ایک انقلابی کی زندہ تاریخ، لفظوں کی زبانی


تاریخ میں کچھ لوگ ایسے منفرد کام سرانجام دے جاتے ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تاریخ ساز کردار، بریڈ فورڈ کی انقلابی شخصیت، ممتاز ترقی پسند دانشور اور لیبر پارٹی برطانیہ کے رہنما محمد عجیب ہیں، جنہوں نے آزاد کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولی۔ محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوا تو اپنے چچا کے پاس کراچی چلے گئے اور وہیں سے برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں آ کر وہ ٹریڈ یونین سرگرمیوں، نسلی امتیاز کمیشن میں کردار اور بریڈ فورڈ سے کونسلر منتخب ہونے کے بعد 1985 ء میں برطانیہ میں پہلے مسلمان اور پہلے ایشین لارڈ میئر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی۔

گزشتہ دنوں بریڈ فورڈ میں محمد عجیب کے سفرنامہ پر مبنی ایک دلچسپ کتاب منظرعام پر آئی، جسے بریڈ فورڈ کی تین مختلف الخیال شخصیات نے مرتب کیا ہے۔ یہ شخصیات ایک لبرل خیال کے حامل ادیب، کالم نویس و سماجی کارکن یعقوب نظامی، قدرے لبرل خیال کے حامل، کونسل برائے مساجد کے راہنما اشتیاق احمد اور نامور ترقی پسند ادیب، صحافی اور سیاسی راہنما ظفر تنویر ہیں، جو بلا شعبہ مختلف پس منظر کے باوجود بریڈ فورڈ کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ایک قابل ذکر مقام رکھتے ہیں۔ ان کی مرتب کردہ یہ کتاب برطانیہ میں منتخب ہونے والے پہلے ایشیائی لارڈ میئر محمد عجیب کی زندگی اور ریسزم مخالف، سیاسی و سماجی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ایک منفرد اور قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ تینوں شخصیات محمد عجیب کی جدوجہد کے ابتدائی دور کا ساتھی ہیں۔

اپنی نئی نسل کی آسانی کے لیے انگریزی زبان میں مرتب کی گئی اس کتاب کے پہلے حصے میں محمد عجیب کی زندگی اور جدوجہد کے مختلف پہلوں کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستانی، کشمیری، ہندوستانی، ایفرو کیریبین اور برطانوی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے مضامین شامل ہیں، جب کہ کتاب کے دوسرے حصے میں محمد عجیب کے منتخب مضامین شامل ہیں جو مختلف ادوار میں برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور آج بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

بلا شعبہ ایک حقیقی انقلابی اور عوامی ہیرو کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ ہر شعبہ زندگی اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس کی خدمات اور سماجی کردار کا نہ صرف برملا اعتراف کریں بلکہ اسے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بھی تصور کریں۔ محمد عجیب کی بے لوث جدوجہد، سماجی مقام اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی جانب سے برملا اعتراف اس کی زندہ مثال ہے۔

اس کتاب میں جن شخصیات کے مضامین شامل کیے گئے ہیں ان میں اشتیاق احمد، یعقوب نظامی اور ظفر تنویر کے علاوہ محمد عجیب کی بیٹی اور بریڈ فورڈ سے منتخب کونسلر رضوانہ جمیل، بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق استاد اور کامن ویلتھ سکالر ڈاکٹر جون سموئل، بریڈ فورڈ کالج کے سبق استاد اور این ایچ ایس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رامندر سنگھ، بریڈ فورڈ مساجد کونسل کے سابق صدر شیر اعظم، بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق استاد اور فیتھ ایڈوائزر ڈاکٹر فلپ لویز، نامور ادیب اور سٹوری رائیٹر اختر حسین، سابق استاد اور کالم نویس محمد نزیر تبسم، کمیونٹی کی ترقی کے لیے سرگرم تنظیم کیو ای ڈی کی ایگزیکٹو محترمہ ادیبہ ملک، خواتین کی بہبود اور تربیت کے لیے سرگرم کونسلر صبیحہ خان، بریڈ فورڈ اکیڈمی کے چیرمین اور سماجی کارکن منوج جوشی، سماجی کارکن و پریزینٹر ڈاکٹر محمد اقبال اور کتاب کے ایڈیٹ کرنے والے ڈاکٹر سفیان عابد ڈوگر شامل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں بشپ آف بریڈ فورڈ ڈاکٹر ٹوبی ہوورتھ کا محمد عجیب کی زندگی، جدوجہد اور کامیابیوں پر لکھا گیا تبصرہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں 1985 ء میں منعقد ہونے والے نسلی برابری کونسل برطانیہ کے سالانہ اجلاس میں محمد عجیب کے بطور مہمان خصوصی خطاب کے علاوہ ان کے جن مضامین کو شامل کیا گیا ہے ان میں ’مسلمان برطانوی مینسٹریم سیاست میں حصہ ڈالیں، بریڈ فورڈ کا مستقبل، یورپ میں آباد مسلمانوں کے لیے اہم لمحہ، بریگزٹ نفرت اور تعصب کی فتح ہے، نفرت حقارت اور عدم برداشت سے بھرا ڈونلڈ ٹرمپ، جمہوریت کا مشکل راستہ، پاکستان سیاسی غیر یقینی کے راہ پر، انکار سے الجھن کی حالت تک، ایک لیڈر کی تلاش میں پاکستانی قوم، پاناما پیپرز اور پریشانیوں کا سامنا کرتا پاکستانی وزیر اعظم شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، جسے ہم عرف عام میں آزاد کشمیر کہتے ہیں، کے ایک دور افتادہ گاؤں چھترو کے محنت کش گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد عجیب نے میٹرک کیا تو خاندان کے مالی حالات کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنے مشکل ہو گیا۔ وہ مزید تعلیم کے لیے اپنے چچا کے پاس کراچی چلے گئے، جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک ٹیکسٹائل مل ملازمت مل گئی۔ ایک روز اس فیکٹری میں بھاری گانٹھوں کی لوڈنگ کے دوران ایک مزدور حادثے کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس واقعے نے محمد عجیب کی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے۔

