوجی ماہرین کے مطابق افغانستان میں ایک ٹرلین ڈالر کے معدنیاتی ذخائر ہیں۔ ان میں لوہا، تانبا، سونا، کوبالٹ، نیوبیم اور نایاب زمینی اجزاء بھاری مقدار میں موجود ہیں۔ لیتھیم کی مقدار وافر مقدار میں ہے اس کو سعودی عرب بھی کہا گیا ہے۔ ان تمام معدنی وسائل کے پیش نظر آئندہ کے دور میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس کے استعمالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے اور یہ تمام معدنیات وہ ہیں جن کی پوری دنیا کو ضرورت ہے اور مستقبل میں ان کی ضرورت اور اس میں اضافہ ہونے کے واضح قرائن موجود ہیں۔

افغانستان میں پہلے یہ سروے روس نے 80 کی دہائی میں شروع کیا جب روس یہاں پر قابض تھا امریکہ کو روس کے چھوڑے ہوئے یہ نتائج 2004 ء میں کابل کی ایک لائبریری سے دریافت ہوئے۔ امریکہ نے ان تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے جدید آلات کے ذریعہ افغانستان کے 70 فیصد علاقے کا سروے کیا اور پھر 2010 ء میں بالآخر ان حیران کن نتائج کا انکشاف کیا۔

ان حالات و واقعات اور وسائل کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک اور وسطی ایشیا کے ممالک ان خطے کے مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک سیاسی مضبوط ریاست کو تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس سے بھارت کے علاقائی عزائم کا بھی خاتمہ ہو سکے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑی ریاست کی شکل میں ابھرے گی۔ اس طرح خطہ کے مسلمانوں کی طاقت کا راز ان میں بھائی چارے، اتحاد اور امت مسلمہ کی وحدت میں ہے جو ایک ریاست کی شکل میں ہوگا۔

جہاں مسلم علاقوں میں افواج اور ان کے مادی و معاشی وسائل سب مجموعی طور پر ایک ریاست کی شکل میں یکجا ہوں گے۔ اب یہ پاکستان کے حکمرانوں اور خطہ کے مسلم ممالک پر منحصر ہے کہ وہ آئندہ آنے والے حالات اور مستقبل کو کس حکمت عملی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اللہ کرے ان دونوں ممالک اور خطہ میں ان حالات کے پیش نظر خوشحالی اور امن نصیب ہو۔ آمین

Facebook Comments HS