اللہ کے گھر پر قبضہ ختم کرو

خطیب صاحب کی آواز میں زبردست گھن گرج تھی۔ مسجد کے گرد مارکیٹ تو یوں سمجھ لیں ان کی جاگیر تھی۔ میرے ایک دوست پراپرٹی ڈیلر سے ایک دن اپنی بیٹی کے جہیز کے لئے واشنگ مشین مانگی۔ انہوں نے ایک عام پاکستانی مشین خرید کر مولانا صاحب کے گھر بھجوا دی۔ اس پر غضب ناک ہو کر انہوں نے مشین میرے دوست کے آفس کے سامنے پھنکوا دی کہ غیر ملکی آٹومیٹک کیوں نہیں خریدی؟ موصوف کی زبان کی سختی سے کوئی محفوظ نہیں تھا۔ دوسرے فرقوں کو جہنم کی آگ میں پہلے ہی سے بک کرچکے تھے۔

یہ کالونی کوئی چھوٹا علاقہ نہیں ہے دس ہزار گھروں کے لئے بنی ہے۔ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت بنی ہے اور سات فیزز پر مشتمل ہے۔ ہر فیز کئی سیکٹروں میں تقسیم ہے۔ ہر سیکٹر ایک کمیونٹی سنٹر کے گرد بنا ہے جس میں ایک خوبصورت مسجد، خطیب کے لئے گھر، مارکیٹ، بینک اور پارک وغیرہ شامل ہیں۔ اس کالونی میں اگرچہ ہر فرقے کے لوگ پائے جاتے ہیں لیکن ایک منظم طریقے سے ان سب سرکاری مساجد پر ایک ہی مسلک (جن کا ایک سیاسی مذہبی جماعت سے بھی تعلق ہے) کا قبضہ ہے۔

ہمارے خطیب صاحب ان کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتے تھے۔ اتفاق سے ایک عرب شیخ نے ایک اور مسلک کے پراثر گروپ کو ایک عظیم الشان مسجد بنانے کے لئے نہ صرف زمین خرید کر دی بلکہ تعمیر بھی شاندار طریقے سے کی۔ اتنی عالی شان مسجد کسی اور مسلک کے قبضے میں ہو، یہ ہمارے گرم مزاج خطیب سے برداشت نہ ہوسکا اور اپنے مسلک کے خطیبوں اور مدارس کے طلبہ کے ساتھ اس نئی مسجد کا قبضہ لینے کے لئے دھاوا بول دیا۔ دوسری طرف بھی مسلح فریق انتظار میں تھے۔ جھڑپ میں ستر اسی لوگ زخمی ہوئے لیکن ہمارے خطیب صاحب ہار کر آ گئے۔ تاہم ان کا لہجہ کرخت سے کرخت تر ہوتا گیا۔ ایک دفعہ تو عید کی نماز میں مقتدیوں کو صف ٹیڑھی ہونے پر جانور تک کہہ دیا۔

مجھے علم نہیں کہ انہوں نے کس کو اتنی ذہنی اذیت دی تھی کہ وہ اس کی جان کے دشمن ہو گئے اور ایک دن کسی نے بھرے چوک میں گولیوں سے بھون کے رکھ دیا۔ ان کی مسجد کمیٹی میں بڑی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور با اثر شخصیات شامل تھیں۔ خطیب صاحب، جن کی اولاد نرینہ نہیں تھی، کی رحلت کے بعد کمیٹی نے نئے خطیب کے لئے اشتہار دیا۔ اس کے اگلے دن ایک مسلح جتھا مسجد میں در آیا۔ ان کا سرغنہ مرحوم خطیب کے بھانجے تھے۔ انہوں نے کمیٹی کو دھمکی دی کہ اس منصب پر ان کے ماموں کی جان گئی تھی اس لئے کوئی مائی کا لعل یہ منصب ان سے نہیں چھین سکتا (حالانکہ وہ اس منصب کے لئے اہل ہی نہ تھے)۔ یوں شرکا کی کمیٹی بندوق کی نالی کے سامنے بے بس ہو گئی۔ وہ بھانجا ابھی تک اپنے ماموں کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں۔

اس کالونی کے تمام مساجد مسلمانوں کے کمیونٹی سنٹر کے طور پر بنائے ہوئے ہیں۔ اس کے بجلی، گیس اور پانی کے بل ہمارے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہیں۔ خطیب کی تنخواہ بھی اسی مد سے لوکل باڈی دیتی ہے۔ تمام مساجد خوبصورتی سے تعمیر ہوئی ہیں۔ ان کے ساتھ خطیب کی رہائش کے لئے بھی کمرے بنے ہوئے ہیں۔ اکثر مساجد میں خواتین کے لئے بھی جگہ بنائی گئی ہے پر استعمال نہیں ہوتے۔ ہر مسجد کے پاس چھوٹے بڑے پارک بھی بنے ہوئے ہیں۔

کمیونٹی سنٹر کے طور پر ہر مسجد اس علاقے (سیکٹر) کے لئے بہت وسائل فراہم کرنے کے قابل ہے۔ سکول کے بچوں کے لئے ٹیوشن کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ خواتین کے لئے کمپیوٹر یا دوسرے ہنر کدے بنائے جا سکتے تھے۔ علاقے کی شادیوں کے نکاح باندھے جا سکتے تھے۔ میت کے گھر کی تعزیت کی جگہ بن سکتی تھی۔ اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے تو مسجد ایک مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں بچوں کی تربیت، بزرگوں کے میل ملاقات، بے روزگاروں کی مدد اور دوسرے بے شمار معاشرتی مسائل پر بحث ہو سکتی تھی۔ مسجد کے وضو خانوں کو مناسب واش رومز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ اللہ کے گھر خطیبوں کے قبضے میں ہیں۔ ان سے دن بھر کی پانچ نمازوں کے علاوہ کوئی اور معاشرتی بھلائی کا کام نہیں لیا جاسکتا۔ حتیٰ کہ خطیب صاحب لیٹ ہو جاتے ہیں تو کسی اور کی امامت پر بھی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ نوجوانوں کونہ صرف اقتدا میں نماز سکھائیں، ان کو امامت کے لئے بھی تیار کریں۔ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہر جمعے کا دس منٹ کا خطبہ تیار کروائیں اور ان جے منبر پر کھڑا ہونے کی حوصلہ افزائی کریں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس اللہ کے گھر کا کونا بھی کسی کو دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ باوجود اس کے کہ سارے اخراجات لوکل باڈی ادا کرتی ہے، جمعے کے خطبے کی طوالت چندہ جمع کرنے والوں کی رفتار پر منحصر ہوتا ہے۔ ان چندوں کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔ ایک فیز میں دو مسجدیں آس پاس بنی ہوئی ہیں۔ عموماً جمعے کی نماز پونے دو بجے ہوتی تھی۔ ایک مسجد نے اپنا وقت ڈیڑھ بجے کیا۔ مقتدیوں اور ان کے ساتھ چندوں کا رخ اس مسجد کی طرف ہو گیا۔

مقابل مسجد نے نماز سوا ایک کردی۔ پہلی مسجد نے سوا ایک نماز شروع کر دی۔ یوں چندوں کے تعاقب میں مقابلہ شروع ہو گیا۔ آخر کار اس دھمکی پر کہ ”ہم بارہ بجے نماز پڑھائیں گے“ کی دھمکی پر دونوں مساجد ایک بجے پر راضی ہو گئے۔ کئی خطیبوں نے تو دھونس کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ اچھی خاصی بنی بنائی مسجدیں ڈھا کر کئی منزلہ نئی عمارتیں شروع کی ہیں جن میں خاص طور پر دکانیں مطمح نظر ہیں کہ ان کا محض کرایہ بھی لاکھوں روپے میں بنتا ہے۔

