پانچ دن کی پیار کہانی اور انصاف کا قتل

Solomon Grundy,
Born on a Monday,
Christened on Tuesday,
Married on Wednesday,
Took ill on Thursday,
Grew worse on Friday,
Died on Saturday,
Buried on Sunday,
That was the end,
Of Solomon Grundy.

یہ نرسری کی نظم تھی کہ سوموار کو پیدا ہونے والا سولومان گرنڈی اتوار کے دن مر بھی گیا۔
وہ جو بھی جیا یہ سات دن جیا۔
بے شک سولومان گرنڈی تو نہیں تھے مگر سباش طاہرہ اور کامران لاڑک بالکل اسی طرح جیئے بھی تو وہی پانچ دن تو مرے بھی ان پانچ دن میں ہی۔

دونوں ہنگورجہ کے باسی۔ ہو سکتا ہے کہ بچپن کہیں ایک دوسرے کو ضرور دیکھا ہوگا کہ دونوں کا ایک دوسرے کے گھر میں یوں آنا جانا تو نہ تھا مگر سباش کے چچا، کامران کے بھائی عمران کے استاد ٹھہرے تھے۔

ان نوخیز بچوں کی دوستی گھر میں کسی ملاقات میں تو نہیں ہوئی مگر یہ فیس بک تھا جہاں سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔

لڑکی کی ماں کینسر کی آخری اسٹیج کی مریضہ کراچی میں اپنے بھائیوں کے پاس رہتی جبکہ سباش اپنے والد کے ساتھ رہتی۔ سباش نے ابھی میٹرک کا امتحان دیا تھا۔
اس عمر کی دوستی یوں جلدی شادی میں تبدیل ہوگی دونوں نے سوچا تک نہ تھا۔ مگر جب دونوں کو محسوس ہوا کہ اب ان دونوں کے فیس بک سے کچھ آگے جاتے افیئر کا گھر والوں کا پتہ چل گیا ہے تو ہمیشہ کے لیے بچھڑنے کا خوف تھا کہ دونوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے۔

خوف تھا کہ پتہ چل جانے پہ لڑکی کی ماں شاید اس کو کراچی بلا لے اور پھر وہ کبھی ایک دوسرے سے مل نہ پائیں۔ اس خوف نے انہیں مجبور کیا کہ وہ گھر سے نکل کر کہیں دور جا کے شادی کر کے اپنی دنیا بسا لیں۔
کسی دوست کا نہ کوئی مشورہ، نہ نتائج کا اندازہ۔

کچھ پیسے ساتھ لے کر کسی کو بتائے بنا یہ انتہائی کم عمر جوڑا۔ اپنی دنیا بسانے اپنے اپنے گھر سے نکلا جن کو یہ تک پتہ نہ تھا کہ نوابشاہ میں کورٹ کہاں ہے جہاں انہوں نے شادی کرنی ہے نہ تو یہ پتہ تھا حیدرآباد میں سستا ہوٹل کہاں ہو گا جہاں وہ ایک آدھ دن کے لیے سر چھپا سکیں۔
وہ رات کی کسی ریل گاڑی میں نکل پڑے۔

نوابشاہ اترے پر رہنے کا ٹھکانہ چونکہ کوئی نہ تھا اس لیے کسی پہنچے بزرگ کی مزار پہ آ کے ماتھا ٹیکا۔ اور یہ مزار ہی کی سخاوت ہے کہ وہ گھر سے بھاگے ہوئے نوجوان جوڑوں سے لے کر عادی نشئی کو بھی پناہ دینے میں بخیل نہیں۔

اب ڈر کا عالم یہ تھا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے سے نہ چھوٹتا تھا۔ ادھر پولیس کا کوئی سپاہی دیکھتے تو دونوں روح تک کانپ جاتے۔ رات مزار پہ گزری بھی تو اس طرح کہ ایک سوتا تو دوسرا جاگتا۔ پکڑے جانے کا خوف دونوں کو سونے نہ دیتا اور بچھڑنے کے خوف میں دونوں کے ہاتھوں کی گرفت اور مضبوط ہو جاتی۔