محمد عجیب بچپن ہی سے حساس ذہن کے مالک تھے اور گاؤں میں غریب لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہمیشہ سوال اٹھاتے تھے۔ اس لیے ان کی آنکھوں کے سامنے ہونے والے اس واقع پر خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے مل کے مزدوروں کو اکٹھا کیا اور مزدوروں کی سیفٹی کے لیے اقدامات کروانے کے لیے انہیں ٹریڈ یونین بنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کچھ مزدوروں کو ساتھ ملایا اور حادثے کا شکار ہونے والے مزدور کے ورثا کو مناسب معاوضہ دلوانے کے لیے آواز اٹھائی اور معاوضہ دلوانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ان کی زندگی کی پہلی بڑی کامیابی تھی، جس نے ان کی ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات سے وابستگی، اور انقلابی سیاست کی طرف سفر میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد عجیب نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی تو اس زمانے میں برطانیہ آنے کے لیے 1100 روپے نقد ڈیپازٹ اور 5 پونڈ فارن ایکسچینج پر ورک ویزہ مل جاتا تھا۔ اس طرح وہ 1957 میں اپنے چچا کی مدد سے برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ برطانیہ پہنچ کر وہ نوٹنگھم میں آباد ہو گئے، جو ایک صنعتی علاقہ تھا اور وہاں پاکستانی کمیونٹی بھی کافی تھی۔ برطانیہ پہنچ کر مشکل حالات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔

اس زمانے میں برطانیہ میں محنت کشوں کے سماجی استحصال کی یہ صورت تھی کہ وہ ہفتے کے ساتوں دن کم از کم 12 گھنٹے کام کرتے تھے اور ستم ظریفی یہاں تک کہ اس کا انہیں کوئی اوور ٹائم بھی نہیں ملتا تھا۔ ایک گھر میں پچیس سے تیس لوگ رہتے تھے جو مختلف شفٹوں میں کام کرتے اور شفٹوں میں ہی انہیں گھر میں آرام کے لیے بیڈ میسر آتا تھا۔

محمد عجیب نے سب سے پہلے ایک صابن بنانے والی فیکٹری میں ملازمت کی، بعد ازاں انہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں بس کنڈیکٹر کے طور پر ملازمت مل گئی۔ اس زمانے میں برطانوی شہری ایشینز کو ایک غلام ملک کے شہری ہی سمجھتے تھے، اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب محمد عجیب نے برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف کام کرنا شروع کیا اور وہ جلد ہی نسل پرستی کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کا شمار برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم چند مضبوط آوازوں میں ہونے لگا۔

ایشین کمیونٹی کے بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے محمد عجیب 1973 ء میں بریڈ فورڈ منتقل ہو گئے اور انہیں شیلٹر ہاؤسنگ اینڈ رینیویل ایکسپیریمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ملازمت مل گئی اور 1976 میں انہیں ادارے کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ محمد عجیب نے 1974 میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1977 میں انہیں بریڈ فورڈ کمیونٹی ریلیشنز کونسل کا چیرمین منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے 1979 میں پہلی مرتبہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر بریڈ فورڈ میٹروپولیٹن کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا اور کونسلر منتخب ہو گئے۔

