بھارت بدلے افغانستان کا کرے تو کیا کرے؟


گزشتہ سات برس سے بھارت کا ہندوتوائی میڈیا اور بی جے پی کا آئی ٹی سیل بھارتی مسلمانوں کو جہادی، لوجہادی، آتنک وادی اور پاکستانی کے القابات سے پکارتا آیا ہے۔

جب سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے ہندوتوائی اور سوشل میڈیا میں ایک اور اصطلاح متعارف ہوئی ہے۔ طالبانی۔ ٹویٹر پر بھی ہیش ٹیگ گو ٹو پاکستان سے زیادہ گو ٹو افغانستان بک رہا ہے۔

جب اترپردیش میں یوگی ادتیاناتھ حکومت کے علم میں آیا کہ طالبان اپنا نظریاتی ناتا دیوبند سے جوڑتے ہیں۔ تب سے دیو بند میں انسداد دہشت گردی کمانڈو سینٹر کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دیوبند میں مذہبی تعلیم کی آڑ میں ”طالبانی آتنکیوں“ پر نظر رکھی جا سکے۔

اب اہل دیوبند سوچ رہے کہ ہندوستان کی آزادی میں مولانا حسین احمد مدنی اور محمود الحسن اور عبید اللہ سندھی جیسے زعما کے مزاحمتی کردار اور تحریک ریشمی رومال سے لے کر انیس سو چالیس کے عشرے کی تحریک آزادی کے دوران دیوبند کی کانگریس سے ساجھے داری اور ہندوستانی قوم پرستانہ سیاست میں دیوبند کی خدمات کا کیا کریں اور یوگی جی سمیت کس کس کو یہ تاریخ پڑھائیں یا بتائیں۔

دراصل جلتی پر تیل کا کام آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک رکن اور مذہبی اسکالر سجاد نعمانی نے کیا۔ انھوں نے کابل کی فتح پر طالبان کو مبارک باد کا بیان جاری کر دیا، یوں سنگھیوں کے ہاتھ میں اور زیادہ گولہ بارود آ گیا۔

ہندوتوائی میڈیا مسلم دائیں بازو کی سجاد نعمانی جیسی شخصیات کے بیانات تو بڑھ چڑھ کے دکھا رہا ہے مگر ایسے بیانات کی مذمت میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ، کاروباری شخصیات، ادیبوں، شاعروں اور ممبئی فلم انڈسٹری سے وابستہ اسکرپٹ رائٹرز، فلم سازوں اور ہدایت کاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لگ بھگ ڈیڑھ سو مسلمانوں کے ایک اجتماعی بیان اور انفرادی وڈیو بیانات کو بالکل اہمیت نہیں دے رہا جس میں مسلم طبقے سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ فضا کا درجہ حرارت بڑھانے والے چند سیاست چمکاؤ مسلمان رہنماؤں سے ہوشیار رہیں اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کریں، کیونکہ انھیں اہمیت دینے کا مطلب اس ہندو قوم پرست بیانیے کی طاقت میں اضافہ ہو گا کہ تمام بھارتی مسلمان طالبان ہیں۔

اس دوران انڈین ہسٹری کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ انیس سو اکیس میں مالابار میں برطانوی نوآبادیاتی نظام اور جاگیرداری مظالم کے خلاف مسلمان کسانوں کی موپلا بغاوت کے قائدین کے ناموں کو بھارت کی آزادی کے ہیروز کی ڈکشنری کے نئے ایڈیشن سے خارج کر دیا جائے گا۔ بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر رام مادھو نے موپلا بغاوت کو بھارت میں طالبانی ذہن کا پہلا ثبوت قرار دیتے ہوئے ہسٹری کمیشن کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

آسام میں پولیس نے سوشل میڈیا پر طالبان کی مبینہ حمایت میں تبصروں پر کارروائی کرتے ہوئے پندرہ مسلمانوں کے خلاف نقص امن کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔ اترپردیش کے ایک مسلمان سیاستداں شفیق الرحمان برق کے خلاف بھی غداری کا پرچہ کٹ گیا ہے۔ انھوں نے ایک تقریب میں یہ کہا تھا کہ جس طرح ہندوستانیوں نے برطانوی قبضے کے خلاف جدجہد کی اسی طرح افغانستان میں پہلے روس اور پھر امریکا سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی گئی۔ برق نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاں کا اندرونی معاملہ ہے۔

لکھنؤ کے ایک معروف اردو شاعر منور رانا کو بھی سوشل میڈیا کے محاصرے کا سامنا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ٹی وی چینل پر طالبان کے زاویہ نظر میں ممکنہ تبدیلی کے موضوع پر ہونے والے ٹاک شو میں یہ دلیل دی تھی کہ جس طرح والمیکی ایک ڈاکو تھا مگر رامائن لکھنے کے بعد اسے دیوتا کا درجہ دے دیا گیا۔ اسی طرح کوئی بھی آدمی بدل سکتا ہے۔

جب کابل اور مزار شریف سے تمام سفارتی عملہ بخیریت بھارت پہنچ گیا۔ تب بھارت نے اعلان کیا کہ افغانستان میں پھنسے ہندو اور سکھ اگر خود کو غیر محفوظ تصور کریں تو بھارت ان کا سواگت کرنے کے لیے تیار ہے۔ البتہ اس بیان میں ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغان مسلمانوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ چنانچہ جب افغان رکن پارلیمان رنگینہ زرگر پناہ حاصل کرنے کے لیے دلی ائرپورٹ پر اتریں تو انھیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اگلی پرواز سے استنبول روانہ کر دیا گیا۔ رنگینہ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ وہ اس گمان کے ساتھ دلی پہنچی تھیں کہ اشرف غنی حکومت سے بھارت کا مسلسل دوستانہ تعلق رہا ہے۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے پانچ روز بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ جاری کیا جس میں نام لیے بغیر کہا گیا کہ ظلم اور دہشت کی بنیاد پر قائم کی جانے والی حکومت زیادہ دیر نہیں ٹک سکتی۔ اس ٹویٹ کے اگلے ہی دن وزیر خارجہ جے شنکر میڈیا کو بتا رہے تھے کہ کابل میں پارلیمان کی عمارت اور صوبہ ہرات میں سلما ڈیم سمیت افغانستان کے چونتیس صوبوں میں لگ بھگ چار سو ترقیاتی منصوبوں پر بھارت نے تین ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

ایک ماہ پہلے تک بھارت افغانستان تجارت کا حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ تھا۔ افغانستان کی سینتالیس فیصد برآمدات بھارت کو جاتی تھیں۔ ان برآمدات کا پچاسی فیصد خشک میوہ جات پر مشتمل ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھارت سمیت بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ افغان عوام کے لیے اپنی امداد جاری رکھیں اور بھارت افغانستان میں زیر تعمیر منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

مگر بھارت نے گزشتہ ایک ماہ میں تیزی سے بدلنے والے افغانستان کو شاید دل پر لے لیا۔ حالانکہ بین الاقوامی تعلقات کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اکتوبر دو ہزار ایک میں جس طالبان مخالف شمالی اتحاد نے امریکی فوجی کارروائی کے جلو میں کابل پر قبضہ کیا تھا۔ اسے بھارت، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں، روس اور ترکی کی سرگرم حمایت حاصل تھی۔ پاکستان نے بھی نائن الیون کے بعد امریکا کی حمایت میں یو ٹرن لے لیا۔ چین نے اس وقت غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی۔

مگر بیس برس پہلے جن ممالک نے شمالی اتحاد کا ہر طرح سے ساتھ دیا، یا یوٹرن لیا یا غیر جانبداری برتی۔ سوائے بھارت کے ان تمام ممالک نے ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے اب سے سال چھ ماہ پہلے ہی سے طالبان قیادت کے ساتھ تعاونی رابطہ قائم کر لیا۔ البتہ بھارت اپنی علاقائی پالیسی کے تمام انڈے کرزئی اور پھر غنی انتظامیہ کی ٹوکری میں رکھے رہا۔

قطر میں طالبان قیادت کے ساتھ بھارت کا پہلا غیر رسمی رابطہ دو ماہ پہلے جون میں ہوا۔ اور پچھلے ہفتے قطر میں بھارتی سفیر دیپک متل نے طالبان دفتر کے ناظم شیر محمد عباس اسٹانکزئی سے پہلی باضابطہ ملاقات کی اور افغانستان میں آباد ہندو اور سکھ برادری کی سلامتی کے موضوع پر تبادلہ حیالات کیا۔ اسٹانکزئی نے بھی دیپک متل سے کہا کہ وہ اپنی حکومت کو کابل کا سفارت خانہ بحال کرنے پر آمادہ کریں۔

اب مودی حکومت کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اگلے برس کے شروع میں سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں ہندو ووٹروں کو اپنے حق میں یکجا رکھنے کے لیے ”بھارتئے طالبانی مسلمانوں“ کا کارڈ کھیلے یا بین الاقوامی تعلقات کی عملیت پسندی کی روشنی میں افغانستان میں آنے والی ”آتنک وادی“ سرکار سے سمپرگ کرے۔

سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کہتے ہیں کہ مودی سرکار کو تنگ نظر نظریاتی عینک اتار کر عملیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے طالبان سے وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو دیگر ہمسایہ ممالک کر رہے ہیں۔ اگرچہ افغانستان امریکا اور بھارت کے مدار سے نکل کر پاکستان، چین اور روس کے مدار میں چلا گیا ہے لیکن اگر برما کی چینی حمایت یافتہ فوجی آمریت کے ساتھ بھارت تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے تو یہی اصول افغانستان سے تعلقات برقرار رکھنے میں کیوں استعمال نہیں ہو سکتا۔

مگر کچھ سفارت کار کہتے ہیں کہ فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی درست ہے۔ جب غیر یقینی حالات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے تب کوئی فیصلہ کیا جائے۔ لیکن تب تک افغانستان میں اگر سارے پلاٹ بک ہو گئے تب کیا ہو گا؟

مودی حکومت عملاً اس وقت افغانستان کے تناظر میں اس ہرن کی طرح ہے جس کی آنکھوں میں اچانک تیز سرچ لائٹ پڑے تو وہ ساکت ہو کے ایک جگہ جم جاتا ہے۔ بھارت ایک بڑا اور خطے کا اہم ملک ہے۔ کم ازکم اس میں اور ہرن میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words