دوسرا دن۔

صرف بچھڑنے کے خوف سے گھر سے نکلے ہوئے دونوں کو نہیں معلوم کہ کورٹ میرج کیا ہوتی ہے؟ اور کورٹ کہاں ہے۔ پر ان کو پتہ تھا کہ اس سماج میں مذہبی و قانونی رشتے کی بنیاد شادی ہی ہے تو کورٹ میرج لازم ٹھہری۔ نہیں علم تھا کہ کورٹ کہاں ہے مگر رکشہ والا کام آیا جس نے بتایا اور کورٹ پہنچایا۔

’ کہاں جانا ہے؟ کیا کرنا ہے۔‘ دونوں بچے پریشان پر کہیں سے رحمت کا فرشتہ کالا کوٹ پہنے ان کی مدد کو آیا۔ کاغذ بنوانے سے لے کر سارا کام کالے کوٹ والا فرشتہ کرتا رہا۔ اور یہاں تک کہ کورٹ میریج کا مرحلہ پورا ہوا۔ ”پیسے کتنے دینے ہوں گے” دونوں کا خیال تھا کہ کوئی تیس ہزار مانگے گا او ر پھر وہ نہ دے پائیں گے پھر کیا ہوگا۔ خوف ریڑھ کی ہڈی تک اترا محسوس کیا۔

” اپنی یہ انگوٹھی دے دو اور بقیہ تین ہزار۔“ کالے کوٹ والے فرشتے نے پہلے ہی سباش کے انگلی میں انگوٹھی تاڑ لی تھی۔
سباش نے بخوشی انگوٹھی اتاری اور وکیل کو پکڑا دی جو اس وقت ان کے لیے بہرحال اک فرشتہ بنا ہوا تھا۔ وہ پھر واپس اسی مزار پہ لوٹے۔

پیسے اتنے کہاں تھے کہ کھانا کسی تیسرے درجے کے ڈھابہ ہوٹل سے آتا۔ میسر کھانا بھی کیا تھا۔ جو تھیلی خیرات و نذر کی سب کو ملتی، ایک ان کو بھی مل جاتی۔
اگست کے دن تھے کہ گرمی اور تپش کا یہ عالم کہ بیٹھے بیٹھے سانس گھٹنے لگتی۔

گرمی تھی تھکن تھی یا کوئی اور سبب مگر اب سباش کو بخار چڑھنا شروع ہوا تھا۔ پیسے کم تھے پر کامران زور بھرتا رہا کہ کسی ڈاکٹر کو دکھایا جائے۔ پر سباش کو ابھی سے خیال رکھنا تھا کہ تھوڑے پیسوں سے گھر کیسے چلے گا اور وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے منع کرتی رہی۔

کامران سے کچھ نہیں بن پاتا اور نہ سباش کی یہ حالت دیکھی جاتی۔ بھاگ کر کہیں سے پانچ دس روپے میں ملنے والی کیلسی کی پڑیا لے آتا جو بار بار پانی میں ملا کر اس کو پلاتا اور ساتھ میں یہ کہہ کر رو بھی پڑتا
” سباش، میں نے تمہیں یہ زندگی دینے کے لیے تو شادی نہیں کی“
مگر عام زندگی میں بات بات پہ رو پڑنے والی لڑکی کو پتہ نہیں کیوں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ ” وہ روئے گی تو کامران ٹوٹ جائے گا“

تین راتوں کے بعد ان کو یہ لگا کہ اب زیادہ دیر تک مزا ر پہ رہنا غیر محفوظ ہوگا۔ لہٰذا انہوں نے حیدرآباد جانے کی گاڑی پکڑ لی۔