اگلے الیکشن میں انہوں نے اپنی سٹی وارڈ کی محفوظ سیٹ چھوڑ کر لیبر پارٹی بریڈ فورڈ کے لیڈر کو الیکشن لڑوایا تا کہ اسے مقامی لوگوں کے مسائل سے آگاہی ہو سکے، اور خود ایک کم محفوظ سیٹ سے الیکشن میں حصہ لیا اور جیت گئے۔ 1984 میں محمد عجیب بریڈ فورڈ کونسل میں لیبر پارٹی گروپ کے چیرمین منتخب ہو گئے۔ اور 1985 میں تو انہوں نے برطانیہ میں تاریخ رقم کر دی اور برطانیہ کے پہلے ایشین لارڈ میئر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ 21 مئی 1985 ء کی صبح 11 بجے انہوں نے بریڈ فورڈ سٹی ہال کے کونسل چیمبرز میں اپنی اہلیہ محترمہ ارشاد بیگم کے ہمراہ ملک کے پہلے ایشین لارڈ میئر کے طور پر بریڈ فورڈ سٹی فائر کے دردناک حادثہ کے متاثرین کے لئے دعا کر کے پہلے ایشین لارڈ میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

محمد عجیب 21 برس تک باقاعدہ کونسل کے ممبر منتخب ہوتے رہے اور 2000 میں انہوں الیکشن کی سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انہوں نے سیاست چھوڑ دی، وہ لیبر پارٹی، نسل پرستی مخالف تحریکوں، ترقی پسند افکار کی ترویج و ترقی میں سرگرم رہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور یقیناً ان کی آخری سانس تک جاری رہے گا۔

فروری 1996 ء میں جب میں لاہور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو خیرباد کہہ کر برطانیہ آیا تو ایک ماہ بعد ہی محمد عجیب سے میری پہلی ملاقات ہو گئی، جس کا سبب بریڈ فورڈ سے شائع ہونے والے ادبی اخبار راوی کے مدیر مقصود الہی شیخ کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب بنی۔ پھر ملاقاتیں جاری رہیں اور نظریاتی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا گیا، اور ہمارا رشتہ نظریاتی، سیاسی اور جدوجہد کا بن گیا۔ بعد ازاں ہم نے مل کر ساوتھ ایشین پیپلز فورم کی بنیاد رکھی اور بیسیوں تقریبات اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔

محمد عجیب بلا شبہ برطانیہ میں ترقی پسند، سیکولر اور جمہوری روایات کی ایک مضبوط آواز ہیں اور وہ ہماری نئی نسل کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی ظلم، جبر اور استحصال ہو، وہ ہمیشہ اپنے قلم، آواز، اور اپنے وجود سے اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ وہ ایک باکردار، مخلص، محنتی، ایماندار، ہر انسان کی عزت کرنے والے اور ہر کسی سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو، مسئلہ فلسطین ہو، سامراج کی مسلط کردہ جنگیں ہوں یا پھر دنیا بھر میں کہیں بھی قومیتوں کے خلاف جبر ہو، محمد عجیب کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور وہ ہے مکمل حق خود اختیاری۔ انہوں نے دنیا میں ڈکٹیٹرشپ اور جنگی جنون کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور دنیا میں اسلحہ کی دوڑ ختم کر کے امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔

محمد عجیب کے لارڈ میئر کے طور پر انتخاب نے بلا شعبہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کو کم کیا اور ایفرو ایشین کمیونٹی کے لیے برطانوی سیاست اور ریاستی ایوانوں کے دروازے کھول دیے۔ اس انتخاب نے نہ صرف ایشین کمیونٹی کو لوکل کونسلوں اور ملکی سطح کی سیاست میں آنے کی ترغیب دی، بلکہ ایشین کمیونٹی کے لیے برطانیہ میں معاشی و سماجی محاذوں اور اعلی ملازمتوں پر بند دروازوں کو بھی کھول دیا۔ پھر آہستہ آہستہ بریڈ فورڈ ایشینز کے لیے ادبی، سیاسی، سماجی بالخصوص، روشن خیال، سامراج دشمن، نسل پرستی مخالف، جنگ مخالف اور سوشلسٹ نظریات کا بھی مرکز بنتا گیا۔

محمد عجیب ایشین کمیونٹی کے لیے ایسے لیجنڈ اور رول ماڈل ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی برطانیہ میں نسل پرستی کا بت توڑنے کے لیے وقف کر دی، اور ایفرو ایشین کمیونٹیز کے لیے عزت و وقار سے زندگی گزارنا آسان بنا دیا۔ وہ ایک انتہائی با کردار، منظم، متحرک، روشن خیال ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری کمیونٹی کے لیے حقیقی رول ماڈل بن گئے۔ زیرنظر کتاب محترم اشتیاق احمد، یعقوب نظامی اور میرے کامریڈ ظفر تنویر کی بہترین کاوش کا نتیجہ ہے جو ہمارے پیارے کامریڈ محمد عجیب کی جدوجہد کی کہانی ہماری آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو گی۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh