حمل؛ زندگی اور موت کے بیچ کا پل صراط!

رگوں سے قطرہ قطرہ نچڑتی ہوئی زندگی، حرارت بھرے جسم میں پھیلتی ٹھنڈک، چہرے پہ موت کی زردی، اکھڑتی سانس، آنکھوں کی بجھتی ہوئی جوت اور ڈوبتی ہوئی دھڑکن، جیسے تھکا ہوا سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا ہو!

ایک ننھی سی جان دنیا سے رخصت ہوتی ماں کے پستان سے چپکی، چسر چسر دودھ پینے میں مگن، نہیں جانتی تھی کہ جاں بہ لب عورت کے پستان خشک ہونے کو ہیں اور یہ لمس اسے پھر کبھی نہیں ملے گا۔

موت کی اندھیری گھاٹیوں میں دھیرے دھیرے اترتی وہ عورت سوچتی تھی، کاش اسی گلی میں کچھ قدم دور اپنے گھر میں میرے ماں جائے کو کسی طرح یہ خبر ہو جائے کہ اس کی بہن زندگی ہار رہی ہے۔

کبھی وہ سوچتی، کاش ان پانچ بچوں کی خاطر مجھے میری زندگی لوٹا دی جائے۔ شعور کی عمر سے بہت دور کیسے جئیں گے اپنی ماں کو کھو کر۔

دھندلائے ہوئے ذہن میں ایک اور تصویر ابھر آتی جو ہم سفر تو تھا لیکن سفر کی کٹھنائیوں سے ناآشنا۔ کیسے منہ موڑ لیا تھا میری منت سماجت سے کہ آٹھ برس میں پانچ بچے پیدا کرنے والا جسم اب چھٹے بچے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا تھا کہ عورت بنائی ہی اسی مقصد کے لئے گئی ہے اور پسندیدہ عورت بھی وہی ہے جس کی اولاد کثرت میں ہو ( بھیڑ بکریوں پہ بھی یہی کلیہ صادق آتا ہے ) ۔

نہ جانے وہ کہاں ہو گا؟ کاش وہ جان لے کہ موت کا درندہ کسی ڈریکولا کی طرح میری رگوں سے خون نچوڑ کر مجھے ساتھ لیے جا رہا ہے۔
کاش ماسی حنیفاں مجھے اس حالت میں چھوڑ کر نہ بھاگتی۔ کاش مجھے کسی ہسپتال کے دروازے پہ ہی چھوڑ دیتی، ایسی بے کسی کی موت تو میرا مقدر نہ بنتی۔

میں زندہ رہنا چاہتی ہوں، ان پانچ معصوم جانوں کی خاطر! تین جو صبح سویرے ماں کے گلے لگ کر سکول رخصت ہوئے، چوتھی بچی وہ جو پاس بیٹھی گڑیا سے کھیل رہی ہے، اور سب سے چھوٹی کچھ مہینوں کی جو میرے پستانوں سے چپکی ہوئی ہے۔ یہ دونوں بے خبر ہیں کہ ان کی ماں کیسے ان کے چہروں کی بلائیں لیتی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہے۔

یہ وہ کہانی ہے جو ہماری اماں رو رو کر سنایا کرتی تھیں۔ اٹھائیس برس کی عمر میں موت کو گلے لگانے والی ان کی حسین و جمیل چھوٹی بہن، پانچ بچوں کی ماں!

وہ ہم سب بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ زندہ دل، بذلہ سنج اور زندگی سے بھرپور تھی۔ خوبصورت نین نقش، پہننے اوڑھنے کی شوقین، جب قہقہے لگاتی تو ہر کوئی بلائیں لیتا۔

شادی جلد ہوئی اور بچوں کی بھی جیسے قطار ہی بندھ گئی۔ اکثر جھنجھلاہٹ میں شوہر کو کوستی جو کسی احتیاط کا قائل ہی نہیں تھا۔ کہتی، آپا، دیکھو نا آٹھ برس میں پانچ بچے، کیا میں بچے پیدا کرنے کی مشین ہوں؟ مرد اپنی عیاشی میں عورت کی تکلیف اور ذمہ داریوں کو کچھ سمجھتا ہی نہیں۔

کبھی کہتی، آپا تمہارے بچوں کی طرح میں اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم دلوانا چاہتی ہوں۔

بچوں کے سکول کی خاطر ہی وہ سسرالی قصبے سے نکل کر لاہور آ بسی۔ قریب ہی بڑے بھائی کا گھر تھا اس لئے شوہر کے جگہ جگہ تبادلے کی بھی زیادہ فکر نہ ہوئی۔ وہ جس شہر میں بھی ہوتے، مہینے دو بعد گھر کا چکر لگا لیتے۔

پانچویں بچی ابھی کچھ ہی مہینوں کی تھی کہ دوبارہ سے حمل ٹھہر گیا۔ اوپر تلے کے بچوں نے پہلے سے مت مار رکھی تھی ایسے میں چھٹے حمل نے اس کے ہوش اڑا دیے۔ نہیں، میں مزید بچے نہیں چاہتی، وہ بڑبڑاتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھی، ابھی تو پچھلے حمل سے ہونے والی کمزوری باقی ہے۔

اماں حنیفاں سے پوچھتی ہوں کیا وہ میری مدد کر سکتی ہے، ابھی تو کچھ ہی دن اوپر ہوئے ہیں۔ اگر کوئی دوائی میری بچے دانی میں رکھ دے تو ماہواری آ جائے گی۔ اس دفعہ فارغ ہونے کے بعد میں نے امجد کو پاس نہیں پھٹکنے دینا۔ یا تو بچے بند کروانے کی مجھے اجازت دے یا پھر دور رہے مجھ سے۔ اس دفعہ چھٹی پہ آٰئے گا تو سب طے کروں گی۔ غضب خدا کا، مردوں کی دو منٹ کی عیاشی اور عورت کے گلے میں بچوں کا ہار۔

اماں حنیفاں سے صبح ہی بات کرتی ہوں۔ میں اور کسی کو بتا بھی نہیں سکتی، ہر کوئی مجھے ہی درس دے گا کہ ایسا کرنا مذہبی عقائد کے خلاف ہے۔ بھلا مردوں کو یہ درس کیوں نہیں دیا جاتا کہ عورت کو بچے جننے کی فیکٹری مت سمجھیں۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر حمل زندگی اور موت کا دوراہا ہوتا ہے، بالکل پل صراط جیسا۔

باقی سب کچھ تو ویسا ہی ہوا جیسا انہوں نے سوچا تھا لیکن کچھ اور بھی ایسا ہوا جس کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔

ماسی حنیفاں بچوں کے سکول جانے کے بعد آئی۔ اپنے تھیلے سے کوئی دیسی دوائی نکالی اور ویجائنا میں رکھتے ہوئے بولی، دیکھنا ابھی ماہواری آ جائے گی، کچھ دن ہی تو اوپر چڑھے ہیں۔

نہ جانے دوا کی مقدار زیادہ تھی یا بچے دانی کمزور، خون جب بہنا شروع ہوا تو پھر رک نہ سکا۔ ماسی حنیفاں نے خون روکنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن جب کامیابی نہ ہوئی تو بجائے اس کے کہ قریبی ہسپتال لے جاتی یا ہمسائے سے کسی کو مدد کے لئے بلاتی، فرار ہونے میں اپنی عافیت سمجھی۔

خون میں بھیگی ہوئی مردہ عورت، ایک پستان چوستی بچی اور دوسری رو رو کر ماں کو گہری نیند سے جگانے کی کوشش کرتی، یہ تھا وہ منظر جو گھر لوٹنے والوں نے دیکھا۔

ہمیں یہ داستان یاد آئی ہے ریاست ٹیکساس میں عدالتی فیصلہ سن کر جس میں حمل گرانے پہ پابندی لگائی گئی ہے، چاہے وہ کچھ دنوں کا ہی کیوں نہ ہو۔

اب چاہے یہ حمل ریپ کے نتیجے میں ہوا ہو، خونی رشتوں کا تحفہ ہو یا کسی ایسے شوہر کی کارکردگی جو عورت کو بچہ جننے کی مشین سمجھتا ہو اور مانع حمل طریقوں سے اجتناب برتنے کا شائق ہو۔

دنیا کے ایک ترقی یافتہ اور آزاد ملک میں عورت پہ نہ صرف ہسپتال کے دروازے بند کیے گئے ہیں بلکہ اس کے گردونواح میں ہر شخص کے ہاتھ میں سرزنش کی چھڑی پکڑا دی گئی ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اگر عورت اس چھڑی کے باوجود قابو میں نہ آئے تو ہمسائے، مالک مکان، محلے کے دکاندار، اخبار فروش، غرض کہ ہر ایرے غیرے کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ عورت کو جیل بھجوا سکے۔ دیکھ لیجیے عورت کے جسم پہ کس کس کا حق ہے، سوائے اس کی اپنی ذات کے!

یہ ہے پدرسری نظام کی طاقت!

حمل ریپ کا نتیجہ ہو یا محبت کا، مذہبی یقین ہو یا پدرسری معاشرے کی ہٹ دھرمی، قصور وار ہمیشہ عورت ٹھہرتی ہے اور اپنی زندگی دان کر کے تاوان بھی وہی بھرتی ہے، آخر کیوں؟

ہمارا کہنا یہ ہے کہ ایک جیتی جاگتی عورت کی زندگی ایک ان دیکھی انجان ہستی کے لئے کیوں داؤ پہ لگائی جائے؟ تمام اقدار، ضابطے، رسوم اور رواج زندگی کے پھیر میں آئی ہوئی عورت کو بچانے کے لئے کیوں نہ ترتیب دیے جائیں؟ قرون وسطی سے لے کر اکیسویں صدی تک عورت کا مقدر صلیب ہی کیوں ہو؟

( ہمارے خالو نے پہلے پانچ بچے رشتے داروں میں تقسیم کر کے دوسری شادی کر لی اور مزید پانچ بچے پیدا کیے۔ پہلے پانچ بچوں نے باپ کے ہوتے ہوئے یتیموں کی سی زندگی بسر کی)

 

Comments - User is solely responsible for his/her words