حیدرآباد میں کون سا ہوٹل سستا ہوگا یہ تو معلوم نہ تھا، کس علاقے میں ہوگا دونوں اس سے بھی بالکل بے خبر تھے لہذا رکشہ والے کے بھروسے پہ کسی ہوٹل پہ اترے جہاں شناختی کارڈ کے مسئلے کو اپنے والدین کے کارڈ جمع کرا کے حل کیا اور اس طرح کمرہ تو لے لیا۔ مگر اب مایوسی تھی کہ آگے کہاں جائیں۔ ؟ ان کی دنیا کی سرحدیں اس سے آگے کہیں نہیں جاتی تھیں۔

لگتا تھا خدا کی اتنی بڑی کائنات میں ان کے لیے سر چھپانے کی کوئی محفوظ جگہ نہ تھی۔ دوسرے دن ہوٹل والوں کے مشورے پہ انہوں نے مکان کرائے پہ لینے کی بات کی۔ جو پانچ دس ہزار کے ایڈوانس پہ جو کمرہ ملا۔ اس میں کوئی کھڑکی تھی نہ کوئی کنڈی۔ نہ بجلی تھی نہ ہی کہیں سے ہوا کا گزر۔

بستر کا مسئلہ یوں حل ہوا کہ لڑکی نے اپنے سارے کپڑے نیچے فرش پہ بچھائے اور یوں دونوں اس بستر پہ آ گئے۔ سباش کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ کامران کی سسکیاں بندہ گئی کہ ” خدا کی قسم میں تمہیں یہ زندگی نہیں دینا چاہتا تھا۔“
اب یہ تھا کہ دونوں روتے پھر چپ ہوتے۔ پر لڑکی میں کمال ضبط تھا۔

اس گھر میں ڈر بھی کچھ اور بڑھ گیا تھا کہ بجلی تک نہ تھی اور وہ صرف ذہن میں نہیں عمر میں بھی ابھی نو بالغ بچے ہی تو تھے۔

جب سے گھر سے نکلے تھے آنکھ بھر کہ سوئے نہیں تھے کہ بچھڑنے کے خوف سے اک سوتا تو دوسرا جاگتا۔ پر اس رات

فرش پہ اپنے کپڑوں سے بنائے فرش کے اس بستر پہ کامران کے گھٹنے پہ سر رکھ کے سباش نے پھر بھی بخار میں تھوڑی سی نیند پوری کی۔ مگر کامران ساری رات جاگتا رہا تھا، دل میں کیا سوچ رہا تھا سباش اس سے بالکل بے خبر سوتی رہی۔ مزار کے فرش پہ لیٹنے اور دن رات ایک کرنے سے دونوں کے کپڑے مٹی سے مٹی جیسے ہو گئے تھے۔

رات اس طرح سے کٹ رہی تھی کہ ان کو کسی صبح کا امکان نظر نہ آتا تھا۔ ہزار وسوسے پر پختہ یقین کہ بقیہ زندگی ساتھ گزرے گی۔

کھانے پینے کے ہوش سے بے خبر سباش اپنے میلے کپڑوں کو تو عبایئے میں چھپا لیتی مگر اس سے یہ برداشت نہ ہوتا کہ اس کے خوابوں کا شہزادہ میلے کچلے کپڑوں میں فقیروں جیسا لگتا ہے، حیدرآباد کے بازار میں ضد کر کے اس نے کامران کے لیے لیے اک شرٹ پینٹ لے لی۔
قید کوٹھڑی نما جگہ تو چھوڑی اب اگلا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔ یہ سوچتے وہ سکھر کسی رشتے دار کے پاس جانے کے لیے ٹرین پہ سوار ہوئے اور ٹرین میں ہی کامران نے اپنے کپڑے بدل لیے تھے۔ سکھر میں بس وہ ایک رات انہوں نے سکھ کی کاٹی کہ اس رات وہ پیٹ بھر کہ کھانا بھی کھا سکے تھے اور اے سی والے کمرے میں ان کو نیند بھی اچھی آئی۔ مگر اب آگے کا سفر موت کی مسافری تھی

