کوئٹہ دھماکے میں چار ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت، تحریکِ طالبان پاکستان نے ذمے داری قبول کر لی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ایک خود کش حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کم از کم چار اہل کار ہلاک جب کہ 16 زخمی ہو گئے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق تین سیکیورٹی اہل کاروں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ خود کش حملے میں دو شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایک خود کش دھماکہ تھا جائے جب کہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر اور دیگر اعضا برآمد کر لیے گئے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

نیو سریاب پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ خود کش حملہ صبح ساڑھے سات بجے کوئٹہ مستونگ روڈ پر سونا خان چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دور دور تک اس کی آواز سنائی دی گئی۔

اہلکار کے بقول حملہ اس وقت ہوا جب ایف سی کی چار گاڑیوں میں اہلکار معمول کے مطابق ہزار گنجی سبزی منڈی جانے والے ہزارہ کمیونٹی کے مزدوروں کو سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

ایسے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خود کش حملہ آور ایف سی کی گاڑیوں کے قریب آیا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ اور ایف سی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ان واقعات میں اب تک ایف سی اور پولیس کے تقریباً 27 اہلکار ہلاک جب کہ کئی زخمی ہو چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words