اللہ کے گھر کے یہ قابضین اتنے دلیر ہو گئے ہیں کہ ہمارے ایک دوست کے پرائیویٹ سکول میں انہوں نے ایک جگہ نماز کے لئے مخصوص کی تو نزدیکی مسجد کے خطیب نے اپنا ایک شاگرد بھیجا کہ موصوف وہاں امامت کے فرائض دیں گے۔ ہمارے دوست نے معذرت کی تو دھمکی ملی کہ ان کے مدرسے کے چارسو طلبہ ان کے سکول کو تہس نہس کردیں گے۔ ایک خطیب صاحب نہ صرف سمگلنگ میں ملوث ہیں بلکہ پولیس سے بھی بھتہ لیتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر کا قانون نافذ ہو چکا ہے لیکن مولوی کے ڈر سے مساجد پر اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔

ایک مسجد کے امام نے لمبی تاریں کئی گلیوں میں بچھائی ہیں اور بے شمار لاؤڈ سپیکرز سے مریضوں، طلبہ اور بچوں کے اعصاب کا امتحان لے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں مسجد کے پاس ہی ایک معذور شخص فوت ہوئے۔ جنازہ تیار تھا۔ مولانا صاحب پہنچے۔ میت کا پتہ چلا تو جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا کہ موصوف نماز کے لئے باقاعدہ مسجد نہیں آتے تھے (یعنی چندہ نہیں دیتے تھے)۔

افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دین کو سمجھنے والوں کے سامنے خطیب صاحب بالکل غلط ہدایات دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ بیچارے سر نیچے کیے اپنی قسمت کو کوس رہے ہوتے ہیں۔ اب مساجد کے خطیب رہنما نہیں رہے۔ بچوں کی آمد یا ان کے شور پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ جماعت میں کسی کا موبائل بجے تو سلام پھیرتے ہی بے چارے کو بھاگنا پڑتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ کمیونٹی اپنے اللہ کے گھر کا قبضہ ناجائز قابضوں سے واگزار کروائیں اور اسے چوبیس گھنٹے کمیونٹی کا مرکز بنائیں۔ خطیب کے انتخاب کے لئے جدید علوم اور اسلام دونوں کے امتزاج سے معیار بنائیں۔ اتنے اہم منصب کا جاب ڈسکرپشن بنائیں۔ ہر سال ان کا آڈٹ ہو کہ کتنے نوجوانوں کو امامت، نماز جنازہ پڑھانے، تراویح کروانے اور جمعہ کے خطبے کے قابل بنایا۔ کمیونٹی کے لئے کتنا کام کیا۔ مساجد کا چندہ بھی بجائے نقد کے موبائل ایپ سے ایک ایس ایم ایس سے مسجد کے اکاؤنٹ میں جائے۔

اس سے خطیب صاحب کا مرتبہ بھی بڑھ جائے گا۔ ان کی تنخواہ بھی بہتر ہو جائے گی۔ اچھا تو ہوگا کہ ان کی مدد کے لئے بلدیہ کسی دکان کی آمدن بھی ان کے نام کردے۔ وہ خود بھی اگر اچھے پڑھے لکھے ہوں تو آن لائن کوئی بزنس کر سکتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ورزش کرتے ہوئے اپنا پیٹ بھی سنت کے مطابق قابو میں رکھ سکیں گے۔ علاقے کے لوگ ان سے فتووں کے ڈر سے نہیں بلکہ ان کے اخلاق کی وجہ سے محبت کریں گے اگر وہ اپنے خطاب کے لہجے میں عاجزی لائیں۔ غرض ایک مسجد کا خطیب اس علاقے کے نہ صرف امام بنیں گے بلکہ لوگوں کی آواز بن کر ہر دفتر میں بھی عزت سے قبول کیے جائیں گے۔ شرط یہ ہے کہ اللہ کے گھر کو اپنا گھر نہ سمجھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words