کہ اس رشتے دار کے سمجھانے پہ کہ کامران کے گھر والوں پہ بہت دباؤ ہے ان کو واپس جانا چاہیے، جہاں سے وہ جامشورو واپس آئے۔ کامران کے خاندان پہ کیا ایسا دباؤ تھا خدا جانے۔ مگر اس کی ماں، والد اور بھائی نے بھلا پھسلا کر دونوں کو راضی کیا کہ وہ سباش کے گھر چلتے ہیں جہاں سے ان کی رخصتی ہو جائے گی۔

کامران کو اندازہ تھا کہ رخصتی کی معنی کیا ہے اس لیے وہ البتہ گھبرا گیا اور سباش کو بھی لگتا تھا کہ اب وہ بچھڑنے نہیں مرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ مگر پتہ نہیں کامران کے یہ کیسے سفاک والدین تھے کہ نہ پولیس کو اطلاع دی نہ کسی اور کو بتایا پتا نہیں کس آسرے پہ رات کے اندھیرے میں گاڑی میں سباش اور کامران کو لے کر ہنگورجہ کو روانہ ہوئے۔

” میں اور کامران بیچ میں بیٹھے تھے مگر ہم نے اک دوسرے کے ہاتھ کو ابھی بھی زور سے بھینچ کر پکڑا ہوا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ موت کا سفر ہے۔ کامران کی والدہ سارا رستہ قرآن کی تلاوت کرتی جاتی اور میں دل میں دعا کر رہی تھی کہ خدا تیرے آسرے پہ جا رہے ہیں ہمیں جدا مت کرنا ”

” کامران ٹوٹ چکا تھا اس لیے مجھے رونا نہیں تھا۔ میں اس کے کندھے پہ سر رکھے سوتی جاگتی رہی کہ اچانک اس کی ماں نے فال نکالنے کے لیے قرآن کو کھولا تو اس میں اک سرخ گلاب پڑا تھا۔ امی نے روتے کہا بیٹا یہ اچھا شگون ہے۔ سرخ گلاب تم لوگوں کے کامیابی کی نشانی ہے۔”

ہاں سچ گلاب دیکھ کر مجھے بھی لگا تھا کہ خدا ہم پہ مہربان ہونے والا تھا۔ ہمیں گھر نہیں بلایا گیا تھا یہ میرے والد کے چچا کا خالی گھر تھا جو مجسٹریٹ ہیں اور باہر اس کے دو سپاہی بھی گھر پہ تھے۔ ”سباش نے بتایا تھا

گھر کے اندر ان کا استقبال کرنے کے لیے سباش کا والد مع اپنے بھائیوں کے وہاں موجود تھا۔ رخصتی کا سامان کیسا۔ ان کی خوش آمدید گالیوں سے ہوئی جو کہ بقول سباش متوقع تھیں کہ ’ہم نے کوئی اتنا اچھا کام بھی نہیں کیا تھا‘

ان کی ہاتھوں میں پستولیں تھیں اور پھر کامران سے کہا گیا کہ اپنی روداد سنائے کہ کس طرح وہ بھاگے اور کس نے ان کی مدد کی تاکہ ان کی بھی سزایابی ہو سکے۔ ان کے بیان ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہو رہی تھی۔ بیانیہ میں جب کوئی اور ملوث و مددگار نہ ملا تو فیصلہ دیا گیا چونکہ باقی گھر والوں میں سے کوئی اور ملوث نہیں ہے لہٰذا باقی سب کو چھوڑ کر صرف سباش اور کامران موت کے لیے تیار ہوں۔

اور اس کا اہتمام یہ تھا کہ یہ ان کی اپنی صوابدید پہ تھا کہ ہو شربت (زہر) پینا پسند کریں گے یا پھر گولی سے مرنا پسند کریں گے۔ ماں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو گولی سے مرتا دیکھ نہ پائیں گی لہذا شربت پلایا جائے۔ یہ کیس ماں تھی کہ نہ چیختی تھیں نہ مزاحمت کرتی تھیں مگر کہتی۔ کہ شربت پلایا جائے۔ کیا اس کے پاس بھی اس پیار کی شادی کے جرم کی سزا موت تھی۔ جب تک باہر سے پیک کی ہوئی زہر کی کئی بوتلیں بھی آ چکی تھیں۔ پہلا گھونٹ سباش کو پلایا گیا تو اس نے تھوکتے ہوئے کہا ’ بہت کڑوا ہے‘

باپ اور چچا اس کو زہر پلاتے جاتے مگر اس کی آنکھیں کامران پہ ٹکی رہیں اس کو بھی زبردستی زہر پلایا جا رہا تھا مگر وہ اب مزاحمت کرنے کا حوصلہ بھی ہار چکا تھا۔

ایک وقت ایسا آیا کہ سباش کی آنکھیں کامران کو دیکھ نہ پا رہی تھیں جو کہ اوندھے منہ فرش پہ گر پڑا تھا مگر سباش کا والد اور چچا اس کو مسلسل ٹھڈے مارے جا رہے تھے۔ اس کو ٹھڈوں کا ذکر کرتے سباش پھوٹ پھوٹ کے روتی کہ ”میں سمجھی کہ اب کامران نہیں“
دوسری جانب حد یہ تھی کہ ماں، بھائی اور والد میں مزاحمت اور کسی چیخ پکار کا کوئی حوصلہ نہ تھا۔

ماں نے دیوار کی طرف منہ پھیر دیا تھا جبکہ بھائی اور والد آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کو زہر پیتا دیکھ کر خاموش تھے، کوئی مزاحمت، کوئی چیخ و پکار نہیں۔

بے بسی کا یہ عالم بھی میری عام انسانی سمجھ سے باہر تھا۔ ہو سکتا ہے وہ ذہنی طور پہ اس کے لیے پہلے ہی تیار تھے۔

بھلا ہو باہر کھڑے سپاہیوں کا کہ انہوں نے جب یہ محسوس کیا کہ اندر کچھ گڑبڑ ہے تو انہوں نے مجسٹریٹ کو فون کیا کہ ان کا شک ہے اندر شاید جوڑے کو قتل کیا جائے۔ مجسٹریٹ البتہ خاندانی روایتی عزت کے تصور سے بالاتر ہو کر ایس پی اور پولیس کو مدد کے لیے فون کیا۔ پولیس اک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں پہنچی اور اس وقت شاید ایس ایچ او کے پاؤں میں جوتی بھی نہیں تھی وہ ننگے پاؤں پہنچے تھے اور اس نے جلدی سے بچوں کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔

پانچ دن کے بعد جب سباش کو ہوش آیا تو اس کی آنکھوں میں پہلی تلاش کامران کی تھی۔ لیکن ڈاکٹروں کی تسلی تھی کہ سامنے جو بستر ہے وہ کامران ہے۔

” چہرہ نہیں صرف اس کے پاؤں نظر آئے تھے مجھے۔ اور میں ان پاؤں کو دیکھ کر زندہ رہنے کی کوشش کرتی۔ اس سے پہلے کبھی دوائی نہیں کھاتی تھی مگر اب ڈاکٹر سمجھاتے کہ کامران کے لیے مجھے زندہ رہنا اور اس طرح اک اک گولی مجھے کامران کا نام لے کر کھلائی جاتی۔ میں جینے کی کوشش کرتی رہی تاکہ کامران کو حوصلہ دے سکوں ”

ڈاکٹر جوس پینے کے لیے کہتے تو میں ان سے کیلسی مانگتی جو کامران مزار پہ دوڑ دوڑ کر میرے لیے لے آتا اور پیار سے پلاتا تھا۔ شروع میں تو ڈاکٹر بہت پریشان ہوئے کہ کیلسی کون سی ہوتی ہے۔ بعد میں جب انھوں نے بازار سے منگائے بہت سے ریپر دکھائے تو اک کو میں نے پہچان کر کہا یہ کیلسی کامران پلایا کرتا تھا۔ مگر ڈاکٹر ہنس کے کہتے یہ تو پانچ روپے والی ہے۔ ہم اتنے مہنگے جوس منگا رہے ہیں۔ مگر مجھے معلوم تھا کہ مہنگے جوس میں کامران والا پیار نہیں تھا۔”

” پھر اک دن مجھے کسی اور روم میں شفٹ کر دیا گیا۔ میں چیختی تھی کہ مجھے کامران کے روم میں لے چلیں مگر جب مجھے واپس وہاں لے آئے تو مجھے وہاں وہ پاؤں نظر نہیں آئے جن کو دیکھ کر مجھ میں جینے کا حوصلہ پیدا ہوتا تھا کہ اب کامران والا بستر خالی تھا
ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی اس لیے اس کو کراچی لے گئے ہیں۔ ”

ہم نے کیس میں دلچسپی لی لیکن سباش نے اس طرح اپنے آپ کو کہانی کا مرکز بنایا کہ ہم کیس میں کامران کا قتل بھول کر سباش کی زندگی اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔ مشکل یہ آئی کہ اس بچی کو کیسے بتایا جائے کہ کامران کی موت اسی دن ہو گئی تھی جب اس کے سامنے والا بستر خالی ہوا تھا۔
کیونکہ وہ ہر دفعہ کامران کا پوچھتی کہ کامران کو گھر میں نہ دیکھتی مگر وہ اپنے سسرال میں تھی
” سنو آپ میری کہانی پہ کتاب ضرور لکھنا
کتاب کا نام سبران یعنی اس کا پہلا حصہ سبھاش اور آخری کامران ”سبران“ ہوگا

بمشکل سولہ سالہ طاہرہ شاہ جس کو گھر میں سبھاش کے نام سے پکارا جاتا تھا، ہنستے ہوئے فرمائش کی اور کہا

” آپ جائیں گی نہیں میری پوری کہانی سنیں گی، بیچ کہیں اٹھنا نہیں“

وہ زہر سے بچ اٹھی تھی مگر نہیں جانتی تھی کہ وہ زہر کامران کو اس سے ہمیشہ کے لیے جد کرا چکا ہے، جو اس کے چچاؤں اور باپ نے مل کر دونوں کو پلایا تھا۔

پانچ مہینے کے فیس بک کے تعلق کو جو پانچ دن کی شادی پہ محیط تھا اس نے ڈھائی گھنٹوں میں کہیں روتے، بلکتے، کہیں کھلکھلا کر ہنستے سنانے میں اس نے ڈھائی گھنٹے لیے تھے۔

خوبصورت سے فیشنی ٹاپ پہ پھٹی جینز جس کے پائنچے اوپر کو مڑے ہوئے۔ بالوں میں کیچر ڈالے وہ ابھی تک اسی دنیا میں گم تھی جو اس نے کامران کے ساتھ تخلیق کی تھی۔ اس سے کہانی لکھنے کا وعدہ ہے۔ پر کل اک تھراپسٹ سائیکاٹرسٹ کو لے کر پھر جانا ہوا کہ اس کو کامران کی موت کی خبر کیسے سنائی جائے۔
اس نے سباش سے ایک نشست تنہائی میں بات کی مگر جب گاڑی میں واپس آنے لگے تو کہا۔ ”اسے کامران کی موت کا مت بتاؤ یہ ابھی اسٹرانگ ڈینائیل میں ہے۔ پھر اس
نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

” میرا تو دل کہتا ہے اس کبھی کامران کی موت کی خبر سنائی نہ جائے، اس کی دنیا ٹوٹ جائے گی، یہ بہت چھوٹی ہے۔”

ہم اس سے ملنے جاتے تاکہ درست موقع دیکھ کر اس کو کامران کی موت کا بتا سکیں۔ لگتا یہی تھا کہ اس کو اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا مگر وہ مسلسل انکار کی کیفیت میں رہی۔ ہر دفعہ وہی باتیں کرتیں کہ اگر کامران نہیں رہا تو میں خود کو ختم کردوں گی۔ کہانی لکھنے کے وعدے پہ میں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی کھانی خود لکھے کہ میں اگر کامران کا نام اتنے پیار سے نہیں لکھہ پاؤں گی جتنے پیار سے وہ اس کا نام پکارتی ہے۔
کل اس نے مجھے اپنی ڈائری دکھائی تھی
وہ اپنی کہانی خود لکھ رہی ہے۔
میں نے کچھ صفحات ضرور پڑھے مگر میری خواہش کہ وہ اپنی کہانی خود لکھے۔
گھر والوں نے مگر آج اس کو کامران کے موت کی خبر دے دی ہے۔
بھابھی فون پہ بتا رہی تھیں کہ میں نے سباش سے پوچھا کہ ”اب تمہاری مرضی ہے کہ عدت کا عرصہ تم یہاں جامشورو میں گزارو یا پھر ہنگورجہ۔
مگر تمہیں عدت کرنی پڑے گی”
کیا عجب کہانی ہوئی ”سبران“ کی۔ چھ دن میں شروع، چھ دن میں ختم نہ شادی، نہ رخصتی، مگر اب عدت لازم ٹھہری۔

پانچ دن کی یہ کہانی جس میں کامران کو زہر پلا کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔ دو ہزار سولہ کی پہلی ستمبر کو لکھی گئی۔

ٹھیک پانچ سال کے بعد وہ بھولی بسری کہانی پھر سے میڈیا میں کچھ اس طرح چھپی کہ خیرپور کی سیشن کورٹ میں جج کے سامنے کامران کے خاندان نے قاتل کو معاف کر دیا گیا۔

پیار کی کہانی کا قتل تو شاید زہر سے ہوا تھا مگر انصاف کے قتل کی منصوبہ بندی کو کوئی چھوٹی و بڑی عدالت یعنی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کی ملی بھگت کہے تو شاید درست لگے کیونکہ انصاف کی فراہمی کا انتظار کرتے کرتے سباش شاہ جو کہ اپنے والدین کے گھر کے بجائے سسرال میں ہی رہ پڑی تھی، واقعہ کے ایک سال بعد اپنے والد اور چچا کے خلاف عدالت میں گواہی بھی دے ائی۔ مگر عدالت سے کامران کے قاتلوں کی سزایابی سے نا امید ہو کر واپس ماں کے پاس چلی گئی۔

مگر مقتول کامران کا خاندان جس نے اس کے قتل کے وقت بھی کوئی مزاحمت نہ کی تھی وہ کامران کا خون بیچنے کی تیاری کرتے رہے۔ ایک سال پہلے ہائیکورٹ سے کیس واپس لینے کی درخواست کو سیشن کورٹ کو بھیجی گئی جس نے قانونی کارروائی کے تحت مقتولین کے ورثا کا صلح نامہ وصول کر کے ہائیکورٹ سکھر بینچ کو بھجوا دیا۔ انصاف ملنا جتنا مشکل تھا یہ صلح نامہ اتنا ہی آسان تھا۔ آخری اطلاعات تک اب کیس بڑی کورٹ میں ہے جہاں سے جلد ہی اس معافی نامے پہ ریاست کی طرف سے داخل کرایا کیس خارج ہو جائے گا۔

سباش و کامران کی کہانی جسے سباش نے سبران کا نام دیا تھا اس پانچ دن کی پیار کہانی نے ختم ہونے میں پانچ گھنٹے بھی نہیں لگائے تھے مگر عدالت میں انصاف کے خون کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پانچ سال لگ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words